ارشد شریف کی شہادت کے بعد روف کلاسرا نے لکھا ایک شخص جوانی میں چلا گیا۔ بھگتے گا کون؟ اسکی بوڑھی ماں ، اسکے چھوٹے چھوٹے بچے۔ درست لکھا۔ ہماری ہمدردی ، ہمارے خراج تحسین یا ہمارے الفاظ اسکے کس کام؟ اسکے بچوں کے کس کام؟
جنید جہانگیر کے بوڑھے والدین سلمان رضا کی اہلیہ ان کے دن رات کیا ہی ہوں گے۔
میں ابوبکر کو دیکھتا ہوں، دو بھائی شہید ، ایک اغواء اور خود پاسپورٹ منسوخ۔ اسکے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی؟ اسکی ماں ، اسکے والد کے شب و روز کیسے کٹتے ہوں گے؟ ابوبکر کو نہیں پتہ ، صائم جٹ فرانس کو نہیں پتہ کہ موقع ملتے ہی انہیں مار دیا جائے گا۔ شاید یہ زندگی بھر پاکستان نہ جا پائیں۔ یہ ابھی نوجوان ہیں ، گرم خون ہیں۔ اللہ نہ کرے یہ دس بیس سال بعد رضائیوں میں منہ دے دے کر نہ روئیں۔ انکی حد سے گزری ہوئی بہادری کا ان کو کیا فائدہ؟ یہاں تو کچھ نہیں بدلہ ، کچھ نہیں بدلے گا۔ سب ایسے ہی چلے گا۔ طاقتور بہت زیادہ طاقتور اور بے بس بہت زیادہ مجبور۔
لیکن پھر دماغ ابل جاتا ہے ، کسی مظلوم کو دیکھ کر ، کسی لٹے ہوئے کو دیکھ کر ، کسی کی نوچی ہوئی لاش دیکھ کر ، ہمارے دروازے پر بندھے ہوئے چوکیدار نما کتوں کو ہمی پر بھونکتے دیکھ کر ، باہر کی دنیا میں امن سکون اور خوشحالی دیکھ کر کہ ہم کب تک یونہی کڑھتے رہیں گے بستروں سے لگ لگ مرتے رہیں گے۔ کب تک بیماروں لاچاروں مریضوں والی موت کی خواہش دل میں پالے ہوئے بچتے رہیں گے۔ ہم کیوں نہ دلاوروں کی طرح مارے جائیں۔
دماغ کچوکے بھی لگاتا ہے ، ایک بے نامی اکاونٹ کے پیچھے سے ، ایک محفوظ جگہ سے محض کی بورڈ سے تیر چلانا اور باتیں بہادری اور دلاوری کی؟ چھی چھی چھی۔ یوکرین کی روس سے جنگ شروع ہوئی تو پورے یورپ سے نوجوان یوکرین کا ساتھ دینے پہنچ گئے۔ اس وقت انکی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے اور ان میں سے تین ہزار برطانوی شہری ہیں۔ انکو حور یا جنت کا وعدہ نہیں ، ان پر یہ جنگ فرض بھی نہیں لیکن لڑتے ہیں اور مرتے ہیں مردانگی کے لیے ، دلاوری کے لیے اور جسٹ کاز کے لیے۔
پتہ نہیں خود پر وقت آنے پر اسکی تاب آئے گی یا نہیں آئے گی۔ لیکن موت وہی ہے جسٹ کاز والی۔ موت وہی ہے جو بندوق کی نوک پر آتی ہے۔ موت وہی ہے جو لڑتے ہوئے آتی ہے۔ ورنہ ہسپتالوں میں روزانہ لاکھوں بوڑھے مرتے ہیں۔ زندگی بھی وہی ہے جس میں کوئی جسٹ کاز ہے ، جس میں طاقت ور کا خوف بھی ہو لڑنے کا عزم بھی اور جیتنے کی امید بھی۔ ورنہ ہسپتالوں میں لاکھوں وینٹی لینٹرز پر بھی زندہ ہیں۔
𝐅𝐨𝐫𝐦𝐞𝐫 𝐏𝐌 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐫𝐞𝐦𝐚𝐢𝐧𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐢𝐥𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐟𝐨𝐫 1175 𝐝𝐚𝐲𝐬; 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭, 𝐢𝐧𝐜𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐜𝐚𝐝𝐨, 𝐯𝐢𝐬𝐢𝐨𝐧 𝐥𝐨𝐬𝐬 𝐢𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐞𝐲𝐞, 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐫𝐢𝐨𝐫𝐚𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡 𝐜𝐨𝐧𝐜𝐞𝐫𝐧𝐬, 𝐥𝐢𝐟𝐞 𝐚𝐭 𝐫𝐢𝐬𝐤.
