Hero British Pakistani heart surgeon Arif Hassan wins lifetime achievement award. He performed more than 4,000 open-heart surgeries across the UK and saved thousands of lives.
Now 70 years old, Mr Hasan has just retired after 35 years of service at the Freeman Hospital in Newcastle upon Tyne, but just after receiving his Lifetime Achievement Award. Video by @DailyMirror
برین ڈرین؟ نہیں ہے
یہ برین گین ہے
یہ فکری زوال کی علامت ہے کہ ہمارے خود ساختہ دانشور اور لکھاڑی آج بھی "برین ڈرین" کی بات کرتے ہیں۔ جو بھی پاکستان چھوڑتا ہے، وہ نقصان نہیں، فائدہ ہے، کیونکہ وہ باہر جاتا ہے، سیکھتا ہے، اور
واپس آ کر خدمت کرتا ہے۔
آصف حسن اس کی ایک مثال ہیں۔ ان کی کہانی پڑھیے۔ وہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں تھے جب میں این ای ڈی سے سڑک پار کر کے وہاں جایا کرتا تھا، اور ہم میں سے بہت سوں کی طرح وہ بھی باہر چلے گئے۔ اسے برین ڈرین کہا جاتا ہے۔ مگر دیکھیے انہوں نے باہر کیا حاصل کیا، اور آغا خان یونیورسٹی میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر وطن کو کیا لوٹا رہے ہیں۔
وہ اکیلے نہیں۔ پروفیسر ادیب رضوی نے باہر تربیت پائی اور وطن آ کر ایس آئی یو ٹی بنایا۔ لاہور کا پی کے ایل آئی دیکھیے، گمبٹ دیکھیے، ہمارے امراضِ قلب کے مراکز دیکھیے۔ یہ سب ان ڈاکٹروں نے بنائے جو باہر گئے، تربیت پائی، واپس آئے، اور فضیلت کے ادارے قائم کیے۔ گردے اور جگر کی بیماری کبھی غریب پاکستانی کے لیے موت کا پیغام تھی۔ آج اس کا علاج وطن میں ہوتا ہے۔
یہ برین گین ہے، برین ڈرین نہیں۔
ہر بات کو سیاست مت بنائیے۔ زندگی کی بنیادی باتیں سیکھیے۔ اور جب کسی بات کا علم نہ ہو، تو بہک مت جائیے۔
دھڑکنوں میں ناپی گئی زندگی
تقریباً نصف صدی بعد، میں اسی نوجوان کو 2026 کے پرائیڈ آف برٹن لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازے جاتے دیکھ رہا ہوں
جو انسانیت کی غیر معمولی خدمت کے لیے برطانیہ کے سب سے دل کو چھو لینے والے عوامی اعزازات میں سے ایک ہے۔
اور جب میں آصف کی کامیابیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ان کی خدمات کی وسعت مجھے حیران کر دیتی ہے۔
چار ہزار سے زیادہ اوپن ہارٹ آپریشن۔ تقریباً تین ہزار بطور مرکزی سرجن۔ اپنے کیریئر میں لگ بھگ چار سو ہارٹ ٹرانسپلانٹ۔ تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ برطانیہ کے سب سے زیادہ بیمار بچوں کے لیے وقف۔
یہ غیر معمولی اعداد ہیں۔ مگر ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہے۔ ایک سہما ہوا بچہ۔ ایک بے قرار ماں۔ آپریشن تھیٹر کے باہر انتظار کرتا ایک باپ۔ ایک خاندان جو ایک اور کل کے لیے دعا کر رہا ہے۔
آصف نے 1979 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے گریجویشن کی۔ پھر وہ برطانیہ گئے، 1984 میں رائل کالج آف سرجنز ایڈنبرا کی فیلوشپ حاصل کی، اور 1994 میں کارڈیوتھوراسک سرجری میں مزید اسپیشلسٹ قابلیت حاصل کی۔
انہوں نے جنرل سرجری، پیدائشی دل کی بیماریوں کی سرجری اور دل و پھیپھڑوں کی پیوندکاری میں تربیت لی، 1991 میں نیوکاسل کے فری مین ہسپتال سے وابستہ ہوئے اور 1995 میں کنسلٹنٹ کارڈیوتھوراسک سرجن بنے۔
اگلی دہائیوں میں وہ بچوں اور پیدائشی دل کے امراض کی سرجری میں ایک نمایاں شخصیت بن گئے۔ آخرکار وہ بچوں کی کارڈیک سرجری کے سربراہ بنے اور ہسپتال کے بچوں کے ٹرانسپلانٹ پروگرام کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں، اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر، نیوکاسل پیچیدہ پیدائشی دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج اور پیوندکاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر پہچانا جانے لگا۔
