اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟؟؟؟
خیبرپختونخواحکومت اور بیوروکریسی آمنے سامنے
کیا بیوروکریسی کو لگام دینے کیلئے خیبرپختونخواحکومت نے ان کے خلاف منظم مہم شروع کر دی ؟؟؟؟؟
وزیر سہیل آفریدی نے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کو بریگیڈئر کیوں کہا تھا؟؟؟؟؟؟؟
اطلاعات یہ ہیں کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت حکومت یعنی وزرا اور ارکان اسمبلی نے بیوروکریسی کے خلاف شکایتیں لگانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے
یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ارکان اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ بیوروکریسی کو لگام دینے کیلئے انہیں نشانے پر رکھا جائے کبھی کابینہ اجلاس میں، کبھی علیحدہ ملاقاتوں میں، کبھی اپنے دفاتر میں، کبھی اجلاس میں اور کبھی صوبائی اسمبلی اجلاس میں بیوروکریٹس کی شکایتیں لگائی جائیں
اس مہم جوئی کے تحت دن بدن معاملات بگڑتے جارہے ہیں آج صوبائی اسمبلی میں حکومتی رکن اور سابق وزیر ریلیف نیک محمد خان نے ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کے خلاف تحریک استحقاق پیش کیا اور ان پر الزامات عائد کئے
بنوں سے تعلق رکھنے والے دوسرے حکومتی رکن پختون یار نے ڈپٹی کمشنر بنوں پر الزامات عائد کئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر ارکان اسمبلی یا سیاسی لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں اور ان پر مالی معاملات کے الزامات عائد کرکےتحریک استحقاق لانے کا کہا
چند روز قبل بعض وزرا نے وزیر اعلیٰ سے اپنے اپنے محکموں کے سیکرٹریز کو تبدیل کرنے کا کہاہے
دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے
اگر ڈی آئی جی وقار الدین کو سزا ہو گئی تو یہ پاکستان میں پہلی بار ایسا ہو گا کہ کسی پی ایس پی کو کرپشن پر سزا ملی ہے۔ جس کو انکوائری مارک ہوئی ہے وہ خود بڑا ڈاکو ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وقار الدین کو بچانے کی کوشش
کی جا رہی ہے۔
@NCCIAOFFICIAL@MohsinnaqviC42@TallalPMLN@PakPMO
خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس، آئینی و سیاسی صورتحال پر مشاورت
عمران خان سے ملاقات کا معاملہ پی ٹی آئی کا اندرونی معاملہ ہے، بجٹ کو کسی شخصیت مشروط کرنا مناسب نہیں، بجٹ پیش نہ کرنا عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ
پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں رسہ کشی
سیکرٹری بلدیات اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے کا تبادلوں پر سخت اختلاف
سیکرٹری کی جانب سے کئے گئے تبادلوں پر 10 روز بعد بھی عمل درآمد نہ ہوسکا
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل مذکورہ تبادلے منسوخ کرنے پر بضد جبکہ سیکرٹری بلدیات فیصلہ واپس لینے کو تیار نہیں
صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی پورے معاملے میں خاموش تماشائی
نہ فیصلے پر عمل کرواسکے نہ ہی منسوخ کروا سکے
دونوں افسران کو خوش رکھنے کے چکر میں لب سی دئے
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے میڈیا کو بتایا کہ
پنجاب 700 ارب
سندھ 200 ارب ترقیاتی فنڈ کی کٹوتی کریگا ہم نہیں کرینگے
لیکن
جو دستاویز سامنے آگئی
پنجاب 701 ارب
سندھ 110 ارب
خیبر پختونخوا سے 109 ارب کٹوتی کردی گئی
مزمل اسلم نے دستاویز دیکھی نہیں تھی اور منظور کرکے آگئے یا پھر مزمل اسلم نے عوام کو سچ بتانا مناسب نہیں سمجھا؟
پی ٹی آئی کے ناراض ممبران کے مطابق خیبر پختونخوا میں دو ڈپٹی وزیراعلی ہیں ایک ڈپٹی وزیر اعلی صوبائی وزیر ہے جبکہ دوسرا ڈپٹی وزیر اعلی رکن قومی اسمبلی ہے
ایک ناراض رکن نے ازراہ مذاق یہ تک کہہ دیا کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد کے ذریعے اس دوسرے ڈپٹی وزیر اعلی کو اعزازی رکنیت دینے کی درخواست کی جائیگی
پی ٹی آئی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی کے سینئر ممبر شاہ فرمان کی ہدایت پر کمیٹی بنا دی گئی۔
عوام کو شکایات کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ان کا کردارصرف کرپشن سے متعلق شکایات کو جمع کرنا اور انہیں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی کو آگے بھیجنا ہےتاکہ عمران خان کے سامنے پیش کی جاسکے۔
خیبر پختونخوا میں تاریخ رقم ہوگئی
سرکاری خرچ پر 30 طالبات نے ایشین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی تھائی لینڈ سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرلی
طالبات کا انتخاب پشاور ایبٹ آباد کوہاٹ اور سوات سمیت متعدد شہروں سے کیا گیا تھا
