Not everyone has access to me because i want peace more than attention🥱🚫
Meenoholic 🕊
Blogger💅
Writer ✍
Artist 🎨
Lazy 🥱
Netizen 🙌🏻
Introvert 😋
Feminist
پاکستان میں اس وقت 57 ہزار بلیو پاسپورٹ ہیں 13 سو ریڈ پاسپورٹ ہیں
پارلیمنٹیرنز تو صرف ایک ہزار کے لگ بھگ ہیں تو پھر 57 ہزار بلیو پاسپورٹ کیوں ہے، اس کی لسٹ بھی سامنے آنی چاہیے صرف سیاستدان ہی کیوں نشانہ بنتا ہے سب سامنے آنے چاہیں
شفیع جان
ڈان نیوز نے کنفرم کیا ہے کہ کل BLA والے چاغی میں گورنمنٹ عمارتوں، بینکوں اور پولیس سٹیشن کے اندر گئے یہ ایک سیریس خبر ہے آپ اندازہ لگا سکتا ہیں حالات کیسے بن چکے ہیں
سہراب برکت
بہترین تجزیہ دیا ہے @HabibAkram نے اپنے ولاگ میں جس کا عنوان ہے”آئندہ بھی عمران خان“ - اس کا مفہوم #خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان ہے اور اس کے کچھ اہم نکتے یہ ہیں:
- عمران خان کے خلاف سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر بات نہیں بنی
- ایک نئے سروے کے مطابق ۶۲٪ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہی پاکستان کے مسئلے حل کرسکتے ہے۔ جو سروے عمران خان کے حق میں ہوتے ہیں، وہ منظر عام پر نہیں آتے۔
- اگلی دو نسلوں کے لیے سیاست کا مہور عمران خان رہیں گے۔
- موجودہ بندوبست محض ایک سراب ہے، اس کا پیچھا کرتے رہے تو سب ہی پیاسے رہیں گے۔
جہاں پٹواریوں نے دس ارب کے جہاز کا ، اسحاق ڈار کی اولاد کا ، جعلی الیکشن مینڈیٹ کا ، ووٹ کو عزت دو کے فضلے کا بوجھ اپنے سروں پر ڈھویا وہاں یوتھیوں نے مراعات لینے پر پختونخواہ اسمبلی کو اڑا کر رکھ دیا۔
فرق صرف غیرت کا ہے !
جس دن تبصرہ پاڑوں اور بے غیرت پٹواریوں نے مریم نواز پر ووٹ کو عزت دو کو قربان کرنے پر ، دس ارب کا جہاز خریدنے پر ، سی سی ڈی جیسے ادارے بنانے پر ویسی تنقید کی جیسی یوتھیوں نے پختونخواہ اسمبلی پر مراعات لینے پر کی اس دن یہ ملک بدل جاوے گا۔
"گجرات کے جس لڑکے کو فوت ہونے کے بعد باعزت بری کیا گیا جب جج نے اس کو سزا سنائی تھی وہ سٹریچر پر عدالت آیا تھا اور جج نے کہا تھا کہ سٹریچر پر لاؤ ، یہ جج نہ دنیا میں بچیں گے اور نہ اللہ کی عدالت سے بچیں گے جج کو چاہیے اس کے گھر والوں کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگے اور اپنے عہدے سے استعفی دے۔یہ جج انصاف نہیں کررہے ان کو لکھا ہوا حکم آتا اس پر عمل کرتے ان کو اللہ کا کوئی خوف نہیں ہے"۔
نورین خان نیازی
@Noreen_KhanPK
@Arif1q سرکاری ملازمین ریاست کی خدمت کرتے ہیں انکو تمام حقوق ملنے چاہییں۔مسئلہ ان سرکاری ملازمین سے ہونا چاہیے جو اپنا مقرر کردہ کام نہیں کرتے یا اپنی ڈیوٹی سے غفلت برتتے ہیں
انکے بچے 16…18 سال کی عمر میں مئے فئیر فلیٹس خریدتے اور کبھی 15لاکھ ڈالر کرپٹو میں اُڑاتے ہیں۔
ان خاندانوں کے پالتو ٹومی 🐕 میڈیا پر بیٹھ کر بتاتے ہیں کہ یہ بہت رکھ رکھاو والے دینی لوگ ہیں۔
پٹواریوں نے ہمیشہ خان صاحب کی کردار کشی کی گھٹیا اور بے بنیاد الزامات اچھالتے رہے مگر آج خود ان کا اصل چہرہ قوم کے سامنے آ گیا ہے الزام لگانے والے خود اسی گندگی میں لتھڑے نکلے ب چ
وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں؛
لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔
وہ ڈیم بنا کر، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپکو دے سکتے ہیں؛
لیکن وہ نہیں دیتے۔
وہ ایران سے سستا تیل و گیس لے کر آپکی مشکلات کم کر سکتے ہیں؛
لیکن وہ نہیں کرتے۔
وہ لا اینڈ آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں؛
لیکن وہ کر کے نہیں دیتے۔
وہ ٹوورزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے فی کس آمدنی بڑھا سکتے ہیں؛
لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔
وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کرا سکتے ہیں؛
لیکن وہ ایسا نہیں کرتے۔
وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کوخوشحال بنا سکتے ہیں؛
لیکن وہ نہیں بناتے۔
وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟
وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ہے۔
ان کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے،
جس کے لیے ضروری بے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے،
جس میں فی الحال وہ کامیاب ہیں۔
انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔
اس طرح ہم سب قید میں ہیں۔
عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا؟
عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی؟
کیونکہ غلام کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔
اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں۔
آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں۔
آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں۔
آپ کو وہ مصیبتوں سے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں۔
ان سب نکات کو آپ ایک پاکستانی بن کرسوچیں!
آپ کو سب کچھ واضع نظر آئے گا
یہاں تک کہ غلامی کا وہ طوق بھی جو آپ کے گلے میں ہے مگر آپ کو نظر نہیں آتا۔
عمران ایک کرکٹ اسٹار تھا، اور کرکٹ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک ہے۔ عمران خان ایک سوشل ورکر ہے، اور دنیا کے بہترین سوشل ورکرز میں شمار ہوتا ہے۔ عمران خان ایک سیاستدان ہے، اور دنیا کے مقبول ترین سیاستدانوں میں سے ایک ہے۔ عمران خان سے ملاقات کے لیے وہ حسینائیں بھی ترستی تھیں جو ہم جیسوں کے تو خواب میں بھی نہیں آ سکتیں۔ اس نے جس کام میں بھی ہاتھ ڈالا، کامیابی کے جھنڈے گاڑے، جبکہ اسے اسٹار نہ ماننے والوں، اس کی شخصیت میں سے کیڑے نکالنے والوں اور اس کے بچوں کے ماموں بننے کے خواہشمند حضرات کی اکثریت کی زندگی گھِسیاں کرتے ہی گزر گئی۔ عمران خان جیسا بننے کی خواہش ان ناقدین میں سے ہر کسی کو ہے، لیکن تشریف کا زور لگا کر بھی کوئی اس جیسا نہیں بن سکتا۔ اس لیے جب کوئی غیر ملکی عمران خان کی تعریف کرتا ہے تو ان کی جیلسی سمجھ آتی ہے اور ان کی تشریف میں اٹھنے والا درد بھی سمجھ آتا ہے۔
جیسے سدھو موسے والا نے کہا تھا: جب برابری نہ ہو سکے تو الزام لگتے ہیں۔
اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کے گندی نالی کے کیڑے کیسے ہوتے ہیں تو کسی نون لیگی کی ٹائم لائن دیکھ لیں کیسے ایک ریپسٹ کی دلالی کر رہے ہیں کیونکہ اس کا تعلق شریف خاندان سے ملتا ہے ۔