Na'at Khawan But not Professional one, Engineer by profession, ❤️ to read books history & novels 📚, Interest in Movies 🎬, Passion for Astronomy / Universe 🌌
The former British home secretary and buddhist daughter of a Kenyan descendant of Goan Catholics, and a Mauritian Hindu descendent of Tamil, born in Harrow, studied in New York, married to a Jewish South African who lived In Israel says multiculturalism has failed.
چوری کریں سی سی ڈی مارے، رکشہ چلائیں تو ٹریفک والے نہیں چھوڑتے،ریڑھی لگائیں تو پیرا فورس اٹھا لیتی ہے۔ دو شاپر باندھ لیں تو 2 ہزار روپے کا چالان ہو جاتا ہے، لاکھوں لوگوں کو بےروزگار کیا ہے تو کسی نے ان کے گھروں میں جا کر پوچھا کہ روٹی کھائی ہے یا نہیں؟ لاہور میں ��کشہ ڈرائیور کی دکھ بھری گفتگو
ایوان سے لیکر چوراہوں تک ہر جگہ اشرافیہ اور غنڈوں کا راج ہے۔۔۔
یہ ہیں ڈاکٹر عارف خان ساقی جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ۔۔ جو سیکڑوں طلبا کے استاذ ہیں۔۔ لیکن آج بیچ سڑک ہر ایک رئیس زادے نے تش-دد کا نشانہ بنایا۔۔ سر پر پ-سٹل کا بٹ مارا اور کپڑے پھاڑ ڈالے۔۔۔
بقول ان کے وہ بائیکیا پر جارہے تھے کہ سندھ گرین ہوٹل سے ایک ڈالا نکلا اور تیزی میں ان کو ہٹ کیا۔۔۔ بائیکیا والے کا کچھ نقصان ہوا ڈاکٹر صاحب نے گاڑی میں بیٹھے رئیس زادے سے کہا کہ بھئی یہ بیچارا غریب لڑکا ہے اس کا نقصان ہوا ہے ۔۔ کچھ پیسے دیکر ازالہ کردیں۔۔۔
اس پر لڑکا آگ بگولہ ہوا پسٹل نکال کر ہوائی فائ-رنگ کی پھر ڈاکٹر کو بھی زدو-کوب کیا۔ موبائل فون چھینا اور گھسیٹتے ہوئے ہوٹل کے اندر لے گئے۔۔۔
تو دوستو یہ صورتحال ہے مملکت خداداد کی۔۔۔ اب سڑکوں پر وہی محفوظ ہے جس کے پاس طاقت ہے یا جو خود بدمعاش ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان جرائم پیشہ عناصر کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہے۔۔۔
پر آپ بےبس نہیں ہے ظلم کہیں بھی یو آواز تو اٹھنی چاہئے ۔۔۔
ایس پی ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے کہا کہ تمہارا کتنے لوگوں کیساتھ چکر ہے ۔ اگر تم حاملہ نہ ہوتی تو تمہارے اندر بازو دیکر بتادیتی کہ تم پر کتنے لوگ چڑھے ہیں ۔
ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے یہ بھی کہا کہ تمہارا اپنے بہنوئی سے ناجائز رشتہ ہے جس کیلئے تم نے خود آیت نور کو راستے سے ہٹایا ہے ۔
آیت نور کی والدہ کے بہنوئی نواز کو 5 سے 6 دن تک پولیس نے اٹھایا اور اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ آج بھی بیٹھ نہیں سکتا ۔
@SohailAfridiISF@YarMKNiazi
بھارتی صوبے تامل ناڈو کے دبنگ وزیر اعلیٰ بھارتی اداکار جوزف وجےنے تاریخی فیصلہ کرکے تاریخ رقم کرلی یہاں میری حکومت ہے قومیت مذہب نہیں میرٹ پر سلیکشن ہوگی بھارتی صوبے تامل ناڈو کے سب سے بڑے اور مرکزی پاسپورٹ دفتر کے ڈائریکٹر کیلئے ہندو لڑکی گیتا ٹھاکر اور مسلمان لڑکی فاطمہ یحییٰ کے درمیان مقابلہ تھا میرٹ پر فاطمہ پوری تھی جس پر فاطمہ کو پاسپورٹ آفس کا ڈائریکٹر منتخب کردیا گیا جوزف وجے نے کاغذات پر دستخط کرکے فاطمہ یحییٰ کا آرڈر جاری کردیا بھا��ت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی مسلمان خاتون صوبہ تامل ناڈو میں پاسپورٹ آفس کی ڈائریکٹر بن گئی