“𝐈𝐟 𝐚𝐧𝐲𝐭𝐡𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐚𝐩𝐩𝐞𝐧𝐬 𝐭𝐨 𝐦𝐞 𝐢𝐧 𝐣𝐚𝐢𝐥, 𝐀𝐬𝐢𝐦 𝐌𝐮𝐧𝐢𝐫 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐢𝐛𝐥𝐞.”
- 𝑰𝒎𝒓𝒂𝒏 𝑲𝒉𝒂𝒏
♦️Asim Munir’s military dictatorship has Imran Khan illegally incarcerated under conditions which violate United Nation’s Nelson Mandela rules:
Extended periods of complete isolation with no contact with family, lawyers or doctors, solitary confinement in a ‘death cell’, no human contact, dirty water, suspect food, unsanitary conditions, 24/7 camera surveillance, no sunlight, no electricity, no books, no rights per law, DELIBERATE MEDICAL NEGLIGENCE (blatant violation of Supreme Court’s order)♦️
🔺𝐑𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 𝐛𝐲 𝐔𝐧𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐍𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐇𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐑𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐜𝐢𝐥 @UN_HRC 𝐉𝐮𝐧𝐞 𝟐𝟎𝟐𝟒:
“𝐓𝐡𝐞 𝐝𝐞𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐭𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐍𝐢𝐚𝐳𝐢… 𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 and falls within categories I, II and III.
The Working Group concludes that 𝐡𝐢𝐬 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐡𝐚𝐝 𝐧𝐨 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐛𝐚𝐬𝐢𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐩𝐩𝐞𝐚𝐫𝐬 𝐭𝐨 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐛𝐞𝐞𝐧 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐧𝐝𝐞𝐝 𝐭𝐨 𝐝𝐢𝐬𝐪𝐮𝐚𝐥𝐢𝐟𝐲 𝐡𝐢𝐦 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐫𝐮𝐧𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐩𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐨𝐟𝐟𝐢𝐜𝐞.
…Government of Pakistan to take the steps 𝐧𝐞𝐜𝐞𝐬𝐬𝐚𝐫𝐲 𝐭𝐨 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐝𝐲 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐢𝐭𝐮𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐝𝐞𝐥𝐚𝐲 and bring it into conformity with the relevant international norms…
…𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 and accord him an enforceable 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐭𝐨 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐞𝐧𝐬𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐨𝐭𝐡𝐞𝐫 𝐫𝐞𝐩𝐚𝐫𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬, in accordance with international law.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/NsiJ7oHLIU
🔺𝐒𝐭𝐚𝐭𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐛𝐲 𝐀𝐦𝐧𝐞𝐬𝐭𝐲 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 @amnesty 𝐒𝐞𝐩𝐭𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟐𝟎𝟐𝟒:
“A year on from Imran Khan’s conviction and sentencing, Amnesty International has found 𝐬𝐞𝐯𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐟𝐚𝐢𝐫 𝐭𝐫𝐢𝐚𝐥 𝐯𝐢𝐨𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐬𝐭𝐚𝐧𝐝𝐚𝐫𝐝𝐬 𝐰𝐡𝐢𝐜𝐡 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐮𝐥𝐭𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧, 𝐝𝐞𝐧𝐲𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐢𝐬 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐭𝐨 𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐭𝐲.
We have noted a pattern of 𝐰𝐞𝐚𝐩𝐨𝐧𝐢𝐳𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐬𝐲𝐬𝐭𝐞𝐦 𝐭𝐨 𝐤𝐞𝐞𝐩 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐰𝐚𝐲 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐚𝐥𝐥 𝐩𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐚𝐜𝐭𝐢𝐯𝐢𝐭𝐲…
…𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 from arbitrary pre-trial detention.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/jUnbKDeb4k
🔺𝐏𝐫𝐞𝐬𝐬 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐛𝐲 𝐔𝐍 𝐒𝐩𝐞𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐑𝐚𝐩𝐩𝐨𝐫𝐭𝐞𝐮𝐫 𝐨𝐧 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞 @UN_SPExperts 𝐃𝐞𝐜𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝟐𝟎𝟐𝟓:
“…Imran Khan…held for excessive periods in solitary confinement, 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐟𝐨𝐫 𝟐𝟑 𝐡𝐨𝐮𝐫𝐬 𝐚 𝐝𝐚𝐲 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐜𝐞𝐥𝐥…”
“…prolonged or indefinite 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐢𝐬 𝐩𝐫𝐨𝐡𝐢𝐛𝐢𝐭𝐞𝐝 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐥𝐚𝐰 – and when it extends longer than 15 days, it constitutes a 𝐟𝐨𝐫𝐦 𝐨𝐟 𝐩𝐬𝐲𝐜𝐡𝐨𝐥𝐨𝐠𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞.”
