@KaliwalYam ڈرامے باز،،وہ نماز اپنے کمرے میں بھی پڑھ سکتا تھا،،لیکن چونکہ ان کی نماز ریاکاری تھی لہزا ہوٹل کی لابی میں آکے پڑھی ہے ،،،اسی طرح کے حربوں سے کپتان نے خیبر پختونخوا کے لوگوں کو صحیح ماموں بنایا ہے۔
لاہور ڈویلپمینٹ پروگرام اپنی تکمیل کی طرف گامزن ہے،لاہور کی سولہ ہزار چار سو سے زیادہ گلیوں میں سیوریج،ٹف ٹائلز،واٹر سپلائی اور بیوٹییفکیشن کا کام حتمی مراحل میں
پنجاب ڈویلپمین�� میں 52 شہروں میں کام جاری،305 ارب روپے سے لاہور اور پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام لوگوں کی زندگیاں بدل رہا ہے الحمدللہ
صحافی نہ پرو اسٹیبلشمنٹ ہوتا ہے اور نہ ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ۔ صحافی کا اصل کام کیا ہے، اور پریس کلب کو کیسا ہونا چاہیے، ان نکات کو سینئر صحافی @Matiullahjan919 نے اپنی تقریر میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
بعض دفعہ مطیع بھائی سے اختلاف کے باوجود، میں سمجھتا ہوں کہ ان جیسے صحافیوں کا اس پیشے میں ہونا بے حد ضروری ہے۔
Chief Minister of Punjab Maryam Nawaz Sharif meets renowned British-Pakistani doctor Dr. Hasanat Khan, who was Lady Diana’s boyfriend and the late princess called him ‘My Mr Wonderful’.
Chief Minister Maryam Nawaz Sharif congratulates Dr. Hasanat Khan on taking charge of Jinnah Institute of Cardiology
گوادر کی سلطنتِ عمان سے خریداری 8 دسمبر 1958 کو پاکستان کے ساتویں وزیرِ اعظم جناب فیروز خان نون کا ایک نہایت دانشمندانہ فیصلہ تھا۔
وزیرِ اعظم فیروز خان نون اور ان کی صاحبزادی اہلیہ محترمہ وقار النساء نون نے لندن میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔
وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ نے عمان کے سلطان سعید بن تیمور کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی، جبکہ 30 ل��کھ ڈالر کی رقم محترم پرنس کریم آغا خان نے فراہم کی۔
یہ خریداری پاکستان کی تاریخ میں ایک “ماسٹر اسٹروک” قرار دی جاتی ہے۔
گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز 2007 میں ہوا اور آج یہ پاکستان کا فخر بن چکا ہے۔
گوادر ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ان شاء اللہ مستقبل میں پاکستان کے تاج کا درخشاں نگینہ ثابت ہوگا۔
بریکنگ نیوز:
سابق افغان صدر Ashraf Ghani نے افغان طالبان حکومت کے پروپیگنڈے کے پس منظر میں ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے:
"افغان طالبان حکومت اپنی تاریخ کے کمزور ترین مقام پر کھڑی ہے، اب ہمیں افغانستان کو دوبارہ حاصل کرنا ہوگا اور یہاں ایک حقیقی نمائندہ حکومت قائم کرنی ہوگی۔"
جہاں تنقید ہوتی وہاں اچھی بات کی تعریف بھی کرنی چائیے خواجہ آصف وہ واحد وفاقی وزیر جو سات دفعہ وزارت میں آ چکے ہیں اور ایک دفعہ بھی مسٹر انکلیو میں وزیر کا سرکاری بنگلہ نہی لیا ہے اس وقت بھی وہ پارلیمنٹ لاجز میں ایک فلیٹ جو ایم این اے کو ملتا اس میں رہتے ہیں وہ سرکاری گاڑی نہی لیتے ہیں ذاتی گاڑی میں ذاتی پیٹرول سے سفر کرتے ہیں ان کے ساتھ پولیس کا سکاڈ نہی چلتا نا کوئی ڈالا چلتا ہے ان کے پاس پروٹوکول والے گارڈ نہی ہیں وہ منسٹری کے کام کے لیے بیرون ملک جائیں تو سرکاری ٹکٹ لیتے مگر اگر اس ملک سے آگے اپنے پرائیویٹ کام کے لئے جائیں تو ذاتی ٹکٹ لیتے ہیں آنہوں نے اپنے بچوں کو سیاست سے بہت دور رکھا ہوا ان کا ایک ہی بیٹا اور وہ شیف ہے اور کیٹرنگ کا کام کرتا ہے خواجہ صاحب نے کبھی ان سب سب باتوں کا ذکر بھی نہی کیا ہے