یہ ہیں زمین پر سوئے ہوئے فرشتے۔۔۔جن کی تصویر نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ دیا...
چین میں ایک مریض کے دماغ میں دو رسولیاں تھیں۔ اس کی جان بچانے کا کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔ چھ بڑے آپریشن، 17 ماہر ڈاکٹر اور مسلسل 32 گھنٹے کھڑے رہ کر ایک نازک دماغ کا آپریشن کیا گیا۔
آپ اور ہم دو گھنٹے کھڑے رہیں تو ٹانگیں جواب دینے لگتی ہیں، لیکن ان ڈاکٹروں نے 32 گھنٹے مسلسل محنت کرکے ایک انسان کی سانسیں برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
جب مریض کی جان بچ گئی اور مانیٹر پر دل کی دھڑکن مستحکم ہو گئی تو ڈاکٹروں میں اتنی ہمت بھی باقی نہیں رہی تھی کہ اپنے کمرے تک جا سکیں۔ وہ آپریشن تھیٹر کے فرش پر ہی، اپنے خون آلود کپڑوں میں لیٹ گئے۔ جب ان کی تصویر سامنے آئی تو دنیا نے دیکھا کہ انسانیت کی خدمت کرنے والے یہ لوگ کس قدر تھک چکے تھے۔
طب محض ایک نوکری نہیں، ایک عبادت ہے۔
ہم رات کو اپنے بچوں کے ساتھ سکون سے سوتے ہیں، کیونکہ کہیں کوئی ڈاکٹر ہمارے بچوں جیسے کسی بچے کی ماں کی جان بچانے کے لیے جاگ رہا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں بعض اوقات ڈاکٹر کو مریض کے لواحقین کی طرف سے مارا بھی جاتا ہے اور گالیاں بھی دی جاتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس نے فیس لی ہے تو کون سا احسان کیا؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر اپنی نیند، اپنی جوانی اور اپنے گھر کے سکون کو داؤ پر لگا کر دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس تصویر کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے ضرور سوچیے کہ سفید کوٹ پہننے والے ان لوگوں کی ذمہ داریاں کتنی بھاری ہوتی ہیں۔
اگر وہ 17 ڈاکٹر تھک کر یہ کہہ دیتے کہ ’’بہت ہو گیا، باقی کام کل کریں گے‘‘ تو شاید ایک خاندان کی دنیا اجڑ جاتی۔
ڈاکٹروں کی قدر کیجیے، کیونکہ ان کی محنت کسی کے لیے زندگی کی آخری امید ہوتی ہے۔
یہ خاتون عمرے پر گئی ہوی تھی بہت خوشی سے عمرہ ادا کر رہی تھی چہرے پر اک سکون اک مسکراہٹ جیسے کوی بچہ اپنی پسند کی چیز دیکھ لیتا ہے ۔۔
انکھوں میں اک چمک دوسری خاتون اس کے یہ حالت دیکھ کر اس کے قریب ای ان لمحات کو محفوظ کرنے کیلے کمیرا ان کیا اس سے اردو میں بات کی اس نے کہا مجھے اردو نہی اتی میں سرائیکی ہوں ۔۔
اس نے ٹوٹی پھوٹی سرائیکی مکس پنجابی میں پوچھا اپ اتنی خوش کیوں ہیں ؟
خاتون کہتی ہے تین سال خوب محنت کی بس نیت یہی تھی عمرہ کرنا اللہ سوہنے کا گھر دیکھنا ہے ۔۔
میں بکریاں پالتی ہوں میں خوش ہو مجھ جیسی غریب کو اللہ نے اپنا گھر دیکھایا ۔۔
میں چھوٹے چھوٹے جانور رکھتی تھی انکو فروخت کر کے پیسے جورتی رہی ۔ میرے زہن میں صرف اک خیال تھا بس اللہ کا دیکھنا ہے ۔۔
ہم مزدور لوگ ہیں کھیتی باڑی کرتے ہیں گزارہ مشکل ہوتا ہے مگر میں نے ہمت نہی ہاری میری سب سے بڑی خواہش تھی اللہ اپنا گھر دیکھا دے ۔۔
کہتی ہے اک عورت نے کہا چھتری کیوں نہی پہن رکھی گرمی ہے میں نے کہا مجھے فرق نہی پڑتا اللہ کے گھر میں کیا گرمی کیا سردی ۔۔
