In a controversial move, the Punjab Curriculum and Textbook Board (PCTB) has reportedly ceased the printing of Quranic Chapters (Siparas) for students in grades one through five, sparking concerns among educators and religious publishers.
#Controversy#Islam#Punjab#printing
عمران خان کا ماسٹر سٹروک!
(ایک یاد دہانی)
جناب @ZafarDar کی ایک بہترین تحریر ۔۔۔ یہ جہاں تک پہنچے ، پہنچائی جاۓ ۔
9 اپریل 2022 رات 12 بجے تک آخری ڈیڈ لائن تھی،
قومی اسمبلی کا انتہائی اہم اجلاس جان بوجھ کے آخری وقت تک کھینچا گیا،
آخری بال،
آخری چال،
آخری گھنٹہ اور آخری پتہ،
سب پریشان تھے کیا ہونے جا رہا ہے،
اعصاب کی جنگ تھی، سارا دن گزر گیا
بات آخری لمحوں تک پہنچ گئی،
ٹھیکیداروں کے اعصاب جواب دینے لگے انہیں ساری محنت ضائع ہوتی ہوئی نظر ائی،
جو اب تک پس پردہ چھپے بیٹھے تھے انہیں
مجبوراً سامنے آنا پڑا، ایکسپوز ہونا پڑا،
آخری گھنٹے میں سب ایکٹو ہو گئے،
چھٹی کے دن آدھی رات کو عدالتیں کھل گئیں،
منصفان ریاست جوق در جوق پہنچنے لگے،
ساری اپوزیشن آدھی رات تک قومی اسمبلی میں بیٹھی رہی،
قیدیوں والی گاڑیاں پہنچیں، ایجنسیاں حرکت میں آئیں اورسب کنٹرول کیا جانےلگا.
یہی وہ وقت تھا جس کیلئےکپتان نے
اتنی لمبی اعصابی جنگ لڑی
اتنی زیادہ محنت کی تھی،
کپتان نے میڈیا کو بلایا،
سوشل میڈیا پہ سب لائیو جا رہا تھا،
اندر کی خبریں باہر آ رہی تھیں،
کپتان نے معنی خیز مسکراہٹ کیساتھ پوچھا،
کوئی رہ تو نہیں گیاجو میرے خلاف نہ ہوا ہو،
مطلب کوئی رہ تو نہیں گیا جو واضح طور پر قوم کے سامنے ایکسپوز نہ ہوا ہو،
صحافیوں نے کہاجی نہیں،
وہ اٹھا، ڈائری اٹھائی اور وکٹری نشان بناتا ہوا
اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا،
بظاہر ہار کے جا رہا تھا مگر حقیقت میں
یہی اس کی جیت تھی،
وہ سب پردہ نشینوں کے منہ سے نقاب نوچ کے جا رہا تھا،
وہ سب کو بے نقاب کر کے جا رہا تھا،
وہ سب بکاو اور مفت خوروں کو بیچ بازار ننگا کرکےجا رہا تھا
وہ قوم کو اصل مجرم، اصل غدار دکھا کےجا رہا تھا،
اس کا مقصد پورا ہوا،
پردے کے پیچھے بیٹھے اصل ہرکارے قوم کے سامنے
ایکسپوز ہو چکے تھے،
یہی اس کی جیت تھی،
یہی اس کا ماسٹر اسٹروک تھا ۔۔۔
ألا لعنة الله على المنافقين
یہ مختصر سی دستاویزی فلم ان تمام غیرآئینی اور غیرقانونی حربوں اور ہتھکنڈوں کا خلاصہ ہے جو گزشتہ 10 ماہ کے دوران پاکستان میں قبل ازانتخاب دھاندلی کیلئے استعمال کئے گئے۔
مگر اللہ الحق ہے۔
تحریک انصاف (اللہ کے فضل سے) آج اپنی مقبولیت کی معراج پر ہے چنانچہ انتخاب کے روز ہر ووٹر اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنےنکلے گا۔ یوں کروڑوں پاکستانی اپنے ووٹ کی طاقت سےدھاندلی کی ان تمام کوششوں کو خاک میں ملائیں گے، ان شاء اللہ!
تحریک انصاف کے دور میں شروع ہونے والے دیا میر بھاشا ڈیم کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، یہ تحریک انصاف کے دورِ حکومت کا تاریخی اقدام ہے!
#لیڈر_صرف_عمران_خان
ظلم، جبر، فسطائیت سب کچھ آزما کر دیکھ لیا۔ قوم نے اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔
8 فروری کو قوم اس فیصلے پر مہر لگا کر اسے حتمی شکل دے گی! #فروری8_بلے_پہ_ٹھپہ#عمران_خان_تو_آئے_گا
عدت کے دوران نکاح والے کیس میں عمران خان صاحب اور بشری بی بی صاحبہ سیکشن 248 ضابطہ فوجداری کے تحت باعزت بری ہو گئے!
درخواست گزار ایک فراڈیہ پلانٹ کیا ہوا شخص تھا اس نے یہ درخواست واپس لے لی ہے،آۓ روز ایسی تہمتیں لگائی جا رہی ہیں لیکن اللہ جسے عزت دیتا ہے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا!
190 ملین پاؤنڈز پاکستان واپس آئے اور سپریم کورٹ کے پاس موجود ہیں۔
القادر یونیورسٹی قائم ہے جس میں غریب بچے سیرت اور جدید تعلیم مفت حاصل کررہے ہیں۔
یونیورسٹی کے انتظامی معاملات ٹرسٹ کے ذمّے ہیں۔
ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق القادر ٹرسٹ سے عمران خان یا ان کی اہلیہ ایک پائی کا ذاتی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔
نہ 190 ملین پاؤنڈ عمران خان کے اکاؤنٹ میں ہے نہ ہی ٹرسٹ کی زمین یا بلڈنگ ان کی ملکیت ہے۔
جب عمران خان نے اس سارے معاملے سے ایک پائی کا فائدہ نہیں اٹھایا تو مقدمہ کس بات کا۔
#میرا_لیڈر_ہے_عمران
#ووٹ_سے_لیں_گے_انتقام
خاور مانیکا کا اغوا سے پہلے کا بیان خود سن لیں عمران خان کے بارے میں کیا کہتے تھے اغوا کرنے والوں سے گزارش ہے پہلے پچھلی والی ویڈیوز ڈیلیٹ کروا دیا کریں!!
اگر صیہونی الُٹے بھی لٹک جائیں تو میں یقین نہیں کرسکتا کہ جنگ بندی کے بعد بھی وہ سارشیں نہیں کرینگے۔
وہ فقط اس لئیے جنگ بندی کررہے ہیں کہ ان کو حماس حزب اللہ انصار اللہ اور اسلامک مزاحمت عراق نے چنے چبوا دئیے ہیں۔
وہ فقط اس لئیے جنگ بندی چاہتے ہیں کہ اُن کا بیانیہ پہلی مرتبہ پُوری دُنیا میں برہنہ ہوگیا ہے
وہ فقط اس لئیے جنگ بندی چاہتے ہیں کہ امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ اب امریکی عوام اسرائیل کو نہیں دینا چاہتی
وہ فقط اس لئیے جنگ بندی چاہتے ہیں کہ پُوری دُنیا میں مظاہرے اسرائیل کو بدنام کررہے ہیں
وہ فقط اس لئیے جنگ بندی چاہتے ہیں کہ اگر یہ جنگ چلتی رہی تو جو رہی سہی “ہمدردی” اسرائیل کے لئیے چند لوگوں میں باقی ہے وہ بھی مجبوراً ختم ہوجائیگی
جو قوم ایک مُلک میں داخل ہو مہاجرین بن کر اور اسی مُلک پر 76 سال سے قبضہ کر بیٹھی ہو وہ قوم نہیں بلکہ ایک احسان فراموشوں کا ٹولہ ہے اور احسان فراموش کبھی احسان مند نہیں بن سکتا۔