کہا جارہا ہے کہ فاطمہ کا والد ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچرہے جبکہ گیتا ٹھاکر ایک بڑے مضبوط سیاسی فیملی سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا والد وزیر اعلیٰ جوزف وجے کے پارٹی میں بڑا عہدے دار بھی ہے لیکن وزیر وزیر اعلیٰ جوزف وجے نے عوام سے جو وعدے کیے تھے کہ میرے صوبے میں میرٹ ہوگا اور یہ میں دنیا کیلئے ایک مثالی صوبہ بناؤں گا اس پر اب مکمل عمل درآمد کررہا ہے۔
تھانہ رتہ امرال راولپنڈی کی حدود میں مسیح لڑکی سے زیادتی کرنے آیا ایک بااثر شخص جس کا نام لینے سے لوگ قطرہ رہے ہیں
جب اس لڑکی نے شور کیا اور آگے لگ کر بھاگی اسکے بالو سے پکڑ کر گھسیٹا گیا جب کچھ نا ہوا تو اس قاتل نے ماتھے میں گولی مار کر مسیح لڑکی کو قتل کر دیا اور اسکا چھوٹا بھائی بھی ساتھ لے گیا ہے
BJP foreign policy Playbook on Pakistan
Pakistan: We are two nuclear-armed neighbours. Let us sit down and resolve every outstanding issue.
India: We will not talk to Pakistan.
Pakistan: Then let friendly countries or the international community help mediate.
India: No third-party role. This is a bilateral matter.
Pakistan: Let’s implement UN resolution on our dispute
India: UN resolution is too old
Pakistan: Very well. Let us go to the International Court and accept its verdict.
India: We reject international courts and their rulings.
Pakistan: Then bring it on.
India: Operation Sindoor.
Pakistan: 7–0.
India: Netflix / Bollywood Propaganda Release
Repeat after 2-3 years
8 اگست آیت نور اچانک لاپتہ ہو جاتی ہے۔ پریشان حال والدین ر تلاش کرتے ہیں اور جب ہارے تھکے تھانے پہنچتے ہیں، تو قانون کے رکھوالے ایف آئی آر درج کرنے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔ پولیس کی اس بے حسی کی وجہ کوئی غفلت نہیں، بلکہ وہ "حکمِ حاکم" تھا جو ��ھانے پہنچنے سے پہلے ہی یوسف ایوب خان کے فون کی صورت میں آ چکا تھا کہ "اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے"۔
باوثوق ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ ہری پور میں ڈی پی او سے لے کر عام سپاہی تک کی تعیناتی اسی سیاسی اثر و رسوخ اور یوسف ایوب خان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔
مایوس والد محمد شفیق جب خالی ہاتھ لوٹ گئے، تو اس کے تین گھنٹے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچتی ہے۔ وہاں صرف خانہ پُری کی جاتی ہے اور ایک پڑوسی کے گھر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج اپنے قبضے میں لے لی جاتی ہے۔ یہ فوٹیج مقتولہ کے والد تک کو نہیں دکھائی جاتی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس پہلے ہی دن سے حقائق کو سامنے لانے کے بجائے ثبوت مٹانے کے مشن پر کاربند تھی۔
مجبور باپ نے اپنے طور پر تفتیش شروع کی۔ انہوں نے پڑوسی کے موبائل سے اس فوٹیج کا ایک اسکرین شاٹ دیکھا، جس میں آیت نور کو لے جانے والے لڑکے کی واضح شناخت ہو رہ�� تھی۔ والد نے فوراً پولیس کو مطلع کیا، لیکن پولیس روایتی سستی دکھا کر واپس چلی گئی۔ بعد ازاں، جب دباؤ بڑھا تو اس نامزد لڑکے کے بڑے بھائی کو حراست میں لیا گیا، لیکن صرف ایک رات حوالات میں رکھنے کے بعد مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر اسے رہا کر دیا گیا۔
اس پورے دورانیے میں یوسف ایوب خان مسلسل ڈی پی او اور متعلقہ ایس ایچ اوز سے رابطے میں رہا۔ اگر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی ہیں تو یوسف ایوب خان کا کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) نکلوایا جائے یہ شخص اس مخصوص جگہ پر بھی موجود پایا گیا جہاں سے بعد میں بچی کی لاش برآمد ہوئی۔