یہ سب سن کر دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا ہم استطاعت رکھنے کے باوجود بھی دنیا کی غرقی میں غرق ہیں پھر بھی اللہ کے گھر کی زیارت کیلے نہی جاتے ۔۔
دوسری طرف اک مزدور عورت جو سارا دن روٹی پوری کرنے کیلے کماتی ہے وہ عمرے پر چلی جاتی ہے ۔۔
اس کا مطلب ساری بات نیت کی ہے اردہ کی ہے بات نہ امیری کی غریبی ہے بس بلاوا ا جاے دنیا کی کوی طاقت اپکو روک نہی سکتی ۔۔
اتنی خوبصورت خوشی سکون اطمینان صرف اللہ کے گھر میں نصیب ہوتا ہے ۔۔
نبی کے روضے پر جانے والو ۔۔
میرا بھی انہیں سلام کہنا۔۔۔
ملو تو کنا کب ملو گے ۔۔۔
وقت بس میں تمام کہنا۔۔۔
ان سے کہنا کہ چلتے چلتے ۔۔۔
میں قافلے سے بچھڑ گیا ہوں ۔۔
مجھے بلا لو میں بھی تو دیکھوں ۔۔
کہاں سے رستہ ہے جنتوں کا ۔۔۔
ندامتوں کے چراغ سارے ۔۔
ہمارے اشکوں سے جل رہے ہیں ۔۔
جہاں پہ امت کی بخشیشیں ہیں ۔۔۔
وہاں پہ ہم کو بھی معاف کرنا ۔۔۔
سنا ہے روزے کی جالیوں کو ۔۔۔
جو چومتے ہیں وہ جھومتے ہیں ۔۔۔
ہمیں عطا ہو معراج قربت ۔۔
ہمیں بھی اتا ہے جھوم لینا ۔۔
نبی کے روضے پر جانے والو ۔۔
میرا بھی انہیں سلام کہنا۔۔۔
پمز ہسپتال میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی بھابھی بتیجھے تین عورتوں اور ایک نومولود بچے کی زندگی بچانی والی راولپنڈی کی پندرہ سالہ منیبہ جب سب لوگ عملے سمیت بھاگ رہے تھے تب منیبہ نے اندر جاکر اپنی بھابھی بتیجھے اور تین عورتیں اور آخری لمحے میں جب سب کچھ ناممکن تھا ہرطرف دھواں تھا نومولود بچے کو اٹھا کر صیح سلامت باہر لے آئی۔
یہ ہے قومی ہیرو تمغہ ہلال امتیاز سے ایسے ہیروز کو نوازنا چاہئیے ناچنے والوں کو نہیں
یہ شخص ناروے میں مقیم ہے اپ تصویر دیکھ کرسوچ رہے ہونگے یہ پاکستانی سے بیرون ملک بھی جاکر کچرا چنتے ہیں ۔ مگر یہ کچرا اکٹھا کرنے کے بعد فخر اور سکون محسوس کرتا ہے ۔۔
اس شخص کا نام زبیر حسین ہے جو اچھی جاب کرتا ہے مگر روزانہ اک سے دو گھنٹے یہ کچرا چنتا ہے گلیوں سے بازاروں سے پھر انہیں کچھ دن بعد فروخت کر دیتا ہے ۔۔
اس سے ساٹھ سے ستر ہزار بن جاتے ہیں وہ یہ رقم پاکستان بھجتا ہے تاکہ کسی غریب کی مدد کی جا سکے ۔۔ زبیر حسین کہتا ہے مجھے دکھ یہ ہوتا ہے جب پاکستانی مجھے گالیاں دیتے ہیں ۔
میری کوی اولاد نہی ہے یہ کام میں لوگوں کی مدد کیلے کرتا ہوں مجھے لوگ جانتے ہیں میرے اس کام سے لوگوں کی مدد ہو جاتی ہے۔
ہمارے اورسیز بھای وہاں مزدوری کرتے ہیں مگر اپنی ویڈیو نہی لگاتے یہ سوچ کر برداری کیا کہے گی ہوٹل پر ویٹر ہے پٹرول پمپ پر مزدوری کرتے ہیں ۔
ایسے میں زبیر حسین جیسا شخص کچرے کے ساتھ اپنی ویڈیو بناتا ہے فخر سے کہتا ہے اک دو گھنٹے میری واک سے اگر کسی غریب کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو میرے لیے یہ سکون ہے ۔
اس کی بیگم گوری ہے جو ہماری بیویوں کی طرح منع کرنے کی بجاے اسے مزید حوصلہ دیتی ہے اس کا ساتھ دیتی ہے ۔۔ یہی اصل نیکی ہے ۔۔
سوچیں زرا ۔۔
جس رقم سے وہ اپنی زندگی میں آسائشیں خرید سکتے تھے وہی رقم کسی غریب کے گھر کا راشن بن جاتی ہے، کسی یتیم بچے کی ضرورت پوری کر دیتی ہے کسی بیوہ کے گھر کا چولہا جلا دیتی ہے اور کسی مجبور انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتی ہے۔
یہی تو اصل نیکی ہے… جو دکھاوے کے لیے نہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کی جائے۔
جہاں ہمارے پاکستانی دوسرے ملک میں بھیک مانگ کر ملک و قوم کا امیج تباہ کر رہے ہیں وہاں زبیر حسین جیسے لوگ دیار غیر میں بیٹھ کر اپنے پاکستانی مجبور بھایوں کیلے گلی اور سڑکوں سے کچرا اکٹھا کرکے مجبوروں یتیموں بے سہارا لوگوں کی دعائیں لے رہے ہیں ۔
نماز پڑھتے ہوئے دو سجدوں کے درمیانی وقفہ میں یہ انتہاہی مختصر دعا پڑھنا معمول بنا لیں اور دیکھیں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ کیسے آپ کے رزق کو فراخ کرتے ہیں اللہ اکبر 💚
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جمعہ کی خوبصورت صبح مبارک ✨
حضورﷺ پر درود شریف آپ خود نہیں پڑھتے بلکہ چنے جاتے ہیں آپ کی آواز کا سُنا جانا بھی درِ رسولﷺ کی حاضری کے برابر ہے ۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
آئیے آقا کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں زیادہ سے زیادہ درُود شریف کے خوبصورت پھول پیش کرنے کی کوشش کریں۔ آپ خُود بھی درُود شریف پڑھا کریں اور اپنے گھر والوں کو بھی درُود شریف پڑھنے کی ترغیب دیں۔
ایک بار محبت سے درود پاک پڑھ لیجئے..
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيد🥀
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَابَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَّجِيد✨
نظر کی حفاظت کا اصل راز
ایک نوجوان ایک بزرگ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا:
"حضرت! آپ ہمیشہ بدنگاہی سے بچنے کی تلقین فرماتے ہیں، لیکن میں نوجوان ہوں۔ جب بازار سے گزرتا ہوں تو بے پردہ عورتوں پر نظر پڑ ہی جاتی ہے۔ بہت کوشش کرتا ہوں مگر نگاہوں کی حفاظت نہیں کر پاتا۔ مجھے کوئی ایسا طریقہ بتائیں جس سے میں اپنی نظریں قابو میں رکھ سکوں۔"
بزرگ مسکرائے اور فرمایا:
"میں تمہیں اس کا راز بتاؤں گا، لیکن پہلے میرا ایک کام کرو۔"
انہوں نے دودھ سے بھرا ایک پیالہ نوجوان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا:
"اس پیالے کو بازار کے دوسرے سرے پر رہنے والے ایک بزرگ کے پاس پہنچا دو، مگر شرط یہ ہے کہ دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ گرے۔"
پھر ایک مضبوط آدمی کو ساتھ کرتے ہوئے فرمایا:
"اگر دودھ کا ایک قطرہ بھی گرا تو یہ تمہیں وہیں بازار میں دو جوتے لگائے گا۔"
نوجوان نے شرط قبول کر لی اور پوری توجہ کے ساتھ بازار سے گزرتا ہوا پیالہ صحیح سلامت منزل تک پہنچا آیا۔ واپس آ کر خوشی سے بولا:
"حضرت! میں نے دودھ بغیر گرائے پہنچا دیا۔"
بزرگ نے پوچھا:
"اچھا یہ بتاؤ، راستے میں کتنے لوگوں کو دیکھا؟"
نوجوان نے فوراً جواب دیا:
"حضرت! ایک بھی نہیں۔"
بزرگ نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے فرمایا:
"کیوں؟ بازار تو لوگوں سے بھرا ہوا تھا!"
نوجوان بولا:
"میرا سارا دھیان پیالے پر تھا۔ مجھے ہر وقت یہ فکر تھی کہ اگر دودھ گر گیا تو مجھے سب کے سامنے رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے میری توجہ کسی اور طرف گئی ہی نہیں۔"
بزرگ نے فرمایا:
"بیٹا! اللہ والوں کا حال بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ان کی نگاہ ہر وقت اپنے دل کے پیالے پر ہوتی ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر گناہوں کی وجہ سے یہ پیالہ چھلک گیا تو اللہ کے سامنے جواب دہی کرنی ہوگی۔ جب انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور قیامت کے دن کی رسوائی کا احساس زندہ ہو جائے تو اس کی نگاہیں خود بخود جھک جاتی ہیں اور وہ بدنگاہی سے محفوظ رہتا ہے۔"
سبق:
جس طرح اس نوجوان کی پوری توجہ دودھ کے پیالے پر تھی، اسی طرح اگر ہماری توجہ اللہ کی رضا، آخرت کی کامیابی اور اپنے اعمال کی حفاظت پر ہو تو گناہوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ دل میں اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہو تو نظریں بھی محفوظ رہتی ہیں اور کردار بھی۔
اطلاع عام و اہم معلومات
آپ سبکی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ایشیا کا بڑا کینسر ہسپتال جسکا نام
Cancer care hospital
کینسر کئیرھاسپیٹل ہے
لاھور کے نزدیک رائیونڈ تبلیغی جماعت کے مرکز کے قریب وسیع رقبہ پر تعمیر کیا گیا ہے
یہ شوکت خانم ہسپتال سے بھی زیادہ جدید مشینری سے آراستہ ہے
اس ہسپتال نےکام شروع کر دیاھے ہسپتال میں دور دراز سے آئےلوگوں
کیلئےقیام گاہ بھی تعمیر کی گئی ہے یہاں پر غریب لوگوں کا علاج قیام وطعام بالکل مفت ھے
صرف صاحب حیثیت لوگوں سےعلاج کےمناسب پیسے لئےجاتےہیں
یہاں پر افغانستان، خیبر پختون خواہ اور گلگت بلتستان وغیرہ سے مریض
آ رھےہیں
جنکا علاج مفت کیا جا رہاھے ہسپتال میں لاعلاج مریضوں کو گھر بھیج دیا جاتاھے
جہاں وہ بہت تکلیف دہ حالت میں موت کا انتظار کرتےہیں
لیکن یہاں پر الحمد للہ 250 بیڈ کا علیحدہ بلاک قائم کیا گیاھے
جہاں پر لاعلاج مریضوں کو ڈیتھ (موت) تک رکھا جاتاہے اور انکی زندگی میں
تکلیف کو ہر ممکن کم کیا جاتاھے اور خدمت کیجاتی ہے یہ بہت بڑی سہولت ھے
آپ سب سے گزارش ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس ہسپتال کےمتعلق آگاہ کریں تاکہ کینسر زدہ مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں
یہاں پر پاکستان کے نامور اور انتہائی تجربہ کار ڈاکٹر صاحبان کی ٹیم کام کر رہی ہے
ہسپتال میں مریضوں اور انکے لواحقین کیلئےایک عالیشان اور جدید سہولتوں سے آراستہ مسجد بھی تعمیر کی گئی ھے
پاکستان نیک و مخیر حضرات کی وجہ سےقائم ھے اور یہ اللہ تعالی کا خاص کرم ہے
ڈاکٹر شہریار ۔ ماہر کینسر
(ہسپتال کےانچارج ہیں)
نےبتایا کہ کوئی صاحب جنکو وہ بھی نہیں جانتےہیں
روزانہ 250 مریضوں اور ان کے لواحقین کے لئے کھانا بھجوا رہے ہیں ۔ *سبحان اللہ ۔*
اس پوسٹ کو بطور صدقہ جاریہ مذید فارورڈ کرتے جائیں
شکریہ و جزاک اللہ
Hospital Site :
1.5 km off Pajian chowk Ijtama road Bypass (Rohi Nala) Raiwind Lahore, Pakistan.
PHONE No.
0092 423 52 18 956-60
0092 423 53 97 605
محمد منصور معیز صاحب۔
0300-3253403
اس میسج کو کسی Group میں ارسال کریں۔
کسی کی جان بچانے پر اللہ تعالی اپ کو بھی دنیا اور آخرت کی کامیابی عطاء فرمائے .
آمین
منقول