کل رات ڈنڈار کیچ میں سیکیورٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ سے پانچ سالہ بچی ستارہ شبیر شہید ہوئے اور ابھی تک اس بچی کی لاش کو فورسز لواحقین کے حوالے نہیں کررہی ہے۔
بلوچستان میں مزاحمتی جنگ چھڑی ہوئی ہے پورا بلوچ قوم بلوچستان میں ہونے والی ظلم جبر اور ناانصافیوں کے خلاف سراپہ احتجاج ہے اس وقت بلوچستان کے حالات پر غور و فکرکرنے اور سدھارنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف ریاستی ادارے اپنی طاقت آزمائی پہ ڈٹے ہوئے ہیں ایسے واقعات سے یہی ثابت ہوتی ہیکہ بلوچستان کیلئے حکمران اور ریاستی ادارے کوئی بھی Concerned نہیں ہیں۔
میں گریشگ میں ہونے والی ریاستی فورسسز کی بربریت اور مظالم کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ آج صبح گریشگ کے علاقے کوچو میں سی۔ ٹی ۔ ڈی نے گھروں پر دھاوا بول کر متعدد لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کردیا اور خواتین سمیت متعدد لوگوں کو زخمی کیا۔
جبری طور پر گمشدہ ہونے والوں میں شاہ جان ولد سلیم، گوھر دین ولد ھیرجان، مھم جان ولد لال بخش، میار ولد لال بخش، محمد عارف ولد عبدالرحمن، اور منیر ولد سبزو شامل ہیں۔ زخمیوں میں جبری طور پر گمشدہ ہونے والے منیر کے والد اور والدہ سمیت متعدد لوگ شامل ہیں۔
ریاستی فورسسز نے گھروں میں موجود دو موٹر سائیکلیں، دو لاکھ نقد، آٹھ موبائل اور دیگر قیمتی اشیاء بھی اپنے ساتھ لے گئے اور فائرنگ کرکے گھروں کے سولر سسٹم کو تباہ کردیا ہے۔
ریاستی فورسسز کے اس ظلم و جبر کے خلاف علاقہ مکینوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھیوں کے ہمراہ دھرنا دیا ہے۔ میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور بلوچ عوام اس واقعے کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں۔
#BalochNationalGathering
#StopBalochGenocide
جبری گمشدگی کے شکار آصف اور رشید کی بہن سائرہ، سلمان کی بہن سادیہ بلوچ اور ان کے ہمراہ دیگر خواتین کو خضدار شہر کھنڈ روڈ سے ایف سی کے کارندوں نے غیر قانونی حراست میں لیا ہے اور ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کررہے ہیں۔
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
Khuzdar: The Frontier Corps (FC) has arrested several young Baloch women on Khand Road in Khuzdar city, including Saira Baloch and Sadia Baloch, who are the sisters of Asif, Rasheed, and Salman Baloch—victims of enforced disappearance. These women were distributing pamphlets for the Baloch National Gathering.
We have clearly stated to the security forces and the administration that the Baloch women should be released immediately. If they are not released promptly, the Baloch Yakjehti Committee (BYC) will soon announce its future course of action.
We also appeal to human rights organizations to take immediate notice of this issue.
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
بلوچ یکجتی کمیٹی خضدار کے دوستوں کو خضدار میں ولا چاکینگ دوران ایف سی اور ایجنسی والوں کی جانب سے حراساں اور کچھ دوستوں کو بندوق کے زور پر ذدکوب کیا گیا، خضدار کے تمام دوست کھنڈ روڈ پہنچ جائے۔
The Baloch Yakjehti Committee's booklet on Baloch Raaji Muchi, "Baloch National Gathering," has been published in Balochi, Brahui and Urdu.
It will soon be available in PDF and print format.
Telegram Channel: https://t.co/oXF1vsnfdr
#BalochNationalGathering#بلوچ_راجی_مُچی
Akbar Jamaldini and Jawad Qambrani were arrested on July 11, 2024, during a police crackdown on peaceful protesters. They have been missing since their arrest. While their other friends have since been released, their whereabouts remain unknown.
