❞ دِن گزر جائیں گے اور تم اُن چیزوں کو ترک کردو گے جن کی تمہیں عادت ہے۔ پسندیدہ انسان کو چھوڑ دو گے, اپنے خوابوں سے دستبردار ہوجاؤ گے اور بالآخر یہ تمہارا حقیقت قبول کرنے کی طرف پہلا سفر ہوگا۔❝
~نزار قبانی
شب بخیر 🌹🥰
چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری امریکہ میں لینڈ کرتے ہی اپنا سامان خود لیکر جارہے ہیں
لیکن بغض کے مارے اس پر تنقید کررہے ہیں لیڈر کی یہی خوبی ہے کہ وہ قابل تقلید نظیر قائم کرتا ہے اور یہی بے نظیر کے بیٹے کا وصف ہے۔
تو گرنے دیتے ۔ کوئ جائز حکومت تو نہیں ہے ویسے بھی ۔ ُ یا کرتوت ٹھیک ہوں یا مینډیٹ حلال ہو دونوں میں سے کوئ ایک بھی نہیں ۔
ایسی حکومتیں بچانا سسٹم کی خدمت نہیں ایسی حکومتوں سے سسٹم ناکام اور رسوا ہوجاتا ہے سیاست زلیل ہوتی ہے۔
آہ لوگ دس سال بعد بیٹھ کے سوچ رہے ہونگے
اگر تھوڑی سی بارش میں بھی وزیراعلی کو خود نکل کر گلیوں سڑکوں سے پانی نکالنے کے لیے شہر میں پھرنا پڑتا ہے تو اس کا صاف مطلب کہ سسٹم مکمل بیٹھ چکا ہے گورنس فیل ہو چکی ہے اور اسے دھکا دینا پڑتاہے وہ خود نہی چل رہا ہے اور یہ فخر کی بات نہی کہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال کر تعریفیں وصول کی جائیں
عمران خان میرے مقابلے میں میرے ڈرائیور کو بھی ٹکٹ دیں تو وہ بھی میری ضمانت ضبط کرا دے گا۔ فواد چوہدری کا جیو ٹی وی کے قابل احترام اینکر شہزاد اقبال کے شو میں بیان۔
چوہدری صاحب پھر آپ کی اپنی سیاست یا مقبولیت کو کیا ہوا؟ پھر آپ سیاست میں کیوں ہیں اگر آپ کے مقابلے ڈرائیور زیادہ ووٹ لے جائے گا۔ اچھے خاصے دبنگ اینکر تھے، اپنےشوز کرتے تھے، لاکھوں کی تنخواہ تھی، عزت تھی۔ یہی سیاستدان آپ کی خوشامدیں کرتے تھے کہ آپ ان کے بارے چند اچھے الفاظ اپنے شو میں کہہ دیں گے تو ان کی عزت میں اضافہ ہوگا۔ آخر ایم این اے بننے کے لیے یا اقتدار کے غلام گردشوں میں جانے میں ایسی بے تابی کیوں۔ وزیر بن کر ایسا کیا مزہ ہے کہ بندہ ہر قسمی باتیں اور طعنے سننے کو تیار ہو جاتا ہے اور ڈرائیور تک سے ہارنے پر تیار ہو جاتا ہے۔
آپ ایک ذہین اور بہادر بندے تھے۔ آپ کی باتیں سن کر دل دکھی ہوا کہ پاور پانے اور انسانوں پرحکمرانی کا نشہ پورا کرنے کی خاطر بندہ کیا کیا جتن اور ترلے کرتا ہے۔ آپ میڈیا میں رہتے تو پورا ملک آپ کی ذہانت سے فائدہ اٹھاتا۔ عمران خان کو چھوڑ دیا تھا تو بس چھوڑ دیا تھا۔ اتنا نیچے گرنے کی کیا ضرورت ہے کہ ایم این اے بن جائوں ہر قیمت پر۔ آپ پنجاب کے جٹ ہیں اور بنے رہیں۔ خود کو اتنا نیچے نہ گرائیں۔کچھ انا اور self respect بھی دکھائیں۔
وہی گوتم بدھ والی بات کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن انسان کی اپنی خواہشات ہیں۔ آپ کے دشمن حامد خان یا رئوف حسن نہیں ہیں بلکہ غور کریں تو آپ کی ہر قیمت پر پاور لینے کی حیران کن خواہش آپ کی دشمن ہے۔
