Surprised that many are angry that the Hindutva gang swindled money and gold from Ayodhya Ram temple donations. When the whole Ayodhya Ram Temple project was nothing but a fraud on India, its Constitution and its Muslims, why should someone bother about the money given to it?
آج پاکپتن کا بہشتی دروازہ کھولا گیا،یہ پانچ دن عشاء اور فجر کے درمیان کھلا رہے گا۔
روزانہ اس دروازے سے ڈیڑھ لاکھ لوگ گزریں گے جن کا یہ ماننا ہے کہ جو شخص ایک بار اس دروازے سے گزرا اس کے سبھی گناہ معاف ہونگے،یہ جنتی دروازہ ہے ۔
عالم اسلام میں گناہ بخشوانے کی یہ خصوصی سہولت و رعایت پاکستانیوں کے ہاتھ اور حصے میں آئی ہے ۔
مسجد الحرام کے 243 دروازے،مسجد نبوی شریف کے 110 دروازے ،قبلہ اوّل بیت المقدس کے 11 دروازے مسلمانوں کے تینوں مقدسات کے مجموعی 364 دروازوں میں سے کسی دروازے کے حصے میں یہ “سعادت “ نہ آئی کہ آدمی صرف نیچے سے گزرے اور گناہوں سے دھل جائے۔
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تیرہویں صدی سے پہلے اس خطے کے لوگ گناہ بخشوانے کے لئے کیا کرتے ہونگے ؟
جنت کے اس دروازے پر بھیڑ کی وجہ سے 2021 میں 27 افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ 2010 میں ایک خودکش بمبار کو بھی باب جنت سے گزر کر، چھ افراد کو ہمراہ لیکر، بزعم خود جنت میں جانے کا “شرف” حاصل ہوا تھا۔
جنت کا یہ واحد دروازہ ہے جس پر رضوان اور دیگر فرشتے نہیں بلکہ پنجاب پولیس تعینات ہے۔۔۔سالی
منقول
Airport पर कैसे गैर–जिम्मेदार तरीके से सामान फेंका जाता हैं
बैग में किसी की मेहनत और सपना का कीमती सामान हो सकता हैं
कोई अपने बच्चों के लिए गिफ्ट लाता है, जो टूटा हुआ मिलता है
उस दर्द और दुख को ये लोग कभी नहीं समझ सकते
क्या किसी के सामान को ऐसे तोड़ना सही है❓
جس صحافی اور تجزیہ نگار نے اسرائیل کی فیلڈ مارشل کو قتل والی خبر دی اس کا نام Pepe Escobar ہے یہ جیو پولیٹکس پر ایک بڑا نام ہے برازیل سے اس کا تعلق ہے اور اس کا فوکس مڈل ایسٹ پر رہتا ہے وہ کئی دہائیوں سے دنیا کے بڑے میڈیا ہاوسز جیسے ٹائم ، الجزیرا وغیرہ کے ساتھ کام کر چکا ہے اسی نے مشہور ٹرم Pipelineistan نکالی تھی یہ مغربی فارن پالیسی کا بڑا نقاد ہے آزاد تجزیہ نگار کے طور پر مشہور ہے اس کا ایکس اکاؤنٹ @RealPepeEscobar ہے
ایران و پاکستان در آرمانها و امیدهای خود اشتراکات عمیقی دارند. تلاش بیدریغ پاکستان برای گسترش صلح در منطقه ریشه در فرهنگ غنی این کشور دارد.
در سفرم به پاکستان به منظور تقدیراز میانجیگریهای پاکستان، درباره گسترش تعاملات با برادرانم آصف زرداری، شهباز شریف و عاصم منیر صحبت کردیم.
Breaking:
Israeli Intelligence agency Mossad wanted to assassinate the Pakistan's military chief Asim Munir while he was in Switzerland for US-Iran talks.
— Mossad wanted to assassinate Pakistani military chief Asim Munir to derail US-Iran peace-talks and throw the region into the war again.
— Pakistan's military intelligence intercepted Mossad's plan about the assassination of its military chief.
— Pakistan didn't change the meeting schedule for Asim Munir but sent very cold message to Israel:
"If you touch our delegation, we'll wipe you off the map."
— Pakistan's message to Israel had zero room for creative interpretation. Mossad backed off from its plan.
◾Brazilian investigative journalist and famous author Pepe Escobar makes stunning revelation.
اسلام آباد: 23 جون 2026.
