سلمان رضا کی کمر پر ایک رسولی (cyst) تھی، جسے تشدد کے دوران بار بار دبایا گیا جس سے خون بہتا رہا۔ یہ سلسلہ ایک ہفتے تک جاری رہا،اور حالت خراب ہوتی گئی۔
یہاں تک کہ سلمان نے ایک ڈاکٹر کو یہ کہتے سنا کہ اگر فوراً سرجری نہ کی گئی تو یہ کینسر بن جائے گا۔
پھر بغیر اینستھیزیا (سُن کیے) سرجری کر دی گئی۔ یہ طبی علاج نہیں، انسان کو ذہنی و جسمانی طور پر توڑنے کی بربریت ہے۔
اس بے دردی اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھائیں!
#JusticeForJunaidAndSalman
#ReleaseSalmanRaza
#uae
4 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا، آگ لگی تو انتظامیہ کا کوئی بندہ نظر نہیں آیا، نرسری کے تالے توڑنے کےلئے کوئی بندہ نہیں تھا، اندر میرا بیٹا تھا، تالہ توڑ کر اندر گیا، آگ نے اُٹھا کر مجھے باہر پھینکا، میں نے اپنے ہاتھوں سے چار سے پانچ جلے ہوئے بچے باہر نکالے
ایک والد کی گفتگو 💔
دو کمپلیننٹ تھے۔ ایک نکاح عدت کیس تھا، اس کے اندر ایک محمد حنیف نامی شخص تھا۔ اس نے ایک کمپلینٹ دائر کی تھی جولائی 2023 کے اندر۔ اور پھر ایک دوسرا کیس تھا، بڑا ٹیرین وائٹ کیس۔ اس کے اندر محمد ساجد نامی ایک شخص نے کمپلینٹ فائل کی اور دونوں کیسز کے اندر بڑے ہائی پروفائل اور مہنگی فیسز والے وکلاء پیش ہوتے تھے۔ تو آج تک ان دو پٹیشنرز کا، کمپلیننٹس کا، آج تک نہیں پتہ چل سکا کہ وہ کون تھے۔ اور آج تک وہ کبھی سامنے بھی نہیں آئے اور کبھی انہوں نے آ کے میڈیا پہ بھی یہ نہیں بتایا کہ ان کے گریوینس کیا ہیں۔
تو سیم وہی صورتحال یہاں ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان صاحب کے ہیلتھ کے ایشو کے اوپر جو فیصلہ دیا، اب اس فیصلے کو زخمی کرنے کے لیے، اس کو متنازعہ بنانے کے لیے، اس کے اوپر عملدرآمد نہ کرنے کا بہانہ بنانے کے لیے، یہ ایک بیوروکریٹک ہتھکنڈہ استعمال کیا جا رہا ہے حکومت کی جانب سے۔ ایک سیاسی چال کے طور پہ استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عدالت کے سامنے یہ جواز رکھیں کہ اب یہ مسئلہ ہو گیا ہے کہ باقی قیدی بھی یہ حقوق مانگ رہے ہیں۔
عمران خان صاحب اس ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے حوالے سے جتنے احکامات جاری کیے، جتنے فیصلے جاری کیے، کیا آپ نے ان کے اوپر عملدرآمد کیا ہے؟ کیا عمران خان صاحب کی کئی درجن پٹیشنز کے اوپر جو فیصلے ہوئے، پاکستان کی مختلف عدالتوں نے، کیا ان کے اوپر آپ نے عملدرآمد کیا ہے؟ نہیں کیا۔ تو سپریم کورٹ بالاخر مجبور ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے باقاعدہ حکم جاری کیا نومبر 2024 کے اندر (میں چونکہ کونسل تھا اس پٹیشن کے اندر) کہ ڈاکٹر فیصل عمران خان صاحب کا چیک اپ کریں گے، ڈاکٹر عاصم چیک اپ کریں گے۔ ٹرائل کورٹس کے اندر سے 12 سے زیادہ مرتبہ میں نے پٹیشنز الاؤ کروائیں۔ پانچ بار انہی پٹیشنز کے نتیجے میں ڈاکٹر عاصم یوسف اڈیالہ جیل کے اندر جا کے عمران خان صاحب کو چیک اپ کر کے آئے، ڈاکٹر سمینہ نیازی ڈینٹسٹ چیک اپ کر کے آئیں، ڈاکٹر فیصل سلطان جا کے چیک اپ کر کے آئے۔
اب اس کے بعد صورتحال یہ ہوئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم بھی ایک طرف پھینک دیے گئے، ٹرائل کورٹس کے فیصلے بھی ایک طرف پھینک دیے گئے، ذاتی معالجین کو رسائی نہیں دی جا رہی تھی۔ اب یہ صورتحال ایسی پیدا ہوئی کہ سپریم کورٹ کو مجبورا یہ فیصلہ دینا پڑا، انٹروین کرنا پڑا، کہ آپ ان کا شفا ہسپتال سے چیک اپ کروائیں۔
