پاکستان کا سیاسی نظام ہمیشہ سے فیل تھا، لیکن الزام ہمیشہ ریاستی نظام پر لگتا آیا ہے۔
بات سیدھی ہے، عوام ووٹ دیتی ہے، MPA اور MNA منتخب کرتی ہے، پھر یہی نمائندے آگے ووٹ دے کر وزیراعلیٰ اور وزیراعظم منتخب کرتے ہیں۔
لیکن جس عوام کے ووٹ سے یہ سب بنتے ہیں، کیا کبھی کسی منتخب نمائندے نے کسی قومی یا صوبائی مسئلے پر اپنی عوام سے مشورہ کیا؟
کیا کبھی ایوان میں یہ آواز آئی کہ:
“میں اپنی عوام سے مشورہ کرکے آیا ہوں، اور ان کی رائے یہ ہے۔”
کیا آپ نے کبھی یہ الفاظ سنے ہیں؟
کیا اپ کے MPA یا MNA نے کبھی اپ سےمشورہ کیا؟
یہ سیاسی ڈکٹیٹر آئین کی پاسداری خود نہیں کرتے، اور جمہوریت و اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کا رونا دھونا ان کی زبانی ہم کئی دہائیوں سے سنتے آ رہے ہیں۔۔۔
@GovtofPakistan
#عوام_کی_آواز_عوام_راج
#نئے_صوبے_عوامی_ضرورت_ہیں ؟
تماشا دیکھیں !! جو لوگ تیس تیس، چالیس چالیس سال میں اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لا سکے وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم ملک میں جمہوریت کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
یاد رکھیں صرف وہی پارٹی میں جمہوریت اور میرٹ لا سکتا ہے جو خود کسی عہدے پر قابض نہ ہو یا خود کسی عہدے کا امیدوار نہ ہو۔
سیاسی جماعتوں میں کس طرح فیصلے کیے جاتے ہیں?
کیا اقربا پروری عام کارکنوں کے راستے کی سب سے بڑی دیوار ہے?
طلبہ سیاست اور مڈل کلاس کی قیادت کا مستقبل کیا ہے?
آپ کے نزدیک کیا عام آدمی کے لیے سیاست میں میرٹ پر آگے بڑھنا ممکن ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں
#اب_عوام_راج_ہوگا
ہم بھرپور اعتماد کے ساتھ Etihad Town بیچ رہے ہیں، کیونکہ اعتماد صرف دعووں سے نہیں، بروقت ڈیلیوری سے بنتا ہے۔ Etihad Town Phase 2 کا وعدہ تین سال کا تھا، مگر ڈھائی سال میں ہی پوزیشن دے دی گئی۔
ایسی انڈسٹری میں جہاں پانچ سال کا وعدہ کرکے دس سال میں بھی ڈیلیوری نہیں ہوتی، وہاں وقت سے پہلے ڈیلیوری ہی اصل اعتماد ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ Property Presenter Pakistan کے کلائنٹس محفوظ رہتے ہیں، اور انہی مطمئن کلائنٹس کے ریفرنس سے ہمیں نئے کلائنٹس ملتے ہیں۔
بلاشبہ Etihad Town پاکستان کا ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا برانڈ ہے اور اس کے ساتھ کام کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو رزقِ حلال عطا فرمائے۔ آمین۔
نئے صوبے پاکستان میں بننا ضروری ہیں؟
ہم پچھلی چار دہائیوں سے سنتے آ رہے ہیں۔ آئین کی بالادستی، قانون کی بالادستی اور جمہوری روایات۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو لوگ آج بھی اقتدار کا حصہ ہیں، وہ آئین کی صرف وہ شقیں کیوں مانتے ہیں جو ان کے خاندانوں کو اقتدار دیتی ہیں؟
18ویں ترمیم قبول ہے، لیکن آئین کا آرٹیکل 140-A، جو اختیارات گلی، محلے اور عام آدمی تک منتقل کرنے کی بات کرتا ہے، اس پر عمل نہیں ہوتا؟
