بیٹے سے چند ہزار درہم تنخواہ نہ لینے پر مجھے نا اہل کروا کر جیل پھینک دیا گیا اور دوسری طرف ایک ثابت شدہ کرپٹ کو صادق اور امین بنا کر اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی توہین کی گئی۔
ہمیں سزا سنانے والے، 60 ارب لوٹنے والے کا استقبال کرتے ہیں۔
کون کرے گا ایسے عدل کا احترام ؟
مجھ پر غداری کا مقدمہ بنایا،مجھےانڈین نواز اور دہشت گرد بنایا اور اس وقت کےجج کہتے رہے تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے،تم ججز اور جرنیلوں کے خلاف بات کرتےہو تمہیں سنگسار کر دینا چاہیے۔میں نے کہا اس ملک اور قوم کی خاطر اگر سنگسار کر دو گے تو میں سمجھوں گا میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔
سائفر کیس میں ایسا بہت کچھ ہوتا رہا جو اب تک نیازی اینڈ کمپنی عوام سے چھپاتی رہی، پڑھتا جا شرماتا جا👇
آج عدالت میں سابق سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا عمران حکومت کو مشورہ دیا تھا امریکا سے روابط رکھیں، عوامی تلخی سے گریز کریں،
عمران خان کابینہ سے کہا تھا کہ سائفر کی رازداری ختم کرنے سے نہ صرف غیر ملکی سفارت کاروں سے تبادلوں کو نقصان ہوگا بلکہ امریکا اور کچھ دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے ساتھ مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات بھی پیچیدہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں اور عوامی سطح پر تلخی سے گریز کریں۔ سہیل محمود کا کہنا تھا کہ ’’اس مشورے کا مقصد پاکستان کے ایک اہم ملک کے ساتھ تعلقات کو بچانا اور ایک خفیہ دستاویز کے حوالے سے عوامی اور سیاسی نوعیت کے مباحثے سے گریز کرنا تھا۔
سابق سیکریٹری خارجہ نے کابینہ اجلاس کی تفصیلات بھی شیئر کیں، یہ اجلاس ’’سائفر ٹیلی گرام کی رازداری ختم کرنے‘‘ کے معاملے پر بحث کیلئے بلایا گیا تھا اور ایک علیحدہ اجلاس اُس وقت کے وزیراعظم کی بنی گالا میں رہائش گاہ پر منعقد ہوا تھا۔
سہیل محمود کا کہنا تھا کہ 8؍ اپریل کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں انہوں نے اس بات پر ضرورت دیا کہ سائفر ٹیلی گرام کی رازداری ختم کرنا ممکن ہے اور نہ ایسا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے کیونکہ سائفر کے ساتھ سیکورٹی گائیڈ لائنز جڑی ہیں اور ساتھ ہی قانونی معاملات اور خاجہ پالیسی کے مضمرات بھی ہوں گے۔
انہوں نے کابینہ کو یہ بھی بتایا کہ سائفر کی رازداری ختم کرنے کیلئے ماضی میں کوئی نظیر ملتی ہے اور نہ ایسا کرنے کیلئے کوئی قانونی شق موجود ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مواد کی رازداری ختم کرنے کے نتیجے میں سائفر کمیونی کیشن سسٹم کو نقصان ہوگا۔ ’’میں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے نتیجے میں سفارت خانوں اور وزارت کے کام کرنے کا انداز بھی متاثر ہوگا کیونکہ غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ رازداری کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اعتماد اور بھروسے کو نقصان ہو سکتا ہے۔
اس سے نہ صرف امریکا اور کچھ دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے پھر طویل مشاورت کے بعد کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ پارلیمنٹ میں سائفر ٹیلی گرام کی نمایاں خصوصیات اور اس کے مستند ہونے کے حوالے سے وزارت خارجہ کی جانب سے ان کیمرا بریفنگ دی جائے گی۔‘‘
سابق سیکریٹری خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’’27؍ مارچ 2022 کو ایک عوامی اجتماع میں سابق وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے ایک خط لہرایا، 28؍ مارچ 2022ء کو مجھے ہمارے ایڈیشنل سیکرٹری امریکا کی طرف سے ایک نوٹ موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ ان سے امریکا کے چارج ڈی افیئرز نے رابطہ کر کے وزیراعظم کے عوامی بیان پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ نوٹ اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھیجتے ہوئے، میں نے مشورہ دیا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا اور عوامی سطح پر تلخی سے گریز کرنا سمجھداری ہوگی۔ اس مشورے کا مقصد اہم ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بچانا اور خفیہ رابطہ کاری پر عوامی اور سیاسی بحث سے گریز کرنا تھا۔
