تنظیم سازسرٹیفائڈ دلے @TallalPMLN تیرے اور تیرےجرنیلوں میں اتنی ہمت نہیں کہ TLP کی لیڈرشپ کو عدالت میں پیش کر سکے اور کتے کی طرح بھڑکیں مار رہا ہے ، آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں جب سر سے ہاتھ اٹھنا پھر توں دلا صفائیاں دیتا پھرے گا کہ جو کیا جرنیلوں نے کیا ۔۔۔۔
@ranausamazahid@haisammhs بندہ اب اِس کتورے سے پوچھے بلوچوستان میں تیری ریاست کی ماں کو آہو ڈال کے رکھا ہوا ادھرتیری ریاست نان سینس ختم نہیں کر رہی !!!!
نہتوں کو مار کر بڑا ٹارزن بن رہا کتے کا بچہ
Kotli
As per reports, around 3:06 a.m. about 80–100 personnel, local police, administration and larger force of Rangers raided the home of Yasir Malik, a British Kashmiri social media activist, in Kotli, Pakistan-administered Kashmir. They forced their way in, abused and harassed women and children, and vandalised the house.
Strongly condemn this act. The Kotli administration must stop this nonsense. Raids, abuse and intimidation will not push the people back from their demand..
#RightsMovementAJK
پنجاب میں قانون نہیں، جنگل کا راج دکھا رہے ہیں۔
مریم نواز صاحبہ! وردیاں پہنا کر عام دکانداروں اور غریب شہریوں پر چڑھائی آخر کب تک؟ میاں چنوں کے مناظر
عوام پر طاقت آزمائی بند کریں، پیرا فورس کی غنڈہ گردی کا فوری نوٹس لیں!
مریم نواز! آپ کی پیرا فورس نے پنجاب میں کسی سفید پوش شہری کو نہیں چھوڑا، کسی کی عزتِ نفس محفوظ نہیں رہی، حتیٰ کہ سفید داڑھی والوں کی داڑھی کی حرمت تک پامال ہونے سے نہ بچ سکی۔
کیا عبدالحنان اپنے فون کی ری فرانزک کے لیے تیار ہے؟
پ��رنوگرافک توہین مذہب سے متعلق مقدمات کے ضمن میں آج کل ایک مخصوص طبقہ ملزم عبدالحنان کے نام کو غیر معمولی طور پر اچھال رہا ہے۔ اس کی کیڈٹ کالج کی وردی میں تصویر ہر جگہ گردش کرائی جا رہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مہم کے پیچھے بڑی حد تک وہی حلقے نظر آتے ہیں جو عام حالات میں افواج پاکستان اور وردی کو تنقید کا نشانہ بناتے نہیں تھکتے، لیکن یہاں اسی وردی کو بار بار نمایاں کر کے ایک مخصوص تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مگر اس پورے شور میں ایک چیز تقریباً مکمل طور پر غائب ہے: مقدمے کا اصل ریکارڈ۔
اس وقت عبدالحنان کے مقدمے کے حوالے سے عوام کے سامنے بنیادی طور پر دو چیزیں پیش کی جا رہی ہیں۔ ایک اس کی وردی والی تصویر، اور دوسری اس کی والدہ کا ایک رقت آمیز بیان۔ دونوں چیزیں انسانی جذبات کو متاثر کر سکتی ہیں، لیکن کسی فوجداری مقدمے کا فیصلہ جذبات، تصاویر یا سوشل میڈیا کی مقبولیت سے نہیں ہوتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ مقدمے کی ��ستاویزات کس نے پڑھی ہیں؟
کیا اس مقدمے سے متعلق 80 سے زائد صفحات پر مشتمل فرانزک مواد کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا گیا ہے؟ کیا متعلقہ عدالتی ریکارڈ دیکھا گیا ہے؟ کیا جنید منی�� کے کیس (عبدالحنان ہمراہی ملزم ہے)کا مطالعہ کیا گیا ہے؟ کیا اس مقدمے میں دیے گئے عدالتی فیصلے کو پڑھا گیا ہے؟ کیا ان مواد اور بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں بعض سیکولر تعلیمی ماحول میں مذہب مخالف اور جنسی نوعیت کے مواد کی تشہیر سے متعلق سوالات اٹھائے گئے
زیادہ تر صورتوں میں جواب نفی میں ہوگا۔
لیکن اس کے باوجود دجل اور رقت فروشی کا بازار گرم ہے۔ ایک تصویر دکھائی جاتی ہے، ایک ماں کا بیان سنایا جاتا ہے، اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایسے فیصلے صادر ہونے لگتے ہیں جیسے عدالت، فرانزک ماہرین، وکلا، گواہ اور پورا عدالتی عمل غیر ضروری ہو۔
یہ مقدمات سوشل میڈیا پر طے نہیں ہونے۔ اور نہ ہی فیس بک، یوٹیوب یا ایکس استعمال کرنے والے لوگ اس مقدمے کے جج ہیں۔
اگر کسی شخص کو یقین ہے کہ عبدالحنان بے گناہ ہے، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے حق میں آواز اٹھائے۔ لیکن پھر ایک بنیادی سوال کا جواب بھی دینا ہوگا:
