مطیع اللہ جان اسٹیبلشمنٹ کو آئینہ دکھاتے ہوئے۔
جو لوگ قسم کھا کر کہتے ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ تین تین گھنٹے سیاسی پریس کانفرنس کرتے ہیں، اور جو ایک سابق وزیر اعظم ہے جیل میں اسے آپ سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں دیتے.
عمران خان کے پرانے انٹرویو کا چھوٹا سا یادگار حصہ جہاں وہ کھل کر دل کی بات کر رہے ہیں۔
کیسا بےلوث، محب وطن پاکستانی آج وطن سے محبت کی سزا کاٹ رہا ہے۔ :(
Inna Lillahi wa Inna Ilayhi Raji’un.
Deeply saddened by the martyrdom of CTD DSP Imranuddin Shaheed in Karak, Khyber Pakhtunkhwa, we mourn his exceptional courage, unwavering integrity, and unbreakable commitment to duty. A fearless officer, he survived repeated assassination attempts, bomb blasts, and gunfire, refusing to let fear dictate his choices.
Despite being wounded, his resolve never faltered. When offered a safer posting, he refused, saying, “The terrorists will think I got scared.” His words capture his refusal to surrender to fear. For him, duty was a commitment upheld with honor, courage, and extraordinary responsibility.
From leading high-risk operations to safeguarding his people, DSP Imranuddin chose to lead from the front, even when the cost was his life. He had every reason to step away from danger, yet he remained steadfast in his mission until his final breath.
Pakistan has lost a brave son, Khyber Pakhtunkhwa has lost a devoted protector, and his fellow officers have lost a comrade whose courage will remain an enduring example of service and sacrifice.
His martyrdom is a profound loss, but his legacy will live on in his courage, duty, and the lives he sought to protect.
May Allah Almighty grant DSP Imranuddin Shaheed the highest ranks in Jannat-ul-Firdous, accept his sacrifice, and grant his family, loved ones, and colleagues the strength and patience to bear this devastating loss.
Ameen.
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہشتگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
عمران خان نے اسلام آباد کے غریبوں، مزدوروں اور جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے لیے 4,400 کوارٹرز کا جو خواب دیکھا تھا، وہ 90 فیصد مکمل ہونے کے بعد سیاسی بغض کی بھینٹ چڑھ گیا۔ 10 ہزار خاندان جن کی آنکھوں میں عمران خان نے اپنے گھر کا خواب سجایا تھا، آج ان کی امیدیں اس ظالم جعلی حکومت کی بےحسی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔انتقام عمران خان سے تھا، لیکن سزائیں غریب عوام کو کیوں؟ عمارتیں بن گئیں، چھتیں ڈل گئیں، لیکن صرف عمران خان کی تختی نہ لگنے دینے کی انا نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر رکھا ہوا ہے۔
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
تحریک انصاف کے سینٹر حامد خان کی ہدایت پر لاہور بار کے صدر عرفان حیات باجوہ نے ایوان عدل سے پی ایم جی چوک تک خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور وزیر اعلی سہیل افریدی کی رہائی کےلیے وکلاء کی ریلی نکالی۔۔۔ریلی میں وکلاء کی بڑی تعداد شریک ہیں