💔 “دادی کے انتقال کے بعد گیارہ سال تک دادا ابو بہت خاموش رہے لیکن ایک دن میری بھانجی نے ان کی خاموش زندگی میں ایسا سوال اٹھا دیا کہ ہم سب حیران ہوگئے ” 🥀
میرا نام مریم ہے۔
عمر چوالیس سال۔
میرے دادا جان کا نام عبدالرؤف ہے۔
عمر چھیاسی برس۔
دادی جان کو گئے گیارہ سال ہو چکے ہیں۔
اُن کے جانے کے بعد دادا جان زندہ تو رہے، مگر جیسے اُن کے اندر کا ایک کمرہ بند ہو گیا۔
وہ نماز پڑھتے تھے۔
دو وقت کھانا کھاتے تھے۔
دعائیں دیتے تھے۔
خاندان کی شادیوں، عیدوں، چہلم، سالگرہ، ہر جگہ آ جاتے تھے۔
مگر بس آ جاتے تھے۔
بیٹھتے تھے۔
کھانا کھاتے تھے۔
کوئی سوال پوچھتا تو مختصر جواب دے دیتے۔
“طبیعت کیسی ہے؟”
“ٹھیک۔”
“کھانا پسند آیا؟”
“اچھا ہے۔”
“دوائی لی؟”
“لے لی۔”
بس۔
یہ وہی دادا جان تھے جو کبھی محفل کی جان ہوا کرتے تھے۔
جن کے پاس ہر بات کا ایک قصہ ہوتا تھا۔
کبھی ریلوے ورکشاپ کے زمانے کا۔
کبھی دادی جان کی ضد کا۔
کبھی پرانی راولپنڈی کی بارشوں کا۔
کبھی اُس وقت کا جب گھر میں ایک ریڈیو تھا اور پورا محلہ خبریں سننے آ جاتا تھا۔
دادی جان کے ہوتے ہوئے دادا جان بہت بولتے تھے۔
دادی جان اُن کی ہر بات کے بیچ ٹوک دیتیں:
“بس بھی کریں رؤف صاحب، ہر واقعہ تیسری بار نہ سنایا کریں۔”
اور دادا جان فوراً کہتے:
“بیگم، تیسری بار سنانے سے واقعہ پکا ہو جاتا ہے۔”
سب ہنس پڑتے۔
دادی جان بھی۔
پھر دادی جان چلی گئیں۔
اور دادا جان کے واقعات بھی اُن کے ساتھ چلے گئے۔
شروع شروع میں ہم نے بہت کوشش کی۔
“دادا جان، وہ قصہ سنائیں نا جب آپ نے دادی کو پہلی بار دیکھا تھا۔”
وہ مسکرا دیتے۔
“اب کیا سنانا۔”
“دادا جان، آپ کی جوانی کی تصویر کہاں ہے؟”
“کہیں رکھی ہو گی۔”
“دادا جان، آپ پہلے بہت ہنساتے تھے ہمیں۔”
وہ کہتے:
“وقت بدل جاتا ہے بیٹا۔”
آہستہ آہستہ ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا۔
شاید ہمیں لگا بزرگوں کی خاموشی بھی بڑھاپے کا حصہ ہوتی ہے۔
شاید ہم نے اپنی سہولت کیلئے اُن کے غم کو “طبیعت” کا نام دے دیا۔
پچھلی عید کی بات ہے۔
گھر میں سب جمع تھے۔
امی نے مٹن پلاؤ بن��یا تھا۔
چچا کباب لائے تھے۔
بچے عیدی گن رہے تھے۔
خواتین باورچی خانے اور ڈرائنگ روم کے درمیان چکر لگا رہی تھیں۔
مرد سیاست پر وہی پرانی بحث کر رہے تھے جس کا کوئی نتیجہ کبھی نہیں نکلتا۔
دادا جان ہمیشہ کی طرح میز کے سرے پر بیٹھے تھے۔
صاف سفید کُرتا۔
ہلکی سی کالی واسکٹ۔
چھڑی کرسی کے ساتھ ٹکی ہوئی۔
پلیٹ میں تھوڑا سا پلاؤ، ایک کباب، اور سلاد کا ایک ٹکڑا۔
وہ کھا رہے تھے، مگر جیسے کھانے سے زیادہ رسم نبھا رہے ہوں۔
میری آٹھ سالہ بھانجی عینی اُس دن اُن کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
بچوں کو بزرگوں کی خاموشی اتنی خوفناک نہیں لگتی جتنی بڑوں کو لگتی ہے۔
وہ اُنہیں ��یمار یا اداس نہیں سمجھتے۔
بس ایک نیا انسان سمجھتے ہیں جس سے سوال کیا جا سکتا ہے۔
عینی کھاتے کھاتے دادا جان کے ہاتھ دیکھنے لگی۔
دادا جان کے ہاتھ بہت عجیب ہیں۔
موٹے، خشک، رگوں والے۔
انگلیوں پر پرانے زخموں کے نشان۔
ہتھیلی پر ایک لمبی سی لکیر، جیسے کسی نے چاقو سے کبھی راستہ بنا دیا ہو۔
وہ ہاتھ بتاتے تھے کہ یہ آدمی زندگی بھر کام کرتا رہا ہے۔
عینی نے اچانک دادا جان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ہم سب اپنی اپنی باتوں میں لگے تھے، مگر میری نظر اُن پر تھی۔
