بخدمت جناب
محترم وزیراعلیٰ سندھ / چیف سیکریٹری سندھ / ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سندھ
موضوع: بھینس کالونی ابراہیم حیدری کراچی میں CLICK منصوبے کے تحت جاری ترقیاتی کاموں میں ممکنہ بے ضابطگیوں، ڈرینج ورکس کی عدم تکمیل اور سرکاری فنڈز کے استعمال کی تحقیقات کے لیے درخواست
جناب عالی،
مؤدبانہ گزارش ہے کہ بھینس کالونی (کیٹل کالونی) ابراہیم حیدری ٹاؤن کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا ڈیری فارمنگ زون ہے، میں CLICK (Competitive & Livable City of Karachi) منصوبے کے تحت مختلف ترقیاتی اسکیموں پر کام جاری ہے۔
منصوبے سے متعلق دستیاب ٹینڈر ڈرائنگز، بل آف کوانٹٹیز (BOQ) اور انجینئرنگ دستاویزات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ اسکیم میں سڑکوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ نکاسی آب اور ڈرینج سے متعلق متعدد آئٹمز بھی شامل کی گئی ہیں، جن میں "Cleaning of Existing Nullah"، "Dismantling of Existing Nala/Sewer Manholes"، "Excavation for Drain Works"، "UPVC Pipes"، "RCC Collection Chambers"، "DI Gratings"، "Precast Access Covers"، "Drain with Access Cover" اور "Box Drain" سمیت دیگر ڈرینج ورکس شامل ہیں۔
تاہم مقامی فارمرز، رہائشیوں اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے یہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ متعدد مقامات پر سڑکوں کی تعمیر تو کی جا رہی ہے یا مکمل ہو چکی ہے لیکن منصوبے میں شامل نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کے آثار زمینی سطح پر واضح طور پر نظر نہیں آتے۔ اگر یہ صورتحال درست ہے تو یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے کیونکہ بھینس کالونی میں روزانہ ہزاروں ٹن حیوانی فضلہ اور گندا پانی پیدا ہوتا ہے جس کی نکاسی کے لیے مؤثر ڈرینج سسٹم ناگزیر ہے۔
مزید برآں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر منصوبے میں شامل ڈرینج ورکس مکمل نہیں کیے گئے تو مستقبل میں نئی تعمیر شدہ سڑکیں بھی جلد متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
لہٰذا آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ:
1۔ مذکورہ منصوبے کا فوری تکنیکی، مالیاتی اور انتظامی آڈٹ کروایا جائے۔
2۔ منظور شدہ PC-I، BOQ، ٹینڈر ڈرائنگز، ورک آرڈرز اور کمپلیشن رپورٹس کا جائزہ لیا جائے۔
3۔ منصوبے میں شامل ڈرینج، نالوں، چیمبرز اور نکاسی آب کے کاموں کی غیر جانبدارانہ فزیکل ویریفیکیشن کروائی جائے۔
4۔ اگر دستاویزات اور زمینی حقائق میں کوئی فرق پایا جائے تو ذمہ دار افسران، کنسلٹنٹس اور ٹھیکیداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
5۔ تحقیقات مکمل ہونے تک منصوبے کے متعلقہ ریکارڈ کو محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی قسم کی تبدیلی یا ردوبدل نہ ہو سکے۔
6۔ تحقیقات کی رپورٹ عوامی مفاد میں منظر عام پر لائی جائے۔
ہمیں امید ہے کہ عوامی مفاد، شفافیت اور قومی وسائل کے تحفظ کے پیش نظر اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے گا اور حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
عین نوازش ہوگی۔
خیراندیش: شاکر عمر گجر
صدر
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان
ای میل: [email protected]
Save Farmer Save Pakistan
پالتو جانور، صفائی اور اسلامی تعلیمات
تحریر: ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
اسلام ایک پاکیزگی پسند دین ہے جو انسان کو اپنی ذات، لباس، گھر اور ماحول کی صفائی کا حکم دیتا ہے۔ جدید سائنس بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ صفائی اور احتیاط انسان کو متعدد بیماریوں اور پیراسائٹس سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کتے اور بلیاں انسان کے لیے مفید، وفادار اور بعض اوقات جذباتی سکون کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔ خصوصاً کتا صدیوں سے گھروں، مویشیوں، کھیتوں اور املاک کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتا آیا ہے۔ اسلام میں بھی حفاظت، شکار اور دیگر جائز ضروریات کے لیے کتا رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کتے اور بلیاں بعض اوقات پسو (Fleas)، چیچڑ (Ticks)، آنتوں کے کیڑے (Worms) اور بعض بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اپنے جسم، بالوں یا پنجوں کے ذریعے ماحول میں منتقل کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ان کی مناسب نگہداشت نہ کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسی اعتبار سے پالتو جانوروں کی باقاعدہ ویکسینیشن، ڈی ورمنگ، صفائی اور طبی معائنہ انتہائی ضروری ہے۔
اسلامی تعلیمات میں صفائی اور طہارت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پاکیزگی کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ اسی اصول کے تحت مسلمان کو اپنے گھر اور رہائش گاہ کو گندگی، نجاست اور بیماری پھیلانے والے عوامل سے محفوظ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ:
• کتوں اور بلیوں کی باقاعدہ ویکسینیشن کروائی جائے۔
• ڈی ورمنگ (پیٹ کے کیڑوں کا علاج) وقتاً فوقتاً کی جائے۔
• پسو اور چیچڑ کے خاتمے کے لیے حفاظتی ادویات استعمال کی جائیں۔
• جانوروں کے رہنے کی جگہ صاف ستھری رکھی جائے۔
• کھانے پینے کی اشیاء اور سونے کی جگہوں کو آلودگی سے محفوظ رکھا جائے۔
• بچوں کو جانوروں کے ساتھ کھیلنے کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت ڈالی جائے۔
احتیاطی اور صحت کے نقطۂ نظر سے بہتر ہے کہ حفاظتی مقاصد کے لیے رکھے گئے کتوں کو گھر کے صحن، فارم، گارڈن یا مناسب بیرونی جگہ پر رکھا جائے، جہاں وہ اپنی ذمہ داری بھی ادا کریں اور گھریلو ماحول بھی صاف ستھرا رہے۔ اگر کسی وجہ سے جانور گھر کے اندر رکھے جائیں تو بیڈروم، بچوں کے سونے کی جگہ اور کھانے پینے کے مقامات کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
اسلام ہمیں جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک، رحم دلی اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ صفائی اور طہارت کی بھی تاکید کرتا ہے۔ لہٰذا جانوروں سے نفرت یا ان کے ساتھ بدسلوکی کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ ضرورت، احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ ان کی نگہداشت ہی درست طرزِ عمل ہے۔
حفاظت کے لیے کتا رکھنا مفید اور جائز ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن صفائی، طہارت اور ذمہ دارانہ نگہداشت ہر حال میں ضروری ہے۔
صفائی، احتیاط اور ذمہ دارانہ نگہداشت ہی انسان اور جانور کے درمیان بہترین تعلق کی بنیاد ہے۔
پاکستان کا قومی جانور مارخور
ہماری قدرتی وراثت کا فخر
مارخور پاکستان کا قومی جانور اور قدرتی حسن، جرات اور بقا کی علامت ہے۔ یہ دنیا کے خوبصورت ترین جنگلی بکری نما جانوروں میں شمار ہوتا ہے، جس کی پہچان اس کے مخصوص بل کھاتے ہوئے سینگ ہیں۔ مارخور پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں پایا جاتا ہے۔
پاکستان میں مارخور کی پانچ اہم اقسام پائی جاتی ہیں: استور مارخور، کشمیر مارخور، سلیمان مارخور، کابل مارخور اور بخارا مارخور۔ یہ اقسام اپنے رہائشی علاقوں، جسمانی ساخت اور سینگوں کی شکل میں کچھ فرق رکھتی ہیں، لیکن سب ہماری قومی حیاتیاتی وراثت کا اہم حصہ ہیں۔
ایک وقت ایسا بھی تھا جب غیر قانونی شکار، رہائش گاہوں کی تباہی اور انسانی مداخلت کی وجہ سے مارخور کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی تھی۔ تاہم حکومت پاکستان، مقامی کمیونٹیز، محکمہ جنگلات، محکمہ وائلڈ لائف، پاک فوج اور مختلف فلاحی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے مارخور کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو پاکستان کے کامیاب تحفظِ ماحول کی ایک روشن مثال ہے۔
مارخور صرف ایک جانور نہیں بلکہ ہمارے پہاڑوں، جنگلات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی صحت کا اشاریہ بھی ہے۔ اس کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ہمارا قدرتی ماحول ابھی تک زندگی کو سہارا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ہم اپنے جنگلات، چراگاہوں اور جنگلی حیات کا تحفظ کریں گے تو آنے والی نسلیں بھی اس عظیم قدرتی ورثے سے لطف اندوز ہو سکیں گی۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی کریں، جنگلات اور قدرتی مسکن کو محفوظ بنائیں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے آگاہی پھیلائیں۔ مارخور کا تحفظ دراصل پاکستان کی قدرتی شناخت، ماحولیاتی توازن اور قومی فخر کا تحفظ ہے۔