اگر پارٹی چھوڑ دی تھی تو چھوڑ دی۔ اگر پاور زیادہ اہم تھی یا عمران خان اہم تھا آپ کی اپنی جان یا خاندان یا پیارے پیارے بچے اہم نہیں تھے تو پھر اسٹیبلشمنٹ جو تشدد اور ظلم کرتی آپ برداشت کرتے جیسے دوسرے برداشت کررہے ہیں۔
میڈیا میں واپس لوٹ آئیں ۔ عزت سے شوز کریں اور ان سب کو ایکسپوز کریں یا پھر وکالت جوائن کریں یا پھر محنت کریں اور اس دن کا انتظار کریں جس دن آپ عمران خان کی آپ کے ڈرائیور کو دی گئی ٹکٹ پر اپنے ڈرائیور کو جہلم سے ہرا سکیں۔
ایک اور آپشن بھی ہے۔ باقی کرنی تسی اپنڑی مرضی اے
👇
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چائیے۔
(ظفر اقبال)
🙏❤️
عمران خان میرے مقابلے میں میرے ڈرائیور کو بھی ٹکٹ دیں تو وہ بھی میری ضمانت ضبط کرا دے گا۔ فواد چوہدری کا جیو ٹی وی کے قابل احترام اینکر شہزاد اقبال کے شو میں بیان۔
چوہدری صاحب پھر آپ کی اپنی سیاست یا مقبولیت کو کیا ہوا؟ پھر آپ سیاست میں کیوں ہیں اگر آپ کے مقابلے ڈرائیور زیادہ ووٹ لے جائے گا۔ اچھے خاصے دبنگ اینکر تھے، اپنےشوز کرتے تھے، لاکھوں کی تنخواہ تھی، عزت تھی۔ یہی سیاستدان آپ کی خوشامدیں کرتے تھے کہ آپ ان کے بارے چند اچھے الفاظ اپنے شو میں کہہ دیں گے تو ان کی عزت میں اضافہ ہوگا۔ آخر ایم این اے بننے کے لیے یا اقتدار کے غلام گردشوں میں جانے میں ایسی بے تابی کیوں۔ وزیر بن کر ایسا کیا مزہ ہے کہ بندہ ہر قسمی باتیں اور طعنے سننے کو تیار ہو جاتا ہے اور ڈرائیور تک سے ہارنے پر تیار ہو جاتا ہے۔
آپ ایک ذہین اور بہادر بندے تھے۔ آپ کی باتیں سن کر دل دکھی ہوا کہ پاور پانے اور انسانوں پرحکمرانی کا نشہ پورا کرنے کی خاطر بندہ کیا کیا جتن اور ترلے کرتا ہے۔ آپ میڈیا میں رہتے تو پورا ملک آپ کی ذہانت سے فائدہ اٹھاتا۔ عمران خان کو چھوڑ دیا تھا تو بس چھوڑ دیا تھا۔ اتنا نیچے گرنے کی کیا ضرورت ہے کہ ایم این اے بن جائوں ہر قیمت پر۔ آپ پنجاب کے جٹ ہیں اور بنے رہیں۔ خود کو اتنا نیچے نہ گرائیں۔کچھ انا اور self respect بھی دکھائیں۔
وہی گوتم بدھ والی بات کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن انسان کی اپنی خواہشات ہیں۔ آپ کے دشمن حامد خان یا رئوف حسن نہیں ہیں بلکہ غور کریں تو آپ کی ہر قیمت پر پاور لینے کی حیران کن خواہش آپ کی دشمن ہے۔
اگر پارٹی چھوڑ دی تھی تو چھوڑ دی۔ اگر پاور زیادہ اہم تھی یا عمران خان اہم تھا آپ کی اپنی جان یا خاندان یا پیارے پیارے بچے اہم نہیں تھے تو پھر اسٹیبلشمنٹ جو تشدد اور ظلم کرتی آپ برداشت کرتے جیسے دوسرے برداشت کررہے ہیں۔
میڈیا میں واپس لوٹ آئیں ۔ عزت سے شوز کریں اور ان سب کو ایکسپوز کریں یا پھر وکالت جوائن کریں یا پھر محنت کریں اور اس دن کا انتظار کریں جس دن آپ عمران خان کی آپ کے ڈرائیور کو دی گئی ٹکٹ پر اپنے ڈرائیور کو جہلم سے ہرا سکیں۔
ایک اور آپشن بھی ہے۔ باقی کرنی تسی اپنڑی مرضی اے
👇
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چائیے۔
(ظفر اقبال)
🙏❤️