دیکھیں، جب عمران خان صاحب کے میڈیکل کے حوالے سے حکم نامہ آیا، تو جتنے وزراء نے، جتنے لوگوں نے جو حکومت کے اندر بیٹھے ہیں، جنہوں نے بیانات دیے، پریس کانفرنسز کیں، ان کو ہم نے فریق بنایا۔ محسن نقوی نے کوئی بیان نہیں دیا، کوئی ایسا سٹیٹمنٹ ریکارڈ پہ موجود نہیں تھا کہ ہم اس کو فریق بناتے۔ لیکن چونکہ انتظامیہ کا جو ہیڈ آف ڈویژن ہوتا ہے، جو انٹیریئر ڈویژن ہے، اس کو ہیڈ کرتا ہے سیکرٹری انٹیریئر۔ اور چونکہ عمران خان صاحب اس وقت جو قید میں ہیں وہ اسلام آباد کے کیس ہیں، اور چیف کمشنر اسلام آباد اس کی ایک ریلیونٹ اتھارٹی ہیں، تو ہم نے اس کو فریق بنایا ہوا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل جو منتقلی کا، چیف کمشنر اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ فیڈریشن کا، تو ہم نے تینوں کو فریق بنایا ہوا ہے جو سارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے اوپر عملدرآمد کے ذمہ دار تھے۔ اور ہیڈ آف دی گورنمنٹ کے طور پہ ہم نے شہباز شریف کو بھی، بینگ دا چیف ایگزیکٹو آف دی فیڈریشن، اس کو بھی فریق بنایا ہے۔
وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف خالد یوسف چوہدری @KhalidYChaudry
سٹوڈنٹس نے ویڈیوز آہستہ آہستہ ریلیز کی ہیں جب کہ غیرت عزت بہادری کا بیانیہ پیٹنے والوں کا مکمل جنازہ نکل سکے
محترمہ تو میاں کے پہنچنے سے پہلے ہی کافی وائلنٹ ہوئی پڑی تھی پھر وردی کی تو تڑ ہی اور ہوتی ہے
پولیس پہلے آ چکی تھی فائرنگ پولیس کی موجودگی میں کی گئی
پمز اسپتال کا داخلی دروازہ اور ایمرجنسی خارجی دروازے دونوں کو انتظامیہ نے بند کیا ہوا تھا۔۔۔۔
ہم نے دیوار توڑ کر کچھ والدین اور بچوں کو ریسکیو کیا باقی آگ میں جل گئے۔۔۔ریسکیو اہلکار کا موقف
اللٰ٘ہ اسکی نوکری اب محفوظ رکھے۔۔۔
مصطفیٰ کمال کس جہالت اور بدتمیزی سے مریضوں کے خاندانوں سے بات کر رہے ہیں۔
اس تکبر اور رعونت سے عوام سے بات کرنے کا حق انہیں کس نے دیا؟
یہ وزیر ہیں اس حکومت کے۔۔
And that too Health Minister. Phew
عاصمہ آپکو پتا ہے ہم نوازشریف کو 150 لوگ ملتے تھے سپیشل کمروں میں میٹنگیں ہوتی تھیں
باہر آکر ہم پریس کانفرنس کرتے تھے میاں صاحب پوری پارٹی جیل سے چلاتے
آج کہتےہیں عمران خان سیاسی بیان دیتاہے 8 مہینوں سے کسی کو ملنےنہیں دیا
ایسے کلپ @PTIofficial سپریم کورٹ کیوں پیش نہیں کرتی؟
نواب اکبر بگٹی شہید نے سوئی گیس پلانٹ میں کام کرنے والی لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کے لیے اسٹینڈ لیا تھا جن کے ساتھ ایک فوجی افسر کیپٹن حماد نے جنوری 2005 میں جنسی زیادتی کی، جنرل مشرف نے اپنے افسر کو بچانے کے لیے بگٹی صاحب کو شہید اور بلوچستان کو مستقل آگ میں دھکیل دیا تھا۔
یہ ملک اشرافیہ کی شکار گاہ ہے ۔ ایک خبر کے مطابق 33 بابو ریٹائرمنٹ کے بعد ملک چھوڑ کر باہر منتقل ہوگئے ۔ ماشااللہ سے نظام نے انکو پینشن بھی غیرملکی کرنسی میں ادا کرنا شروع کردی جس کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں
گالیاں کھائیں گے سیاستدان لیکن حقیقت میں بیوروکریسی اس ملک کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے ۔ بابو پھر بھی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیں گے ۔ بس لیکچر سن لیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی کتابیں پڑھ لیں موصوف سے زیادہ کوئی بااصول اور ایماندار افسر کرہ ارض پر نہیں رہا ہوگا !