آئین کہتا ہے کہ عوام کی آواز اسمبلی تک پہنچائیں، مگر عوام کی حقیقی رائے اسمبلی تک لے جانے کے بجائے نمائندے اپنی سیاست کے دائرے میں ہی گھومتے رہتے ہیں۔
تو پھر سوال سادہ ہے: آئین کی پامالی کون کر رہا ہے؟
اگر پچھلی پانچ دہائیوں میں ہم اقتدار اور اختیار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو آبادی، جغرافیہ اور انتظامی ضرورت کے مطابق نئے صوبے بنانا وقت کی ضرورت ہے۔#نئے_صوبے_عوامی_ضرورت_ہیں
یہ میری ذاتی رائے ہے۔ نئے صوبوں کے معاملے پر پاکستان میں ایک مکمل، کھلی اور جمہوری بحث ہونی چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عوام کی رائے سامنے آنی چاہیے اور پھر مشترکہ رائے اور جمہوری اتفاقِ رائے سے فیصلہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کے مستقبل کے فیصلے بند کمروں میں نہیں، عوام کے سامنے ہونے چاہئیں۔
@GovtofPakistan@PakPMO@OfficialDGISPR@MohsinnaqviC42
سیاست میں اہل ثروت لوگوں کو آگے بڑھایا جائے اور غریب کے بچے کو دھکے کھانے کے لیے پیچھے کر دیا جاتا ھے ۔عوام راج انشاء اللّٰہ غریبوں کو آگے لائے گی اور اس تحریک کے اہل ثروت انکی معاونت کریں گے
#اب_عوام_راج_ہوگا
نیت صاف ہو، محنت مسلسل ہو اور حوصلہ بلند ہو تو کوئی رکاوٹ کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتی۔
ہماری محنت، اتحاد اور حوصلے کی جیت ہوگی۔ انشاءاللہ
#اب_عوام_راج_ہوگا
شخصیت پرستی اور اندھی تقلید نے ہمیشہ معاشرے کو زوال کی طرف دھکیلا ہے۔ حقیقی جمہوریت کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں خاندانی اجارہ داریوں سے آزاد ہوں۔
#اب_عوام_راج_ہوگا
بڑی سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے سے پہلے خود کو جمہوریت کا مسیحا کہتی ہیں اور اقتدار میں آ کر عوام کو ہی حقیر سمجھنے لگتی ہیں۔ نہ عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی، نہ مہنگائی کی چکی میں پستے انسانوں کا کوئی احساس—ان کا واحد مقصد صرف اپنی کرسیاں بچانا ہے
#اب_عوام_راج_ہوگا
ویسے تو درجنوں مثالیں ہیں لیکن میری بہن ابھی کل تک آپ ایک جرنیل کے خلاف گفتگو کرنے پر ایک سیاستدان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔۔۔ اللہ کی قسم کھا کر بتائیں کہ آج اگر کوئی ��یلڈ مارشل عاصم منیر پر الزامات لگانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایسی ہی ٹوئیٹ کرے تو آپ اُسے فوج کا ملازم اور ٹاؤٹ نہیں کہیں گی؟ انقلابی ��نتے ہوئے اپنا، اپنے گرو کا اور اپنے جتھے کا ماضی فراموش مت کیا کیجئے۔ سلامت رہیں۔
اللہ بڑا بے نیاز ہے۔۔۔ جس آصف غفور کے انگوٹھے چوس چوس کر یہ بڑے ہوئے، اب یہ اُسی کو پڑ گئے ہیں۔ مکافات عمل۔۔۔۔اِن یوٹیوبروں کے لیے بھی اور ان جرنیلوں کے لیے بھی۔
طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔
جب عوام جاگتی ہے تو نظام بدل جاتا ہے، اور جب عوام فیصلہ کرتی ہے تو تاریخ لکھی جاتی ہے۔
اب عوام راج ہوگا۔
#اب_عوام_راج_ہوگا