28؍ مارچ 2022ء کو دوپہر کے قریب مجھے ملاقات کیلئے فوری طور پر بنی گالہ پہنچنے کا فون آیا۔ یہ پہلے سے طے شدہ میٹنگ نہیں تھی اور مختصر نوٹس پر بلائی گئی تھی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اس میٹنگ میں کون شرکت کرے گا۔ میں نے دیکھا کہ وزیراعظم عمران خان کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ایس پی ایم اعظم خان بھی موجود تھے۔
مجھے ایک ٹیلی گرام دیا گیا جو اس دن کی شروعات میں وزیر خارجہ آفس کو اس کی درخواست پر فراہم کیا گیا تھا۔ مجھے یہ ٹیلی گرام پڑھنے کیلئے کہا گیا۔ اس دوران اجلاس کے دیگر شرکاء نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر تبصرہ کیا۔ میٹنگ مختصر تھی اور بغیر کسی فیصلے یا نتیجے کے ختم ہو گئی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جب 29؍ ستمبر 2022ء کو وہ ریٹائر ہوئے تو اعظم خان کو فراہم کردہ سائفر کی نقل وزارت خارجہ کو واپس نہیں کی گئی۔
’’مارچ میں ایک موقع پر ایس پی ایم نے غیر رسمی طور پر مجھ سے بات چیت میں کہا کہ وزیراعظم کو اپنے کاغذات میں سائفر ٹیلی گرام کی نقل مل نہیں رہی اور کیا اس کی دوسری نقل فراہم کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس پر انہیں بتایا گیا کہ جو نقل فراہم کی گئی تھی اس پر نمبر درج تھا لہٰذا اسے تلاش کیا جائے۔
تو جناب عمران نیازی کی اسی حرکت کی وجہ سے آئی ایم ایف نے بعد میں پاکستان کو ستایا۔
اگر شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ دوبارہ امریکہ کو اپروچ کر کے معملات درست نا کرتی تو فیٹف پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیتا اور آئی ایم ایف نے تو جواب ہی دے دیا تھا۔
خاکم بدہن پاکستان کا دیوالیہ پکہ تھا۔
“ڈیجیٹل میڈیاشیطانی میڈیا ہے“جب تک ملائوں جیسی سوچ سےنہیں نکلیں گےمسئلہ حل نہیں ہوگا۔مولوی بھی اسپیکرکوحرام کہتے تھےاب جان نہیں چھوڑتے۔ڈیجیٹل میڈیاکوبرانہ کہیں،اسکا مثبت استعمال کرکے پراپیگنڈے کاتوڑکریں اورتکلف برطرف،یہ گندففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کےنام پرآپکا ہی پھیلایا ہواہے
سندھ میں پندرہ سال سے جاری ڈاکو راج کی کارستانیاں سن لیجئے جو منصوبہ 68کروڑ کی لاگت سے بننا تھا وہ تین ارب لگا بلکے کھا کر بھی نا مکمل ہے حیدر آباد میں میڈیکل کالج دوہزار بارہ سے بن رہا آج تک مکمل نہی ہوا اور زرداری کے بدتمیز بیٹے کو وزیراعظم بننا ہے
ٹوئٹس وی لاگز ذریعے ذہنی مریضوں کو کہا کہ “ وہ ہار مان نہیں رہا وہ اکیلا ڈٹ گیا ہے لہٰذا اتوار کو اپنے لیڈر کے لئے باہر نکلیں اور 8فروری کو عمرانی امیدوار پر مہر لگا کر بدلہ لیں “ جبکہ بقلم خود ملک سے فرار ہوتے پھڑیا گیا
پس ثابت ہوا کہ زمین ملی تو بنجر عمران ریاض ملے تو کنجر
" ماخوذ ہے "
یہ 1970 کا واقعہ ھے جب چین کے صدر کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا صدر صاحب نے ڈاکٹر کو کہا کہ میں علاج بعد میں کرواوں گا پہلے مجھے یہ بتاو کینسر ھوتا کیوں ھے؟ صدر ڈاکٹر کے جواب سے مطمئن نہ ھوا تو صدر صاحب نے چین کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ھیلتھ آکسفورڈ یو نیورسٹی اور امریکہ
آپ سب حقیقی آزادی کے لیئے جدوجہد کریں،اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرا جائیں تاکہ قیدی نمبر804کی پوزیشن مضبوط ہو اور اسٹیبلشمنٹ اسے دوبارہ گود لینے پر مجبور ہوجائے۔وہ اقتدار میں آئے اور خود اسٹیبلشمنٹ بن کر پاکستان کو شمالی کوریا بنادے،یہ ہے تحریک انصاف کا فلسفہ انقلاب