جب یہ معاملہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر بری طرح ہائی لائٹ ہوا، تو مجبوری میں پولیس متحرک ہوئی اور واقعے کے پورے 16 روز بعد معصوم آیت نور کی لاش بازیاب ہو سکی۔ لاش کی حالت ایک ہولناک سچائی بیان کر رہی تھی بچی کے پاؤں میں جوتے موجود تھے، جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ اغوا کے بعد کئی روز تک زندہ رہی۔ لیکن افسوس! پولیس یوسف ایوب خان کی پشت پناہی کے باعث ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی اور معصوم بچی تڑپ تڑپ کر جان دے گئی۔
پولیس نے اب جن تین ملزمان کی گرفتاری ظاہر کی ہے، وہ کم عمر (نابالغ) ہیں تاکہ انہیں قانون کی گرفت سے بچایا جا سکے اور سزاؤں سے مبرا رکھا جائے۔ یہ اصل ملزمان ہو ہی نہیں سکتے، کیونکہ اگر یہ اصل مجرم ہوتے تو بچی بہت پہلے مل چکی ہوتی۔
یا پھر یہ محض مہرے ہیں اور ان کے پیچھے اصل چہرے کوئی اور ہیں۔ پولیس نے اب تک ان ملزمان کو پبلک کے سامنے پیش (Show) تک نہیں کیا، لوگ صرف ان کے ناموں سے واقف ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اغوا کے بعد اتنے دن تک بچی کس کی تحویل میں تھی؟ اور ملزمان کی گرفتاری کے وقت بھی اگر بچی زندہ تھی، تو وہ اصل طاقتور کون ہے جسے بچانے کے لیے یہ سارا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے؟
یہاں صوبائی حکومت کا کردار بھی شدید شکوک و شبہات کی زد میں ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اگر سچے ہیں تو حلفاً یہ بتائیں کہ کیا انہیں عمر ایوب خان نے فون کر کے اس معاملے پر زبان بند ��کھنے کی ہدایت نہیں کی تھی؟ یہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان سوشل میڈیا پر آواز اٹھاتے رہے، لیکن صوبائی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔
پھر جب لاش مل گئی اور عوامی غیظ و غضب عروج پر پہنچا، تو روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان داغ دیا گیا کہ "وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا ہے"۔ اس دوران ہری پور سے پی ٹی آئی کے تینوں ارکانِ صوبائی اسمبلی (MPAs) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مجرمانہ خاموشی چھائی رہی۔ دھرنے ہوئے، احتجاج ہوئے، لیکن چور کی داڑھی میں تنکے کے مصداق یہ عوامی نمائندے غائب رہے کیونکہ ان میں مظلوم عوام کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
حد تو یہ ہے کہ یہ بااثر سیاسی نمائندے بچی کے جنازے تک میں شریک نہیں ہوئے اور عمر ایوب خان نے آج تک اس غریب کے گھر جا کر تعزیت کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ہری پور کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایوب خاندان اپنے ہی حلقے میں اتنے بڑے لرزہ خیز واقعے پر اس حد تک لاتعلق اور بیگانہ رہا کہ جنازے اور تعزیت تک کا بائیکاٹ کر دیا۔
چونکہ مق��می پولیس پہلے دن سے لے کر اب تک اس کیس کو خراب کرنے، ثبوت مٹانے اور اصل مجرموں کو تحفظ دینے میں مصروف ہے، اس لیے اس کٹھ پتلی پولیس سے انصاف کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ہماری عدالتِ عالیہ سے پرزور اپیل ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے معزز جج کی سربراہی میں ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ ننھی آیت نور کے خون سے ہولی کھیلنے والے اصل کردار بے نقاب ہو سکیں اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔
#JusticeForAyatNoor