مورخ لکھے گا کہ پیر عدنان بودلہ جیسے ورکر کم ہی پیدا ہوتے ہیں جس نے اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے نواز شریف کی ہر پیشی پر عدالت میں پہلی صفوں میں موجود ہوتا تھا اور گراونڈ لیول پر ہر جلسہ ہر جلوس میں بودلہ کے نعرے سب سے بلند ہوتے تھے اور پھر یہی بودلہ دیار غیر پہنچ گیا لیکن نواز لیگی سیاست کا کیڑا چوبیس گھنٹے اس شخص کے دماغ پر سوار رہا اور گزشتہ دیہاڑے ٹورنٹو سرزمین پر گورنر سندھ اور خرم بھٹی کی موجودگی میں ایک تاریخ ساز اکٹھ کرکے ثابت کردیا کہ جہاں بودلہ ہوگا لائن وہیں سے شروع ہوگی اور اس عظیم الشان کنونشن میں میرے جگری ویر پرویز سندھیلا بھی ہالینڈ سے کینڈا پہنچے اور کلی لت پر دھمال ڈالی اور اس اکٹھ کو آرگنائزر کرنے والے وہ تمام افراد جو ٹورنٹو میں نواز لیگی منجیوں کے پاوے توڑ رہے ہیں انکو بھی فرشی اور سرخ سلام ہے
میاں صاحب بودلے جیسے چراغ جلیں گے تو چار چفیرے روشنی ہو گی
بہاولنگر میں غربت اور بے بسی کی دردناک کہانی!
5 بچوں کا باپ واسا کا ملازم تنخواہ نہ ملنے پر زندگی سے مایوس، خودکشی کی کوشش!
تیز دھار آلے سے گردن کاٹ لی ریسکیو کی بروقت کاروائی سے زندگی بچ گئی@MaryamNSharif@Atifrauf79
"کسی بھی جو از پر، پر تشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے نمٹا جائے گا، فورم"
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات۔۔
بہاولنگر :نادر شاہ روڈ ،اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنےوالا مزدور جلتی بھٹی میں گر کر جاں بحق ۔۔
بہاولنگر ،جرائم میں اضافہ دو قتل کی وارداتیں ۔۔۔
بھائی نے بہن کا گلا دبا کر قتل کر دیا،صبح سویرے آڑھتی کا قتل ،آوارہ کتوں نے معصوم بچے کو نوچ دیا۔۔@OfficialDPRPP@Dpobahawalnagar
بہاولنگر ۔نواحی علاقہ میں دو کم سن بچوں کے ساتھ 4 اوباش زمینداروں کے بگڑے نوجوانوں کی اجتماعی زیادتی ،بچوں کی وڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کا واقع،پولیس کا ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعوی!
رانا ثاقب سلیم این این آئی بہاولنگر@Aadiiroy2@OfficialDPRPP
سابق ضلعی صدر جو کہ کئی دہائیوں سے نوازشریف کے ساتھ ہیں اور مشکل ترین وقت میں بھی پارٹی کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار طرح کھڑے رہے اور ایسے مخلص وفادار رانا عبدالروف کو صدارت عہدہ سے ہٹا کر ایک لوٹے کو ترجیح دے کر ضلعی صدارت دینا زیادتی ہے حالانکہ گزشتہ روز ڈویژنل صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ رانا رؤف صاحب سے مشاورت کرکے یہ نوٹیفیکیشن جاری ہوا جبکہ آج رانا عاطف رؤف نے بتایا کہ ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی بلکہ یہ نوٹیفیکیشن ہماری ساکھ اور پارٹی وفاداری پر خنجر گھونپنے کے برابر ہے
میاں صاحب لکھ کر رکھ اگر آج آپ پر اوکھا وقت آیا تو رانا رؤف ہی وہ شخصیت ہوں گے جو آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے جبکہ یہ نئے صدر سب سے پہلے آپکی کشتی میں سوراخ کرکے دوڑیں گے