مارخور کو بچائیں — پاکستان کی قدرتی وراثت کو محفوظ بنائیں۔
سرکاری اسکول سے قیمتی سامان غائب، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ
کراچی (بزنس رپورٹر) ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA) کے صدر شاکر عمر گجر نے گورنمنٹ بوائز اینڈ گرلز پرائمری اسکول، روڈ نمبر 5، تیسرا چوک، کیٹل کالونی، ابراہیم حیدری ٹاؤن سے سرکاری املاک کی مبینہ گمشدگی اور چوری کے معاملے پر فوری تحقیقات، ایف آئی آر کے اندراج اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں تھانہ سکھن کے ایس ایچ او کو ارسال کردہ درخواست میں شاکر عمر گجر نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ سرکاری اسکول کی عمارت سے دروازے، کھڑکیاں، پنکھے، طلبہ کی ڈیسکیں، کرسیاں، لوہے کا سامان اور دیگر قیمتی سرکاری اثاثے غائب ہیں جبکہ عمارت کے مختلف حصوں کو بھی نقصان پہنچا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال سرکاری املاک کی چوری، خرد برد، غیر قانونی منتقلی یا مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرتی ہے، جس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔درخواست کے مطابق مقامی رہائشیوں نے اطلاع دی ہے کہ بعض افراد اسکول کا سامان ایک بڑی مزدا گاڑی میں لوڈ کرکے لے گئے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق اس واقعے کی اطلاع پولیس کو بھی دی گئی تھی اور مبینہ طور پر سامان سے بھری گاڑی کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔ شاکر عمر گجر نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے متعلق تمام ریکارڈ، روزنامچہ اندراجات اور قانونی کارروائی کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسکول کے اسٹاک رجسٹر، انوینٹری اور حوالگی ریکارڈ سمیت محکمہ تعلیم اور کے ایم سی کے متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے اور یہ تعین کیا جائے کہ سرکاری املاک کی حفاظت اور نگرانی کی ذمہ داری کن افسران یا اہلکاروں پر عائد تھی۔
شاکر عمر گجر نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی کے ایم سی افسر، ملازم یا دیگر ذمہ دار شخص کی غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا سرکاری املاک کے ضیاع میں ملوث ہونے کے شواہد ملیں تو ان کے خلاف فوری فوجداری اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکول، اس کی عمارت اور سامان عوامی ملکیت اور قومی امانت ہیں۔ اگر سرکاری املاک واقعی چوری یا غائب ہوئی ہیں تو یہ نہ صرف قومی خزانے کا نقصان ہے بلکہ علاقے کے بچوں کے حقِ تعلیم پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سرکاری املاک کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
درخواست کی نقول ایس ایس پی ضلع ملیر سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) کی جانب سے خیرمقدم
پاکستانی لائیوسٹاک سیکٹر کے لیے خوش آئند پیش رفت — چین میں 45 ملین ڈالر سے زائد کے معاہدے
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) چین میں منعقدہ سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران گرین کارپوریٹ لائیوسٹاک انیشیٹو (GCLI) کی سربراہی میں پاکستانی لائیوسٹاک وفد کی جانب سے 45 ملین ڈالر سے زائد کے سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔
یہ معاہدے پاکستان کے لائیوسٹاک، ڈیری، ویٹرنری فارما، ویکسین ریسرچ، جینیاتی بہتری، بائیوٹیکنالوجی اور گوشت کی برآمدات کے شعبوں میں ایک مثبت پیش رفت ہیں، جو مستقبل میں ملکی معیشت، برآمدات اور خوراک کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
DCFA Pakistan کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا لائیوسٹاک سیکٹر قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو زرعی شعبے میں سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے۔ اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، جینیاتی بہتری، بیماریوں کے مؤثر کنٹرول، ویکسین کی مقامی تیاری اور عالمی معیار کی برآمدی سہولیات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ چین کے ساتھ ہونے والے یہ معاہدے اسی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن گرین کارپوریٹ لائیوسٹاک انیشیٹو (GCLI) کی قیادت اور کاوشوں کو سراہتی ہے جس نے پاکستانی لائیوسٹاک سیکٹر کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس قسم کے اقدامات نہ صرف سرمایہ کاری کے دروازے کھولتے ہیں بلکہ پاکستانی فارمرز کو جدید تحقیق، بہتر جینیات، اعلیٰ معیار کی ویکسینز اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی بھی فراہم کرتے ہیں۔
DCFA Pakistan امید کرتی ہے کہ ان مفاہمتی معاہدوں کو جلد عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ اس کے ثمرات براہ راست کسانوں، فارمرز، بریڈرز اور ملک کے لائیوسٹاک شعبے تک پہنچ سکیں۔ ہم حکومت پاکستان، متعلقہ اداروں اور نجی شعبے پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس سرمایہ کاری کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ضروری سہولیات اور پالیسی سپورٹ فراہم کریں۔
پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی، فارمر کی خوشحالی اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
شاکر عمر گجر
صدر
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
"Save Farmer, Save Pakistan"
کلینیکل تربیت کے بغیر ویٹرنری تعلیم: ایک بڑھتا ہوا عملی بحران
ڈاکٹر علمدار حسین ملک
[email protected]
پاکستان میں اس وقت تقریباً 20 تعلیمی ادارے پانچ سالہ ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM) پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ کاغذی طور پر یہ تعلیمی توسیع ایک مثبت پیش رفت محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ویٹرنری تعلیم کے نظام میں ایک سنگین ساختی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ان اداروں کی بڑی تعداد محض ڈگریاں جاری کرنے والے اداروں کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں معیارِ تعلیم کے بجائے داخلوں اور فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ویٹرنری پیشے کی بنیادی روح یعنی عملی مہارت، کلینیکل قابلیت اور فیلڈ تجربہ مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے، اور ہم ایسے گریجویٹس تیار کر رہے ہیں جو نظریاتی طور پر تو مضبوط نظر آتے ہیں مگر عملی میدان میں غیر یقینی اور کمزور ثابت ہوتے ہیں۔
اصل مسئلہ ان اداروں کے مقام اور تدریسی ڈھانچے میں ہے۔ زیادہ تر ویٹرنری یونیورسٹیاں اور کالجز شہری علاقوں میں قائم ہیں جہاں لائیوسٹاک کی موجودگی کم ہے اور بیمار جانوروں کے کیسز تقریباً دستیاب نہیں ہوتے۔ نتیجتاً طلبہ اپنے پانچ سالہ تعلیمی دورانیے کا زیادہ تر حصہ کلاس رومز اور تجربہ گاہوں میں صرف کرتے ہیں اور حقیقی کلینیکل تجربے سے محروم رہتے ہیں۔ ویٹرنری میڈیسن ایک خالص نظریاتی مضمون نہیں بلکہ ایک عملی شعبہ ہے جو مضبوط کلینیکل مہارت، جانوروں کو سنبھالنے کی صلاحیت، جراحی اعتماد اور فیلڈ تجربے کا تقاضا کرتا ہے۔
ایسے ماحول میں طلبہ اکثر گریجویشن تک پہنچتے پہنچتے حقیقی ہنگامی کیسز، ریوڑ کی صحت کے مسائل، متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ اور فیلڈ لیول علاج سے محروم رہتے ہیں۔ اس سے تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ اہلیت کے درمیان ایک خطرناک خلا پیدا ہو جاتا ہے، جسے اب ایک واضح اور سنجیدہ بڑھتا ہوا عملی بحران کہا جا سکتا ہے۔
اس وقت انٹرن شپ یا کلینیکل تربیت کا مرحلہ صرف 10ویں سمسٹر میں تقریباً چار ماہ تک محدود ہے، جو کسی بھی صورت میں ناکافی ہے۔ یہ مدت اس قدر کم ہے کہ ویٹرنری جیسے پیچیدہ اور حساس پیشے میں عملی مہارت پیدا نہیں کی جا سکتی۔ چار ماہ کی محدود تربیت پانچ سال کی عملی کمی کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ یہ نہ صرف کم مدت ہے بلکہ اس کا دائرہ کار بھی محدود ہوتا ہے، جس میں طلبہ کو حقیقی ذمہ داری دینے کے بجائے صرف مشاہداتی سطح تک رکھا جاتا ہے، جس سے ان کی عملی صلاحیت مزید محدود رہ جاتی ہے۔ نتیجتاً کئی گریجویٹس پیشہ ورانہ میدان میں اعتماد اور عملی مہارت کے بغیر داخل ہوتے ہیں۔
