شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد لڑکے کی ماں نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا، ’’ہمیں تو کچھ نہیں چاہیے، بس بچوں کے ��مرے کا سامان اچھا ہونا چاہیے۔ رشتے دار آتے ہیں، باتیں بناتے ہیں۔‘‘ لڑکی کا باپ مسکرایا، ’’جی، کوشش کروں گا۔‘‘
اُس رات بیٹی پانی دینے آئی تو باپ کے سامنے گھر کے کاغذات اور ایک پرانی کاپی کھلی پڑی تھی۔ کاپی میں فریج، فرنیچر اور دوسرے سامان کی قیمتیں لکھی تھیں۔ اُس نے پوچھا، ’’ابو، یہ گھر کے کاغذ کیوں نکالے ہیں؟
‘‘ باپ نے جلدی سے کاپی بند کردی، ’’کچھ نہیں بیٹا، تم شادی کی تیاری کرو۔‘‘
اگلی صبح وہ دفتر جانے لگا تو بیٹی دروازے پر آکر کھڑی ہوگئی، ’’ابو، پہلے میرے ساتھ ایک جگہ چلیں گے؟‘‘
باپ اُسے بازار لے جانے کے لیے تیار ہوگیا، مگر اُس نے لڑکے والوں کا پتا بتایا۔ وہاں پہنچ کر اُس نے اپنے منگیتر کے سامنے وہی کاپی رکھ دی،
’’اس میں میری شادی کا سامان لکھا ہے۔ ذرا بتائیے، اس میں سے کون سی چیز کم ہوئی تو آپ کے گھر میں میری عزت کم ہوجائے گی؟
‘‘ لڑک�� بے آرام ہوکر بولا، ’’تم بات کو بڑھا رہی ہو، امّی نے بس عام سی بات کی تھی۔
‘‘ لڑکی نے باپ کے کانپتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، ’’آپ کے لیے عام سی بات تھی، میرے ابو کل سے اپنا گھر بیچنے کا حساب لگا رہے ہیں۔‘‘ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
اُس نے انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ دی، ’’میں ایسا گھر نہیں بسا سکتی جس کے لیے میرے ماں باپ کو بے گھر ہونا پڑے۔
‘‘ واپسی پر باپ کی آنکھیں نم تھیں، ’’لوگ پوچھیں گے تو کیا کہیں گے، بیٹا؟‘‘ اُس نے باپ کا بازو تھام لیا، ’’یہی کہیے گا، میری بیٹی کو سامان کے ساتھ نہیں، عزت کے ساتھ رخصت ہونا تھا۔
‘‘ کچھ مطالبے زبان پر ’’ہمیں کچھ نہیں چاہیے‘‘ بن کر آتے ہیں، مگر کسی باپ کی پوری عمر کی کمائی لے جاتے ہیں۔
جہیز کو رسم کہہ دینے سے اُس کا بوجھ ہلکا نہیں ہوجاتا؛ رشتہ قبول کیجیے، کسی کی استطاعت کا امتحان نہیں۔❣���
نثار بازصاحب ایک سیاسی کارکن ہے، ایک سیاسی جماعت کا ایم پی اے ہے وہ کس سے ملتا ہے کس سے نہیں یہ اس کا ذاتی فعل ہے، رہی بات اس کہ سیاسی پوزیشن کی اور بیان کی تو نثار باز صاحب کا یہ بیان اور ان کی پارٹی کا موقف ہمیں دیکھنا چاہئے، معدنیات کہ حوالے سے جعلی وزیر دفاع کو سب سے پہلے جواب اسی نثار باز نے دیا ہے۔
لہذا ذاتی تنقید سے پرہیز کریں اور جو شخص یا سیاسی جماعت گورنر راج، ایمرجنسی کیخلاف کھڑا ہوتا ہے، آئین کی بالادستی و قانون کی حکمرانی کی بات کرتا ہے اس کو سراہے نہ کہ اس پر تنقید کریں۔
هندية مُسلمة في ولاية راجاستان #الهند تُدعى "رشما" كانت تمشي وهي محجبه وبالخطأ دخلت منطقة هندوس فأنهالوا عليها بالضرب وكبلوها وقادوها الى منطقة معزولة واغتصبوها بشكل جماعي وهذه لحظة إيجادها وهي لاتستطيع المشي بسبب ماواجهت.
