عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود اگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا کیا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ پرائویٹ لگثری جہاز اور ان حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات ہیں
آج کی تین خبریں پڑھ لیں اور ہمارے ارباب اقتدار کی ترجیحات کا اندازہ خود لگا لیں
1-پاکستان نے ساڑھے 7 فیصد سُود پر 3 ارب ڈالر مہنگا قرضہ لے لیا
2-ایس سی او اجلاس کے لیے ساڑھے 6 ارب روپے کی گاڑیاں خریدنے کی منظوری
3- وفاقی حکومت نے 11 ماہ میں آئی پی پیز کو 29 کھرب 35 ارب روپے ادا کیے
جبکہ ہمارا ٹوٹل دفاعی بجٹ تیس کھرب روپے ہے
پاکستان میں شوگر مافیا کی حکومت ہے صدر وزیراعظم وزیروں سب کی شوگر ملیں ہیں اور یہی شوگر کی پالیسی بناتے ہیں ایک سال کے اندر اندر شوگر مافیا نے اس حکومت کے دوران کیسے چینی کا چکر چلا کر اربوں کمایا یہ شاہزیب خانزادہ کی زبانی سن لیجئے
سوچیں یو ٹیکٹی سٹور خسارے کے بعد بند ہو گیا اس بات کو ڈیڑھ سال بیت چکا ہے مگر اس کے ایم ڈی فیصل نثار چوہدری کو بھی تمغہ امتیاز سے نواز دیا گیا ہے
مطلب ملک اور ادارے ڈبو دینا بھی ایوارڈ کے لئے ایک میرٹ ہے
پاکستان میں اگر فوج طاقتور ہے اور سیاستدان کمزور ترین اس کی ٹھوس وجوہات ہیں آپ دیکھ لیجیے یہ کہنے کو ایک سیاسی دور ہے اس وقت ملک میں یہ بحث چل رہی کہ نظام ڈلیور نہی کر رہا یہ فیل ہے صوبے تقسیم کرو وغیرہ
اور حکمران طبقہ اس قدر ڈھیٹ بے شرم بے پروا ہے کہ عوام کو ایک ٹکے کا رلیف نہی دے رہا کبھی ججوں اور مراعات یافتہ طبقات کی تنخوائیں بڑھا دیتا کبھی اراکین اسمبلی کے بلیو پاسپورٹ بانٹ رہا اور کبھی اپنے چمچوں کڑچھوں کو سرکاری اعزازات دے رہا ہے
جن کاموں میں سیاستدان کا عمل دخل ہے وہاں آپ ان کی کارکردگی اور بے شرمی دونوں چیک کر لیں آپ کو اس ملک کی ناکامی کی وجوہات سمجھ آ جائیں گی
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے بیٹے ڈاکٹر محمد علی ایاز کو ایجوکیشن (میڈیکل) کے شعبہ میں اعلی کارکردگی پر تمغہ امتیاز سے نوازا جائے گا۔ اس گوہرِ نایاب کو آنکھوں کا ڈاکٹر ہونے کے باوجود وزارتِ توانائی نے لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ممبر بھی بنایا تھا تاہم حرص تاحال ختم نہیں ہوئی۔
ایک پولیس افسر جسکی سیکیورٹی پر ڈیوٹی ہونی چاہیے تھی وہ بگھی میں بیٹھ کر آ رہے ہیں اور انہیں مغل اعظم جیسے ٹائٹل دیئے جا رہے تھے، مطلب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے، شہباز رانا
دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے والے ملک کے وزیر خارجہ! بمقابلہ ایک لاکھ ہزار ارب قرض میں ڈوبے ملک کے افسران! مسئلہ کسی ایک تقریب کا نہیں ہے، مسئلہ ہماری حکمران اشرافیہ کا مائنڈ سیٹ ہے۔وہ مائنڈ سیٹ جو عوامی پیسے پر جہاز سے لے کر بگھی تک کا استعمال اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔
یہ واحد وصولی ہے جو ہدف سے زائد انجام دی گئی ہے اور یہ عوام کا گلہ مروڑ کر بنیادی ضرورت کی چیز پٹرولیم مصنوعات پر بھتہ بنا کر وصول کی گئی۔
باقی اہداف کا احوال بتایا جائے۔
ناروے کی فی کس آمدنی اور اُن کا وزیر خارجہ اپنا سامان اسلام آباد ائیر پورٹ پر خُود گھسیٹ رہا ہے
پاکستان کی فی کس آمدنی اور اسلام آباد کے کمشنر اور آئی جی کا کروفر ۔۔۔۔ آج کا ایڈیٹوریل 👇
برطانیہ میں ڈنمارک میں ایسی بگھی پر ہ بادشاہ اور ملکہ تقریبات میں آتے ہیں مقروض پاکستان میں آئی جی اسلام آباد اور چور مین سی ڈی اے بادشاہ بنے گھوم رہے
ابھی لکھ دوں ڈنمارک میں تعلیم مکمل مفت ہر طالبعلم کو ہزار ڈالر وظیفہ ملتا تو مجھے آبادی بتانے لگیں گے
راشد لنگڑیال چیئرمین ایف بی آر جو اس سال بھی ٹیکس کے ہدف دو دفعہ بدلنے کے باوجود حاصل کرنے میں ناکام رہا جس نے 201 یونٹ پر چھ مہینے مہنگا ترین بل بھیجنے کا فارمولا دے کر کروڑوں لوگوں کی زندگی اجیرن کی اسے بھی اعلی ترین سول ایوارڈ دیا ہے
عوام نے مہنگے بلوں سے تنگ آ کر سولر لگا لیے اب نجی بجلی گھروں کے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے مزید بجلی مہنگی کر کے34 ارب نکالا جائے گا
شہباز شریف کی حکومت قوم کے اعمال پر اللہ کی سزا ہے
آئی پی پیپز نے سات ہزار ارب پانچ سال میں بغیر بجلی پیدا کی وہ نجی بجلی گھروں نے حکومت سے مزید پیسے مانگے جس کی وجہ سے دو روپے یونٹ بجلی مزید مہنگی ہو رہی ہے
جس طرح یہ ایوارڈ بانٹتے ویسے ہی امور مملکت چلاتے اس لیے عوام کا خسارہ ہی خسارہ ہے