طبی تعلیم کے نظام سے بھی اس حوالے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ میڈیکل طلبہ تیسرے سال سے ہسپتالوں میں کلینیکل دورے اور وارڈز میں عملی تربیت شروع کرتے ہیں اور پانچویں سال تک مسلسل مریضوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، جس کے بعد ایک سال کی لازمی ہاؤس جاب ہوتی ہے۔ اس طرح وہ تقریباً چار سال تک مسلسل کلینیکل ماحول میں رہ کر عملی مہارت حاصل کرتے ہیں۔
اس کے برعکس ویٹرنری طلبہ کو صرف آخری سمسٹر میں چار ماہ کی انٹرن شپ دی جاتی ہے، جو ایک سنجیدہ کلینیکل پیشے کے لیے انتہائی ناکافی اور غیر معقول ہے۔ ویٹرنری گریجویٹ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ لائیوسٹاک صحت، بیماریوں کے کنٹرول، زونوٹک امراض، غذائی تحفظ اور عوامی صحت جیسے اہم شعبوں میں اس محدود تربیت کے ساتھ مؤثر کردار ادا کر سکے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لیے انٹرن شپ اور کلینیکل تربیت کے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔ 10ویں سمسٹر تک محدود رکھنے کے بجائے 8ویں سمسٹر سے باقاعدہ کلینیکل گردش شروع کی جائے۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ ویٹرنری میڈیسن میں مہارت صرف دیکھنے یا سننے سے نہیں بلکہ مسلسل عملی مشق، کیس ہینڈلنگ اور فیلڈ ایکسپوژر سے پیدا ہوتی ہے۔ طلبہ کو سرکاری ویٹرنری ہسپتالوں، نجی کلینکس، لائیوسٹاک فارمز، ڈیری کالونیوں، پولٹری یونٹس، تجرباتی اسٹیشنز، تشخیصی لیبارٹریز اور بیماریوں کی نگرانی کے مراکز میں مسلسل عملی تربیت دی جائے۔ یہ محض رسمی دورے نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ایک منظم عملی تربیتی نظام ہونا چاہیے جس میں ہر طالب علم کی باقاعدہ جانچ، کیس ریکارڈ، عملی ذمہ داری اور نگرانی شدہ کلینیکل کارکردگی شامل ہو۔
مزید یہ کہ اس نظام کو صرف ایک ادارے تک محدود رکھنے کے بجائے ایک قومی سطح کے کلینیکل نیٹ ورک میں تبدیل کیا جائے تاکہ طلبہ کو مختلف ماحول، مختلف بیماریوں، مختلف لائیوسٹاک نظاموں اور مختلف فیلڈ حالات میں کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہو سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ویٹرنری پیشہ ایک ہی قسم کے ماحول تک محدود نہیں بلکہ دیہی، شہری، صنعتی اور عوامی صحت تمام سطحوں پر کام کرتا ہے،
بقیہ کمنٹس میں
عید الاضحیٰ 2026ء:
مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نیا ریکارڈ، 34 ارب روپے کے لین دین
کراچی: بینک دولتِ پاکستان (اسٹیٹ بینک) کی جانب سے عید الاضحیٰ 2026ء کے موقع پر شروع کی گئی ’’گو کیش لیس‘‘ مہم نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق عید الاضحیٰ کے دوران ملک بھر کی 123 مویشی منڈیوں میں 34 ارب روپے سے زائد مالیت کی تقریباً 4 لاکھ 81 ہزار ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں لین دین کی تعداد سات گنا سے زیادہ بڑھ گئی جبکہ مالی حجم 4.6 ارب روپے سے بڑھ کر 34 ارب روپے تک جا پہنچا۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2024ء اور 2025ء کی کامیاب مہمات کے بعد 2026ء میں اس پروگرام کو مزید وسعت دی گئی اور مویشی منڈیوں کی تعداد 54 سے بڑھا کر 123 کر دی گئی۔ اس مقصد کے لیے 22 بینکوں نے مختلف منڈیوں میں خصوصی کیمپ اور کیبن قائم کیے جہاں بیوپاریوں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ افراد کو فوری بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے بینکاری نظام میں شامل کیا گیا اور انہیں کیو آر کوڈز فراہم کیے گئے تاکہ وہ آسانی سے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کر سکیں۔
منتخب مویشی منڈیوں میں موبائل بینکاری گاڑیاں بھی تعینات کی گئیں جن میں اے ٹی ایم، نقد ادائیگی کاؤنٹرز اور کیش ڈپازٹ مشینیں موجود تھیں۔ اس سہولت سے بیوپاریوں کو اضافی نقد رقم براہِ راست بینکنگ نظام میں جمع کرانے کا موقع ملا، جس سے نقد کرنسی کی گردش کم کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے میں مدد ملی۔
مہم کے دوران اسٹیٹ بینک کے افسران بھی مختلف منڈیوں میں موجود رہے تاکہ بینکوں اور عوام کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ 14 مئی سے 5 جون 2026ء تک بڑے مالی لین دین کی سہولت کے لیے ٹرانزیکشن حدود میں عارضی اضافہ بھی کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مہم کی کامیابی کے نتیجے میں تقریباً 12 ہزار 500 نئے بینک اکاؤنٹس بھی کھولے گئے، جن میں زیادہ تر مویشی بیوپاری اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے والے افراد شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں پر عوامی اعتماد میں اضافے کی عکاس ہے بلکہ مویشی تجارت جیسے روایتی شعبوں کو جدید مالیاتی نظام سے جوڑنے کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ اس کامیابی سے مستقبل میں موسمی اور بڑے تجارتی بازاروں میں محفوظ، شفاف اور مؤثر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی راہ مزید ہموار ہوگی۔
ڈی سی ایف اے پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی "گو کیش لیس" مہم کو لائیو اسٹاک سیکٹر کی ڈیجیٹل تبدیلی کا سنگِ میل قرار دے دیا۔
کراچی، 6 جون 2026ء
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) نے عید الاضحیٰ 2026ء کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے چلائی جانے والی "گو کیش لیس" مہم کی شاندار کامیابی کو پاکستان کی دستاویزی معیشت، مالی شمولیت اور لائیو اسٹاک سیکٹر کی جدیدکاری کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس اقدام کو مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی 123 مویشی منڈیوں میں 34 ارب روپے سے زائد مالیت کی تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جبکہ 12 ہزار 500 سے زائد نئے بینک اکاؤنٹس بھی کھولے گئے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں لین دین کی تعداد میں سات گنا سے زیادہ اضافہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے کسان، مویشی پال حضرات اور بیوپاری جدید مالیاتی نظام کو قبول کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈی سی ایف اے پاکستان کے صدر شاکر عمر گجر نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، شریک بینکوں اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے جبکہ لائیو اسٹاک سیکٹر ملکی زرعی معیشت کا سب سے بڑا جزو ہونے کے باوجود مالیاتی نظام میں اپنی حقیقی نمائندگی حاصل نہیں کر سکا۔ عید الاضحیٰ کے دوران حاصل ہونے والے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر مناسب سہولیات، اعتماد اور مالیاتی رسائی فراہم کی جائے تو دیہی معیشت بھی تیزی سے ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ نقد رقوم کی نقل و حمل، فراڈ، غیر دستاویزی کاروبار اور سیکیورٹی خدشات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ حکومت کو لائیو اسٹاک سیکٹر کے حقیقی معاشی حجم اور کاروباری سرگرمیوں کا درست ڈیٹا بھی دستیاب ہوگا، جس کی بنیاد پر بہتر پالیسی سازی ممکن ہو سکے گی۔
شاکر عمر گجر نے کہا کہ پاکستان میں دودھ، گوشت، مویشیوں کی خرید و فروخت، چارہ جات، ویٹرنری ادویات اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کا سالانہ حجم کھربوں روپے پر مشتمل ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہتا ہے۔ اگر اسٹیٹ بینک کی "گو کیش لیس" مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے تو لائیو اسٹاک سیکٹر ملکی معیشت کی دستاویزکاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ڈی سی ایف اے پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، کمرشل بینکوں، مائیکرو فنانس اداروں، فِن ٹیک کمپنیوں اور ترقیاتی شراکت دار اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ لائیو اسٹاک سیکٹر کے لیے ایک جامع "قومی ڈیجیٹل لائیو اسٹاک فنانشل انکلوژن پروگرام" متعارف کرایا جائے۔
ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ ملک بھر کی مستقل مویشی منڈیوں میں سال بھر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولیات فراہم کی جائیں، کسانوں اور مویشی پال حضرات کے لیے خصوصی بینکاری مصنوعات متعارف کرائی جائیں، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو دودھ کی سپلائی چین تک توسیع دی جائے اور دیہی علاقوں میں مالیاتی خواندگی کے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت زرعی اور لائیو اسٹاک شعبے میں ایک نئی ڈیجیٹل تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی یہ کامیاب مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب حکمت عملی کے ذریعے کسانوں، بیوپاریوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف معیشت کو دستاویزی بنائے گا بلکہ سرمایہ کاری، مالی شفافیت اور قومی ترقی کو بھی فروغ دے گا۔
ڈی سی ایف اے پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تجویز پیش کی ہے کہ لائیو اسٹاک سیکٹر کی مستقل ڈیجیٹلائزیشن کے لیے اسٹیٹ بینک، کمرشل بینکوں، کسان تنظیموں اور نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے تاکہ ایک جامع اور پائیدار ڈیجیٹل مالیاتی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
"وقت کی ضرورت: دستاویزی معیشت — ڈیجیٹل پاکستان"
"خوشحال کسان، مضبوط معیشت، ترقی یافتہ پاکستان"
شاکر عمر گجر
صدر
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
📞 0321-9057786
📧 [email protected]
🌐 https://t.co/8T9FjjNoA5
Save Farmer, Save Pakistan
مرغ اور مرغی میں تولیدی نظام اور انڈے کی تشکیل کا مکمل سائنسی عمل
تعارف
پولٹری دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی زرعی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ مرغی نہ صرف انسان کو معیاری پروٹین فراہم کرتی ہے بلکہ دیہی معیشت، غذائی تحفظ اور روزگار میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پولٹری کی کامیاب پیداوار کا انحصار مرغ اور مرغی کے تولیدی نظام کی درست سمجھ، بہتر افزائش نسل (Breeding)، فرٹیلٹی (Fertility) اور ہیچ ایبلٹی (Hatchability) پر ہوتا ہے۔
مرغ (نر) کا تولیدی نظام
مرغ کے جسم کے اندر ریڑھ کی ہڈی کے قریب دو خصیے (Testes) موجود ہوتے ہیں۔ یہی خصیے نطفہ (Sperm) پیدا کرتے ہیں۔ خصیوں سے نطفہ مخصوص نالیوں (Vas Deferens) کے ذریعے کلوآکا (Cloaca) تک پہنچتا ہے۔
مرغ میں ممالیہ جانوروں کی طرح بیرونی عضو تناسل موجود نہیں ہوتا۔ ملاپ کے دوران مرغ اور مرغی اپنی کلوآکا کو چند لمحوں کے لیے آپس میں ملاتے ہیں، جسے "Cloacal Kiss" کہا جاتا ہے۔ اسی عمل کے ذریعے نطفہ مرغی کے تولیدی راستے میں منتقل ہو جاتا ہے۔
مرغی (مادہ) کا تولیدی نظام
مرغی میں عموماً صرف بائیں جانب کی اووری (Left Ovary) اور اووی ڈکٹ (Oviduct) فعال ہوتے ہیں۔
اووری میں ہزاروں غیر بالغ زردیاں (Follicles) موجود ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک یا زیادہ زردیاں بالغ ہو کر انڈہ بنانے کے عمل میں شامل ہوتی ہیں۔
اووی ڈکٹ کے اہم حصے
1۔ انفنڈی بیولم (Infundibulum)
یہ اووی ڈکٹ کا ابتدائی حصہ ہے جہاں اووری سے خارج ہونے والی زردی وصول کی جاتی ہے۔ اگر نطفہ موجود ہو تو فرٹیلائزیشن (Fertilization) اسی مقام پر ہوتی ہے۔
2۔ میگنم (Magnum)
اس حصے میں انڈے کی سفیدی (Albumen) بنتی ہے۔ سفیدی چوزے کے لیے پانی اور غذائی اجزاء کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔
3۔ استھمس (Isthmus)
یہاں انڈے کی اندرونی اور بیرونی جھلیاں تشکیل پاتی ہیں جو انڈے کو جراثیم سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
4۔ یوٹرس یا شیل گلینڈ (Uterus/Shell Gland)
اس حصے میں کیلشیم جمع ہو کر انڈے کا سخت خول (Shell) بناتا ہے۔ انڈہ تقریباً 18 سے 20 گھنٹے اسی حصے میں رہتا ہے۔
5۔ ویجائنا (Vagina)
یہ آخری حصہ ہے جہاں سے مکمل تیار شدہ انڈہ کلوآکا کے راستے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
فرٹیلائزیشن کیسے ہوتی ہے؟
جب مرغ اور مرغی ملاپ کرتے ہیں تو نطفہ مرغی کے تولیدی راستے میں داخل ہو جاتا ہے۔ مرغی کے جسم میں مخصوص سپرم ذخیرہ کرنے والے خانے (Sperm Storage Tubules) موجود ہوتے ہیں جہاں نطفہ کئی دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔
جب اووری سے زردی خارج ہوتی ہے تو انفنڈی بیولم میں نطفہ اس سے مل کر فرٹیلائزیشن مکمل کرتا ہے۔ اس کے بعد انڈہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا مکمل بنتا ہے۔
انڈہ بننے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
ایک مکمل انڈہ بننے میں تقریباً 24 سے 26 گھنٹے لگتے ہیں۔
انفنڈی بیولم: 15 تا 20 منٹ
میگنم: تقریباً 3 گھنٹے
استھمس: 1 تا 2 گھنٹے
یوٹرس: 18 تا 20 گھنٹے
ویجائنا: چند منٹ
چوزے کی نشوونما
اگر فرٹیلائزڈ انڈے کو مناسب درجہ حرارت اور نمی پر انکیوبیٹ کیا جائے تو 21 دن میں چوزہ نکل آتا ہے۔
اہم مراحل
دن 1 تا 3: دل اور خون کی نالیاں بننا شروع ہوتی ہیں۔
دن 7: آنکھیں، چونچ اور ابتدائی جسمانی ساخت نمایاں ہو جاتی ہے۔
دن 14: پر اور جسمانی اعضاء واضح ہو جاتے ہیں۔
دن 18: چوزہ تقریباً مکمل بن چکا ہوتا ہے۔
دن 21: چوزہ انڈے کا خول توڑ کر باہر آ جاتا ہے۔
بہتر فرٹیلٹی کے لیے اہم اصول
مرغ اور مرغیوں کا تناسب
لائٹ بریڈز: 1 مرغ فی 10 تا 12 مرغیاں
ہیوی بریڈز: 1 مرغ فی 8 تا 10 مرغیاں
متوازن خوراک
خوراک میں درج ذیل اجزاء ضروری ہیں:
معیاری پروٹین
وٹامن A
وٹامن D3
وٹامن E
سیلینیم
کیلشیم
فاسفورس
بیماریوں سے تحفظ
درج ذیل بیماریوں کی روک تھام انتہائی ضروری ہے:
نیوکاسل بیماری
ایویئن انفلوئنزا
انفیکشس برونکائٹس
مائیکوپلازما
فاؤل پاکس
ماحولیاتی انتظام
مناسب درجہ حرارت
صاف پانی
مناسب ہوا داری
ہجوم سے بچاؤ
گرمی کے دباؤ (Heat Stress) کا کنٹرول
عام غلط فہمیاں
بعض افراد سمجھتے ہیں کہ ہر انڈے سے چوزہ نکل سکتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف فرٹیلائزڈ انڈے ہی مناسب انکیوبیشن کے بعد چوزے پیدا کر سکتے ہیں۔
اسی طرح انڈہ دینے کے لیے مرغ کا موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ مرغی بغیر مرغ کے بھی انڈہ دے سکتی ہے، لیکن ایسا انڈہ فرٹیلائزڈ نہیں ہوگا اور اس سے چوزہ پیدا نہیں ہوگا۔
نتیجہ
مرغ اور مرغی کا تولیدی نظام قدرت کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ ایک صحت مند مرغ، متوازن خوراک، بہتر انتظامی اصول اور بیماریوں سے تحفظ کے ذریعے پولٹری فارمرز فرٹیلٹی، ہیچ ایبلٹی اور مجموعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ پولٹری سیکٹر میں سائنسی معلومات کا فروغ نہ صرف فارمرز کی آمدنی بڑھاتا ہے بلکہ قومی غذائی تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
GCLI وفد کی وائس چانسلر UVAS لاہور سے ملاقات، لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق
لاہور: گرین کارپوریٹ لائیوسٹاک انیشیٹو (GCLI) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈیئر (ر) احتشام یونس نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (UVAS) لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی سے ملاقات کی اور انہیں منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔
ملاقات میں پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی، ویٹرنری تعلیم کے معیار میں بہتری، جدید تحقیق، بیماریوں کے کنٹرول، کلینیکل تربیت، بائیو سکیورٹی، فوڈ سیفٹی اور صنعت و جامعہ کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر کرنل (ر) عبدالرحمان قریشی، ڈائریکٹر لائیوسٹاک GCLI، اور معروف ویٹرنری پروفیشنل ڈاکٹر آصف سلیمان ساہی بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کا لائیوسٹاک سیکٹر قومی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا جدید تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، معیاری ویٹرنری تعلیم اور عملی تربیت کے فروغ کے بغیر اس شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جامعات اور صنعت کے درمیان مؤثر اشتراک سے نہ صرف تحقیق کے نتائج عملی میدان تک پہنچ سکیں گے بلکہ طلبہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت بھی فراہم کی جا سکے گی۔
