@Rabbia223344@MaidahMuhammad آج کے مسلمان میں غیرت نام کی چیز نہیں۔ آج کے مسلمان خنزیر تو نہیں کھاتے پر سارے حرام کے کام کرتے۔
اور خنزیر کھانے والوں نے اپنے معاشرے میں سچ اور انصاف کو فروغ دیا۔ نا انصافی اور انسانوں پر ظلم کو ختم کیا۔
آپ کو کچھ سمجھ نہیں تو ایسی جھوٹی باتیں مت لکھیں
@farwaiqbal7777@Access_Pk@enkidureborn غصہ نہیں کرنا۔ گالی نہیں دینی۔ ایسی بات پر غصہ کرنا بنتا بھی ہے پر اس بات کا جواب اگر دینا ہے دلیل سے دیں یا خاموش رہ لیں۔ 🙏
@MaidahMuhammad انور سادات کے مرنے کے بعد کیا کچھ بدلا؟ کچھ نہیں بدلا کیوں کہ ان پر حکومت کرنے والے کوئی اور ہیں۔ اسی طرح عاصم منیر بھی گیا تو کچھ تبدیل نہیں ہونا۔ چہرے بدل جائیں گے
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
سیاستدان آپ کو خواب کا چورن بیچتے ہیں۔
کسی کا خواب سستا ہے، کسی کا مہنگا۔
کوئی مذہب کے نام پہ بیچتا ہے، کوئی لبرل ازم کے نام پہ، کوئی قدامت پسندی کے نام پہ۔
بس پیکجنگ بدلتی رہتی ہے، چیز وہی رہتی ہے!
مگر کبھی غور کیا ہے؟
یہ لوگ آپ کو احساس نہیں بیچتے۔
عوامی خدمت نہیں بیچتے۔
انسان کی عزت نہیں بیچتے۔
کیونکہ یہ چیزیں تقریروں میں تو بہت اچھی لگتی ہیں، سیاست میں نہیں!
اور شاید سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ملک چلانا مقصد ہی نہیں، پیسہ بنانا اصل مقصد ہے۔
ایسا پیسہ بھی نہیں جو محنت سے آئے؛
بلکہ ایسا جو ان راستوں سے آئے جنہیں 'عام آدمی' سوچ بھی نہیں سکتا۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ لوگ سیاستدانوں سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں۔
اس فیلڈ مارشل کا معجزہ سنیے
کہتا ہے ہم 5ہزارکڑوڑ خرچ کرینگے اور یہ ایک معجزے کی بات ہے
سامنے بیٹھیں زومبیز تالیاں🤣
اب ملک کا قرض 100کھرب ہو چکا۔ 55 کھرب صرف فیلڈ مارشل حافظ کے دور میں۔یعنی کے بہا معجزے
جیسے کے ہمارے پاس نہ بجلی نہ پانی نہ گیس نہ روزگار نہ ہی کوئی حق۔ ایک سو کھرب کے مقروض بھی،اس سے بڑا معجزہ ہوسکتا؟
ناد علی 2005 میں پیدا ہوا۔ بالاکوٹ کے زلزلے میں اس کے والدین جان سے گئے۔ یہ یتیم ہوگیا۔ اس کے دادا نے جا کر ایدھی صاحب کو بتایا کہ وہ بچے کو ایسی کسی بھی فیملی کے سپرد کر سکتے ہیں جسے وہ مناسب سمجھیں۔ پھر بلقیس ایدھی کے ذریعے حدیقہ کیانی نے بچے کو گود لیا۔ انہوں نے اسے اپنے بیٹے کی طرح پالا۔ آج وہ بچہ 21 سال کا ہوگیا ہے۔
کسی بچے کو گود لینا بظاہر ایک ذاتی فیصلہ ہوسکتا ہے لیکن اس فیصلے کے پیچھے کیا محرکات ہوتے ہیں وہ شاید ہم نہیں جان سکیں۔ یہ بات اس ماں سے پوچھیں جس کی گود برسوں سے خالی ہو، جو ہر رات ایک بچے کی آواز سننے کی خواہش میں سو جاتی ہو۔ یہ اس عورت سے پوچھیں جو اکیلے ایک بچے کو پال رہی ہو، جو اپنی نیند، اپنی خواہشیں، اپنا سکون سب کچھ ایک ننھی سی زندگی کے لیے قربان کر دیتی ہو۔۔ اس سے پوچھیں کیا ہوتا ہے بچے کا ہونا نہ ہونا اور پھر اسے پالنا۔۔۔
گود لیے بچے کو صرف گھر دے دینا کافی نہیں ہوتا۔۔ اصل امتحان اسے ماں جیسا احساس دینا ہوتا ہے۔ ایک ایسا احساس جس میں اپنائیت اور بے غرض محبت ہو۔۔ بہت سے بچے زندگی بھر یہ خلا محسوس کرتے رہتے ہیں کہ کوئی انہیں واقعی اپنا سمجھتا ہے یا نہیں لیکن حدیقہ کیانی نے یہ ثابت کیا کہ ماں ہونا محض خونی رشتہ نہیں ہوتا۔۔۔۔
میں اس حوالے سے کافی لکھ رہا ہوں۔ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ایک طرف حدیقہ کیانی بطور خاتون وہ سب کچھ کر رہی ہے جو معاشرے کے اکثر مرد بھی نہیں کر پاتے اور ساتھ ہی وہ ایک بہترین ماں بھی ثابت ہو رہی ہیں۔۔ ایسی خواتین کی ہر صورت میں حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ جو کر رہی ہیں وہ یقیناً غیر معمولی ہے۔۔ بجائے اس کے کہ آپ تنقید کے لیے زاویے ڈھونڈیں۔۔۔
ادیب یوسفزئی
جب معاشرہ قابلیت کو سراہنے کے بجائے پرچی اور سفارش کو مقدم جان لے تو جو چیز سب سے پہلے فنا ہوتی ہے وہ خواب ہیں، سنہرے، معصوم اور غریب خواب!
ایسے خواب جن میں اپنی چھت اور بہن کی شادی کے علاؤہ کچھ نہیں ہوتا۔
اور تف ہے ایسے معاشرے پر 🖐️
ڈراپ سائٹ نے المشہور سائفر کے اصل مندرجات پبلک کر دیے
ڈاکٹر شہباز گل کا مکمل اردو ویلاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://t.co/qlW5dL7t7l