نظامی صاحب، پاکستان اس سارے عمل میں ثالث ہے کوئی بھی خبر پاکستانی میڈیا سے مس ہینڈل ہو گئی یا اس میں کسی طرح کی طرفداری یا جذباتیت نظر آئی تو متاثرہ فریق سمجھے گا کہ یہ جان بوجھ کر اسطرح کی لیک کی گئی ہے اور اگر وہی خبر بے شک پاکستان ذرائع سے چلے لیکن انٹرنیشنل میڈیا میں چلے تو وہ والا تاثر نہیں جائے گا ویسے بھی یہ سارا میلہ ثالثی کا ہے اگر میڈیا کو خوش کرتے کرتے وہی مشکوک ہو گئی تو میلہ رہے گا اور نہ ہی میڈیا خوش ہو گا :)
پاکستان کا موجودہ کردار کیوں تاریخ ساز ہے؟
ماضی میں پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی جنگ (جس کا پوری دنیا میں رہنے والے ہر فرد پر منفی اثر پڑنا شروع ہو جائے اور مزیر بڑھنے کا خطرہ ہو) کو رکوانے کے لیے کسی نے پاکستان جیسا کردار ادا کیا ہو۔
یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ممکن ہوا۔
ایک پٹھان روزانہ دن رات مصلے پر بیٹھ کر رو رو کر دعا کرتا تھا یا اللہ مجھے اولاد دے، یا اللہ مجھے اولاد۔۔ جب کسی کی اولاد کی پیدائش ہوتی وہ اور زار و قطار رو رو کر اولاد کی دعا کرتا۔ اسکے اسقدر شدید گڑگڑانے اور رونے کا اتنا اثر ہوا کہ اسکے کمرے میں دو فرشتے اوپر سے اتر آئے۔۔ سلام کیا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالٰی کو آپکی آہ و زاری اور رو رو کر دعا مانگنا بہت اچھا لگا ہے اور اللہ تعالٰی نے آپکی دعا بھی قبول کر لی ہے بس اب آپ ایک کام کریں۔۔۔ جلدی سے کسی عورت سے شادی کر لیں۔۔۔
یوتھڑ قوم بھی دنیا میں جہاں انقلاب یا چار بندے نکلتے دیکھتی ہے فورا اس ماڈل کے مطابق بندے نکالنے کے لیے گڑگڑانا شروع کر دیتی ہے، بنگلہ دیش کے سٹوڈنٹس، سری لنکا ماڈل، امریکہ، ایران، ڈنمارک، وغیرہ۔۔۔۔۔
مگر ایک بنیادی بات وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسے انقلاب، آزادی، اور تبدیلیوں کے لیے نظریاتی طور پر جاگے ہوئے انسان نکلا کرتے ہیں۔۔۔
نچن آلیاں دے بچے کدی وی نئیں نکلن گے۔۔۔۔
😄😁😆😅🤣😅😆😁😄😁😆😅🤣
کوئی یقین نہیں کرے گا مگر آج جو بھی پاکستان فیصلے لے رہا ہے یہ اس لیے ممکن ہو رہا ہے کہ زمان پارک جب خان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپہ مارا گیا تھا، اصل میں وہ گرفتاری کے لئے چھاپہ نہیں تھا ، یہ صرف وہ ایک ڈائری چوری کرنے کا بہانہ تھا جس میں وہ سب درج تھا کہ دنیا کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ آج اس ڈائری کی وجہ سے سب ممکن ہے۔
وہ عمران خان جنہوں نے قوم کو “شعور” دیا ہے وہ اپنے ساتھ کئی دہائیوں تک رہنے والے پارٹی لیڈرز اور ورکرز کو شعور کیوں نہیں دے سکے جو سب آج آپس میں دست و گریبان ہیں اور ہر ایک دوسرے کو ٹاؤٹ اور غدار کہہ رہا ہے۔۔۔
بس جیسا شعور پارٹی لیڈرز کے پاس ہے ویسا ہی فالوورز کے پاس۔
جب انقلاب ایک شخص کے گرد گھومتا ہو تو انقلاب کا یہی حال ہوتا ہے۔ یعنی اگر عمران خان کو اسپتال منتقل کر دیا جائے تو یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام نہیں لیں گے اور اگر عمران خان کو رہا کر دیا گیا یا حکومت دے دی گئی تو جنرل باجوہ کی طرح فیلڈ مارشل بھی ابو ہوں گے۔ یہ ہے کُل نظریہ۔
اکسٹھ سال کی عمر میں شوکت خانم کو کینسر تشخیص ہوا اور 63 کی عمر میں وہ وفات پا گئیں،
اس غم میں ان کے بیٹے نے جو چندے سے ہسپتال بنایا یہ کہتے ہوئے کہ اب کسی کی ماں کینسر سے نہیں مرے گی،
وہاں بڑا سا بورڈ لکھ کر لگا دیا کہ ساٹھ سال سے اوپر کے مریضوں کا داخلہ منع ہے.....!!!
