ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی حراست اور ان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ان کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی اطلاعات اور بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صورتحال پوری طرح واضح کرے۔
کونسل حکومت اور متعلقہ حکام سے سوال کرتی ہے: سہیل آفریدی اس وقت کہاں ہیں، کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور انہیں کس قانونی بنیاد پر رکھا گیا ہے؟ اگر وہ زیرِ حراست ہیں تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ان کی سلامتی، اہلخانہ سے رابطے اور وکیل تک رسائی کے بارے میں واضح معلومات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟
کسی صوبے کے سابق وزیراعلیٰ کی موجودگی اور قانونی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر سنگین تشویش پیدا کر سکتی ہے۔ جب ایک نمایاں عوامی نمائندے کے حوالے سے ایسے سوالات جواب طلب ہوں تو عام شہری اپنے تحفظ کے بارے میں کیا اطمینان رکھے؟
’’حفاظتی تحویل‘‘ کی اصطلاح عدالتی نگرانی، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت ختم نہیں کرتی۔ سیاسی اختلاف کسی بھی شخص کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ سہیل آفریدی کی موجودگی، صحت اور حراست کی قانونی بنیاد فوری طور پر واضح کی جائے، انہیں بلا تاخیر مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اہلخانہ و وکلا سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ اگر ان کی حراست کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔
عوام کو خاموشی نہیں، واضح جواب چاہیے۔ ہر شہری کی آزادی، عزت اور سلامتی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ترجمان
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan)
#HRCPakistan #SohailAfridi #HumanRights #RuleOfLaw
ابھی میں مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وہ بتا رہے تھے کہ جب صدر مشرف کی حمایت میں چاروں صوبوں سے ووٹ مانگا گیا تو کے پی کے نے بھی ووٹ نہیں دیا اور بلوچستان نے بھی واپس لے لیا۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ جناب چیئرمین! ہم نیچے جا رہے ہیں، دن بدن ہمارا زوال ہے، ڈکلائن ہے۔ ایک انسان کے طور پر، ایک پارلیمنٹرین کے طور پر، اقتدار کے حامل ہونے کے طور پر، ایک ذمہ دار ہونے کے طور پر، ایک پرائم منسٹر، پریزیڈنٹ، سینیٹر، ایم این اے اور کابینہ کا حصہ ہونے کے ناطے ہمارا زوال شروع ہے۔
جناب چیئرمین! یقیناً پاکستان کے عوام ہمیں یہاں اس لیے بھیجتے ہیں کہ ہم ان کے حقوق کی جنگ لڑیں، اور ہم پاکستان کو درست سمت میں رکھیں۔ ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسی کے تمام مسائل یہاں ڈسکس ہوں، پارلیمنٹ میں ڈسکس ہوں۔ کیا پارلیمنٹ کی کوئی اہمیت ہے؟ ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ 21 دن پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہوا، کیوں نہیں ہوا؟ ہم اپنا کام کیوں نہیں کرتے؟ 21 دن جو ہمارا اجلاس ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا، آخر کیوں نہیں ہوا؟ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم یہ کام کریں، پارلیمنٹ میں بیٹھیں اور اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ کیا کوئی جواب دہ ہے؟ کوئی پوچھنے والا ہے؟ کیا کوئی کسی سے پوچھ سکتا ہے؟
پاکستان کے بے شمار مسائل ہیں، ہم خیبر پختونخوا کے مسائل پر یہاں بیٹھتے، ہم امن و امان کے مسائل پر یہاں بیٹھتے۔ جناب چیئرمین! واقعتاً افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہوا ہے، پاکستان کی وکلاء برادری اس سے اختلاف کر رہی ہے، ساری اپوزیشن اختلاف کر رہی ہے۔ خدا کے لیے اپوزیشن اور پاکستان کے عوام کو انسان سمجھیں۔ انہیں عقل والا سمجھیں، شعور والا اور باہوش سمجھیں، دیکھیں کہ ان کے اندر کتنا صبر ہے۔
اب آپ نے وہاں پر 11 رکنی ایک مرکزی کمیٹی بنا دی ہے، اس صوبے کو اب آپ وفاق سے چلائیں گے، ماشاءاللہ! تو پھر وہاں گورنر کس لیے ہے؟ آپ نے اتنی جلدی میں ڈی سی اور ڈی پی اوز تبدیل کیے اور وکلاء کے جو عہدیدار، ایڈوائزر یا ایڈیشنل قانونی ذمہ داران ہوتے ہیں، انہیں آپ نے اٹھا کر پرے پھینکا ہے۔ آپ نے یہ سب پہلے سے پلان کیا ہوا تھا، آپ تیاری کر چکے تھے کہ آپ نے یہ کام کرنا ہے۔ یہ مذاکرات محض ایک ڈھونگ تھا۔
