امام جعفر صادق ص فرمایا:
لوگوں کی نماز و روزہ سے دھوکا نہ کھاؤ،کیونکہ انسان نماز و روزہ کا بعض اوقات ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ اس کے ترک کرنے سے اسے وحشت اور گھبراہٹ حق ہوتی ہے،
بلکہ انہیں آزماؤ صداقت اور امانت کی ادائیگی سے۔
الکافی
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ پیغمبر کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہنچاتے ہیں
انعام 20
بنامِ خداءِ مہربان و رحیم
125. پس جسے اللہ ہدایت بخشنا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان کی طرف چڑھ رہا ہو، ایمان نہ لانے والوں پر اللہ اس طرح ناپاکی مسلط کرتا ہے۔
سورہ انعام پ8.
بہترین انسان کی کیا صفات ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
جان لیں کہ بہترین انسان وہ ہیں جو دیر سے غصے ہو اور جلدی راضی ہو جاتے ہیں، اور بدترین انسان وہ ہیں جو جلدی غصے ہوتے ہیں اور دیر میں راضی ہوتے ہیں۔
نہج الفصاحہ، ح 469
امام موسی کاظم علیہ السلام
جو رزق حلال کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ اپنے اور اپنے بچوں کے حالات میں بہتری لا سکے وہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے جیسا ہے
الكافی ج5 ص93 ح3
امام حسن عسکری علیہ السلام
فالتو بحث نہ کرو کہ اس سے تمہاری اہمیت ختم ہو جائے گی اور دوسروں سے زیادہ مذاق بھی نہ کرو کہ اس سے دوسروں میں بھی تم سے مذاق کرنے کی جرات پیدا ہو جائے گی۔
تحف العقول
میاں بیوی ایک دوسرے کا خیال رکھیں
امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
بے شک تمہاری شریک حیات بھی تم سے وہی چاہتی ہے، جو تم اس سے توقع رکھتے ہو۔
بحار الأنوار چ، ج73، ص، 102
پانج بہترین خصلتیں کونسی ہیں
امام حسین علیه السلام فرماتے ہیں:
پانچ خصلتیں ایسی ہیں جو اگر کسی شخص میں نہیں پائی جاتی ہیں، تو اس کی زندگی ثمر آور نہیں: حکمت، دین، ادب، حیاء اور اچھا اخلاق۔
حیات الامام الحسین، ج 1، ص 181
شکر نعمت بہترین صفت ہے
امام حسن عليه السلام فرماتے ہیں:
وہ خیر کہ جس میں کسی طرح کا کوئی شر نہیں، نعمتوں پر شکر اور مصیبتوں پر صبر کرنا ہے۔
بحارالانوار، ج 25، ص 351، ح 43
امام حسن عسکری علیہ السلام
جو شخص درد سر میں مبتلا رہتا ہو اسے چاہیے ایک پیالہ پانی لے اور اس پر سورہ انبیاء کی آیت نمبر تیس دم کر کے پی لے انشاللہ درد دُور ہو جائے گا
تفسیر نور الثقلین ج5 ص548.
آیت
🔶أَوَلَمْ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًۭا فَفَتَقْنَٰهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ ٱلْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍۢ حَىٍّۢ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُون
"کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انہیں کھول دیا، اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا، تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟"
القرآن، سورۃ الأنبیاء: 30۔
امام جعفر صادقؑ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا
آپ نے اپنے معاملات زندگی کی بنیاد کن چیزوں پر رکھی ہے؟
فرمایا
میں نے چار چیزوں پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھی ہے
1. میں نے جان لیا کہ میرا عمل میرے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا، لہٰذا میں نے اس میں پوری کوشش کی۔
2. میں نے جان لیا کہ اللہ عزوجل مجھے دیکھ رہا ہے، لہٰذا میں نے حیا کی۔
3. میں نے جان لیا کہ میرا رزق میرے سوا کوئی دوسرا نہیں کھا سکتا، لہٰذا میں مطمئن ہو گیا۔
4. میں نے جان لیا کہ میرا انجام موت ہے، لہٰذا میں نے اس کے لیے تیاری کر لی۔
بحار الأنوار، ج 76، ص 228۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ابو طالب بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر تقریباً چودہ برس تھی۔
عرب کے داناؤں اور حکیموں میں شمار ہونے والے اکثم بن صیفی کی نظر آپ ﷺ پر پڑی۔ انہوں نے ابو طالب سے کہا:
’’اے ابو طالب! تمہارا بھائی تو بہت جلد جوان ہوگیا ہے!‘‘
ابو طالب نے فرمایا:
’’یہ میرا بھائی نہیں، بلکہ میرے بھائی عبداللہ کے بیٹے ہیں۔‘‘
اکثم نے فوراً کہا:
’’ابنُ الذَّبیح!‘‘
’’ذبیح کے بیٹے!‘‘
ابو طالب نے کہا: ’’ہاں۔‘‘
