Member Central Council PML-N,
Sec/Coordination PML-N Karachi(Div) Ex-Coordinator Muslim League-House Sindh,
Ex-VP Ditt Malir Karachi,
Ex-U-C Sec Finance Malir,
اگر آپ خوش نہیں ہیں تو پریشان مت ہوں
دنیا میں کوئی انسان خوش نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں کئی بار کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے یعنی ناشکری اسکی فطرت میں ہے، جو جس حال میں ہے وہ اس سے بہتر مستقبل کیلئے کوشاں ہے چاہے وہ امریکہ میں ہے، پاکستان میں یا کسی اور ملک میں، بہتر مستقبل کیلئے اپنے سے آگے لوگوں پر نظر رکھنی چاہیئے لیکن شکر کرنے کیلئے اپنے سے پیچھے رہ جانے والوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے، سب سے بہتر یہ ہے کہ اپنا موازنہ دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے کریں کہ آپ کل کہاں تھے آج کہاں ہیں اور اسی بنیاد پر مستقبل کے اہداف کا تعین کرتے جائیں
واصف علی واصف نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہتے ہیں دنیا کا خوش نصیب شخص وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے
سئنیر صحافی عبدالجبار ناصر کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گلگت بلتستان اسمبلی کے فائنل رزلٹ (24 جنرل نشستوں) کی بنیاد پر پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح بنتی ہے:
پاکستان پیپلز پارٹی 09
پاکستان مسلم لیگ ن 06
آزاد امیدواران 05
پاکستان تحریک انصاف آزاد 02
مجلس وحدت المسلمین 01
نتائج کا انتظار (باقی) 01
سیاسی منظرنامہ اور حکومت سازی کے ممکنہ فارمولے، اس پارٹی پوزیشن کے بعد یہ واضح ہے کہ کسی بھ�� ایک جماعت کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ سادہ اکثریت (13 نشستیں) حاصل نہیں ہیں، جس کے باعث یہاں ایک مخلوط حکومت کا قیام ہی ممکن نظر آتا ہے۔ اس صورتحال میں درج ذیل دو بڑے منظرنامے سامنے آ سکتے ہیں:
مرکزی طرز کا اتحاد (PPP + PML-N)
اگر وفاق کی طرح یہاں بھی پیپلز پارٹی (09) اور مسلم لیگ ن (06) مل کر حکومت بناتی ہیں، تو ان کی مجموعی تعداد 15 ہو جاتی ہے، جو حکومت سازی کے لیے کافی ہے۔ اس صورت میں آزاد امیدواروں پر انحصار کم ہو جائے گا۔
آزاد امیدواروں کا کنگ میکر کردار
اگر پیپلز پارٹی ن لیگ کے بغیر حکومت بنانا چاہے، تو اسے 5 آزاد امیدواروں اور مجلس وحدت المسلمین (01) کی حمایت حاصل کرنا ہوگی تاکہ وہ 13 کا ہندسہ چھو سکے۔ دوسری طرف، مسلم لیگ بھی اگر آزاد امیدواروں (5) کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جائے، تو وہ بھی ایک مضبوط پوزیشن حاصل کر سکتی ہے۔فی الوقت گیند پیپلز پارٹی کے کورٹ میں ہے کیونکہ وہ 9 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی بن کر ابھری ہے، اور اب تمام تر نظریں باقی ماندہ 1 نشست اور آزاد امیدواروں کے سیاسی فیصلوں پر ہیں۔
گلگت جو کشمیر کاز کی نظر ہوگیا!