اگر مذاکرات ڈھونگ نہ ہوتے تو ہم کبھی بھی اس طرح معاملات کو نتھی نہ کرتے اور ہم بعد میں سیکیورٹی کے مسائل کو ہفتے کے دن ڈسکس کر لیتے۔ اتوار کو یہ سب ختم ہوا اور آپ نے چھٹی والے دن خوب فیصلے کیے۔ سات آٹھ دن بعد آپ نے فیصلہ کیا، یہ بات چیت سات آٹھ دن مزید بھی جاری رہ سکتی تھی، ہم آپس میں بیٹھ سکتے تھے اور ہم بیٹھے بھی ہیں۔ ان سے پوچھیں، جب ہم اپنی اس شرط سے بھی پیچھے ہٹ گئے اور عمران خان صاحب سے ملاقات کے بغیر بھی فیصلہ کرنے پر تیار ہو گئے تھے، تو کیا آپ کسی ایک چیز سے بھی پیچھے ہٹنے کو تیار تھے؟ کیا آپ وہاں بحیثیت صاحبِ اختیار بیٹھے ہوئے تھے؟ نہیں، آپ صاحبِ اختیار نہیں تھے۔ ہم نے اپنا اختیار استعمال کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے، ہم بعد میں مل لیں گے کوئی بات نہیں، حالانکہ ہماری شرط یہ تھی کہ پہلے ہم ان سے ملاقات کریں گے اور پھر بات کریں گے۔
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
کمشنر روالپنڈی نے تو 8 فروری، 2024 الیکشن میں دھاندلی کر کے آنے والوں کی ساری اوقات بتا دی تھی۔
صرف ایک صوبہ جس میں واقعی عوام کے ووٹ سے حکومت منتخب ہو کر آئی تھی، اسے بھی یہ اژدھا حکمران کھا گئے، جن کی اپنی ٹوٹل اوقات 17 سیٹیں تھیں۔
اور یہ 2024 کی بات تھی۔ اب تو وہ بھی نہیں رہیں۔
میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں، یہ مینڈیٹ چور حکومت کے پیچھے چھپنا چھوڑ دو ہمیں معلوم ہے یہ سب کچھ تم ہی کروا رہے ہو. ایڈووکیٹ شعیب شاہین
#ReleaseImranKhan
جمہوریت کے نام پر دھوکہ اور عوامی مینڈیٹ پر پیپلزپارٹی پارٹی کا وار:
1973ء: بلوچستان میں گورنر راج (ذوالفقار علی بھٹو - 15 فروری 1973ء)
2009ء: پنجاب میں گورنر راج (صدر آصف علی زرداری)
2013ء: بلوچستان میں گورنر راج (صدر آصف علی زرداری)
2026ء: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج (صدر آصف علی زرداری)
پیپلز پارٹی کی قیادت اس کا کیا جواب دے گی؟ اقتدار کی خاطر عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ کو اس طرح پاؤں تلے روندنا وڈیرے شاہی کی روایت سہی لیکن یہ قوم بیدار ہے۔ سوال ہو گا اور جواب دینا پڑے گا۔
#چلو_پشاور_کی_طرف
@KeepsamM Jis chez k pesy diye thy govt KP ne USKO Woh q ni Diya Gaya tha ab jesy hi phaoj chari KP par usi waqt unka Saman agaya wah ray DNA Karwa ya Ami se poch Kis ki aolad ha tu
ان کا رویہ یہ ہے کہ ہم بدمعاشی بھی کریں گے، ڈرائیں گے بھی، مینڈیٹ بھی چھینیں گے، مکمل طور پر پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کریں گے، اربوں روپے کی کرپشن کریں گے اور دنیا بھر کی بدمعاشیاں کریں گے اور آپ لوگ بس خاموشی سے سب تسلیم کریں اور کہے کہ
تیرا سر رہے سلامت، قومی نشان ہمارا
جبری گمشدہ؟؟؟؟
ان کو کس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے؟؟ کہاں رکھا گیا ہے؟؟؟ ان پر کونسی دفعات/ جرائم تھوپے گئے ہیں؟؟؟کسی کو کچھ علم نہیں۔۔۔یہ اغواء کاری اور جبری گمشدگی ہے۔۔۔
یہ عوام کے مینڈیٹ، منتخب نمائندوں کی توہین و تذلیل ہے۔۔۔تاریخ اپنا حساب لے گی۔۔۔
میں پاکستان کے عوام، طلباء، نوجوانوں، خواتین، پڑھے لکھے طبقے، سیاستدانوں اور ہر ایک فرد سے مخاطب ہوں اور اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اٹھیں اور اس ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں۔ اسے ہرگز نہ ہونے دیں، بصورتِ دیگر ظلم کی ایک انتہائی تاریک رات چھا جائے گی۔ آپ یقین کریں، جو لوگ وزیراعظم ہاؤس، ایوانِ صدر، پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبوں میں اقتدار کی محبت میں اندھے ہو کر بیٹھے ہیں، وہ مزید اندھے ہو جائیں گے۔ بالآخر انہیں بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ان کے ہاتھ بھی خالی رہ جائیں گے۔ خدارا پاکستان کو بچائیں، آئیں مل کر اس ملک کی خاطر باہر نکلیں، ایک دوسرے سے رابطے بڑھائیں اور اس ظلم اور غلط سمت میں جانے والے راستے کو روکیں۔
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس