نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے ہی مسائل کا حل ہیں ، لیپ ٹاپس تقسیم کرنے سے نظام نہیں بدلے گا ، وزیراعظم بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں وہ اٹھارہ گھنٹے بھی کرلیں تب بھی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے ، پارلیمنٹ کے اندر اس پر بحث ہونی چاہئے ، سب کو بند کمرے میں سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا:محسن نقوی
پیسے سائیڈ پہ کریں جو بات ہو وہ کہنی چاہیے ! پاکستان ہمارا ملک ہے ہم بولیں گے نہیں تو بہتری کیسے آئے گی ؟ ظلم کے خلاف (اگر ہوا ہو) تو آواز تو اٹھانی پڑے گی
@capricorn_lhr@shazi1214 سارا کچھ عوام پے ڈال دیں کؤی بھی اپنی مرضی اور خوشی سے ٹیکس کبھی بھی نہیں دے گا نہ میں نہ آپ۔
ٹیکس لینا حکومت کا کام ے اور وہ اس میں بری طرح ناکام ہے اور آخری بات کہ ہر بات ڈیفنڈ اےبل نہیں ہوتی ۔۔
After 27 days of the legally allowed 90-day tax return filing period have already been lost, the FBR is now expected to allow return submission from Monday. Therefore, the deadline for filing income tax returns should automatically be extended to 27 October 2026 instead of 30 September 2026, so that taxpayers receive the full 90-day filing period provided by law.
This should not be announced at 11:59 PM on 30 September 2026. It should be recognised and communicated well in advance. Moreover, taxpayers are still facing numerous IRIS system glitches, making compliance even more difficult.
متبادل: سیاستدان کیوں جان چھوڑے کرسی کی؟ کیا یہ کرسی مفت میں ملتی ہے؟ کیا یہ سیاستدان کا حق نہیں کہ وہ اپنی ٹرم پوری کرے؟ سیاستدان اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق پانچ سال پورے کیوں نہ کرے؟ حکومتیں آنا جانا کوئی شغل تھوڑا ہی ہے کیا۔ میاں صاحب اور نون لیگ کو یہ حکومت ہر حال میں رکھنی اور کرنی چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے۔ یہ ان کا فرض بھی ہے کہ حالات کے مطابق بہترین حل پیش کریں اور گورننس کی حتی الامکان کوشش کریں۔ سیاست، معیشت اور گورننس کے معاملات میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے اور یہ بہت نارمل ہے۔ اس میں کوئی ایسے ریڈ-سگنلز نہیں کہ سیاستدان حکومت چھوڑے اور جوگ لے لے۔ روایتی سیاستدان سے امید اچھی رکھیں۔ یہ گھوم پھر کے ادھر سڑکوں پر ہی نظر آ جاتے ہیں۔ یہ جرنل باجوے کے نطفے کی پیدائش نہیں کہ جن کے اس ملک و ریاست میں سٹیکس ہی نہیں۔ روایتی سیاستدان وہ سیاستدان ہے جو یہیں رہا، گھوما پھرا تو بھی واپس آیا۔ یہ ریٹائرڈ جج یا جرنل نہیں کہ یہاں سے گیا تو گیا۔ ان پر تنقید ہمارا حق ہے تو ان کے حق کا دفاع کرنا بھی غلط نہیں۔ بحثیت پاکستانی، میں کبھی اپنی ریاست، وطن اور اصیل سیاستدانوں سے اپنی امید ختم نہیں کروں گا۔ پاکستان زندہ باد، جرنل باجوہ مردہ باد۔
بنا سیاق و سباق کے آدھی ادھوری ویڈیو پر پروپیگنڈہ شروع کر دیا یے۔
کار کنفرم انکی اپنی نہیں ہے کیونکہ وہ سرکاری دورے پر ہیں ۔۔۔کار انکو مہیا کی گئی ہے۔
اب کیا معلوم ڈرائیور نے شارٹ پہنی ہوں۔۔
بدمعاشوں جیسی مونچھیں رکھی ہوں یا سلیو لیس شڑٹ پہنی ہو۔۔۔👇 https://t.co/VP2rWLS700