ایک آئیڈیا آیا ہے کہ عمران کو دو تین دن مسلسل رات کو بنی گالہ لے جاو صبح واپس جیل میں بند کردو یہ اپنے لوگوں کو بتائگا کہ میں رات میں بنی گالہ ہوتا ہوں وہ باتیں باہر آہینگی تو اس سے لگے گا کہ عمران پاگل ہوگیا ہے _
اصل میں خان صاحب کو ایلیٹ خاندان میں پیدا ہو کر، بچپن میں ایچیسن میں پڑھکر، والد سرکاری افسر ہوتے ہوئے، گھر میں ماموں چاچے جرنیلوں کے ہوتے ہوئے، پھر آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کر کے، پھر انٹرنیشنل کرکٹ کھیل کر، پھر انٹرنیشنل ایلیٹ خاندان میں شادی کر کے، مشرف کے ساتھ گپیں لگاتے ہوئے، وزیراعظم پاکستان تک بن کر پتہ ہی نہیں تھا کہ اس ملک کی تاریخ کیا ہے؟ اسٹیبلشمنٹ کیا ہوتی ہے؟ ایچیسن میں کون پڑھتے ہیں؟
وہ تو بھلا ہو باجوہ کا اسکی وجہ سے ان کو بنگلہ دیش، مجیب الرحمن، قائد اعظم، فاطمہ جناح سب کے ساتھ ہونے والے سلوک کا پتہ چلا کہ جرنیل بہت گھٹیا لوگ ہوتے ہیں۔
مجھے اس وقت شدید غصہ آتا ہے جب یہ یوتھیا قوم اپنے گھڑی چور کے لئے اسلامی مثالیں دیتی ہے،
لیکن اس شخص کو سلام جس نے یہ ویڈیو بنا کر منافقین کے چہرے سے ایسے نقاب اتارا یے کہ آئندہ کبھی اسلامی مثالیں دیں تو عوام یہ ویڈیو لگا لگا کر انکو ذلیل کرے گی
سب بھائی بہن اسکو شئیر کریں
موجودہ حکومت پی آئی اے بیچ کر پھنس گئی ہے۔ قانون کے مطابق پی آئی اے کے جہاز جب ٹرانسفر کیے جائیں گے تو دس سال تک کے وزراء اعظم کی بائیو میٹرک چائیے ہو گی۔ جس کا مطلب ہے شہباز شریف عمران خان اور نواز شریف کی بائیو میٹرک سے ہی جہاز ٹرانسفر ہوں گے۔
اب اگر عمران خان نے بائیو میٹرک سے انکار کر دیا تو پورا سودا ختم ہو جائے گا۔
اور اگر نئے مالکان نے ٹرانسفر کے بغیر جہاز اڑائے تو ہر ملک میں چالان بھرتے پھریں گے۔ تماشہ تو اب شروع ہو گا۔ @ARYSabirShakir
جاوید اختر Monologue میں ہمیشہ اول آیا ہے لیکن جب مد مقابل آیا تو فیصلہ علم پر ہوگیا ,حیرت ہے انکے عامیانہ پن کو کیسے پاکستانی دانشوروں و اداکاروں نے پالش مار کر علم و دانش کی بلندی پر بیٹھا رکھا تھا ۔ انکا الحاد بھی انگریزی فلموں کے چربے کی طرح مانگا تانگا ہوا نکلا ۔ انتہای عامیانہ اور بچکانہ دلائل جن کے سامنے انکا لکھا ہوا گانا “درد ء ڈسکو “ زیادہ با معنی اور مفصل ہے۔ آخری مرتبہ پاکستان آے تھے تو لاھور کے کچھ لوگ انکے قدموں سے لپٹ کر ان آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں “آپ بھلے چلے جائیں آپ کے پیر ہم تبرک کے طور پر رکھیں گے “ ۔یہ حال ہے مفکرین کا کہ مولوی صاحب نے سامان چنگچی میں لوڈ کروا کر کرایا بھی دیا ۔