اور ناظرین آج بڑے چر کے بعد عاطف رؤف سے گفتگو شنید ہوئی حال احوال کے بعد کہنے لگے جہاں باقیوں کا موقف سنا ہے ہمارا بھی سن لیں اور یہاں یہ بتلانا ضروری سمجھوں گا کہ عاطف رؤف وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے دن بھر رات محنت سے لون لیگی کوچھل میڈیا کی بنیاد رکھی تھی اور پھر انہوں نے بتلایا کہ میرے ساتھ جو ہوا اس پر مٹی ڈالیں لیکن میرے والد کی دہائیوں کی محنت عزت تکریم کو مٹی میں ملاتے ہوئے اس شخص کو ضلعی صدارت دی گئی جس نے ساری زندگی نوازلیگی مخالفت کی ہے حالانکہ پنجاب میں کئی ضلعی صدر گزشتہ انتخابات ہارے تو کیا انہیں بھی صدارت سے ہٹا کر اسی شخص کو صدر بنایا گیا ہے جس نے انہیں ہرایا ہو اور یہ فیصلہ صرف اور صرف میرے والد کو نیچا دکھانے کیلئے کیا گیا ہے اور ہم اس پر بھی خاموشی سے زہر کا گھونٹ پی گئے ہیں کیونکہ ہمارا سیاسی قائد صرف اور صرف نواز شریف ہے
عاطف رؤف کی پوری گفتگو سننے کے بعد مورخ نے ماحول کو افسردہ ہونے سے بچاتے ہوئے انہیں ایک قصہ سنایا جس میں ایک مائی ویاہ والے گھر چھت پر ستی پئی ہوتی ہے اور ایک خاوند اپنی بیوی کے پلیکھے میں گھپ اندھیرے میں مائی سے پوچھتا ہے “ چاول کھائے ہیں “ جس پر مائی کہتی ہے ہاں اور اس کے بعد وہ شخص ووٹ ڈال کر نکل جاتا ہے اور جب چوتھی مرتبہ اسی مائی کو جگا کر وہی سوال پوچھتا ہے تو مائی کہتی “ میں کلے نے چاول نہیں کھادے پوری جنج نے کھادے نے “ اور اس پر عاطف رؤف پوچھنے لگے کہ اس قصہ کا ہمارے ضلعی صدرات سے کیا تعلق ہے تو مورخ نے سغٹ کا لما سوٹا لگایا اور دھواں باہر نکالتے ہوئے کہا “بہاولنگر صدارت نوٹیفیکیشن میں مورخ وہ مائی ہے جس میں ہر کوئی اپنا موقف تُن رہا ہے “
بہرحال میاں صاحب رانا عبدالرؤف صاحب جیسے وفادار ساتھی اور ان کے صاحبزادے عاطف رؤف جیسے وفا کے پیکر کے ساتھ یہ زیادتی ہوئی ہے اور پرانے مشکل کے ساتھیوں پر لوٹوں کو ترجیح دینا ظلم ہے
میاں صاحب رانا رؤف جیسے چراغ جلیں گے تو روشنی بھی ہو گی اور روشنی میں ڈانگیں روکنا اساں ہوگا
اس بدزبان، بدنسل کو بہاولنگر کا صدر بنایا ہے، تو اب یقین ہے میاں داؤد جیسے بدزبان کو اٹارنی جنرل، یا ایڈووکیٹ جنرل، یا مشیر قانون بننے سے کوئی روک نہیں سکتا.
یہ مسلم لیگ ن کی کل اوقات ہے۔ جو ان کی ماں بہن یکجا کرے اس کے لیے ایوارڈز اور عہدے ہیں اور ہر اوکھے سوکھے ویلے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو مڑ کے نہیں دیکھتے بلکہ جوتے مارتے ہیں۔
ن لیگ کے اس ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے میاں داؤد مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔
بلاشبہ پارٹی قیادت کو گالیاں بکنے والے اور نو مئی میں مبینہ طور پہ شامل شخص کو عہدے دیا جانا، کارکنوں کے ساتھ ظلم ہے۔
پارٹی کی صوبائی قیادت کو اس ضمن میں کارکنوں کے جذبات کا احساس کرنا چائیے۔