��لسطین کے دوسرے مقدس شہر الخلیل سے
1400 مسلمانوں کو رات کے اندھیرے میں
گھروں سے نکال دیا گیا
پورا محلہ خالی کراکر مسلمانوں کے گھروں پر قبضہ کرلیا گیا
کئی مسلمان گرفتار کرلیے گئے
یوں اسرائیل روزانہ فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کررہا ہے
آخر کب تک یہ ظلم ہوتا رہے گا؟
نوشہرہ ورکاں گجرانوالہ میں غریب بچی جو ٹیوشن پڑھاتی ہے اُس نے ٹیوشن فیس کا مطالبہ کیا جس پہ بچے نے اپنے بدمعاش والد کو بتایا اور بدمعاش والد نے ٹیچر کے گھر گھس کے گالیاں نکالی ٹیچر اور اسکی والدہ کو تھپڑ مارے۔
کپڑے پھٹے پورا محلہ اکٹھا ہوا ٹیچر کو اسپتال داخل کروایا گیا علاج ہوا میڈیکل رپورٹ لیکر متاثرہ فیملی تھانہ نوشہرہ ورکاں پہنچی۔
تھانے کے عملے نے درخواست وصول کرلی مگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا ملزمان ابھی بھی اس غریب فیملی کو دھمکا رہے ہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں لگا رہے ہیں۔
ملزمان اثر و رسوخ والے ہیں غریب فیملی کی التجا ہے وزیر اعلیٰ سے اور حکام سے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کاروائی کی جائے۔
محترمہ@MaryamNSharif صاحبہ یہ بھی کسی کی بیٹی ہے
غریب ہیں انکو سارا دن تھانے میں بٹھا کر واپس بھیج دیا گیا ہے۔
@OfficialDPRPP@DCGRW@rpogujranwala@cpogujranwala@CMComplaintCell
🚨 گجرات میں دانا چن گینگ کے سرغنہ شعیب ڈار کا پنجاب کالج کے معصوم طالب علم پر بہیمانہ تشدد!
بچے کو بے دردی سے مارا گیا۔
ایسے غنڈوں کو فوری گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے!
محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ
@MaryamNSharif
آپ کی توجہ کی اشد ضرورت ہے 🙏
یہ دکھ ہہ درد ناقابل بیان ہے۔۔۔یہ ظلم عظیم ہے۔۔۔یہ ظلم عظیم دن کی روشنی میں پوری دنیا کے آنکھوں کے سامنے ہورہاہے،لائیو سٹریمنگ ۔۔۔۔
اس ظلم عظیم کی ذمہ دار پوری دنیا پر ہے۔۔۔۔
مسلم امہ جو اپنے آپ کو رسول اللہ، خاتم النبیین کی امت کہتی ہے وہ بدرجہ اول�� ہے۔۔۔
مسلم۔امہ کے عوام،نوجوان، سیاست دان، پارلیمنٹرینز، جرنیل، علماء سب کو جواب دینا ہوگا۔۔۔۔
اے اللہ غزہ پر رحم فرما۔۔۔۔
پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر ہاوسنگ ڈاکٹر امجد علی نے دریائے کابل کی اربوں روپے کی اراضی نجی کمپنی کو بیچ ڈالی اور اراضی کا ریکارڈ غائب کر دیا
ایسے منصوبوں میں من پسند کمپنیوں کو نوازنے اور ان سے وصولی کے لیے ڈاکٹر امجد نے اپنے خاندان کے 31 افراد کا ایک پورا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا جن کے نام پر اربوں روپے کی بے نامی اور غیر ڈکلیئرڈ جائیدادیں بنائی گئیں
ان میں نمایاں نام یہ ہیں
1۔ امجد علی (سابق صوبائی وزیر/معاونِ )خصوصی)( خود)
2۔ شوکت علی
3۔ حرمت علی
4۔ صفیہ بی بی
5۔ رقیہ بی بی
6۔ فاطمہ علی
