کرکٹ کے21سابق کپتانوں نےخط لکھ کرعمران خان کا مناسب علاج کروانےکی اپیل کی،لیکن ایک بھی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں۔
مجھ سےغیر ملکی کھلاڑی کہہ رہےہیں کہ ہم نےانسانیت کی بنیاد پر عمران کےلئےآواز اٹھائی۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ وسیم اکرم سمیت سب پاکستانی کھلاڑی چپ ہیں۔مرزا اقبال بیگ
کرنل صاحب کی بیوی کا دفاع کرنے والے تو کہہ رہے تھے کہ لڑکوں کے جھرمٹ میں محترمہ "گھبرا" گئی تھیں، لہٰذا کرنل صاحب نے اپنی بیوی کے دفاع میں چھڑی چلائی اور فائرنگ کی۔
جبکہ کرنل صاحب کی بیوی کی دادا گیری ملاحظہ ہو۔ 👇🤦
جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام تک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان کر آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل جائے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
" ہم یہاں بیٹھے وہاں بیٹھے ٹائم گزار رہے تھے عمران خان نے کہا یہ اتنا مجھے ٹارچر کر رہے ہیں میرے ساتھ ظلم ہوا ہے نا ٹی وی نا ریڈنگ میٹریل دیا گیا میرے سر میں کچھ ہونے لگ گیا تھا میرج کوئی پرواہ ہی نہیں کرتے 10 اگست کو ڈاکٹر آئے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے یہ کوئی انسانوں کے ساتھ کوئی ایسا نہیں کر سکتا یہ ظلم کر رہے ہیں میرے سے ۔۔۔ میں کہتا ہوں یہ میری سنتے نہیں پروا نہیں کرتے " ڈاکٹر عظمی کی پریس کانفرنس
مقبولیت کا پیمانہ ٹرمپ کی تعریفیں نہیں، پاکستانی عوام ہیں۔
ہمت ہے تو عمران خان کو ایک گھنٹے کے لیے اڈیالہ جیل سے باہر نکالو۔
5 اگست کو عمران خان کو اڈیالہ جیل میں 3 سال مکمل ہوچکے ہیں۔
1100 دن سے زائد عرصے سے عمران خان اپنی اہلیہ، خاندان اور پارٹی قیادت کے ساتھ ظلم و جبر کا بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
عوام کا فیصلہ واضح ہے، عمران خان آج بھی مقبول ہیں۔
پاکستان رائٹس مومنٹ
@prmofficial0
اڈیالہ کے سارے قیدی اپنے رشتہ داروں سے مل پا رہے تھے یہ ایک قیدی جس کا نام عمران خان ہے اسے اپنے رشتہ داروں سے نہیں ملنے دیا جا رہا تھا اس قیدی جیسا ایک اور قیدی بھی تھا جس کا نام نواز شریف تھا وہ چار ہفتے کی ضمانت لے کر گیا اور واپس چار سال بعد آیا جو سلوک عمران خان کے ساتھ ہوا وہ اور کس قیدی کے ساتھ ہوا ؟ شاہزیب خانزادہ ۔۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کو سیاہ شیشوں والی گاڑی میں پولیس کی گاڑیوں کے گھیرے میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال پہنچایا گیا۔ شفا انٹرنیشنل تک کی سڑکیں ہرگز کسی رش کی وجہ سے بند نہ تھیں۔