“𝐊𝐡𝐚𝐧’𝐬 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐬𝐡𝐨𝐮𝐥𝐝 𝐛𝐞 𝐥𝐢𝐟𝐭𝐞𝐝 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐨𝐮𝐭 𝐝𝐞𝐥𝐚𝐲.”
“…Khan is 𝐧𝐨𝐭 𝐩𝐞𝐫𝐦𝐢𝐭𝐭𝐞𝐝 𝐨𝐮𝐭𝐝𝐨𝐨𝐫 𝐚𝐜𝐭𝐢𝐯𝐢𝐭𝐲 or interaction with other detainees and is 𝐮𝐧𝐚𝐛𝐥𝐞 𝐭𝐨 𝐣𝐨𝐢𝐧 𝐜𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐚𝐥 𝐩𝐫𝐚𝐲𝐞𝐫𝐬.”
“…Khan is held in a 𝐬𝐦𝐚𝐥𝐥 𝐜𝐞𝐥𝐥 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐥𝐚𝐜𝐤𝐬 𝐧𝐚𝐭𝐮𝐫𝐚𝐥 𝐥𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐝𝐞𝐪𝐮𝐚𝐭𝐞 𝐯𝐞𝐧𝐭𝐢𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧. 𝐓𝐞𝐦𝐩𝐞𝐫𝐚𝐭𝐮𝐫𝐞𝐬 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭𝐞𝐝𝐥𝐲 𝐛𝐞𝐜𝐨𝐦𝐞 𝐞𝐱𝐭𝐫𝐞𝐦𝐞 in both winter and summer… 𝐟𝐨𝐮𝐥 𝐨𝐝𝐨𝐮𝐫𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐢𝐧𝐬𝐞𝐜𝐭 𝐢𝐧𝐟𝐞𝐬𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐬.”
𝑳𝒊𝒏𝒌: https://t.co/Zu2Tz1EO3T
#FreeImranKhan
صرف ایک ہی بات پہ فوج اور فوجی حکومت مذاکرات کی طرف آتی ہے کہ عمران خان کو سیاست سے ریٹائر ہونے پہ راضی کریں تاکہ باقی سب سیاست کرسکیں اب جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ مزاکرات ہی واحد حل ہے وہ بتائیں کہ اس حل کے علاوہ وہ کیا حل نکال سکتے ہیں؟
صرف ایک ہی بات پہ فوج اور فوجی حکومت مذاکرات کی طرف آتی ہے کہ عمران خان کو سیاست سے ریٹائر ہونے پہ راضی کریں تاکہ باقی سب سیاست کرسکیں اب جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ مزاکرات ہی واحد حل ہے وہ بتائیں کہ اس حل کے علاوہ وہ کیا حل نکال سکتے ہیں؟
" ارشد شریف کو انصاف دو ! ارشد شریف کی والدہ بیٹے کے لئے انصاف کی راہ تکتی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ارشد شریف کو انصاف نہ ملا۔ اےخدا قاتلوں کا خود حساب کر! اور جلد کر۔۔"ثمینہ پاشا
@pasha_samina
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
فوج نون لیگ کی رکھیل بن چکی ہے اور دونوں مِل کر اس ملک کو چکلے کی طرح چلا رہے ہیں۔۔
کبھی خودمختاری بیچتے ہیں کھبی ادارے ،کبھی اساسے اور کبھی اس ملک کی عزت نفس۔۔
وہ لمحہ جب 4 سال پہلے عمران خان نے چیف جسٹس کو شہید ارشد شریف کی شہادت کی آزادانہ جوڈیشل کمیشن کے لئے خط لکھ دیا۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے ♥️