7۔ سیما علی
8۔ محمود علی
9۔ احمد علی
10۔ ثناء علی (بیٹی)
11: مبارک علی،
12:کرامت علی،
13: حشمت علی،
14:شجاعت علی،
15:زاہدہ،
16: عظمت علی،
17:خالد خان،
18:ضیاء الرحمن،
19:احسان علی،
20: سعود خان
21: ناہید اختر سمیت ڈاکٹر امج�� علی کے خاندان اور قریبی نیٹ ورک کے 31 افراد کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ان میں سر فہرست ڈاکٹر امجد علی کی بیٹی ثنا ہیں جن کے نام پر فلیٹ (Flat No. A04, 3rd Floor, High Rise Flats Warsak-1) سمیت بہت سی مہنگی پراپرٹیز موجود ہیں ،
نیب نے ہاؤسنگ اتھارٹی (KPHA) کی ان تمام سرکاری گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ، بلنگ کی تفصیلات، پٹرول، لاگ بکس اور مینٹیننس کارڈز بھی طلب کیے ہیں جو سابق وزیرِ ہاؤسنگ یا ان کے فیملی ممبرز کے زیرِ استعمال رہیں۔
تلوے تو چھاٹنا آپکے قیادت کا کام ہے، اور رہے بات ملاقات کی تو یہ گورنر راج لگانے سے پہلے کی ہے، اسے دن ایم پی اے احمد کنڈی اور میں بابر سلیم سواتی کیساتھ میٹنگ کرکے یہاں آئے تھے، اور ویسے بھی اگر ملاقات کرنا بھی ہو کسی بھی سیاسی شخصیت سے تو ڈنکے کی چوٹ پر کرینگے، چوری چپکے نہیں، زرا اس ویڈیو میں احمد کنڈی کی آواز کو غور سے سن لینا کہ کیا کہہ رہا ہے، کسی سے فون پر سی ایم کیساتھ ملاقات کی بارے میں بتا رہا ہیں،
ہر چیز کو پروپیگنڈہ بناکر قوم کو گمراہ کرنے کی وطیرہ آپ لوگوں کی خمیر میں ہیں۔۔۔
اسے معاف کرنا ہے تو شوق سے کر دو لیکن خدارا بچہ اس سفاک عورت کو واپس مت کرنا بلکہ اس کے اُس شہر میں داخلے پر بھی پابندی لگائی جائے جس شہر میں بچہ اپنی نانی کے ساتھ رہ رہا ہے۔
اس سفاک کا جملہ نجانے کتنا عرصہ کانوں میں گونجتا رہے گا جو یہ بچے کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے کہتی ہے کہ ”توں قبر دی تیاری کر۔“
China is connecting Afghanistan to the region which is great news for regional trade. Meanwhile, back home, the Pakistani army and government continue to prioritize their own economic interests—DHA, Fauji Foundation, etc.—over the welfare of the nation. Can anyone name one practical step they've taken to show good intentions for the people? It's all about filling their own pockets. Shameful.
@enkidureborn اس کی کیا گارنٹی ھے کہ کل کو خان کو دوبارہ موقع ملے اور وہ پھر ان کو “قوم کا باپ” قرار دیں؟
جتنے بھی سیاستدان ھیں وہ جب حکومت میں ھوتے ھیں تو ان کے ھر غلط کام کا دفاع کر رھے ھوتے ھیں
جیسے ھی حکومت سے باھ�� ھو جاتے ھیں تو پھر انہیں یاد اتا ھے کہ یہ قوم کے دشمن ھیں
Horrible picture for a Palestinian kidnapped by Israeli occupation forces from Gaza during the height of the genocide
Does this make sense to world leaders?!