بریگیڈیئر (ر) احتشام یونس نے کہا کہ GCLI ملک میں لائیوسٹاک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، جدید فارمنگ سسٹمز، بریڈ امپروومنٹ، ویلیو ایڈیشن اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے علمی و تحقیقی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی نے یونیورسٹی اور صنعت کے درمیان تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ UVAS ملک میں ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور افرادی قوت کی تیاری میں اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے لائیوسٹاک سیکٹر کی پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ تحقیق، طلبہ کی عملی تربیت اور جدید سائنسی منصوبوں میں تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
ملاقات میں "ون ہیلتھ" کے تصور، زونوٹک بیماریوں کی روک تھام، ویکسین ریسرچ، تشخیصی سہولیات، بیماریوں کی نگرانی، کلینیکل مہارتوں کے فروغ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ویٹرنری گریجویٹس کی تیاری کے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔
شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ GCLI اور UVAS کے درمیان تعاون مستقبل میں پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر، کسانوں کی خوشحالی، غذائی تحفظ اور قومی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) نے اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیق، تعلیم اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط ہی پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
Save Farmer, Save Pakistan
DCFA Pakistan
📞
📧 [email protected]
🌐 https://t.co/sidE2kZ92k
📘 @DCFAPakistan
🐄 مویشیوں میں ڈی ہارننگ (Dehorning): جانوروں کی فلاح اور فارم سیفٹی کے لیے ایک اہم عمل
مویشیوں کے سینگ قدرتی دفاع کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن جدید ڈیری اور بیف فارمنگ میں یہ جانوروں، فارم ورکرز اور آلات کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں ڈی ہارننگ (Dehorning) اور ڈس بڈنگ (Disbudding) کو فارم مینجمنٹ کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ڈی ہارننگ مکمل بن چکے سینگ ہٹانے کا عمل ہے، جبکہ ڈس بڈنگ سینگ بننے سے پہلے ان کے ابتدائی ابھار (Horn Bud) کو ختم کرنے کا عمل ہے۔ کم عمر بچھڑوں میں ڈس بڈنگ زیادہ محفوظ اور کم تکلیف دہ سمجھی جاتی ہے۔
سینگ رکھنے کے نقصانات
🔹 جانوروں کے درمیان لڑائی اور زخمی ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
🔹 آنکھ، تھن اور جسم کے دیگر حصوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
🔹 دودھ اور گوشت کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
🔹 فارم ورکرز کے لیے حفاظتی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔
🔹 باڑ، فیڈرز اور دیگر فارم آلات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
🔹 نقل و حمل کے دوران زخمی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ڈی ہارننگ کا بہترین وقت
ویٹرنری ماہرین کے مطابق بچھڑوں کی 2 سے 8 ہفتے عمر کے دوران ڈس بڈنگ بہترین نتائج دیتی ہے کیونکہ:
✅ درد اور خون بہنا کم ہوتا ہے۔
✅ زخم جلد بھر جاتا ہے۔
✅ پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
✅ جانور جلد معمول کی حالت میں آ جاتا ہے۔
ڈی ہارننگ کے طریقے
1. ہاٹ آئرن ڈس بڈنگ
گرم آلے کے ذریعے سینگ بنانے والے خلیات کو ختم کیا جاتا ہے۔
فوائد: کم خون، کم انفیکشن، مستقل نتائج۔
2. کیمیکل ڈس بڈنگ
خصوصی کیمیکل پیسٹ استعمال کیا جاتا ہے۔
فوائد: کم خرچ اور آسان۔
نقصانات: آنکھوں اور جلد کو نقصان پہنچانے کا خطرہ۔
3. سرجیکل ڈی ہارننگ
بڑے جانوروں کے مکمل بنے ہوئے سینگ خصوصی آلات سے کاٹے جاتے ہیں۔
نقصانات: زیادہ درد، خون بہنا اور انفیکشن کا خطرہ۔
درد کا انتظام
جانوروں کی فلاح کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
✔️ مقامی بے ہوشی (Local Anesthesia)
✔️ کارنول نرو بلاک (Cornual Nerve Block)
✔️ درد کش ادویات (NSAIDs)
✔️ ضرورت کے مطابق سکون آور ادویات
بعد از ڈی ہارننگ دیکھ بھال
✅ زخم صاف اور خشک رکھیں۔
✅ مکھیوں اور کیڑوں سے بچاؤ کریں۔
✅ انفیکشن کی علامات پر نظر رکھیں۔
✅ بخار یا مسلسل خون بہنے کی صورت میں فوری ویٹرنری مشورہ لیں۔
کیا ہر نسل میں ڈی ہارننگ ضروری ہے؟
نہیں۔ بعض نسلیں قدرتی طور پر بغیر سینگ (Polled) ہوتی ہیں، جیسے:
• Angus
• Red Angus
دنیا بھر میں پولڈ جینیٹکس کے فروغ پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ڈی ہارننگ کی ضرورت کم ہو سکے۔
نتیجہ
ڈی ہارننگ جانوروں، فارم ورکرز اور فارم کے انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ایک مؤثر انتظامی عمل ہے۔ تاہم یہ ہمیشہ مناسب عمر میں، ویٹرنری نگرانی اور درد کم کرنے کے مناسب اقدامات کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ درست طریقے سے کی گئی ڈی ہارننگ فارم کی پیداوار، جانوروں کی صحت اور مجموعی منافع میں بہتری لاتی ہے۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
Save Farmer, Save Pakistan
🐄 مویشیوں میں مشکل زچگی (Dystocia): وجوہات، نقصانات اور احتیاطی تدابیر
مویشیوں کی افزائشِ نسل اور فارم کی معاشی کامیابی کا دارومدار کامیاب زچگی پر ہوتا ہے۔ تاہم بعض اوقات گائے، بھینس یا دیگر مویشی بچے کی پیدائش کے دوران شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، جسے ویٹرنری اصطلاح میں ڈسٹوشیا (Dystocia) یا مشکل زچگی کہا جاتا ہے۔
ڈسٹوشیا نہ صرف ماں اور بچے کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بلکہ فارم کی مجموعی پیداوار اور منافع پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور مناسب ویٹرنری امداد فراہم نہ کی جائے تو جانور کی موت، بچے کا ضیاع، بانجھ پن اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ڈسٹوشیا کیا ہے؟
جب جانور مقررہ وقت پر قدرتی طور پر بچے کو جنم دینے میں ناکام رہے یا زچگی کا عمل غیر معمولی طور پر طویل اور مشکل ہو جائے تو اسے ڈسٹوشیا کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اگر جانور کئی گھنٹوں تک زور لگانے کے باوجود بچے کو جنم نہ دے سکے تو فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈسٹوشیا کی اہم وجوہات
1. بچے کا بڑا سائز (Oversized Calf)
کئی مرتبہ بچہ ماں کے جسمانی حجم کے مقابلے میں زیادہ بڑا ہوتا ہے، جس کے باعث پیدائشی راستے سے اس کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر پہلی بار بچے دینے والی گائیوں اور بھینسوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
2. بچے کی غلط پوزیشن (Abnormal Fetal Position)
قدرتی حالت میں بچے کا سر اور اگلی ٹانگیں پیدائشی راستے کی طرف ہوتی ہیں۔ اگر بچہ الٹا، ترچھا یا کسی غیر معمولی پوزیشن میں ہو تو نارمل زچگی ممکن نہیں رہتی۔
3. پیدائشی راستے کا تنگ ہونا (Narrow Birth Canal)
کم عمر یا کمزور جسمانی ساخت رکھنے والے جانوروں میں پیدائشی راستہ مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتا، جس کے باعث بچے کی پیدائش میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
4. رحم کی کمزور سکڑاؤ کی صلاحیت (Uterine Inertia)
بعض اوقات رحم مناسب طاقت سے سکڑتا نہیں، جس کے باعث بچہ باہر دھکیلنے کی قوت کم ہو جاتی ہے۔ یہ مسئلہ غذائی کمی، معدنیات کی کمی یا طویل زچگی کے نتیجے میں پیدا ہو سکتا ہے۔
5. جڑواں بچوں کی صورت
جڑواں بچوں کی پیدائش کے دوران ان کی پوزیشن ایک دوسرے میں الجھ سکتی ہے، جس سے زچگی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
ڈسٹوشیا کی علامات
✔ جانور کا طویل عرصے تک زور لگانا
✔ پیدائش کے آثار ظاہر ہونے کے باوجود بچہ باہر نہ آنا
✔ بچے کی صرف ایک ٹانگ یا سر کا نظر آنا
✔ جانور کی شدید بے چینی اور کمزوری
✔ بار بار اٹھنا بیٹھنا اور دم ہلانا
✔ پیدائشی پانی نکلنے کے بعد بھی طویل تاخیر
ڈسٹوشیا کے نقصانات
اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
🔹 بچے کی موت
🔹 ماں کی موت کا خطرہ
🔹 رحم یا پیدائشی راستے کو نقصان
🔹 بعد از زچگی انفیکشنز
🔹 دودھ کی پیداوار میں کمی
🔹 دوبارہ حاملہ ہونے میں مشکلات
🔹 فارم کو معاشی نقصان
کسان کیا کریں؟
✅ حاملہ جانوروں کی مناسب خوراک اور معدنیات کا انتظام کریں۔
✅ زچگی کے متوقع وقت کا درست ریکارڈ رکھیں۔
✅ پہلی بار بچے دینے والے جانوروں پر خصوصی نظر رکھیں۔
✅ زچگی کے دوران غیر ضروری طاقت استعمال نہ کریں۔
