سعد رضوی سے لاکھ اختلاف لیکن حق بات یہ ہے کہ وہ آخری وقت تک مذاکرات کی بات کرتا رہا۔ ریاست نے مذاکرات کے بجائے طاقت کے اندھے استعمال اور بے گناہوں کا خون بہانے کو ترجیح دی۔
مذاکرات نہ کرنے کا آرڈر کہاں سے آیا تھا؟؟؟
جو لوگ TLP کو فتنہ سمجھتے ہیں انہیں ریاست سے پوچھنا چاہیےکہ اس فتنے کو اسرائیل مخالف احتجاج کی پاداش میں ہی کیوں کچلا گیا؟ اور بھی بہت موقعے تھے۔ دماغ ہو تو سوچیے گا ضرور۔۔۔۔
جن بزرگان صحافت و سیاست کو کادیا��یوں کے بنیادی حقوق بڑی شدت سے یاد آرہے ہیں کبھی انہوں نے کادیانیوں سے بھی گذارش کی کہ پاکستان کے ننانوے فیصد سے زائد مسلمانوں کو اجتماعی طور پر کافر زندیق رنڈیوں کی اولاد اور جہنم کے کتے کہنے پر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے، آپ اسے اپنی تعلیمات میں سے حذف کر دیجئے یا اس کا ��لی الاعلان انکار کر دیجئے؟
😡