جہاں طب کے جواب ختم ہو چکے تھے
ان کے کیریئر کو غیر معمولی بنانے والی چیز صرف آپریشنوں کی تعداد نہیں۔ اصل بات وہ بچے ہیں جن کے لیے روایتی طب کے پاس بظاہر کوئی جواب باقی نہیں رہا تھا۔
آصف اور ان کی ٹیم نے انتہائی پیچیدہ کیس اپنے ہاتھ میں لیے، جن میں وہ بچے بھی شامل تھے جنہیں دوسری جگہوں پر سرجری کے لیے بہت زیادہ خطرناک سمجھا گیا۔
انہوں نے نیوکاسل کے "برج ٹو ٹرانسپلانٹ" پروگرام کی قیادت میں حصہ لیا، جس میں برلن ہارٹ استعمال ہوتا ہے — ایک مشینی پمپ جو شدید بیمار بچے کے خون کی گردش کو اس وقت تک جاری رکھتا ہے جب تک کوئی موزوں عطیہ شدہ دل دستیاب نہ ہو جائے۔
ذرا اس کی اہمیت کا تصور کیجیے۔ ایک بچہ جس کا اپنا دل زندگی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اسے قیمتی وقت مل جاتا ہے۔ عطیہ کیے گئے دل کے آنے کا وقت۔ ایک نئے امکان کا وقت۔
آصف نے "بوٹ لیس کلوژر" نامی ایک تکنیک بھی متعارف کرائی — پیچیدہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے بعد سینے کی ہڈی بند کرنے کا ایک طریقہ، خاص طور پر جب عطیہ شدہ دل بچے کے سینے کے لحاظ سے بڑا ہو۔
یہ طب اپنی انتہائی مشکل صورت میں ہے: جسم کی ساخت کی گہری سمجھ، سرجری میں جدت، غیر معمولی فیصلہ سازی، اور وہاں آپریشن کرنے کا حوصلہ جہاں غلطی کی گنجائش تکلیف دہ حد تک کم ہو۔ وہ لیورپول کے ایلڈر ہے چلڈرنز ہسپتال میں اعزازی کنسلٹنٹ کارڈیک سرجن رہے اور نیوکاسل یونیورسٹی میں اعزازی تعلیمی عہدے پر فائز رہے۔ وہ آغا خان یونیورسٹی سے کارڈیوتھوراسک سرجری میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ رہے ہیں۔
اور ان کی خدمات صرف برطانیہ تک محدود نہیں تھیں۔
https://t.co/1EVHEw4w4L
چار ہزار بچوں کی ہارٹ سرجری کرنے والے پاکستانی نژاد، برطانوی ڈاکٹر آصف کو رٹائرمنٹ پر لائف ٹائم اچیومنٹ اوارڈ دیا گیا۔ پاکستان میں بھی ایسے فرشتہ صفت لوگ موجود ہیں؛ ساتھ ہی یہ خوبصورت و جذباتی تقریب اس بات کا مظہر بھی ہے کہ میسر حالات بھی مسیحا بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نیچے ویڈیو میں موجود یہ وہ شخص ہے جسکی دعا ہر نماز کے بعد ٹی وی پر چلتی تھی اور بچپن سے لیکر ابتک سنتے ارہے ہیں ۔۔
اج اس کو دیکھ بھی لیں ۔۔رب تعالی نے کتنی خوبصورت اواز دی ہے ۔۔
سنیے اس خوبصورت انسان کی کہانی کون ہےاور کیا کرتے ہیں ۔۔
سارے بے ضمیر اس ملک دشمن چور کو کیسے گلے لگا رہے ہیں اٹینشن کھڑے ٹیسی میں مصروف نمبر ون ،صرف ایک غیرتمند شان بیٹھا رہا اس چور نے ہی اس سے سلام کیا تو اسنے جواب دیا ، شان کے چہرے پر اس ملک دشمن کیلیے ناپسندیدگی صاف دیکھی جا سکتی ہے 😍🔥🔥🔥👏🏻👏🏻👏🏻
#FreeImranKhanNow
#نکلو_پشاور_کی_طرف
🚨بڑی پیشگوئی جو حقیقت ثابت ہی ہوئی
بڑ ے ظرف والے لوگ تھے
خود تو چلا گیا لیکن الفاظ بہت زبردست چھوڑ گیا
اس ویڈیو کو پروموٹ کریں طارق عزیزکی پاکستانیوں کی نظر میں بہت عزت ہے
طارق کی بات کا مان رکھا ہے عمران خان نے
طارق عزیز 🤲👍🌹
شہباز شریف کی منافقت ملاحظہ ہو۔ 👇
جب اقتدار سے باہر تھے تو عوام کو لانگ مارچ کی فضیلت بیان کرتے تھے۔
اور آج فارم 47 پر زبردستی اقتدار پر مسلط ہو کر عوام کو احتجاج سے روک رہے ہیں۔
The hypocrisy is unbelievably ridiculous
انڈین لیجنڈز اباؤٹ خان صاحب۔
سلمان خان
* سوال: آپ کیا سوچتے ہیں لوگ آپ کی فلم دیکھنے آئیں گے یا عمران خان کے ساتھ ڈنر کرنے جائیں گے؟
* جواب: میں خود بھی عمران خان کے ساتھ ڈنر کرنے جانا چاہوں گا۔
* عامر خان
