🚨 Human Rights Crisis in UAE! 🚨
آنکھوں پر پٹی، بجلی کے جھٹکے اور ہولناک تشدد!
جما دینے والے درجہ حرارت میں رکھنا اور زدوکوب کرنا... کیا یہی ایک "محفوظ ملک" کی حقیقت ہے؟
میرے شوہر سلمان رضا اور ان کے دوست جنید جہانگیر متحدہ عرب امارات (UAE) میں غیر قانونی حراست میں انسانیت سوز مظالم کا سامنا کر رہے ہیں:
سلمان رضا: دانت کھینچ لیے گئے، بغیر اینستھیزیا سرجری کی گئی اور پسلیوں پر بے دردی سے تشدد ہوا!
جنید جہانگیر: بینائی کی عینک دینے سے انکار اور پھر بہت عرصہ تک تنہائی (آئسولیشن) میں رکھا گیا!
ہمیں انصاف چاہیے! ان کی فوراً اور باحفاظت رہائی ممکن بنائی جائے۔
We demand justice!
#JusticeForJunaidAndSalman
@amnesty@UNHumanRights
ہوگیا ؟ عمران خان کی صحت کا مسئلہ حل ہوگیا ؟ شدید احتجاج ہوگیا ؟ سب کا ہوگیا ؟ کچھ کو مشال کے پیچھے لگایا ، کچھ کی توجہ محمد حسین پر ہوئی ، کچھ کو اکبر ایس بابر کے پیچھے لگایا ، باقی جذبات وقت نے ٹھنڈے کردیے۔ ہوتا ہے ہوتا ہے۔ ایسے ہی ہوتا ہے۔
پہلا ردعمل شدید ، اگلا اس سے کم ، اس سے اگلا اس سے کم۔ اسی پیٹرن کی نشاندہی کی تھی۔
@ShafiJanPTI کیا وجہ ہے جو اتنی مقبولیت کے با وجود بھی عمران خان بے یارو مددگار قید میں ہے اور صوبہ بند کرنے کا حکم تم لوگوں نے جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے ؟
اگر ملک کے نظریاتی دفاع کی زمہ داری فیصل واوڈا،سفینہ خان،حسن ایوب فیاض الحسن چوہان طاہر اشرفی اور 25 ہزار ماہانہ وظیفہ وصول کرنے والے دین فروش مولویوں کے کندھوں پر آن پڑی ہے تو پھر حالات کیا ہیں سمجھنا مشکل نہیں ہے
اس یوم آزادی پر ہم سب کو پاکستان کے خوبصورت قومی پرچم کو اسکے بدصورت ڈنڈے سے الگ کر کے اپنے ہاتھوں میں لہرانا چاہیئے۔ ہم جھنڈے کا احترام کرتے ہیں ڈنڈے کا نہیں۔مطیع اللہ جان
@Matiullahjan919
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
ذرا اس خبر کو غور سے دیکھیے اور اک نظر ذرا سب سے پہلے فائل کی جانے والی خبر ا��ر ٹاور پہ بھی ڈالیے‼️
سوشل میڈیا پر پہلے خبر چلتی ہے کہ ایک مسلح شخص نے جی ایچ کیو میں داخل ہونے کی کوشش کی�� کراس فائرنگ ہوئی، فوج کے تین جوان زخمی ہوئے اور ایک شہید ہوگیا۔
پھر اچانک خبر بدل جاتی ہے۔
نہیں جی، کوئی شہید نہیں ہوا، کوئی تین جوان زخمی نہیں ہوئے، بس ایک معمولی سا زخمی ہوا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ حقیقت آخر ہے کیا؟
اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ جو چیزیں ہمیں اس واقعے کی تصویروں اور دعووں میں دکھائی جا رہی ہیں، وہ اس پوری کہانی سے میل کھاتی بھی ہیں یا نہیں؟
ایک شخص مبینہ طور پر جی ایچ کیو جیسے انتہائی حساس مقام کو نشانہ بنانے جا رہا ہے، موٹر سائیکل پر ہے، اس کے پاس ایک بتیس بور کا پستول ہے، ساتھ موبائل فون ہے، کال ریکارڈ موجود ہے، اور مبینہ طور پر پی ��ی آئی کا جھنڈا بھی موجود ہے۔