میں ایک لیڈر کا آپکو بتاؤ۔ آپ اسکے پاس بیٹھیں وہ آپکو آج بھی جمہوریت کے درس دے گا لیکن وہ اتنا بے شرم آدمی ہے کہ وہ ٹی وی پر بیٹھ کر کہتا تھا کہ 90 دن میں انتخابات نہیں ہونے چاہیے ۔۔اور وہ بے شرم آج بھی موجود ہے اور جمہوریت کے درس دیتا ہے ۔
۔۔حبیب اکرم
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے
یہ شخص، عزت اللہ ہمخیال، جو 2005 سے 2013 تک انصار الاسلام تنظیم کا کمانڈر رہا، آج ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔
اس کی ایک پرانی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ انصار الاسلام کے دور میں لوگوں کو خودکشی پر اکساتا دکھائی دیتا ہے۔
وقت بدل گیا، مگر المیہ یہ ہے کہ ایسے کردار نہ صرف فراموش نہیں ہوئے بلکہ آج خیبر فاٹا کی ایڈوائزری کونسل میں منتخب نمائند�� کے طور پر موجود ہیں۔
یہ ان خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جنہوں نے اس دور میں اپنے پیارے کھوئے، اپنے گھر اجڑتے دیکھے اور خوف و بے بسی کے سائے میں زندگیاں گزاریں۔
یہ صرف ایک ویڈیو نہیں، بلکہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماضی کے دردناک ابواب ابھی تک مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
#وطن_فروش_چوکیدار #معدنیات_فروش #StopStateTerrorism #StopPashtunGenocide
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی کتاب حقیقتِ ایمان کی روشنی میں، انسانی ذہن میں اُٹھنے والے دوسرے بنیادی سوال یعنی "میں کون ہوں؟" (انسان کی حقیقت کیا ہے؟) کی تفصیل درج ذیل ہے:
دوسرا بنیادی سوال: میں کون ہوں؟ (میری حقیقت کیا ہے؟)
یہ سوال انسانی فطرت، اس کے مقصدِ حیات اور اس کے وجود کے گرد گھومتا ہے۔ انسان جب کائنات پر غور کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں:
میری اصل حقیقت کیا ہے؟
کیا میں بھی محض حیوانات کی طرح ایک حیوان ہوں؟ یا میرا مقام ان سے بلند اور مختلف ہے؟
اگر انسان اور حیوان میں کوئی فرق ہے، تو وہ کیا ہے؟
اس وسیع و عریض کائنات ��یں، میرا اصل مقام کیا ہے؟
کائنات کی حقیقت کا الہامی جواب (ایمان باللہ)
فلسفہ اور سائنس انسان کو محض ایک "ارتقاء یافتہ جانور" قرار دے سکتے ہیں، لیکن "ایمان" (وحی کی روشنی میں) انسان کی ایک نہایت بلند اور ارفع حقیقت بیان کرتا ہے۔ الہامی جواب کے مطابق انسانی حقیقت کے درج ذیل پہلو سامنے آتے ہیں:
1. تخلیق کا نقطہ کمال (Climax of Creation):
انسان محض ایک عام مخلوق نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا نقطہ کمال ہے۔ اب تک جو کچھ پیدا کیا گیا، اس میں سب سے بلند ترین مقام انسان کا ہے۔ اسی عظمت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔
2. اللہ کے دونوں ہاتھوں سے تخلیق:
قرآنِ مجید (سورۃ ص: 75) کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے "دونوں ہاتھوں" سے تخلیق کیا ہے۔ مصنف کے مطابق اس سے مراد دو عوالم ہیں: "عالمِ خلق" (مادی دنیا) اور "عالمِ امر" (روحانی دنیا)۔ انسان واحد مخلوق ہے جس کے اند�� یہ دونوں عوالم جمع کر دیے گئے ہیں۔
3. انسان کا دوہرا وجود (مادی اور روحانی):
انسان کی حقیقت اس کے دوہرے وجود میں پوشیدہ ہے:
حیوانی یا مادی وجود: اس کا تعلق "عالمِ خلق" سے ہے۔ یہ زمین سے پیدا کیا گیا ہے اور اسے اسی زمین میں واپس جانا ہے۔
روحانی وجود: اس کا تعلق "عالمِ امر" سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی ہے۔ یہی روح اسے فرشتوں اور جنات سے ممتاز کرتی ہے۔ فرشتے صرف نوری (عالمِ امر) ہیں اور جنات صرف ناری (عالمِ خلق)، جبکہ انسان کے اندر دونوں خصوصیات موجود ہیں۔
4. خلافتِ ارضی اور جوابدہی (Khilafat and Accountability):
انسان کی اس عظیم الشان تخلیق کا ایک مقصد ہے۔ اسے اس زمین پر "خلافت" (نیابت) عطا کی گئی ہے۔ اس اعلیٰ مقام، اس کے اندر پھونکی گئی روح، اور عقل، سماعت اور بصارت جیسی صلاحیتوں کی وجہ سے، انسان اپنے رب کے سامنے "جوابدہ" (مسئول) ہے۔ یہ زندگی ایک امتحان ہے جس کا حساب دینا لازمی ہے۔