* میں نے دو بلے استعمال کیے تھے لگان میں، تو ایک میں نے ڈونیٹ کیا۔ عمران خان جی نے مجھے بلایا تھا پاکستان۔ کینسر ہسپتال ہے ان کا جہاں وہ مفت ٹریٹمنٹ دیتے ہیں وہاں کے لوگوں کو۔ میری دعائیں ہیں کہ آپ کامیاب ہوں اس میں، اور جو نیت آپ لے کے چلے ہیں اس میں آپ کامیاب ہوں۔ میرا دل یہ کہتا ہے کہ آپ کامیاب ہوں گے۔
* سنیل دت (سنجے دت کے والد)
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر، لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ یہ ہسپتال ایک دوسرا تاج محل ہوگا، یہ تاج محل ایک بیٹا اپنی ماں کی محبت میں بنائے گا اور اپنے ملک کی محبت میں بنائے گا۔
* مرحوم یوسف خان (دلیپ کمار)
* خوش نصیب تھی وہ ماں جس کی کوکھ سے ایسا بچہ اس قدر حسین اور اس قدر شجاعت والا بچہ پیدا ہوا، جس کے اتنے بلند ارادے ہیں۔ خوش نصیب ہیں آپ سب پاکستان کے رہنے والے کہ ان کے اندر ایک اس قدر شجاعت والا ہمت والا ایک شخص ہے۔
* شاہ رخ خان
* سوال: آپ پاکستان میں کسی کے فین ہیں؟
* جواب: عمران خان صاحب مجھے بہت پسند تھے۔ ہم دلی آئے تھے تو ہم سے ملاقات بھی ہوئی تھی، اور مجھے ڈانٹا بھی تھا انہوں نے۔
امیتابھ بچن اور انیل کپور کے ان بیانات کا اردو ترجمہ پیش ہے:
* امیتابھ بچن
* : میں جناب عمران خان کے ساتھ یہاں موجود ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ اور میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی ایسی کوشش ہو جہاں آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑے، تو میں یقیناً وہاں موجود ہوں گا۔
* انیل کپور
* : اگر عمران خان انیل مسرت کے ہیرو ہیں، تو وہ میرے بھی ہیرو ہیں۔ وہ میرے رول ماڈل ہیں۔ اور جیسا کہ دلیپ (صاحب) نے کہا، وہ کئی سالوں سے میرے لیے بھی ایک ترغیب (انسپریشن) رہے ہیں۔ اور مجھے صرف ایک افسوس ہے، میرا افسوس، جو مجھے ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ میں کبھی بھی پاکستان اس ہسپتال میں نہیں آ سکا۔ اور مجھے یہ اب بھی یاد ہے، اور میں ادھرعمران خان کے ہسپتال جانے کا منتظر ہوں۔*
اگر آپ کی گردن اور کندھے اکثر اکڑے رہتے ہیں یا کھنچاؤ اور درد کی شکایت رہتی ہے تو یہ آسان طریقہ ایک بار ضرور دیکھیں۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس طریقے کو کرنے کے چند ہی سیکنڈز میں گردن اور کندھوں کا کھنچاؤ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔
اتنا آسان طریقہ ہونے کے باوجود بہت سے لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا۔
اگر آپ بھی گردن یا کندھے کے درد سے پریشان رہتے ہیں تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیں، شاید یہ طریقہ آپ کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔
”مریم نواز کو چھڑی پانی میں نظر آ گئی ہے، انہیں پتا ہے کہ سیاسی مستقبل کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حالیہ تقریر میں بوکھلاہٹ کا شکار دکھائی دیں اور اپنے مستقبل کیلئے گارنٹی مانگ رہی تھیں۔ کارکردگی ایسی گنوائی کہ سڑکوں کی غلط پیمائش اور لاگت پر لوگوں کے سر چکرا گئے۔ اپنے مہنگے ترین جہاز کی قیمت بڑھا کر اب 11 ارب کر دی، خریداری پر ایسی منطق دی کہ کیا کہنے۔ جس وقت وہ ماحولیات پر ایوارڈ لینے کی بات کر رہی تھیں اس وقت لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر تھا۔“ پارس جہانزیب
@Parasjahanzaib1
اللہ کا شکر ہے کہ بغیر سرجری کے آپ کینسر فری ہوگئے!
ویسے سرجری کے دوران کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟
اگر میڈم نے کبھی اقوامِ متحدہ میں خطاب کیا تو انکل کا ریکارڈ توڑ دے گی ۔۔۔ 😂😂
ایک خاتون نے یہ سوال اٹھایا کہ لوگ کہتے ہیں عمران خان جیل میں دیسی مرغیاں کھا رہے ہیں۔
تابش ہاشمی نے اس پر زوردار جواب دیا کہ وہ جوبھی کھا رہے ہوں، کم از کم ملک نہیں کھا رہے۔
🔥
اسی لئے تو تابش کا پروگرام بند کروا دیا گیا