اکثم کچھ دیر رسول اللہ ﷺ کو غور سے دیکھتے رہے، پھر ابو طالب سے پوچھا:
’’اے ابو طالب! تم اپنے اس نوجوان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘
ابو طالب نے جواب دیا:
’’ہم اس کے بارے میں بہت اچھا گمان رکھتے ہیں۔ وہ زندہ دل، نہایت سخی اور وفادار ہے۔‘‘
اکثم نے کہا:
’’اے ابن عبدالمطلب! اس کے علاوہ بھی کچھ بتاؤ۔‘‘
ابو طالب نے کہا:
’’وہ سختی کے مقام پر مضبوط اور نرمی کے مقام پر نرم ہے، اس کی مجلس باوقار ہے اور اس کی فضیلت نمایاں ہے۔‘‘
اکثم نے پھر پوچھا:
’’اس کے علاوہ؟‘‘
ابو طالب نے کہا:
’’ہم اسے دیکھ کر نیک فال لیتے ہیں، اور جس چیز کو اس کا ہاتھ چھو لے، اس میں برکت تلاش کرتے ہیں۔‘‘
اکثم نے پھر پوچھا:
’’اس کے علاوہ؟‘‘
ابو طالب نے کہا:
’’ایسا نوجوان اس بات کا مستحق ہے کہ ایک دن لوگوں کی قیادت کرے اور سخاوت و جود میں ممتاز ہو۔‘‘
تب اکثم بن صیفی نے کہا:
’’لیکن میں اس کے بارے میں کچھ اور کہتا ہوں۔‘‘
ابو طالب نے کہا:
’’کہیے، اے عرب کے حکیم! بے شک آپ پوشیدہ حقیقتوں کو ظاہر کرنے والے اور شکوک و شبہات کو دور کرنے والے ہیں۔‘‘
اکثم نے کہا:
’’تمہارے اس بھتیجے کو اللہ نے کسی معمولی کام کے لیے پیدا نہیں کیا۔ یہ عرب کو چاروں طرف سے ہلا کر رکھ دے گا؛ اپنے ہاتھ سے ان کی باطل قوتوں کو توڑے گا اور اپنے قدموں سے ان کے راستوں کو روندے گا۔ پھر انہیں ایک ایسی چراگاہ کی طرف بلائے گا جہاں خیر کی فراوانی ہوگی، اور ایسے چشمے کی طرف لے جائے گا جہاں ہدایت کا صاف پانی ہوگا۔ جو شخص اس کی دعوت کی طرف لپکے گا، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جو اس سے منہ موڑے گا، وہ ہلاکت سے دوچار ہوگا۔‘‘
اکثم بن صیفی جب مکہ سے واپس اپنے بیٹوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے انہیں وہ سب کچھ بتایا جو انہوں نے مکہ میں دیکھا تھا، اور رسول اللہ ﷺ سے اپنی ملاقات کا واقعہ بھی سنایا۔
پھر انہوں نے قسم کھا کر کہا:
’’اللہ کی قسم! یہ نوجوان نبی ہے۔ اگر یہ اس وقت ظاہر ہوا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا تو میں ضرور اس کی مدد کروں گا، اور اگر یہ میری وفات کے بعد مبعوث ہوا تو تم پر لازم ہے کہ اس کی پیروی کرنا اور اس کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا۔‘‘
پھر جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو اکثم بن صیفی اپنے بیٹوں کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوگئے۔ اس وقت وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔
لیکن راستے ہی میں ان کی موت کا وقت آ پہنچا۔
انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا:
’’مجھے یہیں چھوڑ دو اور تم آگے بڑھو، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچو۔‘‘
ان کے ایک بیٹے نے کہا:
’’ہم آپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے؛ پہلے آپ کو دفن کریں گے، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔‘‘
اکثم نے فرمایا:
’’نہیں! تم رسول اللہ ﷺ تک پہنچو۔ میری طرف سے انہیں سلام کہنا، اور میرے جسم کو پرندوں یا کیڑوں کے لیے چھوڑ دینا؛ آخر دونوں کے لیے یہ جسم یکساں ہے۔‘‘
چنانچہ ان کے بیٹے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔
کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا:
’’ابھی تمہارے والد کو دفن کیا جا رہا ہے۔‘‘
اور پھر ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
﴿وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً ۚ وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾
’’اور جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور کشادگی پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے، پھر اسے راستے ہی میں موت آ جائے، تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
— سورۃ النساء، آیت 100
امام علی علیہ السلام
عورتوں کی بہترین صفات ہی مردوں کی بدترین صفات ہیں
تکبر
بزدلی
بخل
چنانچہ جب عورت متکبر ہو تو وہ اپنے آپ کو (نامحرم کے سامنے) پیش نہیں کرتی
جب وہ بخیل ہو تو اپنے مال اور اپنے شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہے
اور
جب وہ بزدل ہو تو ہر اس چیز سے خوف کھاتی ہے جو اس کے سامنے آتی ہے۔
نہج البلاغہ، حکمت 234.
امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت میں ہشام بن ابراہیم نے اپنی بیماری اور اولاد کے نہ ہونے کی شکایت کی۔
امام علیہ السلام نے اسے حکم دیا
اپنے گھر میں اونچی آواز میں اذان دیا کرو
ہشام بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے ایسا کیا تو خدا نے میری بیماری دور کر دی اور مجھے اولادِ کثیر عطا فرمائی۔
وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی
🌸 صرف نماز روزہ عبادت نہیں ہے
امام حسن عسکری علیه السلام فرماتے ہیں:
عبادت کا مطلب بہت زیادہ نماز اور روزہ رکھنا نہیں ہے، بلکہ عبادت کا مطلب خدا کی قدرت، امور خدا کے بارے میں سوچنا اور فکر کرنا ہے۔
مستدرک الوسائل، ج 11، ص 183، ح 12690
امام جعفر صادق علیہ السلام
جب مسلمان کسی کو خوشنودیءِ خدا کی خاطر قرض دیتا ہے تو وہ قرض واپس دینے تک صدقہ شمار ہوتا ہے (یعنی جیسے ہر روز صدقہ دے رہا ہو)
ثواب الاعمال ص138.
🌹امام زین العابدین علیہ السلام کی بدھ والے دن کی دعا🌹
🌼 حمد اس خد اکے لیے ہے جس نے رات کو پردے اور نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا او ر دن کو کام کاج کے لیے قرار دیا
تیرے لیے حمد ہے کہ تو نے مجھے میری خوابگاہ سے زندہ اٹھایا اور اگر تو چاہتا تو اس نیند کو دائمی بنا دیتا۔ تیری ایسی حمد جو ہمیشہ رہے کبھی ختم نہ ہو کہ جسکی تعداد کو مخلوق شمار نہ کر سکے
اے معبود تیرے ہی لیے حمد ہے کہ تو نے پیدا کیا تو درست پیدا کیا اور قضاء و قدر بنائی تو موت دیتا اور زندگی بخشتا ہے بیمار کرتا ہے شفا دیتا ہے تو بچاتا ہے اور آزماتا ہے اور عرش پر تیری حکومتاور ملک تیرے قبضہ قدرت میں ہے میں تجھے ایسے شخص کی طرح پکارتا ہوں جس کا وسیلہ کمزور ہو، چارہءِ کار منقطع ہو گیا ہو، موت قریب آگئی ہو اور وہ دنیا کی آرزو میں گرفتار ہو اور تیری رحمت کا بہت زیادہ محتاج ہو،اسکی کوتاہیوں کے باعث اس کی حسرتیں بڑھ چکی ہوں اور اس کی لغزشیں اور ٹھوکریں بہت زیادہ ہوں اور تیرے حضور سچی توبہ کر رہا ہوں پس تو نبیوں کے خاتم محمدمصطفی پر رحمت فرما اور انکے پاک و پاکیزہ اہل بیت(ع) پر بھی رحمت فرمااور مجھے محمد وآل محمد کی شفاعت و حمایت نصیب فرمااور مجھے انکے قرب سے محروم نہ فرما۔ بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
اے معبود!اس بدھ کے دن میری چار حاجتیں پوری فرما کہ میری قوت اپنی اطاعت میں لگا دے ،میری خوشی اپنی عبادت میں قرار دے اور میری توجہ اپنے ثواب کیطرف کر دے اور جس چیز سے مجھ پر تیرا سخت عذاب آتا ہو مجھے اس سے دور فرما کہ بیشک تو جس پر چاہے لطف فرماتا ہے.
صحیفہ کاملہ