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کی جانب سے ایران کے صدر عزت مآب ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو انکی صحت عامہ کی خدمات، شعبہ صحت کی تعلیم، طب کی تحقیق اور محنت و لگن کے ساتھ معاشرے کی خدمات کے اعتراف میں (Cardiac Surgery) شعبہ جراحیِ قلب میں اعزازی فیلو شپ تفویض کی گئی.
ایرانی صدر کو اعزازی فیلو شپ سے دینے کی تقریب میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے.
ایرانی صدر کو پاکستان کی جانب سے اعزازی فیلو شپ سے پاکستان اور ایران کے مابین شعبہ طب بالخصوص پاکستان اور ایران کے میڈیکل کالجز کے مابین شعبہ طب کی تعلیم، اداروں کی سطح پر تعلیمی تبادلوں، طبی تحقیق، فیکلٹی اور ممتحنین کے تبادلوں میں تعاون کو فروغ ملے گا.
A viral video shows a police inspector sitting calmly in a small restaurant, having tea like any ordinary man. A poor child walks in, dips a biscuit into his tea and eats it. What happens next is unexpected the officer doesn’t react with anger, but with pure kindness and humanity.
Truly, humans are everywhere, but humanity is rare.
Pakistan's role in brokering a peace deal in the Iran war has led to widespread diplomatic acclaim that could bring Islamabad some economic benefits, but analysts question whether such gains can help resolve the fault lines in its economy https://t.co/zG6BSPiINb
اس نے حسد کے مارے کسی دن بتانا کہ میرا باپ بھی کوئی قطر سے تھا پاکستانی نہی تھا اس قدر حسد اور بغض سے بھرا یہ ایران کے سرکاری نیوز چینل کا ملازم
اس سے پوچھو کہ ہوٹل قطری تھا تو ایرانی صدر پاکستان میں اس کے ابا کے ختنوں کی مبارکُاد دینے آ رہا ہے ؟
Legend Of The Fall
بہت ساری معذرت کے ساتھ آپ جو عوام میں اہم ایشوز پر کہتی ہیں یا ٹوئٹر پر ٹوئٹ لکھتی ہیں، اس سب کے الٹ آپ کمیٹی اجلاسوں میں پوزیشن لیتی ہیں بلکہ حکومتی وزراء اور بابوز اور افسران کو مشکل وقت میں بڑے آرام سے bail out کرتی ہیں۔
میں آپ کا ماضی میں فین رہا ہوں کہ آپ نے بہت مشکل اور اہم ایشوز بہادری سے اٹھائے جس کے ہم مداح رہے ہیں۔
لیکن پچھلے کچھ عرصے سے آپ کی پبلک پوزیشن اور بند کمروں میں پوزیشن میں خود دیکھی ہے جس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کے بعد آپ کی ان باتوں پر یقین نہیں رہا۔
آپ کو یاد ہے سابق چیرمین محمد علی رندھاوا نے جو اسلام آباد کی خوبصورتی اور 40 ہزار درختوں کو تباہ برباد کیا تھا اس پر آپ نے بیرون ملک سے ٹوئٹ کیا تھا کہ وطن واپسی پر آپ سب کا حشر نشر کر دیں گی کیونکہ آپ سینٹ ماحولیاتی کمیٹی کی چیرپرسن ہیں۔ ہم سب کو امید پیدا ہوئی۔ لیکن آپ نے کمیٹی اجلاس والے دن کیا کیا؟
آپ نے اجلاس سے دو دن دن پہلے سینٹ داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر طلال چوہدری اور رندھاوا کو تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں میں سی ڈی اے چیرمین کو اجلاس میں ٹف ٹائم نہیں دوں گی۔ ہم صحافی یہ باتیں سن رہے تھے۔
میں نے آپ کو اجلاس کے بعد ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے افسوس سے کہا کہ کیا یہ ہمارا ذاتی مسلہ ہے سی ڈی اے یا رندھاوا سے؟
میں نے کہا آپ کو رندھاوا کو شہر کی ماحولیاتی بربادی ٹف ٹائم دینا چاہئے جس پر آپ نے مجھے کہا آپ یہ بات مجھے نہیں کہہ سکتے۔
میں نے جواب دیا تھا آپ ہمارے نمائندے ہیں ہم کہہ سکتے ہیں۔ اس بیس گریڈ افسر نے تباہی بول دی اور اپ سب چپ رہے۔
پھر آپ نے اس ماحولیات اجلاس میں کیا کیا تھا جس کی آپ چیرپرسن ہیں؟
میں دیگر صحافیوں کے ساتھ موجود تھا۔ آپ نے کمال مہربانی سے سی ڈی اے اور رندھاوا کو ٹف ٹائم نہیں دیا جس کا وعدہ طلال چوہدری سے آپ نے کیا تھا۔ اسلام آباد کی بربادی کرنے والا رندھاوا آپ کے اس اجلاس میں “حسن سلوک “ کی وجہ سے سب کو چڑاتا ہوا آپ کے اجلاس سے خوش خوش گیا تھا۔
ابھی بھی اس ٹیلی کام بل پر آپ وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آپ کی پبلک اور اندر کھاتے پوزیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
آپ کی پوری پارٹی جانتی ہے آپ اور نوید قمر کی اس بل پر حکومت کو پوری سپورٹ تھی جس وجہ سے اسمبلی سے پاس ہوا۔ آپ نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ آپ کی سب مزاحمت یہاں ٹوئٹر پر ہے، اجلاس میں آپ حکومتی وزراء اور افسران کے ساتھ ہوتی ہیں۔ خود شزا فاطمہ نے جیو کو انٹرویو میں بتایا کہ پی پی پی کی ساری مرضی اور تعاون کے ساتھ بل پاس ہو۔
افسوس ہوتا ہے آپ جیسی کبھی کی بہادر اور ذہین سینٹر دھیرے دھیرے اس سیاسی رنگ میں رنگی گئی ہیں جو ہمارے جیسوں کے لیے مایوس کن ہے جو آپ کو کبھی آپ کے زبردست ہیرالڈ کے دنوں کے بیک گراونڈ کی وجہ سے بہت امیدیں باندھے ہوئے تھے کہ آپ کبھی سیاسی یا کارپوریٹ مفادات کی مصلحتوں کاشکار نہیں ہوں گی۔ آپ عوامی مفادات پر بیوروکریٹس اور وزیروں یا کارپوریٹ ورلڈ کے مفادات کو اہمیت نہیں دیں گی۔
لیکن ہم سب غلط نکلے۔ آپ بھی اب وہی سیاست کرتی ہیں جو دیگر عام سیاسی لوگ کرتے ہیں۔ وہ فرق مٹ گیا کہ کوئی آپ کی طرح پڑھے لکھے اربن بیک گراونڈ سے تعلق رکھتا ہو فارن کوالیفائڈ ہو وہ اس ایم این اے یا سینٹر سے مختلف اور بہتر ہوگا جو عام دیہاتی پس منظر سے عام تعلیم کے ساتھ محض کسی پارٹی کو بڑا فنڈ دے کر پارلیمنٹ پہنچ گیا ہو۔
آپ پھر اس ٹیلی کام بل پر بھی سب کو وہی پرانی آزمودہ گولی دے رہی ہیں جو آپ نے اسلام آباد کی ماحولیاتی بربادی پرٹوئٹ کر کے دی تھی کہ کس کو نہیں چھوڑیں گی۔ پھر ہم سب نے دیکھا آپ نے اپنی کمیٹی اجلاس میں محمد علی رندھاوا سمیت سب کو کلین چٹ دی تھی۔ آپ اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہیں۔آپ پر اب کون اعتبار کرے۔
What a fall
@BBhuttoZardari@sharmilafaruqi@ShaziaAttaMarri@A_Qadir_Patel@PalwashaKhan18@naveedqamarmna@SyedAghaPPP@HinaRKhar@Ali_MuhammadPTI@SyedAliZafar1@SenatorSaleem@Nabilgabol@ninoqazi@najamsethi@SyedaAyeshaNaz1@murtazasolangi@AyazSadiq122@BilalAKayani@DrTariqFazal@CMShehbaz@MIshaqDar50@MohsinnaqviC42
A few years ago, I traveled from Karachi to Gwadar for a reporting assignment. The driver started using Iranian petrol on the Coastal Highway. Even in Gwadar city, instead of filling up at a PSO station, he continued using Iranian petrol.
On the way back, near Bozi Top, the car’s speed dropped drastically. The stretch from Kund Malir to Zero Point, which is about 150 kilometres and normally takes less than two hours, took us four and half hours to cover. But, as soon as we got back onto the Karachi–Quetta Highway and filled the tank with regular petrol, the car started running smoothly again.
I do not know whether Iranian fuel is generally like this, or whether the particular fuel available in Balochistan’s coastal district, which we used, happened to be of poor quality.
🇸🇦🇺🇸MASSIVE U-TURN ALERT!
Saudi Arabia just dropped a bombshell:
“We can no longer stand side by side with Trump. Let him save himself first, then save us.”
Saudi Arabia’s major announcement — for the first time in over 80 years, the Saudis are saying NO to the United States!