پھر ذرا گولیوں کے کارٹریجز دیکھیے۔ وہ کس انداز میں پڑے ہوئے ہیں؟
پھر اس پستول کی پوزیشن دیکھیے۔ اگر وہی تصویر درست ہے جو گردش کر رہی ہے، تو بظاہر پستول کی حالت بھی ایسے سوالات اٹھاتی ہے جن کا جواب فرانزک تحقیقات سے ملنا چاہیے، سوشل میڈیا کے نعروں سے نہیں۔
اور سب سے اہم بات—ابتدائی رپورٹس۔
راولپنڈی اور اسلام آباد سے آنے والی ابتدائی اطلاعات میں مبینہ کراس فائرنگ اور ایک شخص کے ہلاک ہونے کی خبریں سامنے آئیں، پھر وہ خبریں بدل گئیں یا روک دی گئیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر کون سا بیانیہ زیادہ زور سے چل رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ پہلی خبر غلط تھی یا بعد والی؟
اگر پہلی خبر غلط تھی تو وہ غلط خبر کس بنیاد پر فائل ہوئی؟
اور اگر پہلی خبر درست تھی تو پھر بعد میں کہانی کیوں تبدیل ہوئی؟
کیونکہ ایک حساس فوجی تنصیب کے قریب کوئی مسلح شخص پکڑا یا مارا جاتا ہے تو اس کی پوری کہانی کا جواب صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ “ایک معمولی واقعہ تھا، کچھ نہیں ہوا۔”
یہاں فرانزک رپورٹ ہونی چاہیے۔
ہتھیار کی فرانزک ہونی چاہیے۔
کارٹریجز کی فرانزک ہونی چاہیے۔
فائرنگ ہوئی یا نہیں، اس کا بیلسٹک ثبوت ہونا چاہیے۔
موبائل فون سے کیا ملا، اس کی تفصیل ہونی چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ واضح ہونا چاہیے کہ وہ شخص وہاں آیا کیوں تھا، کس نے بھیجا تھا، اور اصل میں ہوا کیا تھا؟
کیونکہ اگر واقعی ایک شخص جی ایچ کیو پر حملہ کرنے آیا تھا تو یہ معمولی واقعہ نہیں۔
اور اگر وہ حملہ آور تھا ہی نہیں، تو پھر اسے حملہ آور بنا کر پیش کرنے کی وجہ بھی معمولی سوال نہیں۔
لہٰذا ابھی جذباتی نتیجہ نکالنے کے بجائے ایک ہی مطالبہ ہونا چاہیے:
جناب، پوری فرانزک تفصیل سامنے لائیے۔
کیونکہ آج کل پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خبر کیا ہے۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ خبر سب سے پہلے کون بناتا ہے، اور پھر اسے تبدیل کون کرواتا ہے۔
سہیل آفریدی کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ریپوٹیشن بحال کرے تاکہ اس سے کام لیا جا سکے۔ لیکن انکی عقل کام نہیں کر رہی ۔ جلدی کے چکر میں اپنے سٹار اینکرز کے ساتھ بٹھا کر انہوں نے اپنی حماقت سے اصل بات ظاہر کر دی ہے
سہیل آفریدی کی پہلے خیبرپختونخواہ ہاؤس میں اڑی اڑی سی رنگت ' پھر مسلسل خاموشیاں اور اب یہ ہیروگیری اتنا سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ ایک ایکسٹرا کو تامل فلموں کا ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
کچھ لوگ ہر دور میں ہوتے ہیں جو یہ سمجھانے آتے ہیں کہ بھائی اسے موقع دو ۔ ہر ایک پر تنقید مت کرو ۔ وہ اپنی خوش فہمی میں جینا چاہتے ہیں تو جیئے جائیں۔ کیونکہ اب ایسے کرداروں کو موقع دینے کا مطلب عمران خان کی زندگی سے آخری کھلواڑ کو سپورٹ کرنا ہے
اور یہ جرم ہم سے نہیں ہو گا ۔