پھر یوں ہوا کہ سال بیت گیا! خواہشوں کی سلگتی بھٹی میں دن جلتے رہے، راتیں راکھ ہوتی رہیں اور تگ و دو کا کڑا سفر گرتی ہوئی دیواروں اور اکھڑتی سانسوں کے بیچ سے گزرتا رہا۔ اب وقت نے جو اس سفر کا حساب مانگا، تو معلوم ہوا کہ ایک سال نہیں، ہم نے اپنے اندر صدیوں کا ملبہ سمیٹا ہے۔
اے اللّٰہ عزوجل جمعے کے مبارک دن کے صدقے ہمارے قائدین کو شاندار رہائی عطاء فرما🤲
اے اللّٰہ عزوجل ہماری تحریک سے تعلق رکھنے والے تمام احباب کی حفاظت فرما 🤲
آئین کا آرٹیکل 10 لاپتہ شہری کی فوری پیشی کا حکم دیتا ہے۔ اگر عدلیہ فورسز و حکومت کے دباؤ میں آ کر اپنے احکامات پر عملدرآمد (آرٹیکل 190) نہیں کروا سکتی تو عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان ججز کی تنخواہوں پر کیوں ضائع ہو؟ یہ آئین سے انحراف اور نظام کی ناکامی ہے جس وجہ سے ملک کے یہ حال ہے
غ زہ کو تو تین سال ہوگئے مگر اُن کے حق میں اٹھنے والی آواز کو دبائے ہوئے ایک سال ہوگیا، مسجد مزار سب بند ہے لیکن شہیدوں کے لیے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہیں۔
سلمان علی کی اس مختصر وڈیو میں بات کو سمجھیں
#shaoorfeed#StandForGaza#MasjidAlAqsa#october13massacre #shaoornews
دیمک کی زد میں ہے ارباب تر کی کرسی فقط قائم اور دائم ہے رب کی کرسی ہے صدر ہو وزیراعظم ہو یا ہو چیف جسٹس دیمک کی زد میں ہے سب کی کرسی
انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے درحقیقت ہے
ریاست کیسے اپنے شہریوں کو جبری لاپتا رکھ سکتی ہے یہ ریاست تو نہ ہوئی یہ کچے کے ڈاکو ہوئے
@ShakirAwan88 پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199(1)(b)(i) کے تحت ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کی بازیابی کا حکم دے جسے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہو لیکن یہاں ایک سال سے ججز نے آرڈر کیا دینے انہیں کیس سننے کی فرصت نہیں پھر ہمارے ٹیکس سے سیلری کس بات کی لیتے ہیں
@MohUmair87 یہ ملک کے جو غاصب حکمران آخر چاہتے کیا ہیں ؟ ملک پاکستان کا امن خراب کر کے خود سیاسی دشمنیاں نبھا رہے ہیں علامہ سعد رضوی اور علامہ انس رضوی کو عدالت میں نا پیش کرنا انکے کیس کی سماعت نا کرنا انسانی حقوق سے کھلا مذاق ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں ہمارے قائدین کو سامنے لایا جائے
@AliTallat1 انصاف کا تماشہ بنا رکھا ہوا ہے اس ملک میں لاقانونیت کی انتہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کو جبری طور پر اغوا کیا ہوا ہے اور عدالت انصاف دینے کے لیے تیار نہیں