بریکنگ نیوز 🚨مولانا گل نصیب خان کا بڑا بیان 🔥🔥
اگر ہم مولانا فضل الرحمن کو چھوڑ سکتے ہیں، اور عمران خان کو لے سکتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے ہم حق کے ساتھ کھڑے ہیں، شخصیات کے ساتھ نہیں۔ عمران خان طاقتوروں کے سامنے ڈٹ گیا ہے، ہم ایسے بہادر مرد کو سلام پیش کرتے ہیں۔
بریکینگ نیوز 🚨
وزیرستان سے یہ دوسرا قافلہ نکل چکا ہے ، یہ صرف ایک حلقہ کا قافلہ ہے سوچوں تمام قافلہ آگر اکٹھا ہو جائے تو کیا منظر ہوگا 🔥
جو بھی ویڈیو آپ کی سامنے آتی ہے بغیر سوچے سمجھے اس کو آگ کے طرح ہر جگہ پھیلائے
#عوامی_سمندر_سڑکوں_پر
”عمران خان کے پاس جیل میں ڈیل کی آفرز لے جانے والوں کو صاف انکار ہوا، کیونکہ عمران خان کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر کوئی عملدرآمد نہ ہو سکا، گرفتاریاں شروع ہیں اور خیبرپختونخوا میں آئی ایس آئی نے قبضہ کر رکھا ہے۔ محسن نقوی کی اپنی بقاء عاصم منیر کی خوشنودی اور ناجائز طاقت کے ساتھ جڑی ہے۔ یہ صرف وہی کرے گا جس سے عاصم منیر کی طاقت میں اضافہ ہو۔“ بیرسٹر شہزاد اکبر
@ShazadAkbar
#PakistanUnderAsimLaw
بریکنگ نیوز....🔥🔥
تحریک انصاف پاکستان تاریخ کی سب سے پہلے پارٹی بن گئی جو مسلسل چار سالوں سے اسٹیبلشمنٹ کا ہر غیر قانونی جبر برداشت کر کے مقابلہ کر رہی ہے
(بی بی سی رپورٹ)
🚨صوبائی وزیر شکور خان کے اغوا کی ویڈیو یلدا حاکم نے شو میں چلا دی یلدا حاکم کا شدید تشویش کا اظہار
یلدا حاکم : میں آج ایک ممبر پارلیمنٹ کے اغوا کی ویڈیو دیکھ رہی تھی کہ کیسے دن کی روشنی میں دہشت کے ذریعے اٹھایا جا رہا ہے کیا اس صورتحال کے بعد بھی 27 ستمبر احتجاج کی کال جاری رکھیں گے ؟
ذولفی بخاری: پچھلے دو دنوں سے پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بعد ملک سے باہر بیٹھ کر میرے لیے کہنا بہت آسان ہے کہ ہم احتجاج کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے 26 نومبر کو کم از کم ہمارے 11 لوگوں کو شہید کیا تھا تو ہمیں اس بار نکلنے سے پہلے کارکنان کے تحفظ کے پہلو پر بھی سوچنا ہو گا لیکن لوگ ہر صورت نکل کر اپنے غصے اور جزبات کا اظہار پرامن رہ کر کرنا چاہتے ہیں ہمیں اس پہلو کو بھی دیکھنا ہو گا
پاکستان کی ایک جیل کی ایک چھوٹی خستہ اور کیڑوں سے بھری کوٹھڑی میں 73 سالہ شخص موت کا انتظار کر رہا ہے۔ اسے مسلسل کئی کئی دن تک قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ وہ مناسب ورزش بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کا کمرہ، جس میں بیت الخلا بھی شامل ہے، صرف 6 فٹ × 8 فٹ کا ہے۔
اس کوٹھڑی میں کوئی کھڑکی نہیں، اور بعض اوقات بجلی اور سورج کی روشنیاں بھی بند کر دی جاتی ہیں، جس کے باعث وہ کئی کئی دن مکمل تاریکی میں بیٹھا رہتا ہے اور روشنی دیکھنے کے قابل ہونے کا انتظار کرتا ہے۔ طویل عرصے تک اسے کتابوں یا اخبارات تک رسائی بھی نہیں دی جاتی، مہمانوں سے ملاقات تو دور کی بات ہے۔ نتیجتاً وہ خود کو بیرونی دنیا سے مزید کٹا ہوا محسوس کرتا ہے اور اسے اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں بھی خوف لاحق ہونے لگا ہے۔
اب اسے ان حالات میں قید ہوئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران اس نے گرمیوں کی شدید حدت اور سردیوں کی سخت سردی برداشت کی۔ ناقص اور تاخیر سے کیے گئے طبی علاج کے بعد اس کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ضائع ہو چکی ہے۔
جن حالات میں اسے رکھا گیا ہے، ان کی گزشتہ دو برسوں کے دوران اقوام متحدہ کے تشدد سے متعلق خصوصی نمائندے تین مرتبہ مذمت کر چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور، شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر توجہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس قیدی کو مناسب طبی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
وہ شخص، یقیناً، عمران خان ہیں، جو 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیرِاعظم رہے، اور اب ان کی حالت ایک عالمی تشویش کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے انہیں ایسے مقدمات کی بھرمار کا سامنا ہے جنہیں سیاسی محرکات کا حامل قرار دیا گیا ہے اور جن کا مقصد انہیں مستقل طور پر سیاسی منظرنامے سے باہر کرنا بتایا جاتا ہے۔
