اسلام آباد کے فائر فائٹر ادرے کی یہ رپورٹ صاف بتا رہی یہ پمز ہسپتال کا سانحہ ریاستی قتل ہے
1ـ آگ بجانے اور زندگی بچانے والے آلات غیر میعاری اور ناکافی تھے
2 ـ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مکمل بند تھے یا ان کے سامنے رکاوٹیں تھی
3 ـ سیکورٹی عملے نے فائر بریگیڈ کے عملے کے ابتدائی کام میں رکاوٹ ڈالی
4ـ حادثے کی جگہ ہجوم کا مناسب انتظام دیکھنے میں نہیں آیا
اسلام آباد فائر بریگیڈ کی یہ چارج شیٹ حکومت، وزیر ، ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف ہے
دنیا کے کسی ملک مہذب ملک میں یہ سب ہوتا تو اب تک سارے زمہ دار جیل میں ہوتے
ہری پور ہزارہ کی معصوم آیت نور کو لیکر جانے والا لڑکا نوشہرہ کا پشتون ھے اور یہ کباڑ اکٹھا کرنے کا کام کرتا اس نے آیت نور کو لیجا کر زیادتی کرنے والے 3 ملزمان کے حوالے کیا یہ اتنا شاطر ہے کہ ایک ہوٹل کے شیف کو ناجائڑ پھنسا دیا کیونکہ اس نے ایک بار اسکو سالن کم دیا تھا پولیس سے 2 ہزار روپے لیکر اس نے پولیس کو کنویں کا بتایا جہاں بچی کی لاش پھینکی گئی تھی
"مجھے زبردستی آپریشن تھیٹر لے کر گئے، مجھے کہا آپریشن نہ کرایا تو چیک نہ کریں گے، NICU کو تالا کیوں لگایا تھا؟ پتہ نہیں بچوں کو مار دیا یا غائب کر دیا، کسی ڈاکٹر، نرس، اسٹاف کو خروش تک نہیں آئی، 2 دن پہلے میرا سی سیکشن ہوا، جب تک میرا بچہ نہیں دیتے، یہاں سے نہیں اٹھوں گی"
میرے خیال میں پچھلے تین سالوں میں، ہم میں سے بہت سے لوگوں نے جو عمران خان کی resilience، انکی mental strength اور انکی جدوجہد کو جانتے ہیں، کبھی نہ کبھی مذاقا یہ ضرور سوچا ہوگا۔
ہم اپنے circle میں بھی کہا کرتے ہیں کہ اگر کبھی ہم کوئی سرنگ کھود کر اڈیالہ جیل کے اندر تک پہنچ جائیں، کسی طرح عمران خان کے cell تک پہنچیں اور انھیں نکالنے کی کوشش کریں، تو مجھے پورا یقین ہے کہ خان الٹا سلاخوں سے لپٹ جائے گا اور کہے گا:
"میں نے اس طرح نہیں جانا۔ تم لوگ بھی اندر آؤ۔ ادھر بیٹھو۔"
اور شاید ہمیں بھی وہیں بٹھا کر لیکچر دینا شروع کر دے کہ بھائی، جدوجہد اس طرح نہیں کی جاتی!