#EndEnforcedDisappearences
بلوچ راجی مچی بلوچ قومی دفاع کے لیے اب ناگزیر ہے۔ — بی وائی سی
کوئٹہ: مظاہرین پر وحشیانہ کریک ڈاؤن پرامن عوامی احتجاج کے خلاف ریاست کے پرتشدد رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ریاست میں بلوچ عوام کو اپنے لاپتہ پیاروں کے لیے پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ظہیر احمد کو 27 جون کو فورسز نے جبری طور پر گمشدہ کردیا تھا۔ ظہیر ایک سرکاری ملازم ہے لیکن تاحال اس کے متعلق اس کے خاندان والوں کو کسی بھی قسم کی معلومات نہیں دی جارہی ہیں۔ ظہیر احمد کے خاندان کو اس کی زندگی کے متعلق شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ وزیر داخلہ بلوچستان نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں ان کی جبری گمشدگی کی تردید کی تھی اور بغیر کسی ثبوت کے پرامن مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور ظہیر احمد کے متعلق میڈیا اور عوام کو گمراہ کیا گیا ہے۔
بلوچ نسل کشی اور پرامن بلوچ خواتین و بچوں پر طاقت کے بے دریغ استعمال کے خلاف ہم پر فرض بنتا ہے کہ ہم عوامی مزاحمت کے ذریعے اپنا دفاع کریں۔ اس سلسلے میں، بی وائی سی بلوچ راجی مچی (بلوچ قومی اجتماع) کا انعقاد کرنے والا ہے۔
بی وائی سی کیچ زون نے بلوچ راجی مچی کی تیاریوں کے سلسلے میں تمپ، کوشکلات، ملک آباد، نظر آباد، آسیا آباد، رودبُن، ناصر آباد، ہوت آباد، بالیچہ اور شاپک میں کارنر میٹنگز کیں، جبکہ بی وائی سی کراچی زون نے کراچی کے شرافی گوٹھ علاقوں میں کارنر میٹنگز منعقد کیں۔
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
Hundreds of people are in the red zone right now. BYC’s leader Mahrang, along with the protesters, is demanding the safe release of today’s detainees and also Zaheer Ahmed, for whom this rally was organized.
#EndEnforcedDisappearences#QuettaPoliceMurdabad
Quetta Police violently disrupted the peaceful rally, engaging in a brutal act by deploying tear gas and bullets. Five individuals were injured with bullets in this unprovoked attack. This brutality will not be tolerated.
#ReleaseZaheerAhmed
آج کوئٹہ پولیس نے پرامن مظاہرین پر بدترین بربریت، تشدد اور جبر کرکے بلوچستان میں ریاست پاکستان کی تاریخی جبر کے واقعات میں ایک اور بدترین واقع کا اضافہ کردیا ہے۔
اس وقت متعدد بلوچ مرد و خواتین کوئٹہ پولیس کے غیر قانونی قید میں ہیں، جن کے بارے میں کچھ بھی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ جبکہ کئی مظاہرین شدید زخمی ہیں اور انہیں اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جنہیں ہسپتال میں بھی پولیس نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔
لیکن ہم اس ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ ہم اس جدوجہد سے کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹے گے بلکہ زیادہ حوصلہ اور ہمت کے ساتھ اس جدوجہد کو آگے بڑھائے گے۔ ہمارا دھرنا اس وقت سریاب روڈ میں جاری ہے، ہم کوئٹہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں سے نکلے اور دھرنا گاہ میں پہنچ جائے۔
#StopBalochGenocide
اس وقت متعدد بلوچ خواتین سول لائن تھانے میں قید ہیں۔ جن میں کئی خواتین کی طبیعت تشدد اور لاٹھی کی وجہ سے بہت خراب ہے لیکن کوئٹہ پولیس اپنی فسطائیت کی تمام حدوں کو پار کررہی ہے، نہ ان خواتین سے ہمیں ملنے کی اجازت دی جارہی ہے اور نہ ہی خواتین کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کررہی ہے۔ اور اب اطلاعات آرہی ہیں کہ ان خواتین کو کینٹ تھانے میں منتقل کررہے ہیں۔
اس ریاست، بلوچستان حکومت اور کوئٹہ پولیس کی زرا برابر بھی اندازہ نہیں ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ بلوچ سماج میں خواتین کے ساتھ اس طرح سے پیش آنے سے آگے جو بھی نتائج آئے اس کی تمام ذمہ دادی ریاست پر عائد ہوگی۔
میں کوئٹہ بھر کے عوام سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اپنی بہنوں کی حفاظت کے لئے اس جدوجہد کا ساتھ دیں ، سریاب روڈ دھرنے میں شامل ہوں، اگر خواتین سمیت تمام مظاہرین رہا نہیں کیا گیا تو دھرنا ریڈ زون کے سامنے دیا جائے گا۔
#ReleaseZaheerAhmed
#EndEnforcedDisappearances