چینی لوگ ابالے ہوئے سنترے کے فوائد کیوں کم بتاتے ہیں؟
ابالا ہوا سنترا + ادرک + چقندر کے چھلکے = گلے کی سوزش ختم، جگر-گردے ڈیٹاکس، جسم کے زہریلے مادّے باہر! ایک گلاس روزانہ پئیں، صحت خود بخود سنور جائے گی
نوٹیفیکیشن نہیں ہوا۔ شہباز شریف چار دن کے لیے لندن پہنچ چکے۔ ٹن، ٹن
خاموشیاں گنگنانے لگیں۔ دھڑکنیں گھنٹیاں بجانے لگیں : ٹن، ٹن
سینٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے، پھیکا پھیکا سا۔ ابھی سینٹ اجلاس سے یہی پتہ چلا متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کو ویزے نہیں دے رہا۔
اگر شہباز شریف نے نوٹیفکیشن کرنا ہوتا تو وہ لندن جاتے؟ ٹن، ٹن
کل نواز شریف نے کہا کہ عمران کو لانے یعنی انہیں نکالنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ کل کہا تھا کہ یہ بھی ایک ٹن ٹن ہے۔ اب بتاتا ہوں۔
یاد کریں جب نواز شریف کے خلاف اقامہ آیا، اس وقت میرے پیارے شاہ جی کس پوسٹ پر تھے ؟
دسمبر 2016 سے اکتوبر 2018 تک میرے سوہنے شاہ جی ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس تھے, نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی تھی 28 جولائی 2017 کو، اقامہ کس نے دریافت کیا تھا ؟
ایک دنیا جانتی ہے کہ نواز شریف کینہ پالتے ہیں : ٹن، ٹن
فیض حمید سے شکایات تھیں، ان کا کورٹ مارشل ہو رہا ہے، اگلا کورٹ مارشل کس کا ہو گا؟ ٹن، ٹن
اس وقت میرے علاوہ شائد ہی کوئی ہو جو اس موضوع پر متواتر لکھ رہا ہو، اس وقت خبریں چل رہی ہیں کہ نوٹیفکیشن لکھا جا چکا۔ لیکن ابھی تک مجھے یہی لگ رہا ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔
فیصلہ کن چوبیس گھنٹے شروع ہو چکے۔ قسمت اچھی ہوئی تو شا��د آج کی رات فرشتے زمین پر اتریں !
خاموشیاں گنگنانے لگیں، دھڑکنیں گھنٹیاں بجانے لگیں : ٹن، ٹن - ٹن، ٹن
پیر سید نصیرالدین نصیرؒ گیلانی کی بہت ہی مشہور غزل
ان کے انداز کرم ، ان پہ وہ آنا دل کا
ہائے وہ وقت ، وہ باتیں ، وہ زمانا دل کا
نہ سنا اس نے توجہ سے افسانہ دل کا
عمر گزری ہے، مگر درد نہ جانا دل کا
کچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دل کا
مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پرانا دل کا
وہ محبت کی شروعات ، وہ بے تحاشہ خوشی
دیکھ کر ان کو وہ پھولے نہ سمانا دل کا
دل لگی، دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے
روگ دشمن کو بھی یارب ! نہ لگانا دل کا
ایک تو میرے مقدر کو بگاڑا اس نے
اور پھر اس پہ غضب ہن�� کے بنانا دل کا
میرے پہلو میں نہیں ، آپ کی مٹھی میں نہیں
بے ٹھکانے ہے بہت دن سے ، ٹھکانا دل کا
وہ بھی اپنے نہ ہوئے ، دل بھی گیا ہاتھوں سے
“ ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا “
خوب ہیں آپ بہت خوب ، مگر یاد رہے
زیب دیتا نہیں ایسوں کو ستانا دل کا
بے جھجک آ کے ملو، ہنس کے ملاؤ آنکھیں
آؤ ہم تم کو سکھاتے ہیں ملانا دل کا
نقش بر آب نہیں ، وہم نہیں ، خواب نہیں
آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مٹانا دل کا
حسرتیں خاک ہوئیں، مٹ گئے ارماں سارے
لٹ گیا کوچہء جاناں میں خزانا دل کا
لے چلا ہے مرے پہلو سے بصد شوق کوئی
اب تو ممکن ہی نہیں لوٹ کے آنا دل کا
ان کی محفل میں نصیر ! ان کے تبسم کی قسم
دیکھتے رہ گئے ہم ، ہاتھ سے جانا دل کا