عینی نے اُن کی ہتھیلی کے نشان پر انگلی رکھی۔
“دادا جان، یہ کٹ کیسے لگا تھا؟”
دادا جان نے پہلے اپنے ہاتھ کو دیکھا۔
پھر عینی کو۔
چند لمحے وہ خاموش رہے۔
پھر بہت آہستہ سے بولے:
“یہ؟ یہ تانبے کے پائپ سے لگا تھا۔ انیس سو ستاسی میں۔”
میرے ہاتھ سے چمچ رک گیا۔
دادا جان نے سال بتایا تھا۔
گیارہ سال بعد انہوں نے کسی بات کو تاریخ دی تھی۔
عینی ��ے فوراً پوچھا:
“خون نکلا تھا؟”
دادا جان کے ہونٹوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“اتنا کہ تمہاری دادی نے پورا راستہ مجھے ڈانٹا۔”
میز پر گفتگو آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔
عینی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اُس نے کیا کھول دیا ہے۔
“دادی نے کیوں ڈانٹا؟”
دادا جان نے پلیٹ ایک طرف کی۔
“کیونکہ میں نے کام کرتے ہوئے دستانے نہیں پہنے تھے۔ وہ کہتی تھیں، رؤف صاحب، آپ کو اپنی جان سے زیادہ ��وزار پیارے ہیں۔”
چچا نے سر اٹھایا۔
امی نے کچن سے آ کر دروازے میں کھڑے ہو کر سننا شروع کیا۔
دادا جان اب عینی سے نہیں، جیسے کسی پرانے دن سے بات کر رہے تھے۔
“میں ورکشاپ میں تھا۔ پائپ کا کنارہ تیز تھا۔ ہاتھ پھسل گیا۔ کٹ لگ گیا۔ میں نے کپڑا باندھا اور کام کرتا رہا۔ شام کو گھر آیا تو تمہاری دادی نے دیکھا۔ پہلے چیخیں، پھر روتی ہوئی مجھے ہسپتال لے گئیں۔”
عینی نے معصومیت سے پوچھا:
“آپ روئے تھے؟”
دادا جان نے گلا صاف کیا۔
“اُس زمانے کے مرد روتے نہیں تھے۔”
پھر تھوڑی دیر بعد بولے:
“بس… تھوڑا سا۔”
👇
تیسری ایکسرسائز
military press
اس سے آپ کے کندھے بازو کمر اور ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور gravity کے against کسی بھی چیز کو اٹھا کر رکھنے میں آسانی ہوتی ہے
ر��زمرہ زندگی میں اکثر کچن کیبنٹس یا الماری کے اوپر خانے سے کچھ اٹھانا یا رکھنا ہوتا ہے
یہ بھی فطری انداز کا حصہ ہے
ایک مسلمان اور انسان ہونے کے ناطے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں میرے بچے 😭 دنیا آپ کے معاملے میں ناکام ہوگئی اور شیطانیت جیت گئی
کاش میں آپ کو گود میں اٹھا ��کتا 💔
فل سطین پر جو ظلم ہوا ، ہم دیکھنے والوں کو کبھی معافی نہیں ملے گی
اس منظر کا ہر پہلو ہلا دینے والا اور کربناک ہے۔
ایک بچہ اپنی سائیکل پر سوار تھا اور اسرائیلی "کواڈ کاپٹر" ڈرون سے گرائے گئے بم کا نشانہ بننے کے بعد زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا—بغیر کسی وجہ کے، محض اس لیے کہ ڈرون آپریٹر نے ایک فلسطینی کو شہید کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اور دوسری طرف، بے بس لوگ اپنے سامنے یہ منظر دیکھ ��ہے تھے، مگر اس جگہ موجود خطرے کے باعث وہ نہ تو مدد کر پا رہے تھے اور نہ ہی اسے بچا سکتے تھے۔
محض بے بسی کا یہ احساس ہی جان لیوا ہے، اور یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے۔
قابضانہ تسلط (Occupation) کا یہی مطلب ہے۔
علاقہ صابرہ - غزہ شہر کے ج��وب میں
پاکستان میں زندگی گزارنے کے 15 طریقے
پاکستان میں زندگی گزارنا ایک فن ہے، اور یہاں وہی شخص سکون سے رہتا ہے جو حالات سے لڑنے کی بجائے انہیں ”ہینڈل“ کرنا سیکھ لے۔ یہ وہ 15 زمینی حقائق ہیں جنہیں اگر آپ حکمت اور سمجھداری کی ”میٹھی گولی“ سمجھ کر نگل لیں، تو آپ کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔
1-ظاہر پر یقین
یہاں لوگ کتاب کو اس کے سرورق سے جج کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت، لباس اور گفتگو کا انداز آپ کی آدھی کامیابی ہے۔ اگر آپ خود کو اچھے طریقے سے پیش کریں گے (Well-dressed)، تو دکان ہو یا دفتر، آپ کو عزت اور راستہ دونوں ملیں گے۔ اسے دکھاوا نہ سمجھیں، اسے ”پریزنٹیشن“ سمجھیں۔
2-تعلقات ایک سرمایہ ہیں
اسے سفارش کہہ کر مسترد نہ کریں، اسے ”تعلقاتِ عامہ“ (PR) سمجھیں۔ مشکل وقت میں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ لوگوں سے خلوص سے ملیں اور تعلق بنائیں، کیونکہ پاکستان میں ایک فون کال وہ کام کروا سکتی ہے جو مہینوں کی خواری نہیں کروا سکتی۔
3-اپنی خوشی کی حفاظت
نظر لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ اپنی کامیابی، اپنی تنخواہ اور اپنے مستقبل کے پلانز کو راز رکھیں۔ خوشی کا شور مچانے کے بجائے اسے خاموشی سے منائیں، کیونکہ خاموشی میں سکون ہے اور شور میں حسد۔
4-اپنی مدد آپ
کسی مسیحا یا حکومت کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈیں۔ یہاں سسٹم تھوڑا سست ہے، اس لیے جو شخص اپنی ذمہ داری خود اٹھا لیتا ہے اور متبادل انتظام (جیسے جنریٹر، سولر، پرائیویٹ میڈیکل) کر لیتا ہے، وہ ڈپریشن سے بچ جاتا ہے۔
5-زبان کی مٹھاس
پاکستان میں لہجے کی سختی کام بگاڑ دیتی ہے اور زبان کی مٹھاس پہاڑ جیسا مسئلہ حل کروا دیتی ہے۔ ”بھائی جان“ اور ”محترم“ کہہ کر بات کرنے سے آپ کا کام جلدی ہو جاتا ہے۔ یہاں غصے کی بجائے عاجزی زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔
6-انگریزی بطور ہنر
انگریزی سے مرعوب ہونے کی بجائے اسے ایک ”ٹول“ یا اوزار سمجھ کر سیکھ لیں۔ یہ بین الاقوامی زبان ہے اور ترقی کی چابی ہے۔ اگر آپ کو اچھی انگریزی آتی ہے تو آپ کی بات زیادہ وزن دار سمجھی جاتی ہے، اسے اپنی پروفیشنل لائف کا حصہ بنائیں۔
7-صحت سب سے پہلے
سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کے پیشِ نظر دانشمندی اسی میں ہے کہ بیماری کا انتظار نہ کیا جائے۔ اپنی خوراک اور ورزش پر دھیان دیں تاکہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ یہاں پرہیز علاج سے واقعی بہت بہتر ہے۔
8-بحث سے گریز
سڑک پر یا سوشل میڈیا پر بحث مباحثہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے ذہنی دباؤ کے۔ یہاں ہر شخص اپنی رائے میں حق بجانب ہے۔ مسکرا کر گزر جانا یا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں“ کہہ کر بات ختم کر دینا ذہنی سکون کی ضمانت ہے۔
9-مالی منصوبہ بندی
مہنگائی ایک حقیقت ہے، اس پر کڑھنے کی بجائے اپنی آمدنی بڑھانے پر توجہ دیں۔ بچت کو کیش کی صورت میں رکھنے کے بجائے کسی ایسی چیز (سونا/پلاٹ) میں رکھیں جس کی قیمت وقت کے ساتھ بڑھے۔ یہ معاشی سمجھداری ہے۔
10-امید لیکن تیاری کے ساتھ
اچھے کی امید رکھیں لیکن برے حالات کے لیے تیار رہیں۔ اپنے پاس ہمیشہ ایک ”پلان بی“ رکھیں۔ چاہے وہ آمدنی کا دوسرا ذریعہ ہو یا ایمرجنسی فنڈ، یہ آپ کو راتوں کو پرسکون نیند دے گا۔
11-رشتہ داروں سے فاصلہ اور محبت
رشتہ داروں سے محبت ضرور کریں لیکن اپنے مالی اور نجی معاملات میں ایک حد (Boundary) قائم رکھیں۔ دوریوں میں عزت برقرار رہتی ہے۔ میل جول اتنا رکھیں جتنا دونوں طرف سے خوش اسلوبی سے نبھایا جا سکے۔
12-قانون اور احتیاط
قانون کو توڑنے کی بجائے اس کے احترام کو اپنی طاقت بنائیں۔ ہیلمٹ پہننا، لائسنس ساتھ رکھنا اور ٹیکس دینا آپ کو پولیس یا اداروں کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ قانون پر عمل کرنا دراصل خود کو محفوظ کرنا ہے۔
13-ہنر کی قدر
صرف ڈگری پر انحصار کرنے کی بجائے کوئی ایسا ہنر سیکھیں جس کی مارکیٹ میں مانگ ہو۔ ڈگری آپ کو انٹرویو تک لے جائے گی، لیکن آپ کا ہنر (Skill) آپ کو کرسی پر بٹھائے گا اور ترقی دے گا۔
14-وقت کی قدر
اگرچہ یہاں وقت کی پابندی کم ہوتی ہے، لیکن اگر آپ وقت کے پابند بن جائیں تو آپ دوسروں سے ممتاز (Stand out) ہو جائیں گے۔ جو شخص دوسروں کے وقت کی عزت کرتا ہے، لوگ اس پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔
15-شکر گزاری
اتنے مسائل کے باوجود پاکستان میں جو نعمتیں (خاندان، کھانا، آزادی) میسر ہیں، ان پر شکر ادا کریں۔ شکوہ کرنے سے نعمتیں کم لگتی ہیں، شکر کرنے سے ان میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ مثبت رویہ ہی سب سے بڑی دولت ہے۔
محرک کا مشورہ
پاکستان گلاب کے پھول کی طرح ہے، اس میں کانٹے (مسائل) ضرور ہیں لیکن اس کی خوشبو (اپنائیت اور مواقع) بھی لاجواب ہے۔ کانٹوں سے دامن بچائیں اور خوشبو سے لطف اٹھائیں۔ یہاں جینا مشکل نہیں، بس تھوڑا ”اسمارٹ“ ہونا پڑتا ہے۔
جاوی��_تیمور
اس بندے کی بات اگر سمجھ آجاۓ تو انسان بہت سی مشکلات اور مصیبتوں سے بچ سکتا ہے۔
بعض اوقات چھوٹی سی بات بہت بڑی الجھن اور پریشانی بن جاتی ہے۔
لیکن اگر اسی چھوٹی سی بات کو نظر انداز کرد��ا جاۓ تو بندہ بہت پرسکون رہ سکتا ہے۔
اسی لی��ے کہتے ہیں کے لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی۔
جیو نے یہ ایک ایسی لائن کراس کی ہے جس کی پاکستان کے قانون اور مسلمان کے دل میں کوئی گنجائش نہیں۔
قوم تیار رہے، ایک زبردست قانونی جدوجہد کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ اب یہ گستاخیاں مزید برداشت نہیں کی جا سکتیں۔
ان میں سے کسی بھی لنک پر کلک کریں تو آپ کے ای میل ایپ میں آپ کی طرف سے چیئرمین پیمرا کو ایک تیار شدہ ای میل نظر آئے گی۔ آپ نے بس send کا بٹن دبانا ہے اور آپ کی طرف سے شکایت پہنچ جائے گی
https://t.co/Nf2zwqjAK7
https://t.co/yAIzPYkQth
https://t.co/j50T6JBQwN
https://t.co/c52CDyM1v6
https://t.co/7UVmrVJNsE
https://t.co/gkgVgEjy6a
🇵🇰🇮🇷🇺🇸 Pakistan's last-minute ceasefire initiative in the Gulf, just before the expiration of Trump's arrogant deadline, deserves all appreciation & gratitude.
I wonder :
▪️What if the charismatic leader Imran Khan were still in power?
▪️I believe he could have intervened immediately after the war began & mediated between the two sides to stop the fighting & prevent further losses for both Iran & the Gulf states.
This is just a thought crossed my mind while browsing the news.
No matter what happens next in the war
No matter who wins the war
No matter what deal will Iran sign
But these two 🇮🇷 people will go down as one of the bravest, most courageous and men with strongest spines on the earth 🔥
RESPECT is unconditional for them 🫡