کشمیر کاز کے لیے پاکستان نے اپنی جتنی تباہی کی ہے وہ تو ایک طرف ہے لیکن ایک بہت بڑی چیز کا لوگوں کو پتہ ہی نہیں۔ گلگت پاکستان کا وہ علاقہ ہے جس نے اپنے بل پر لڑ کر آزادی حاصل کی۔ کشمیر کی طرح وہاں پاکستان سے لشکر نہیں گئے تھے۔ آزادی حاصل کرتے ہی انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔
ان کا وہ اعلان آج تک پ��کستان نے زیر التوا رکھا ہوا ہے وہ ہزاروں بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ ہمیں پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنایا جائے۔ لیکن پاکستان نہیں کر رہا جانتے ہیں کیوں؟
کیونکہ پاکستان کو لگتا ہے کہ وہ ایسا کرے گا تو کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا اور انڈیا کا مقدمہ کشمیر پر مضبوط ہوگا۔ لہذا پاکستان اب تک گلگت کو خود میں ضم کرنے سے رکا ہوا ہے۔ پاکستان زمین کا بھوکا ہوتا تو پہلے ہی دن گلگت کے اعلان کے ساتھ ہی انکو صوبہ بنا لیتا۔
آج عوامی ایکشن کمیٹ�� پاکستان کی ان بےپناہ قربانیوں کے جواب میں طعنے مارتی ہے کہ پاکستان کو ہم سے بڑے فائدے ہیں اس لیے ہمارے لیے یہ سب کر رہا ہے۔ پاکستان نے تو ہمیشہ حق خود ارادیت کی بات کی ہے لیکن اب پاکستان کو پالیسی تبدیل کرنی چاہئے۔ اگر 'کشمیر بنے گا پاکستان' تو سب کچھ جاری رکھیں۔ اگر نہیں اور وہ ایک الگ ملک ہے تو وہ سب کچھ پاکستانی قوم کو واپس چاہئے جو اب تک لٹایا ہے۔ آغاز اس سے کریں کہ پاکستان میں جو 2٪ نوکریوں کا کوٹہ دیا ہوا ہے انکو واپس بھیج کر وہ ہزاروں نوکریاں چاروں صوبوں اور گلگت کے بےروزگاروں میں بانٹ دیں۔
#Kashmir
#Gilgit
حقوق ۔۔۔ !!
پاکستانی یا مقبوضہ کشمیر کے کشمیری کو کوئی حق نہیں کہ وہ ۔۔۔
آزاد کشمیر میں زمین خرید سکے،
کاروبار کر سکے،
سرکاری نوکری کر سکے،
الیکشن لڑ سکے،
یا کوئی بھی عہدہ حاصل کر سکے۔
البتہ آزاد کشمیر کی عوام کو پورا حق ہے کہ وہ ۔۔
پاکست��ن میں نوکریاں کریں،
زمینیں خریدیں،
کاروبار کریں،
الیکشن لڑیں،
عہدے حاصل کریں،
پاکستان سے تہائی قیمت پر آٹا لیں،
پاکستان سے مفت بجلی لیں،
سالانہ 200 ارب کی گرانٹ لیں،
اور جی بھر کر مقبوضہ کشمیر کا پانی استعمال کریں۔
صرف ان کے حقوق ہیں باقی کسی کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ خدا کی قسم عوامی ایکشن کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ ساتھ بہت سے پاکستانیوں کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں۔
#Pakistan
#Kashmir
آپ نے جس پہلے شعر کو بنیاد بنا کر آپ نے یہ پورا مقدمہ کھڑا کیا ہے، وہی آپ کے دعوے کی نفی کے لیے کافی ہے کیونکہ خوشحال خان خٹک کے پورے دیوان، کلیات یا کسی بھی مستند خطی نسخے میں ستاروں پر کمند ڈالنے والا شعر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ دراصل علامہ اقبال کا ہی اصل اردو شعر ہے جس کا بیسویں صدی میں کسی پختون مترجم نے پشتو ترجمہ کیا، اور آپ جیسے احباب نے تحقیق کیے بغیر اسے خوشحال بابا سے منسوب کر کے اقبال پر چوری کا الزام دھر دیا۔ جو انسان اپنے قومی ہیرو کا اصل کلام ہی نہ پہچانتا ہو، اس کا علامہ اقبال جیسے عالمی فلسفی پر فکری سرقے کا الزام لگانا محض ایک مذاق ہے۔ ایک بار پھر یہ دعویٰ کرنا کہ علامہ اقبال نے خوشحال خان خٹک یا رحمان بابا کا کلام چوری کیا تھا، دراصل اقبال کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ فلسفے، فکری عظمت اور ادبی مقام کی توہین ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں روحانی آزادی، جرات، خود شناسی، انکساری، عشقِ الٰہی، شاہین اور بیج جیسی تمثیلات جن موضوعات کی نمائندگی کرتی ہیں، وہ صرف پشتو ادب تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ تصورات دراصل اسلامی، فارسی اور صوفیانہ ادبی روایت کا حصہ ہیں، جو صدیوں پہلے عربی اور فارسی شاعری میں موجود تھے۔ مثال کے طور پر شاہین کی علامت خوشحال خان خٹک سے بہت پہلے فارسی اور عربی شاعری میں سنائی، مولانا رومی اور عطار جیسے کلاسیکی شعراء کے ہاں واضح طور پر استعمال ہو چکی تھی۔ اسی طرح رحمان بابا کے تخم والے شعر اور اقبال کے دانہ خاک میں ملنے والے شعر کے پیچھے جو بیج کا مٹی میں فنا ہو کر نئی زندگی پانا کا تصور ہے، وہ ایک آ��اقی صوفیانہ حقیقت ہے جو مولانا رومی کی مثنوی میں رحمان بابا سے بہت پہلے موجود ہے جہاں وہ فرماتے ہیں چوں تخم اندر خاک شو اقبال نے خود اپنی فکری اور ادبی تحریک کے سرچشموں کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے جہاں انہوں نے مولانا رومی، حافظ شیرازی اور دیگر فارسی کلاسیکی مفکرین کو اپنا رہنما قرار دیا، جیسا کہ وہ فرماتے ہیں نکتہ ہا از پیرِ روم آموختم خویش را در حرفِ او واسوختم ۔ مزید یہ کہ معروف افغان پشتون محقق ڈاکٹر سیا سنگ نے بھی اپنی فارسی تحقیق میں یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ خود رحمان بابا کے بعض اشعار فارسی-تاجک شاعر حافظ شیرازی کے کلام سے ماخوذ یا ان کے اثرات کے حامل ہیں، مگر اس سے رحمان بابا کی اپنی عظمت کم نہیں ہوتی۔ ادبی اثرات، فکری مماثلت اور مشترکہ صوفیانہ روایت کو سرقہ قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہے، کیونکہ کسی شاعر کے ہاں ملتے جلتے مضامین پائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے دوسرے شاعر کا کلام چوری کیا ہو، خصوصاً جب وہ مضامین صدیوں پر محیط ایک وسیع تہذیبی، ��سلامی اور فارسی ادبی روایت کا حصہ ہوں۔ رہی بات ملکہ وکٹوریہ کے مرثیے کی، تو 1901ء میں جب ملکہ کا انتقال ہوا تو اقبال محض 24 سال کے ایک طالب علم تھے اور اس وقت پورے برصغیر میں انگریز کے خلاف اس طرح سیاسی شعور بیدار نہیں ہوا تھا، مگر اہم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب اقبال کا فکری ارتقا ہوا تو انہوں نے اپنے اس نوجوانی کے مرثیے سے نہ صرف برأت کا اظہار کیا بلکہ اسے اپنی کلیات سے ہمیشہ کے لیے خارج کر دیا اور برطانوی سامراج کے مکر و فریب کے خلاف وہ بے باک شاعری کی جس کی مثال پورے برصغیر میں نہیں ملتی، یہاں تک کہ انہوں نے افغانستان کے غازی امان اللہ خان کی استعمار ضد تحریک کی کھل کر حمایت کی اور اپنی کتاب پیامِ مشرق ان کے نام معنون کی۔ چنانچہ فیس بک کی چند گمراہ کن پوسٹوں، قوم پرستوں کے سیاسی بیانات اور تعصب کو بنیاد بنا کر تاریخ اور ادب کے اتنے بڑے سچ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل عقیل نجم ہاشمی نے صوبائی صدر سندھ کی سفارش اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد سندھ یوتھ ونگ کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کر دیا ہے۔ صوبائی، ڈویژنل، ضلعی، تحصیل، سٹی اور یونین کونسل سطح کے تمام عہدیداران اور تنظیمی باڈیز فوری طور پر غیر فعال ہو گئی ہیں۔ یوتھ ونگ کی تنظیمِ نو اور رکنیت سازی مہم کے تحت جون کے آخر میں کراچی میں مشاورت کے بعد نئے آرگنائزر اور آرگنائزنگ سیکرٹری کا تقرر کیا جائے گا۔
حدیقہ کیانی کے پہلے شوہر حماد حسن ان کے لیے بطور ویڈیو اینیمیٹر کام کرتے تھے۔ 1997 میں ان کی شادی ہوگئی۔ مختلف انٹرویوز سے معلوم ہوا ہے کہ شادی کے پہلے دن سے ہی حالات بدل گئے اور انہیں اپنا کریئر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 2003 میں ان کی طلاق ہو گئی۔