اگست 2024 میں شروع ہونیوالا 22 ماہ کا سفر مئی 2026 کی گریجویشن تقریب میں مکمل ہوگیا
طالبات نے مصنوعی ذہانت، کلائمیٹ چینج اور انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں
سکالرشپ کے دوران سفری اخراجات، ٹیوشن فیس، ریسرچ اخراجات سمیت ماہانہ وظیفہ خیبر پختونخوا حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے برداشت کئے
طالبات اب واپس آکر خیبر پختونخوا میں خدمات انجام دیں گی
Fascinating- official confirmation on how Imran Khan was ousted, how the U.S. and Pakistan army were in cahoots and why it explains the new coziness between Asim Munir and the Trump administration
@SohailAfridiISF
سی سی پی او پشاور بار بار اپنی آئینی، انتظامی اور پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کر رہا ہے، جو نہ صرف ایک سرکاری افسر کے منصب کے شایانِ شان نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور منتخب عوامی نمائندوں کے احترام کے بھی منافی ہے۔
محترم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے گزارش ہے کہ اب جبکہ کابینہ مکمل ہو چکی ہے، اس افسر کو سرکاری امور، آئینی حدود اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے۔
اسے بتایا جائے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی استعدادِ کار میں اضافے، جدید سہولیات کی فراہمی اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر جنگ کے لیے 35 ارب روپے سے زائد فنڈز پاکستان تحریک انصاف کی منتخب حکومت اور عوامی نمائندوں نے فراہم کیے ہیں۔
کھلی کچہریوں اور عوامی اجتماعات میں منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی انداز میں نعرے لگانا، طنزیہ گفتگو کرنا اور غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا کسی پروفیشنل پولیس افسر کا نہیں بلکہ ایک سیاسی مسخرے کا طرزِ عمل معلوم ہوتا ہے۔
یہی افسر اس سے قبل سیف سٹی پراجیکٹ کو اپنا اور اپنے آئی جی کا “ویژن” قرار دے کر خیبرپختونخوا حکومت کو ڈس کریڈٹ کرنے کی ناکام کوشش بھی کر چکا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پشاور کے ایم پی ایز اور ایم این ایز اس منصوبے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور اس پر ابتدائی پیش رفت بھی ہو چکی ہے۔
بدقسمتی سے مذکورہ افسر کی جانب سے مسلسل ڈرامہ بازی، میڈیا اسٹنٹس اور سستی شہرت حاصل کرنے کی کوششیں صوبائی حکومت، منتخب نمائندوں اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف ایک منظم رویے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رکھتی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سے لے کر ایک سپاہی تک ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس اپنی بہادری، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث پورے ملک میں عزت و وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
مگر افسوس کہ چند غیر سنجیدہ اور نا سمجھ افسران نے خصوصاً 9 مئی کے بعد اس عظیم ادارے کے وقار اور امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماورائے آئین اقدامات، سیاسی انجینئرنگ اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی جیسے اقدامات کو معمول بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پشاور کے ایک شہری اور ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ایسے حساس عہدوں پر سنجیدہ، پروفیشنل اور آئینی حدود کا احترام کرنے والے افسران تعینات کیے جائیں، نہ کہ ایسے افراد جو سستی شہرت اور سیاسی خوشنودی کے لیے ہر حد عبور کرنے کو تیار ہوں۔
https://t.co/Dcl8tDVUsu
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی @SohailAfridiISF کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کابینہ میں نئے مشیر اور معاونین خصوصی کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے.
خیبرپختونخوا کابینہ میں شامل ہونے والے نئے مشیران:
1. پیر مصور خان غازی
2. لیاقت علی خان
3. ہمایوں خان
4. میاں محمد عمر کاکاخیل
●معاونین خصوصی
1. طارق سعید
2. محمد عثمان بٹنی
3. طفیل انجم
4.افتخار اللہ جان
5. سمیع اللہ
6. ملک عدیل اقبال
7. محمد خورشید خٹک
8. محمد اسرار صافی
Approved the summary forwarded by the provincial government regarding the expansion of the Khyber Pakhtunkhwa cabinet, including the induction of new ministers, advisors, and special assistants. I extend my best wishes to all those taking office and hope they will work with dedication and responsibility for the progress and welfare of the people of #KhyberPakhtunkhwa.