✅ اگر ایک سے دو گھنٹے تک واضح پیش رفت نہ ہو تو فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
ویٹرنری امداد کی اہمیت
مشکل زچگی کے کیسز میں تجربہ کار ویٹرنری ڈاکٹر بچے کی پوزیشن درست کر سکتا ہے، خصوصی آلات کی مدد سے بچے کو محفوظ طریقے سے نکال سکتا ہے یا ضرورت پڑنے پر سیزیرین آپریشن (Cesarean Section) بھی کر سکتا ہے۔ بروقت طبی امداد ماں اور بچے دونوں کی زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
نتیجہ
ڈسٹوشیا مویشیوں میں ایک عام مگر انتہائی اہم طبی مسئلہ ہے۔ اس کی بروقت شناخت، مناسب انتظام اور فوری ویٹرنری مداخلت جانوروں کی صحت، افزائشِ نسل اور فارم کی معاشی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ آگاہی، احتیاط اور بروقت علاج کے ذریعے اس مسئلے سے ہونے والے نقصانات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
🐾 صحت مند جانور، خوشحال کسان — مضبوط لائیو اسٹاک، مضبوط پاکستان۔
سرخ سندھی نسل کے جینوم کی کامیاب سیکوینسنگ: پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل
تحریر: ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر میں ایک اہم سائنسی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جامعہ کراچی کے ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (KIBGE) نے ملک کی ممتاز مقامی دودھ دینے والی نسل "سرخ سندھی" (Red Sindhi Cattle) کے مکمل جینوم کی سیکوینسنگ کامیابی سے مکمل کر لی۔ یہ منصوبہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ پروگرام فیز-I کے تحت مکمل کیا گیا۔
یہ کامیابی محض ایک سائنسی تحقیق نہیں بلکہ پاکستان کے لائیو اسٹاک، فوڈ سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی افزائش نسل اور مقامی جینیاتی وسائل کے تحفظ کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔
سرخ سندھی نسل کی اہمیت
سرخ سندھی پاکستان کی ان چند مقامی نسلوں میں شامل ہے جو شدید گرمی، محدود خوراک اور مقامی بیماریوں کے خلاف قدرتی مزاحمت رکھتی ہیں۔ سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں خاندان اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس نسل پر انحصار کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران غیر منصوبہ بند کراس بریڈنگ، کمزور بریڈنگ پالیسیوں اور مقامی نسلوں پر محدود تحقیق کے باعث اس قیمتی جینیاتی سرمایہ کو شدید خطرات لاحق رہے ہیں۔
جینوم سیکوینسنگ کیوں اہم ہے؟
جینوم سیکوینسنگ کسی جانور کے مکمل جینیاتی نقشے (DNA Blueprint) کو سمجھنے کا عمل ہے۔ اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے جدید نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ (NGS) ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایسے جینز کی نشاندہی کی جو:
دودھ کی پیداوار میں کردار ادا کرتے ہیں۔
شدید گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بیماریوں کے خلاف مزاحمت فراہم کرتے ہیں۔
جانور کی مجموعی کارکردگی اور بقا کو بہتر بناتے ہیں۔
اس تحقیق کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے پاس سرخ سندھی نسل کا مکمل جینیاتی ڈیٹا موجود ہوگا جسے مستقبل کی بریڈنگ پالیسیوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔
بیماریوں کے کنٹرول میں نئی امید
تحقیق کے دوران لمپی اسکن ڈیزیز وائرس (LSDV) کی جینومک خصوصیات کا بھی مطالعہ کیا گیا جس سے بیماری اور جانور کے درمیان حیاتیاتی تعلق کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔
یہ پیش رفت مستقبل میں:
بیماریوں کی جلد تشخیص
بہتر ویکسینز کی تیاری
جینیاتی مزاحمت رکھنے والے جانوروں کے انتخاب
بائیو سیکیورٹی پروگراموں کی بہتری
میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستانی فارمرز کے لیے عملی فوائد
اگر اس تحقیق کو حکومتی سطح پر عملی بریڈنگ پروگراموں سے جوڑا جائے تو آنے والے برسوں میں:
دودھ کی پیداوار میں اضافہ
بیماریوں کے نقصانات میں کمی
افزائش نسل کی لاگت میں کمی
اعلیٰ معیار کے بیلوں کا انتخاب
مصنوعی نسل کشی (AI) پروگراموں کی بہتری
ممکن ہو سکے گی۔
اس کے نتیجے میں فارمر کی آمدنی بڑھے گی اور صارفین کو نسبتاً سستا اور معیاری دودھ اور گوشت فراہم کیا جا سکے گا۔
DCFA Pakistan کا مؤقف
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کی مقامی نسلیں ہماری قومی غذائی سلامتی کا بنیادی ستون ہیں۔ سرخ سندھی، ساہیوال اور نیلی راوی جیسی نسلیں پاکستان کے موسمی حالات سے مطابقت رکھتی ہیں اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ہم حکومت پاکستان، وزارت قومی غذائی تحفظ، صوبائی لائیو اسٹاک محکموں، تحقیقی اداروں اور جامعات سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
مقامی نسلوں کے قومی جینومک بینک قائم کیے جائیں۔
سرخ سندھی، ساہیوال اور نیلی راوی کے جینومک بریڈنگ پروگرام شروع کیے جائیں۔
قومی سطح پر جینومک سلیکشن پالیسی متعارف کرائی جائے۔
بیماریوں سے مزاحمت رکھنے والے جانوروں کی نشاندہی اور تحفظ کو ترجیح دی جائے۔
مقامی نسلوں کے تحفظ کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔
نتیجہ
سرخ سندھی نسل کے مکمل جینوم کی سیکوینسنگ پاکستان کی سائنسی برادری کی ایک شاندار کامیابی ہے۔ اگر اس تحقیق کے نتائج کو عملی پالیسی، بریڈنگ پروگراموں اور فارمرز تک منتقل کیا گیا تو یہ پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر میں وہی کردار ادا کر سکتی ہے جو جدید جینومکس نے دنیا کے ترقی یافتہ زرعی ممالک میں ادا کیا ہے۔
یہ کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مقامی نسلیں صرف ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ مستقبل کی فوڈ سیکیورٹی، معاشی ترقی اور پائیدار لائیو اسٹاک پیداوار کی ضمانت بھی ہیں۔
🐄 رت موترا (Babesiosis) — مویشیوں کی ایک خطرناک خون کی بیماری
تعارف
رت موترا (Babesiosis) مویشیوں، بھینسوں، بکریوں، بھیڑوں اور بعض اوقات گھوڑوں میں پائی جانے والی ایک خطرناک خون کی بیماری ہے جو Babesia نامی خردبینی طفیلی (Protozoan Parasite) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ طفیلی جانور کے خون کے سرخ خلیات (Red Blood Cells) پر حملہ کرتا ہے، انہیں تباہ کرتا ہے اور شدید خون کی کمی پیدا کرتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے گرم اور مرطوب علاقوں میں یہ بیماری لائیو اسٹاک کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کا بنیادی ذریعہ چیچڑ (Ticks) ہیں۔
بیماری کا سبب
رت موترا درج ذیل طفیلی جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے:
Babesia bovis
Babesia bigemina
Babesia divergens
پاکستان میں زیادہ تر کیسز Babesia bovis اور Babesia bigemina سے وابستہ ہوتے ہیں۔
بیماری کیسے پھیلتی ہے؟
یہ بیماری براہِ راست ایک جانور سے دوسرے جانور میں نہیں پھیلتی بلکہ اس کا بنیادی ذریعہ چیچڑ ہوتے ہیں۔
جب متاثرہ جانور کا خون چیچڑ چوستا ہے تو طفیلی چیچڑ کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہی چیچڑ جب کسی صحت مند جانور کو کاٹتا ہے تو بیماری منتقل ہو جاتی ہے۔
خطرے کے عوامل
جسم پر چیچڑوں کی زیادہ تعداد
بارشوں اور گرمی کا موسم
ناقص فارم مینجمنٹ
نئے جانوروں کی بغیر معائنہ فارم میں شمولیت
کمزور یا بیمار جانور
بیماری کا دورانیہ
چیچڑ کے کاٹنے کے بعد علامات ظاہر ہونے میں عموماً:
7 سے 21 دن
لگ سکتے ہیں۔
اہم علامات
رت موترا کی علامات بیماری کی شدت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔
ابتدائی علامات
تیز بخار (104-107°F)
بھوک کا ختم ہو جانا
سستی اور کمزوری
جگالی میں کمی
دودھ کی پیداوار میں کمی
نمایاں علامات
خون کی شدید کمی (Anemia)
آنکھوں اور مسوڑھوں کا پیلا پڑ جانا
سانس کا تیز چلنا
دل کی دھڑکن میں اضافہ
وزن میں تیزی سے کمی
مخصوص علامت
سرخ یا کافی رنگ کا پیشاب
یہی علامت عوامی زبان میں بیماری کو "رت موترا" کا نام دیتی ہے۔
سرخ خون کے خلیات ٹوٹنے سے ہیموگلوبن پیشاب کے ذریعے خارج ہونے لگتا ہے۔
شدید کیسز میں
جانور گر سکتا ہے
اعصابی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں
حاملہ جانوروں میں اسقاط حمل
شدید کمزوری
اچانک موت
دودھ دینے والے جانوروں پر اثرات
رت موترا ڈیری فارمز میں بھاری معاشی نقصان کا سبب بنتی ہے:
دودھ میں 20 سے 80 فیصد تک کمی
تولیدی مسائل
وزن میں کمی
علاج کے اخراجات
شرح اموات میں اضافہ
تشخیص (Diagnosis)
ویٹرنری ڈاکٹر درج ذیل طریقوں سے بیماری کی تشخیص کرتے ہیں:
کلینیکل علامات
بخار
خون کی کمی
سرخ پیشاب
لیبارٹری ٹیسٹ
Blood Smear Examination
PCR Test
ELISA
Complete Blood Count (CBC)
علاج
رت موترا قابل علاج بیماری ہے بشرطیکہ بروقت تشخیص ہو جائے۔
ویٹرنری ڈاکٹر درج ذیل ادویات استعمال کر سکتے ہیں:
Imidocarb Dipropionate
Diminazene Aceturate
معاون علاج
بخار کم کرنے والی ادویات
سیال مادے (Fluid Therapy)
وٹامنز اور منرلز
خون کی منتقلی (شدید کیسز میں)
⚠️ علاج ہمیشہ مستند ویٹرنری ڈاکٹر کے مشورے سے کروایا جائے۔
بچاؤ کے مؤثر طریقے
1۔ چیچڑوں کا مکمل کنٹرول
باقاعدگی سے Acaricides استعمال کریں۔
جانوروں کو اسپرے یا ڈِپ کروائیں۔
چیچڑوں کی افزائش گاہوں کا خاتمہ کریں۔
2۔ فارم کی صفائی
باڑوں کو خشک اور صاف رکھیں۔
گوبر اور کچرے کو بروقت ہٹائیں۔
3۔ نئے جانوروں کو قرنطینہ کریں
کم از کم 21 دن تک الگ رکھ کر معائنہ کروائیں۔
4۔ متوازن خوراک
مناسب توانائی
پروٹین
منرل مکسچر
صاف پانی
مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔
5۔ باقاعدہ ویٹرنری معائنہ
فارم پر بیماری کی جلد تشخیص ممکن بناتا ہے۔
DCFA Pakistan کا پیغام
رت موترا ایک ایسی بیماری ہے جس سے ہونے والے زیادہ تر نقصانات بروقت احتیاط اور چیچڑوں کے مؤثر کنٹرول کے ذریعے روکے جا سکتے ہیں۔ فارمرز کو چاہیے کہ وہ اپنے جانوروں کا باقاعدگی سے معائنہ کریں، چیچڑوں کے خاتمے کے پروگرام پر عمل کریں اور بخار، کمزوری یا سرخ پیشاب جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
صحت مند جانور، خوشحال فارمر اور مضبوط پاکستان ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
DCFA Pakistan Save Farmer, Save Pakistan
پنجاب کے زرعی بجٹ میں 80 ارب سے 100 ارب روپے اضافے کی تجویز کا خیرمقدم، دیگر صوبے بھی کسان اور لائیو اسٹاک دوست بجٹ پیش کریں
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) پنجاب حکومت کی جانب سے زرعی بجٹ کو 80 ارب روپے سے بڑھا کر 100 ارب روپے کرنے کی تجویز اور کسان دوست پالیسیوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ موجودہ معاشی حالات، بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات اور غذائی تحفظ کے چیلنجز کے پیش نظر زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ زرعی بجٹ میں یہ اضافہ ایک مثبت آغاز ہے، تاہم پاکستان کی زرعی اور لائیو اسٹاک معیشت کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں مزید اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ کسانوں، مویشی پال حضرات اور ڈیری فارمرز کو مؤثر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ہم سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا حکومتوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آئندہ بجٹ میں زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ اور کیٹل فارمنگ کے لیے خصوصی فنڈز مختص کریں۔ خصوصاً بلوچستان کے ان علاقوں میں جہاں زرعی سرگرمیاں محدود ہیں، جدید کٹل کالونیز، ڈیری فارمنگ زونز، فیڈ لاٹ فیٹننگ منصوبے اور لائیو اسٹاک اکنامک کلسٹرز قائم کیے جائیں تاکہ روزگار، سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔
ڈیری سیکٹر پاکستان کی زرعی معیشت کا سب سے بڑا ذیلی شعبہ ہے، لیکن اسے اب تک مطلوبہ حکومتی توجہ نہیں مل سکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آسان فنانسنگ، جانوروں کی بیمہ، جدید بریڈنگ پروگرام، چارہ ترقیاتی منصوبے، ویٹرنری سروسز، دودھ کولنگ سینٹرز، پروسیسنگ یونٹس اور جدید مارکیٹنگ نظام متعارف کروائے جائیں تاکہ نوجوانوں، سرمایہ کاروں اور کسانوں کو ڈیری اور کیٹل فارمنگ کی طرف راغب کیا جا سکے۔
حکومتِ پاکستان گوشت اور لائیو اسٹاک کی برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے کر رہی ہے۔ ان برآمدی اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں مویشیوں کی افزائش، نسلوں کی بہتری، ڈیری فارمنگ اور فیڈ لاٹ فیٹننگ کے شعبوں کو بھرپور سرکاری سرپرستی حاصل ہو تاکہ مستقبل میں مقامی غذائی ضروریات اور برآمدی تقاضے بیک وقت پورے کیے جا سکیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ زراعت اور لائیو اسٹاک کو قومی ترقی، فوڈ سیکیورٹی اور برآمدی حکمت عملی کے بنیادی ستون کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان شعبوں میں تاریخی سرمایہ کاری کی جائے۔
شاکر عمر گجر
صدر
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
Save Farmer, Save Pakistan
@agri_department@MaryamNSharif@CMShehbaz
Climate Change and the Livestock Sector
An Awareness Message for Farmers and Livestock Producers
Climate change has become one of the greatest challenges facing the world today. Pakistan is among the countries most vulnerable to its impacts. Rising temperatures, extreme heat waves, unpredictable rainfall, floods, droughts, and increasing weather intensity are posing serious threats not only to human lives but also to agriculture and the livestock sector.
A significant portion of Pakistan’s rural economy depends on livestock farming. Millions of families earn their livelihoods through milk production, meat production, and livestock trading. However, climate change is increasingly affecting animal health, productivity, and the income of livestock farmers.
Heat stress has emerged as one of the most serious challenges for livestock. When temperatures exceed the animals’ comfort zone, feed intake declines, water consumption increases, and milk production drops significantly. Prolonged exposure to extreme heat can lead to reproductive disorders, reduced fertility, weakened immunity, and in severe cases, heat stroke and death.
Water scarcity and prolonged droughts further aggravate the situation by reducing fodder availability and increasing feed costs. As a result, both milk and meat production decline while farmers face rising production expenses. On the other hand, floods and extreme rainfall events can destroy livestock assets, fodder resources, and farm infrastructure, causing substantial economic losses to farming communities.
Climate change is also contributing to the spread of livestock diseases. Warmer temperatures and changing environmental conditions favor the growth of disease vectors such as ticks and mosquitoes, increasing the risk of outbreaks of Foot-and-Mouth Disease (FMD), Lumpy Skin Disease (LSD), Theileriosis, and other infectious diseases.
To address these challenges, farmers must adopt Climate-Smart Livestock Farming practices. Providing adequate shade, proper ventilation, and continuous access to clean drinking water is essential. Farmers should also preserve fodder through silage and hay making, implement timely vaccination programs, strengthen biosecurity measures, and establish effective disease prevention strategies. Monitoring weather forecasts and preparing contingency plans for extreme weather events are equally important.
The Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan) urges all livestock farmers and stakeholders to recognize the growing risks associated with climate change and take proactive measures to protect their animals and livelihoods. Healthy livestock, prosperous farmers, and a resilient agricultural sector are essential for Pakistan’s sustainable future.
Message
“Climate change is a reality. The actions we take today will determine the future of our livestock, our farms, and our food security. By adopting climate-smart practices and preparing for extreme weather events, we can safeguard our animals, strengthen rural livelihoods, and build a more resilient Pakistan.”
Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan)
Save Farmer, Save Pakistan
@FAO — Food and Agriculture Organization
@FAOLivestock@IFAD
@WBG_Agriculture
@WorldBank@ADB_HQ@UNDP@UNEP@UNFCCC@CGIAR@ILRI@IFC_org@IPCC_CH@WMO@COP30Brasil@ClimateReality@ClimateGroup@ClimateChangePK@PakPMO@Financegovpk
@NationalFoodPK
@pid_gov@GovtofPakistan@USEmbIslamabad@ukinpakistan@GermanyinPAK@NorwayinPak@DutchMFA@CanHCPakistan
@SwissEmbPak
@EUinPakistan
@ICARDA@CIMMYT@WorldFishCenter
@OneCGIAR
@FAO@FAOLivestock@IFAD@WorldBank@ADB_HQ@UNDP@UNEP@UNFCCC@ILRI@ClimateChangePK @NationalFoodPK
Climate Change and the Livestock Sector
An Awareness Message for Farmers and Livestock Producers
Climate change has become one of the greatest challenges facing the world today. Pakistan is among the countries most vulnerable to its impacts. Rising temperatures, extreme heat waves, unpredictable rainfall, floods, droughts, and increasing weather intensity are posing serious threats not only to human lives but also to agriculture and the livestock sector.
A significant portion of Pakistan’s rural economy depends on livestock farming. Millions of families earn their livelihoods through milk production, meat production, and livestock trading. However, climate change is increasingly affecting animal health, productivity, and the income of livestock farmers.
Heat stress has emerged as one of the most serious challenges for livestock. When temperatures exceed the animals’ comfort zone, feed intake declines, water consumption increases, and milk production drops significantly. Prolonged exposure to extreme heat can lead to reproductive disorders, reduced fertility, weakened immunity, and in severe cases, heat stroke and death.
Water scarcity and prolonged droughts further aggravate the situation by reducing fodder availability and increasing feed costs. As a result, both milk and meat production decline while farmers face rising production expenses. On the other hand, floods and extreme rainfall events can destroy livestock assets, fodder resources, and farm infrastructure, causing substantial economic losses to farming communities.
Climate change is also contributing to the spread of livestock diseases. Warmer temperatures and changing environmental conditions favor the growth of disease vectors such as ticks and mosquitoes, increasing the risk of outbreaks of Foot-and-Mouth Disease (FMD), Lumpy Skin Disease (LSD), Theileriosis, and other infectious diseases.
To address these challenges, farmers must adopt Climate-Smart Livestock Farming practices. Providing adequate shade, proper ventilation, and continuous access to clean drinking water is essential. Farmers should also preserve fodder through silage and hay making, implement timely vaccination programs, strengthen biosecurity measures, and establish effective disease prevention strategies. Monitoring weather forecasts and preparing contingency plans for extreme weather events are equally important.
The Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan) urges all livestock farmers and stakeholders to recognize the growing risks associated with climate change and take proactive measures to protect their animals and livelihoods. Healthy livestock, prosperous farmers, and a resilient agricultural sector are essential for Pakistan’s sustainable future.
Message
“Climate change is a reality. The actions we take today will determine the future of our livestock, our farms, and our food security. By adopting climate-smart practices and preparing for extreme weather events, we can safeguard our animals, strengthen rural livelihoods, and build a more resilient Pakistan.”
Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan)
Save Farmer, Save Pakistan
@FAO@FAOLivestock@IFADAsia
@WBG_Agriculture
@WBG_ClimateEnv@ADB_HQ@UNDP@UNEP@UNFCCC@CGIARclimate@ILRI@IFC_org@IPCC_CH@WMO@Cop30noBrasil@ClimateReality@ClimateGroup@ClimateChangePK@PakPMO@Financegovpk@MoNFSR@PID_Gov@GovtofPakistan@usembislamabad@ukinpakistan@GermanyinKHI@NorwayinPak@Dutch_MFA@CanHCPakistan@CanHCakistan@SwissAmbPak@EUPakistan@ICARDA@CIMMYT@WorldFishCenter@agri_department@FAOLivestock@IFADAsia@WBG_ClimateEnv@ADB_HQ@UNDP@UNEP@UNFCCC@ILRI@ClimateChangePK@nationalfoody
موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی گرمی اور لائیواسٹاک سیکٹر
کسان، مویشی اور غذائی تحفظ کے لیے ایک قومی چیلنج
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، طویل ہیٹ ویوز، پانی کی قلت، خشک سالی، غیر متوقع بارشیں اور شدید موسمی واقعات نہ صرف انسانی صحت بلکہ لائیواسٹاک سیکٹر کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
لائیواسٹاک پاکستان کی زرعی معیشت کا سب سے بڑا ذیلی شعبہ ہے جو لاکھوں کسان خاندانوں کی آمدنی، قومی غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کی بنیاد ہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی گرمی اور موسمی شدت مویشیوں کی صحت، دودھ اور گوشت کی پیداوار اور فارمرز کی معاشی پائیداری کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
شدید گرمی کے دوران جانور ہیٹ اسٹریس (Heat Stress) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب ماحول کا درجہ حرارت اور نمی جانور کی جسمانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے تو اس کا جسم اضافی حرارت خارج کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً جانور کم خوراک کھاتا ہے، زیادہ پانی پیتا ہے، دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، افزائش نسل متاثر ہوتی ہے اور بیماریوں کے خلاف قدرتی مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹریس کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں 10 سے 30 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے جبکہ شدید صورت حال میں جانور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو کر ہلاک بھی ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف کسان کے لیے مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ ملک میں دودھ اور گوشت کی دستیابی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث لائیواسٹاک سیکٹر کو درپیش اہم خطرات
• شدید گرمی اور ہیٹ ویو میں اضافہ
• پانی کی دستیابی میں کمی
• سبز چارے کی پیداوار میں کمی
• خوراک اور پیداواری لاگت میں اضافہ
• چیچڑ، مچھر اور بیماری پھیلانے والے حشرات میں اضافہ
• ایف ایم ڈی، لمپی اسکن، تھیلیریا اور دیگر بیماریوں کے خطرات میں اضافہ
• سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات سے مویشیوں کا نقصان
• کسانوں کی آمدنی اور دیہی معیشت پر منفی اثرات
کسانوں کے لیے فوری اقدامات
✔ مویشیوں کے لیے سایہ دار اور ہوادار شیڈز کا انتظام کریں۔
✔ ہر وقت صاف، تازہ اور ٹھنڈا پانی فراہم کریں۔
✔ شدید گرمی کے دوران پنکھوں، فوگرز اور پانی کے چھڑکاؤ کا انتظام کریں۔
✔ خوراک صبح اور شام کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات میں فراہم کریں۔
✔ منرل مکسچر اور الیکٹرولائٹس کا استعمال یقینی بنائیں۔
✔ بروقت ویکسینیشن اور بیماریوں کی روک تھام کے اقدامات اختیار کریں۔
✔ چارے کو سائیلیج اور ہیج کی صورت میں محفوظ کریں تاکہ خشک سالی کے دوران دستیاب رہے۔
حکومت، اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے لیے اپیل
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan) وفاقی و صوبائی حکومتوں، محکمہ لائیواسٹاک، زرعی جامعات، تحقیقی اداروں، میڈیا، نجی شعبے، بین الاقوامی ترقیاتی اداروں اور ڈونر ایجنسیوں سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی اور ہیٹ اسٹریس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر قومی سطح پر آگاہی اور تربیتی مہمات شروع کریں
کسانوں کو جدید Climate-Smart Livestock Farming کی تربیت، موسمی معلومات تک رسائی، بہتر شیڈ ڈیزائن، پانی کے مؤثر استعمال، چارہ تحفظ، بیماریوں کی روک تھام اور ایمرجنسی رسپانس کے حوالے سے عملی معاونت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے
اگر آج ہم اپنے کسانوں اور مویشیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے سرمایہ کاری نہیں کریں گے تو کل غذائی تحفظ، دیہی معیشت اور قومی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں
ہمارا پیغام
موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا نہیں بلکہ آج کا مسئلہ ہے
محفوظ مویشی، خوشحال کسان اور مضبوط پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، میڈیا اور بین الاقوامی شراکت دار مل کر کسانوں کی آگاہی، تربیت اور استعداد کار میں سرمایہ کاری کریں
آج کی تیاری، کل کے نقصان سے بچاؤ ہے۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان (DCFA Pakistan)
Save Farmer, Save Pakistan
محفوظ مویشی • مضبوط کسان • مستحکم پاکستان
@FAO — Food and Agriculture Organization
@FAOLivestock@IFAD
@WBG_Agriculture
@WorldBank@ADB_HQ@UNDP@UNEP@UNFCCC@CGIAR@ILRI@IFC_org@IPCC_CH@WMO@COP30Brasil@ClimateReality@ClimateGroup@ClimateChangePK@PakPMO@Financegovpk
@NationalFoodPK
@pid_gov@GovtofPakistan@USEmbIslamabad@ukinpakistan@GermanyinPAK@NorwayinPak@DutchMFA@CanHCPakistan
@SwissEmbPak
@EUinPakistan
@ICARDA@CIMMYT@WorldFishCenter
@OneCGIAR
@FAO@FAOLivestock@IFAD@WorldBank@ADB_HQ@UNDP@UNEP@UNFCCC@ILRI@ClimateChangePK @NationalFoodPK