پہلی طلاق کے بعد حدیقہ ن�� 2007 میں انگلینڈ میں مقیم افغان تاجر سید فرید سروری سے شادی کی۔ یہ شادی صرف تین ماہ چلی اور 2008 میں طلاق ہو گئی۔ حدیقہ نے بتایا کہ یہ شادی جذباتی سے زیادہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر کی گئی تھی۔ اکثر مبصرین اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گود لیے ہوئے بیٹے ناد علی کے پاسپورٹ میں باپ کا نام درج کرانا چاہتی تھیں۔ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
2005 کے تباہ کن زلزلے کے موقع پر حدیقہ کیانی ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ایسے میں ان کے سامنے ایک بچہ آیا جس کی فیملی کا کوئی اتا پتا نہیں تھا تو گلوکارہ نے فوری طور پر اسے گود لینے کا فیصلہ کیا۔ حدیقہ کیانی نے بیٹے کا نام ناد علی رکھا۔ خود حدیقہ کیانی نے بعد میں بیٹے ناد علی کو زندگی میں لانے کا سہرا بلقیس ایدھی کو دیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
حدیقہ کیانی نے ایک ویب شو میں بتایا کہ جب ان کی پہلی طلاق ہوئی تو اس کے بعد کافی عرصہ دوسری شادی نہیں کی لیکن اس دوران ان کا دل ��اہتا تھا کہ وہ ماں بنیں۔ انہوں نے ایک قریبی شخص سے یہ خواہش شیئر کی کہ وہ کسی بچے کو گود لینا چاہتی ہیں جس پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ اگر یہ ان کی خواہش ہے تو ضرور کریں۔
ناد علی کو گود لینے کے دو ماہ بعد حدیقہ نے دوسری شادی کر لی کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے بیٹے کو باپ کا نام ملے تاکہ اسے سرپرستی نہ ہونے کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن یہ رشتہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے اکیلے تنہا ماں کی حیثیت سے ناد علی کی پرورش کی۔
گزشتہ کئی دنوں سے حدیقہ کیانی زیر بحث ہیں۔ ان کی گلوکاری اور سماجی خدمات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس دوران چند ایک لوگوں نے بتایا کہ وہ حدیقہ کیانی کو نہیں جانتے۔ حدیقہ کیانی کیانی جیسی خاتون کو نہ جاننا ویسے ممکن تو نہیں ہے البتہ کوشش کرتا ہوں کہ ان سے متعلق معلومات آپ تک پہنچا سکوں۔
دنیا نے بہت سی آوازیں سنی ہیں لیکن کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو روح میں اتر جاتی ہیں۔ حدیقہ کیانی کی آواز انہی میں سے ایک ہے۔ کم از کم میرے لیے تو ایسا ہی ہے۔ ان کے گانوں سے ایک ناسٹیلجیا جڑا ہوا ہے۔
حدیقہ کیانی 11 اگست 1972 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب حدیقہ صرف تین برس کی تھیں یعنی جس عمر میں بچے چلنا سیکھتے ہیں اس عمر میں حدیقہ نے باپ کا سایہ کھو دیا۔
ان کی والدہ، شاعرہ خاور کیانی ایک سرکاری سکول کی پرنسپل تھیں۔ انہوں نے بیٹی کی موسیقی کی صلاحیت دیکھ کر انہیں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں داخل کرایا جہاں ابتدائی تعلیم میڈم نرگس ناہید سے ملی۔ حدیقہ نے کنیئرڈ کالج سے نفسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
حدیقہ کیانی نے اپنے کیریئر کا آغاز بچوں کے ایک میوزک پروگرام 'آنگن آنگن تارے' کی می��بانی سے کیا اور اس دوران ہزاروں گانے گائے۔ 1995 میں انہوں نے اپنا پہلا البم 'راز' ریلیز کیا۔ حدیقہ کیانی کے خاندان کا موسیقی سے جراہ راست کوئی تعلق نہیں تھا تاہم ایک خاتون کا پاپ البم ریلیز کرنا ایک غیر معمولی قدم تھا جس نے انہیں منفرد بنایا۔
جنوری 1997 میں حدیقہ پہلی ایشیائی گلوکارہ بنیں جنہوں نے بی بی سی ون کے برٹش نیشنل لاٹری لائیو شو میں پرفارم کیا۔ پھر آیا وہ گانا جو حدیقہ کی پہچان بن گیا 'بوہے باریاں'۔ یہ گانا پاکستان کے نمایاں ترین گانوں میں شمار ہوتا ہے اور آج بھی حدیقہ کا سب سے مقبول گانا مانا جاتا ہے۔ خاص بات یہ کہ اس گانے کے بول ان کی والدہ خاور کیانی نے لکھے تھے. ماں کا قلم ہو اور آواز بیٹی کی ہو۔۔۔ سوچیں کتنا حسین امتزاج ہے۔۔
انہوں نے فروری 2010 میں ریلیز ہونے والا 'جاناں' پشتو گلوکار عرفان خان کے ساتھ گایا اور یہ حدیقہ کا اب تک کا سب سے بڑا ہٹ بن گیا۔ یہ پہلا پاکستانی پاپ گانا تھا جس کا ذکر لاس اینجلس ٹائمز نے کیا۔ ایک پنجابی خاتون کا پشتو میں گانا اس قدر پسند کیا گیا کہ پختون انہیں 'حدیقہ پٹھانی' کہنے لگے۔
حدیقہ کیانی نے پاکستان کو دنیا کے بڑے بڑے سٹیجز پر متعارف کرایا۔ انہوں نے برطانیہ کے رائل البرٹ ہال اور امریکہ کے کینیڈی سنٹر میں پرفارمنس دی۔ انہوں نے صدر جارج ڈبلیو بش کے لیے پرفارم کیا۔ سابق فرسٹ لیڈی لارا بش کی خصوصی ف��مائش پر کینیڈی سنٹر میں گاتی رہی اور شہزادہ چارلس کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
مئی 2007 میں اردن کے ڈیڈ سی پر منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں 28 ممالک کے سربراہان کے سامنے پرفارم کیا۔
خیبر پختونخوا میں جگہ جگہ خوارج کے خلاف وال چاکنگ کر دی گئی۔ پشاور، چارسدہ، کوہاٹ اور باڑہ خیبر میں جگہ جگہ وال چاکنگ کے زریعے عوام نے نفرت کا اظہار کر دیا
پنجاب حکومت نے ایک تاریخی شہری ترقیاتی پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت سڑکیں، نکاسیِ آب، سیوریج، پانی کا ذخیرہ اور لچکدار بنیادی ڈھانچہ دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ صرف دو سال کے مختصر عرصے میں 30,000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں مکمل کر کے معاشی سرگرمیاں بحال کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب، جس سے تقریباً 50 لاکھ خاندان بے گھر ہوئے، کے بعد اب پہلی بار دہائیوں میں شہری سیلاب کے مسئلے کو منظم اور ڈیٹا پر مبنی طریقے سے حل کیا جا رہا ہے اور توجہ سیلاب سے محفوظ انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق شہری منصوبہ بندی پر مبذول کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، 'شاندار پنجاب' کے تحت تاریخ اور شناخت کو دوبارہ جوڑنے کے لیے 100 سے زائد ثقافتی ورثے کے مقامات، عجائب گھروں، آثارِ قدیمہ اور مذہبی مقامات کی جامع بحالی اور تحفظ کا کام بھی جاری ہے۔
*وزیر اعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif کا باکو میں ورلڈ لیڈرز سمٹ سے خطاب*
آپس کی بات ہے مجھے تو فوری طور پر کہیں اٹھائیسویں آتی نظر نہیں آرہی بٹ کا زور شور ہے سیاسی بھاؤ تاؤ اس پر ضرور ہے اور ہو گا بھی اور ڈوبوں کو کرنا بھی چاہئیے
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے 23 ویں بین الاقوامی تجارتی و صنعتی نمائش کا افتتاح کیا اور پاک چین دوستی کا کیک کاٹا۔ نمائش پاکستان کی صنعتی و تجارتی ترقی کی علامت ہے، 200 سے زائد کمپنیوں کی شرکت، سی پیک و پاک چین تعاون خطے کی ترقی کی ضمانت ہے۔
@MNehalHashmi@faisalfarooqi
مسلم لیگ ن کے رہنما را��ا فاروق کو پارٹی ٹکٹ ملنے کے بعد استور پہنچنے پر ریلی کی صورت میں شاندار استقبال کیا گیا۔ کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے ان کا خیرمقدم کیا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف کی ملاقات
ملاقات میں وزیرِ اعظم کو رواں برس جاری حج آپریشن کے حوالے سے انتظامات پر بریفنگ دی گئی
عازمین حج اللہ تعالی کے مہمان ہیں، سعودی عرب میں پاکستانی حج مشن کی جانب سے انکی خدمت اور سہولیات میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت
عازمین حج کو ایئرپورٹ پرتمام سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیرِ اعظم
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر گیلانی کی ملاقات
ملاقات میں سیاسی امور اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو ہوئی
عبدالقادر گیلانی نے وزیرِ اعظم کی قیادت میں خطے میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی