Nadia khar MPA raised some pertinent points for CM Mariyam… look at projects and then see amounts released and only one conclusion!! Punjab Govt is only a #TikTok Government
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی۔۔ یوں کوئ بےوفا نہیں ہوتا۔۔ دل تو بہت چاھتا ہے سچ بولوں۔۔ مگر حوصلہ نہیں ہوتا۔۔۔۔
اس خوبصورت شعر اور اس طرح کے سینکڑوں خوبصور اشعار کے کے خالق بشیر بدر آج کراچی میں انتقال کر گئے۔۔ خدا انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ز#RIP
ARY News YouTube feed bhi insaan hi chala rahe hain 😅
Yesterday due to a human error, our YouTube feed accidentally switched to the studio a few minutes before headlines… and our anchors were caught in their natural habitat casually scrolling phones, relaxing and waiting for “ON AIR”
It wasn’t being monitored because it was “just the YouTube feed”… lesson learned YouTube bhi full VIP monitoring deserve karta hai 😭
The clip has now gone viral with everyone becoming instant media analysts and meme experts 🤣
But honestly, seeing people watch ARY News this minutely and passionately is actually amazing. Thank you for the love, the memes, the trolling and the attention ❤️
Keep watching ARY News… preferably after the countdown starts next time 🤪🫡
The Great Escape
آپ نے انسانوں کی قید اور اغوا سے فرار کی سینکڑوں کہانیاں پڑھی ہوں گی یا فلمیں دیکھی ہوں گی۔ لیکن چین میں کچھ دن پہلے سات پالتو کتوں کی اپنےاغوا کے بعد چلتے ٹرک سے اتر کر سترہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر واپس مالک تک گھر پہنچنے کا ویڈیو کلپ اس وقت سوشل میڈیا پر ریکارڈ بریک کررہی ہے۔
ہالی ووڈ کی تاریخ میں قید سے فرار کی کئی شاہکار فلمیں بنائی گئی ہیں۔ کئی ناول لکھے گئے جس میں سب سے خوبصورت فرانسیسی ناول
The Count Of Monti Cristo
جو الیگزنڈر ڈوما نے لکھا تھا اور جس پر فلمیں بھی بنتی رہی ہیں کہ کیسے ایک ایک دوست نے دوسرے کو دھوکے سے نپولین کے فرانس میں قید کرادیا تھا تاکہ اس کی خوبصورت منگیتر کو چرا سکے۔ خیر وہ کس طرح سمندری جزیرے کے قید خانے سے فرار ہوا وہ الگ کہانی ہے۔
مجھے یاد ہے لندن میں 2007 میں یہ ناول Ilford ایکسچینج کے قریب واٹر اسٹون سے خریدا تھا تو وہاں موجود سیلز پرسن ایک بوڑھی گوری اتنی خوش ہوئی کہ مجھے کہا
Oh Darling. Its my all times favorite.
I will give you 10pc discount.
اس طرح مشہور زمانہ پیپلن کا فرار (Papillon) بھی بڑا ناول ہے۔
خیر چین میں کسی چور نے ایک بندے کے گھر سے اس کے سات پالتو کتے چوری کیے جو وہ اس قصبے سے دور اس دکان کو بیچنے جارہا تھا جو Dog meat میں بزنس کرتی ہے۔ ان ڈاگ میں جرمن شیفرڈ اور دیگر اہم نسلوں کے ڈاگ تھے۔
چین میں کتوں کو چوری کرنے کی سزا قید یا جرمانہ ہے جو کتے کی مالیت اور اہمیت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔
راستے میں کہیں ٹرک رکا یا چلتے ٹرک سے وہ ساتوں ڈاگ چوری سے اترے اور بھاگ گئے۔ یہ ساتوں ڈاگ جو اپنے گائوں میں اکھٹے ہی پھرتے رہتے تھے انہوں نے اب اس مشکل میں حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک دوسرے کو تسلی دی۔ ان سب نے اپنا گروپ بنایا اور واپس چل پڑے۔
ایک دوسرے کا خیال کرتے کہ کہیں کوئی پیچھے تو نہیں رہ گیا تو کہیں رک جاتے۔ جرمن شفیرڈ زخمی تھا تو اس ان ڈاگز نے درمیان میں رکھا تاکہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے۔
سڑک پر کسی نے ان سات کتوں کو اس ترتیب اور الرٹ ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ چلتے دیکھا تو اس نے ویڈیو بنا کر کلپ سوشل میڈیا پر ڈال دیا جو وائرل ہوگیا۔
کچھ لوگوں نے ان ڈاگز کی مدد کی کوشش کی تو انکار کر کے چلتے گئے۔ کھیتوں تک سے گزرے اور آخر گھر تک پہنچے۔
جب یہ وڈیو وائرل ہوئی تو اکثر کا خیال تھا یہ جھوٹی کہانی ہے۔ اب باقاعدہ کنفرم کیا گیا ہے کہ یہ سچا واقعہ ہے اور وہاں چین کے اخبارات میں اس خبر کا لنک بھی شئیر کیا گیا ہے۔
کچھ کہنا ہے اس گریٹ اسکیپ پر فلم بننی چاہیے کہ کیسے ان ڈاگز نے ذہانت سے کام لیا، ٹرک سے فرار ہوئے، فارمیشن بنا کر سترہ کلو میٹر کا سفر طے کیا، راستے میں کسی کی مدد نہیں لی کہ پھر اغوا نہ ہو جائیں اور اپنے زخمی جرمن شیفرڈ کامریڈ کا بھی خیال رکھا اور مالک تک دوبارہ پہنچے۔۔
اس کہانی کا اخلاقی سبق ایک ہے جو مشکل ترین حالات میں نروس سسٹم کو برقرار رکھ کر اپنا حوصلہ نہیں چھوڑتے وہی منزل تک پہنچتے ہیں۔
تحریر/رئوف کلاسرا
It is deeply unfortunate that an experienced journalist like Mr. Hussain would make such a sweeping statement. I spent 17 long years working at Dawn, and I can state with authority that such typographical errors, while regrettable, were not uncommon in the industry. Even globally respected institutions like The New York Times maintain a regular corrections column to address mistakes from previous day publications.
At Dawn, I recall a notable incident back in 2014 when our chief copy editor mistakenly expanded “PTI” as “Tehrik Taliban Pakistan” in a report. Upon review, it became clear that the error occurred because the story was about PTI, and in the editing process, TTP was inadvertently altered. During those days lots of stories about TTP was being published. The fallout was immediate—Dr. Shireen Mazari, then Information Secretary of PTI, reacted strongly, and Dawn issued a formal apology the very next day.
Given his own experience as a former editor, Mr. Hussain is fully aware of how such errors can occur despite editorial safeguards. To present them as anything more than human oversight reflects a lack of professional nuance and fairness.
As a Former journalist u should very well know m, like any other organisation even a news room can also have human errors
So pls Let’s not turn an isolated human error into a sweeping judgment on an entire organisation