ملزم نے ��پنے خلاف پیش کیے گئے فرانزک شواہد کو باقاعدہ قانونی اور تکنیکی بنیاد پر کیوں چیلنج نہیں کیا؟
اگر یہ شواہد غلط ہیں، اگر فون سے منسوب مواد اس کا نہیں، اگر ڈیجیٹل ریکارڈ میں جعل سازی ہوئی، اگر ڈیٹا کسی اور نے ڈالا، اگر فرانزک طریقہ کار ناقص تھا، تو پھر سب سے مضبوط دفاع یہی ہونا چاہیے کہ فرانزک رپورٹ کو چیلنج کیا جائے اور آزادانہ فرانزک کرائی جائے۔
لہٰذا بات صرف سوال اٹھانے تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ آئیے ایک عملی قدم اٹھاتے ہیں۔
جتنے لوگ سمجھتے ہیں کہ عبدالحنان بے گناہ ہے، وہ مل کر ایک چھوٹا سا فنڈ قائم کریں۔ اس فنڈ سے ملزم کے فون اور متعلقہ ڈیجیٹل مواد کی دوبارہ فرانزک کرائی جائے۔ فرانزک ایجنسی ملزم خود منتخب کرے، بشرطیکہ وہ ایسی مستند لیبارٹری یا ادارہ ہو جس کی رپورٹ پاکستانی قانون اور عدالتی تقاضوں کے مطابق قابل قبول ہو۔
یہ کوئی کروڑوں روپے کا منصوبہ نہیں۔ میرے علم اور دستیاب معلومات کے مطابق اس نوعیت کا بنیادی فرانزک عمل پچاس ہزار روپے سے بھی کم میں ممکن ہو سکتا ہے۔ اگر اس مہم کے حامی واقعی سمجھتے ہیں کہ ایک بے گناہ نوجوان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو پھر کسی کے حصے میں ایک ہزار روپے آئیں، کسی کے حصے میں دو ہزار، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کم از کم اس طرح جذباتی نعروں کے بجائے ایک قابل جانچ دعویٰ سامنے آئے گا۔
میرا دعویٰ ہے کہ ملزم اس پیشکش پر آمادہ نہیں ہوگا۔
اور اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کا طریقہ بھی نہایت آسان ہے۔ ملزم کی فیملی یا اس کے وکیل کے ذریعے اس سے رابطہ کیا جائے۔ اس سے کہا جائے کہ آپ کے خلاف جو فرانزک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے، آپ اسے چیلنج کریں۔ اپنا فون اور متعلقہ ڈیجیٹل مواد اپنی پسند کی کسی مستند فرانزک لیبارٹری کو دیں۔ قانونی طریقے سے دوبارہ فرانزک کرائی جائے۔
اگر پہلی رپورٹ غلط ہے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ اگر شواہد گھڑے گئے ہیں تو وہ بھی سامنے آ جائے گا۔ اور اگر رپورٹ درست ہے تو پھر وہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہوگی۔
اس سے زیادہ منصفانہ مطالبہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
ایک بار پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو ج��ئے۔
سوال صرف یہ ہے:
کیا عبدالحنان اپنے فون کی ری فرانزک کے لیے تیار ہے؟
تحریکیں محنتکشوں کے تہوار ہوتے ہیں،ان تحریکوں کا اپنا منفرد مزاج و ثقافت ہوتاہے۔ ہزارہا دکھوں و زخموں کیساتھ ان شرکاء کے لبوں پر مُسکان، آنکھوں میں انقلاب کی امید اور چہرے پر حوصلے کا پیکر عیاں ہوتاہے۔ ان تحریکوں(تہواروں) میں جہاں جوشیلے تقاریر ہوتی ہیں جو
(1/3)
کمیشن کیوں بننا چاہئیے؟ کوئی آئینی ی قانونی وجہ؟
وزارت داخلہ، ایف آئی اے، ہائی کورٹس، پاکستان انفارمیشن بورڈ، وزارتِ اطلاعات، وزارتِ قانون، وزارتِ مذہبی امور، قرآن بورڈ پنجاب، حکومتِ پنجاب، پاکستان بھر کی بار اسوسی ایشنز، محکمہ اوقاف، ہائر ایجیوکئشن کمیشن، پی ٹی اے سمیت کئی اور ادارے تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان میں منظم فحش توہین ہو رہی ہے۔
کیا عدالتیں بند کردیں؟ ہر جرم کے ملزم کے لیئے کمیشن کھول دیا جائے؟
فحش توہین کے ملزم عدالتوں میں اپنے خلاف دیئے گئے شواہد کو چیلنج کیوں نہیں کرتے؟
*♦️ہم بلوچوں کی غیرت پہاڑوں سے اٹل ہے🚩✍🏻*
*ہمارا بلوچ صحرا کی تپتی ریت پہ تڑپتا مر جائے گا لیکن حق سچ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا 🙌🏻🖤*
*𓂃𓆩⋆LABAIK BALOCH SQUAD ᯓ᭡᪳*🚩
خاتون نے واش روم جانے کا کہا تو پولیس والے کا لہجہ دیکھیں جیسے کوئی بہت بڑا قاتل یا ڈکیت سامنے کھڑا ہو۔ اصل مجرمان کے سامنے ��واز تک نہیں نکلتی، سارا روب معصوم شہریوں پر ڈالتے ہیں
(آئی جی پنجاب پولیس اس واقعے کا فوری نوٹس لیں)
@OfficialDPRPP
@GovtofPunjabPK
@MaryamNSharif
@hinaparvezbutt