محسن نقوی کے چند جملوں نے آپ کے ملک کی جمہوریت کی اصلیت کھول کر رکھ دی ہے۔
ان چند جملوں پر غور کرنے کو آج ایک سابقہ وزیر اعظم/ ایک ڈپٹی وزیر اعظم/ ایک وزیر اعلی اور موجودہ وزیر اعظم سب سر جوڑ کر بیٹھے۔۔اور ابھی تک ہمت نہیں جتا پائے کہ جواب دینا کیا ہے۔
ایک نقوی سب پہ بھاری!!
اوہ ۔۔۔ چچا تم ہوتے کون ہو یہ عوام سے وفاداری ثابت کروانے والے ؟؟
چچا بارڈر پے جا اپنا کام کر ، نوکر ہے تو ہمارا ۔۔
ہم تم سے سوال کریں گے مالک ہیں تمہارے تم ہمیں جواب دہ ہو ۔۔
جناب میرے خاندان سے میں پہلا شخص جو سیاست میں عمران خان کی وجہ سے آیا۔ 1973 کےخاندانوں، جاگیرداروں، نوابزادوں تینوں کےویڈیوں ثبوت موجودہیں کہ سالار این اے263 کوئٹہ سےالیکشن جیت گیا۔ تین دن بعد ایک ایسا شخص جو مقابلے ہی میں نا تھا اسکے فارم 47 میں جیت کااعلان ہوگیا۔
ہنڑ دسو جی؟
پہلے محسن نقوی کا بیان سسٹم ناکام ہو چکا اور اب پیپلزپارٹی کا بار بار کہنا کے نون لیگ نے 2024 کا انتخاب بری طرح ہارا۔ اب مختارا ہی بتا سکتا ہے کیا واقع ہی گل ودھ گئی ہے۔
اِس سات سالہ بھارتی RAW کی ایجنٹ اور غدّارِ وطن جِس سے پاکستان کی سالمیّت کو شدید خطرہ لاحق تھا، اُسے نورجہاں کے جَرّی، شیروں کے جِگرے والے، سجیلے اور مایۂِ ناز جوانوں نے قتل کر دیا۔؏
دَلّو! محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خُوں سے دھو رہے ہو
گماں تُم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مُجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
'آوارہ بادل' سے اقتباس
جج آپ کے لگائے ۔ وزیر اعظم آپ کا بھرتی کیا ہوا۔ وزیر اعلی پنجاب آپ کی پراڈکٹ۔ فارم سنتالیس آپ کی پیداوار ۔ ڈوگر کورٹ آپ کی پیشکش۔ چئیرمین پی سی بی آپ کا منظور نظر۔ وزیراعلی بلوچستان آپ کا۔ سب کچھ آپ کے انڈر ۔۔یہ سب مل کر ہی سسٹم چلاتے ہیں تو پھر سسٹم کیسے کولیپس کر گیا؟
وفاقی حکومت دس لاکھ ٹن گندم کس ملک سے منگوا رہی ہے ؟ ٹینڈر کیسے ہورہے ہیں؟کن کمپنیز کو اجازت دی جارہی ہے ؟ گندم کا بحران پیدا کیوں ہوا ؟ ان سوالات کے جواب کون مانگے گا ؟ کون لے گا؟ کیونکہ اپوزیشن تو ملک میں باقی رہی نہیں
پی ٹی آئی کی قیادت کے کچھ لیڈرز کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سے شکوہ تھا کہ شاید سوشل میڈیا ان کے بہت خلاف ہو گیا ہے لیکن کل کی صرف ایک دن کی ایکٹیویٹی کے بعد پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا نہ صرف علیمہ خانم صاحبہ کے دورے کی بھرپور کوریج کررہا ہے بلکہ علیمہ خانم صاحبہ کے استقبال کے لئے متحرک پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی کی بھی بھرپور پذیرائی کررہے ہیں، پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ایک بار پھر اس تحریک میں پوری جان ڈال رہا ہے
عمران خان نے 2 دسمبر کو میری بہن کو کہا تھا جو لوگ جرنیلوں کی کانفرس میں گئے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے وہ پارٹی کے میر جعفر اور میر صادق ہیں
عمران خان نے مزید کہا تھا عاصم منیر مجھ جیل میں مارنا چاہتا ہے
ہمیں عمران خان کی قید تنہائی ختم کروانے ہو گی پھر اسے رہا کروانا ہے
علیمہ خان
ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر چار روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، اس ایک ھفتے میں ڈیزل کی قیمت 57 روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، عجیب بات ہے کہ باقی ریجن کے ممالک انڈیا، بنگلہ دیش سری لنکا میں اس طرح کا کوئ اضافہ نہیں ہو رہا، عوام مکمل بے بس ہے!!