نیو دہلی کے ڈاکٹر نے گھٹنوں کے جوڑوں کے درد میں مبتلا ہزاروں مریضوں کو ٹھیک کیا ہے آپ یہ کلپ دیکھیں پھر آزمائیں یا ان لوگوں کو تجویز کریں جن کو گھٹنے/کمر میں درد ہے بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کمر اور گھٹنوں کا درد صرف 7 دنوں میں ختم ہو گیا ہے۔
فراق گورکھپوری کی یہ غزل ایک عمیق نفسیاتی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ شاعر ایک ایسے جذباتی کشمکش میں مبتلا ہے جہاں وہ محبت اور نفرت دونوں کے درمیان پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنی محبوبہ سے دوری کا احساس کرتے ہوئے بھی اس کے بغیر رہنے کے قابل نہیں۔ شاعر کی زبان میں ایک بے چینی اور اضطراب کا احساس نمایاں ہے۔ اس کی شاعری میں رومانوی اور صوفیانہ عناصر کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ شاعر نے فطرت اور انسان کے رشتے کو ایک دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کی شاعری میں زبان کی سادگی اور معنی کی گہرائی کا حسین امتزاج ہے۔ فراق گورکھپوری کی شاعری کا سب سے بڑا وصف اس کی سادگی اور روانی ہے۔ انہوں نے عام لوگوں کی زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی شاعری ہر طبقے کے لوگوں کو پسند آتی ہے۔
فراق گورکھپوری
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا
آج ہی خاطر بیمار شکی��ا بھی نہیں
بات یہ ہے کہ سکون دل وحشی کا مقام
کنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں
ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیں
تو نے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں
آہ یہ مجمع احباب یہ بزم خاموش
آج محفل میں فراقؔ سخن آرا بھی نہیں
یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور
یہ بھی سچ ہے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں
یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانۂ عشق
مگر اے دوست کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں
فطرت حسن تو معلوم ہے تجھ کو ہمدم
چارہ ہی کیا ہے بجز صبر سو ہوتا بھی نہیں
منہ سے ہم اپنے برا تو نہیں کہتے کہ فراقؔ
ہے ترا دوست مگر آدمی اچھا بھی نہیں
ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا
جانے والے کو بہت پیار سے رخصت کرنا
وہ جو بھیجے تھے تری مست نگاہوں نے پیام
ایک بار اور ذرا ان کی وضاحت کرنا
سب کے ہاتھوں میں یہ اعجاز مسیحائی کہاں
ایک ہی لمس کا منصب ہے کرامت کرنا
ہے یہ وہ راہ ک ہ جس راہ پہ بس چل پڑئیے
عشق کرنا تو بغیر اذن و اجازت کرنا
اے مرے دل، میں ترے حال سے واقف ہوں مگر
چند سانسوں کا سفر اور ہے، ہمت کرنا
جان دینے میں تآمل نہیں اے عشق، مگر
اتنا دیرینہ تعلق ہے، رعایت کرنا
چلنا پڑتا ہے کسی نقش ِ قدم کے پیچھے
اتنا آسان نہیں پاس ِ رفاقت کرنا
یہی ہونا تھا مرے دل، جو ترے ساتھ ہُوا
کتنا ۔سمجھایا تھا سب سے نہ مروت کرنا
درد اٹھتا بھی رہے، آنکھ سے چھلکے بھی نہیں
سیکھتے سیکھتے آتا ہے شکایت کرنا
دل سے اس دشت جنوں خیز میں کون آتا ہے
��ھر بھی کمزور فصیلیں ہیں، حفاظت کرنا
ہم کو آداب محبت نہیں آتے سیما
ہم کو بس ٹوٹ کے آتا ہے محبت کرنا
سیما نقوی
🚨ابھی: جیسا کہ اندازہ تھا، کراچی کے دور شمال مشرقی حصے میں گرج چمک کا طوفان بن گیا ہے 🌩️ جو اس وقت کمانڈر سٹی، بحریہ ٹائون اور گردو نواح میں موسلا دھار بارش برسا رہا ہے 🌧️😮
پسِ بازار بھی بِک جاتے ہیں بِکنے والے
کتنے سودے سرِ بازار نہیں بھی ہوتے
پارسائی بھی کہیں ڈھونگ ہوا کرتی هے
سرکار کچھ گنہگار، گنہگار نہیں بھی ہوتے۔
،،،،،🖤