راولپنڈی مری روڈ پر لگژری گاڑی کے مالک کی کھلی بدمعاشی۔موٹر سائیکل سوار کو گاڑی کے بونٹ پر بٹھا کر سڑک پر گھماتا رہا۔
گاڑی کا مالک موٹرسائیکل کو گاڑی آگے باندھ کر گھسیٹتا رہا۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
کاششششششششششش !!!
میرے نصیب میں بھی طاقتور شخصیات سے گفتگو کرنا یا پیغام رسائی کرنا اتنا ہی آسان ہوتا😝🤣
میں فون کرتی اور وہ کال اٹھا کر وطن عزیز کی صورتحال پر سچائی بتا دیتے
ہمارے وطن عزیز کے پاسپورٹ کی عزت اسی لئے نہیں رہی کہ ملک میں قانون نام کی چیز نہیں مجھے نہیں پتہ کیا کی ویڈیو ہے لیکن کیا ایسے کسی کو بھی حق ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے ۔
انتہائی خوفناک صورتحال 🛑
اسلام آباد پولیس کا باہر سے آئی خاتون پر تشدد!!
تھانہ کوہسار اسلام آباد پولیس, خاتون کو ساری رات تنگ کرنے کے بعد, اب خاتون پر تشدد شروع کر رہے ہیں!!
پاکستان کا خوب نام روشن کررہے ہیں!!
پہلے علی رضا ڈار اور اب آسلام آباد پولیس!!
ہماری کی تمام عمر کی تھکن اتر سکتی ہے اگر اللہ ایسی اولاد عطا فرما دے ۔۔۔
ایک بیٹا اپنے معزور باپ کو گاڑی میں بٹھانے کے لیے زمین پر بچھ کر اپنے جسم کو سیڑھی بنا دیتا ہے۔۔
ایسی اولاد کو سلام ہو
اسلام آباد کے تھانہ شمس کالونی میں ملزم کے ساتھ ہونے والا رویہ دیکھیں اور جو شخص اس پر تشدد کر رہا ہے وہ تھانہ شمس کالونی کے محرر آصف کا فرنٹ میں ہے کیا پرائیویٹ بندے پولیس اسٹیشن میں پولیس کی ایما پر ایسا کر سکتے ہیں ؟
@MohsinnaqviC42@ICT_Police
فیصل آباد میں غیر قانونی پٹرول فروخت کرنے والا اوباش نوجوان خ پر آوازیں کسنے لگا۔متاثرہ خاتون نے ویڈیو بنا کر پنجاب پولیس اور سی سی ڈی پولیس سے مدد مانگ لی۔
اب چونکہ اس کیس کے مرکزی مجرم سید عون علی نقوی کا تعلق ماڈل ٹاون لاہور کی تگڑی سید فیملی سے ہے
اس لئے اشرافیہ کے اس بگڑے رئیس زادے کی دفعہ CCD اس کے نیفے میں پستول نہیں چلائے گی ۔
بلکہ واقعے کو کوئی اور رنگ دے کر فائل ٹھپ کردی جائے گی۔
کسی خاتون کی اجازت کے بغیر اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلانا نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قابلِ مذمت عمل ہے۔ ڈیوو بس کی ایک ہوسٹس کو ہراساں کرنے والا یہ رویہ ہماری معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔
جو لوگ دوسروں کی عزتِ نفس مجروح کرتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں موجود ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی ہونی چاہیئے تاکہ کسی اور خاتون کو اس اذیت کا سامنا نا کرنا پڑے۔
اس ویڈیو کو اتنا پھیلائیں کہ متعلقہ شخص کی فوری شناخت ہو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایسے عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں ملنی چاہیئے۔