یہ الزامات اس قدر بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر مقدمات ختم ہو چکے ہیں۔ صرف ایک معاملہ باقی ہے: الزام یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے برطانیہ کی حکومت کی کچھ رقم ایک مخصوص پراپرٹی ڈویلپر کی جانب منتقل کرنے میں مدد کی، جس کے بعد اس ڈویلپر نے ایک یونیورسٹی کو خطیر رقم عطیہ کی، اور اس یونیورسٹی کے عمران خان اور ان کی اہلیہ سے روابط تھے۔
اگر یہ تمام الزامات اپنی تمام تر تفصیلات سمیت درست بھی مان لیے جائیں — اور عمران خان اپنی سزا کے خلاف اپیل کر رہے ہیں — تب بھی پاکستانی استغاثہ نے تسلیم کیا ہے کہ نہ عمران خان اور نہ ہی ان کی اہلیہ کو یونیورسٹی کو دیے گئے اس عطیے سے کوئی مالی فائدہ حاصل ہوا۔
یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ عمران خان کے خلاف نام نہاد القادر کیس میں کسی حد تک جواب طلبی بنتی ہے — اور میرے لیے یہ بات بھی قطعی واضح نہیں کہ ایسا ہے — تب بھی انہوں نے ایسے حالات کا مستحق ہونے کے لیے کچھ نہیں کیا جو ذہنی اور جسمانی اذیت کے مترادف ہیں۔
سب سے بڑھ کر، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی اپیل فوری طور پر اور ایک آزاد عدالت میں سنی جائے۔
برطانیہ کو عمران خان کی رہائی میں مدد کرنی چاہیے
بورس جانسن سابق وزیراعظم برطانیہ
🚨🚨 بریکینگ نیوز :
سابق آرمی کے افسران کی چار بڑی ڈیمانڈز ۔!!!🔥
پہلی ڈیمانڈ : عمران خان کو فوری طور پر غیر مشروط رہائی دی جائے ۔
دوسری ڈیمانڈ : پولیٹیکل انجینرنگ فوج مکمل طور پر بند کرے ۔ یعنی فوج سیاسی معاملات میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کروانے اور سیاسی نظام کو اپنے حساب سے تشکیل دینے کا عمل مکمل طور پر ختم کرے ۔
تیسری ڈیمانڈ : فارم 45 کا جو مینڈیٹ ہے, عمران خان کا ۔ وہ وآپس کیا جائے
چوتھی ڈیمانڈ : جو مکہ اکارڈ کیا, کہ سعودی کی جنگ میں آپ شامل ہوسکتے ہیں, یہ بہت ہی اہم چیز ہے۔ اور اس میں جانے کیلئے ضروری ہے کہ عوام کا مینڈیٹ آپ کے پاس ہو ۔موجودہ ریجیم کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ہے, اس لئے عمران خان کو رہا کریں ۔!!🔥🔥🚨
یہ امریکی صحافی بھی کہے رہا
سزا کے وقت اڈیالہ جیل میں عمران خان کے وکیل کو باہر بھیج دیا گیا تھا
اور سرکاری وکیل کو عمران خان کا وکیل بنا کر پیش کردیا
بادشاہ ننگا ہے
قتل کے مرتکب لوگوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا، جیسا عمران خان کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مائیکل ہولڈنگ
#pakistan
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے سات سابق کپتانوں نے ایک مشترکہ بیان میں اپنے وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کریں کہ دنیائے کرکٹ کے ایک بڑے کھلاڑی عمران خان کی زندگی کو جیل میں خطرات لاحق ہیں انہیں جیل میں مرنے سے بچایا جائے
عمران خان کی حراست کو اقوام متحدہ کے متعلقہ ورکنگ گروپ نے من مانی قرار دیا ہے۔
تین سال سے زیادہ عرصے سے قید کے دوران ان کے قانونی حقوق، طبی سہولیات اور بنیادی انسانی حقوق پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ان معاملات کی فوری، آزادانہ اور شفاف بین الاقوامی سطح پر جانچ ہونی چاہیے۔
دنیا کو اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
کسی بھی شخص کی حراست قانونی ہو یا غیر قانونی، اسے دنیا کی نظروں سے چھپا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ انسانی حقوق کے documented خدشات پر خاموشی قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان کا آرمی چیف ہمارے والد کے بارے میں بغض رکھتا ہے اور وہ انہیں سخت ازیتوں میں قید رکھ کر مارنا چاہتا ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کا گارڈین میں انٹرویو۔
ایک افسوس ناک دن ۔۔اسلام آباد کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے خیبر پختون خواہ کے منتخب وزیر اعلی کی ریاست سے وفاداری پر سوال اٹھا دیے ۔۔مریم نواز کے بیان کے بعد دوسرا سیاسی حملہ
قائد اعظم صرف وکیل نہیں ایک جج بھی تھا۔۔ انکے فیصلے موجود ہے۔۔قائد اعظم نے اس وقت کہا تھا کہ بغیر ٹرائل کے کسی کو ایک سیکنڈ کیلئے بند کرنا بھی جرم ہے۔۔جو اجکل ہورہا ہے مطلب عمران خان کیساتھ اس کی وضاحت 60 سال پہلے قائد نے کی تھی !!
صحافی حامد میر 🔥
میں اگر اپنے ملک کے لیے نہیں لڑونگا تو کون لڑے گا ! عمران خان
خان 25 کروڑ لوگوں کی آخری امید ہے کبھی ڈیل نہیں کر سکتا کبھی ملک چھوڑ کر لندن نہیں جا سکتا۔
آسٹریلین چینل 9 کا عمران خان کی جبری قید پر پرائم ٹائم میں
علیمہ خان کا انٹرویو۔۔۔۔ہم اپنے بھائی کے لیے لڑیں گیں اس کی آزادی پاکستان کی آزادی ہے