کیونکہ وہ کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرے گا جس پر انکی 30 سال کی جدوجہد پر کوئی داغ لگے۔ کوئی اسے ڈیل کہے، کوئی NRO کہے، کوئی سمجھوتہ کہے وہ یہ قیمت ادا نہیں کرے گا۔
رات کا دکھ اپنی جگہ ہے۔ تکلیف اپنی جگہ ہے۔ فکر اپنی جگہ ہے۔ لیکن شاید آج ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ خان وہی ہے جسے ہم اپنے دل اور دماغ میں جانتے ہیں۔
ہم سوچ رہے تھے کہ اگر ہم سرنگ کھود کر عمران خان کو نکالنے پہنچے تو شاید وہ سلاخوں کو پکڑ کر ہمیں ہی روک لے گا اور کہے گا:
"تم بھی ادھر آؤ۔ سارے ادھر بیٹھو۔ اور سیکھو کہ اپنے اصولوں پر کھڑے ہو کر جدوجہد کیسے کی جاتی ہے۔"
اور سچ پوچھیں تو شاید یہی چیز انھیں عمران خان بناتی ہے۔
اللہ عمران خان کے لیے، انکے گھر والوں کے لیے، انکی بہنوں اور انکے بچوں کے لیے بہت آسانیاں پیدا کرے۔
ہم شاید کبھی پوری طرح سمجھ ہی نہ سکیں کہ اتنی آزمائشوں کے درمیان اپنے اصولوں پر کھڑے رہنے کے لیے کتنا دل جگرا چاہیے ہوتا ہے اور کتنی غیرت چاہیے ہوتی ہے۔
اللہ انھیں اور ان جیسے ہر انساں کو ثابت قدم رکھے۔
آمین۔
(از @enigmaakh )
💕❤️حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرامؓ *مکہ کی تپتی دھوپ میں طویل پیدل سفر کی وجہ سے شدید تھک گئے۔ انہوں نے اللہ کے رسول سے اس تھکن اور مشقت کی شکایت کی۔آپ نے آرام کرنے یا رکنے کا نہیں کہا، بلکہ ایک حیرت انگیز سائنسی اصول بتا دیا *💕❤️
آپ کو میری بات بری لگے گی۔ لگنی چاہیے۔ جذبات کا تقاضا ہے۔ کسی بھی کم سن بچی سے زیادتی اور اسکے قتل کے ملزم کو یا کسی بھی گھناونے جرم میں گرفتار شخص کو پولیس مقابلے میں پار مت کیجیے۔ اس کا عدالتوں میں ٹرائل کیجیے۔ ڈی این اے ، فنگر پرنٹس ، سیمنز اور وغیرہ وغیرہ کو قانون شہادت کا حصہ بنائیے۔ تفتیش کے نظام میں جدت لائیے۔ کرپشن، رشوت کو ختم کیجیے۔
پھر اس معاشرے کی سوچ کو بدلیے۔ یہاں تعلیم عام کیجیے۔ منشیات کا خاتمہ کیجیے۔ گندی فلموں پر سخت پابندی عائد کیجیے۔ یا علماء کی بات تسلیم کرلیجیے اور شادی و نکاح کو آسان کیجیے، یا پھر لبرل طبقات کی مان لیجیے اور یہاں غیر نصابی تفریحی سہولیات آنے دیجیے انہیں پھلنے پھولنے دیجیے تاکہ معاشرے کی جنسی فرسٹریشن کم ہو۔
نکاح آسان تب ہوگا جب معاشرے میں معاشی استحکام ہوگا۔ اٹھارہ بیس سال کے لڑکے کا نکاح اور کامیاب ازدواجی زندگی تبھی ممکن ہوگی جب اسکے پاس روزگار ہوگا۔ اپنا گھر ہوگا۔ معاشی تحفظ ہوگا۔ تعلیم و علاج کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ پھر کہتے ہیں یہ ہر چیز کو فوج سے نتھی کردیتا ہے۔ فوج اس ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ فوج کا بٹھایا ہویا چوروں کا ٹولہ پاکستان پر دہائیوں سے مسلط ہے۔ اسکو واپس بیرکوں میں واپس بھیجیے۔ اس ملک میں سزا و جزا کا نظام قائم کیجیے۔ کسی جرنیل کی رکھیل نہیں آزاد عدالتوں کا قیام ممکن بنائیے۔ وہ عدالتیں جن پر عوام کا اعتماد ہو۔
اور یہ کیجیے ، بنائیے ، ہوجائیے آسمان سے نہیں اترنے والا۔ ہاتھ پاؤں ہلائیے۔ ورنہ یوں دنیا کا بدترین معاشرہ بن کر رہتے چلے جائیے۔
ایک وقت تھا جب پاکستان چین کو قرضے دیتا تھا۔
پھر نوازشریف سیاست میں آتا ہے اور 1990 میں وزیراعظم بنتا ہے۔
نوازشریف قرض اتارو ملک سنوارو سکیم شروع کرتا ہے۔ بھولی بھالی عوام نے اُس سکیم میں بڑھ چڑھ کر پیسہ دیا۔
نہ قرض اُترا نہ اور نہ ملک سنورا۔
البتہ لندن کے فلیٹ اور جدہ کی سٹیل مل بن گئی اور ملک کے بجائے شریف خاندان کی قسمت سنور گئی۔