معین اختر جیسا لیجنڈ دوبارہ ملنا ناممکن ہے
میں نے سمجھا شاید کسی ہندی فلم میں کام کی پیشکش ہونے والی ہے اور دل میں سوچا کہ واہ عامر خان کی فلم میں کام کرنے کا موقع مل رہا ہے
عامر خان نے معین اختر کے پروگرام کی ساری اقساط مانگیں عامر خان نے معین اختر کی تعریف میں کہا ایسا اداکار کبھی نہیں دیکھا جو اتنے مختلف حلیوں اور کرداروں کو اس قدر مہارت سے نبھا سکےـ ثروت گیلانی
Outrageous! An 8-year-old girl was raped in Gol Pind, Kala Khattai,#Ferozewala. Calling for justice.
This monster must face the harshest punishment. No mercy for predators who target our children. Hang the rapists!
یونورسٹی کی لڑکی کا بس ڈرائیور کے ساتھ نکاح ایک یونیورسٹی کی لڑکی نے ماں باپ کی پرواہ کیے بغیر کالج بس کے ڈرائیور سے خفیہ نکاح کر لیا جب والد کو پتہ چلا تو بیٹی نے کہا ابو میرا نکاح ہو چکا ہے بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے رخصت کر دیں ورنہ میں خود چلی جاؤں گی باپ نے خاموشی سے کہا اگر یہی فیصلہ ہے تو اپنا سامان لو اور چلی جاؤ لیکن یاد رکھنا اب ہمارا تم سے کوئی رشتہ نہیں وہ خوشی خوشی چلی گئی آٹھ سال بعد ایک عزیز سے ملاقات ہوئی جس نے اُسے اپنے گھر بلایا
باتوں کے دوران وہ زار و قطار رونے لگی سب نے سمجھا شاید اسے اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہے جب بار بار وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا میں نے والدین کی نافرمانی کی تعلق توڑ دیا اس کا دکھ اپنی جگہ لیکن سب سے بڑا درد کچھ اور ہے
میرے شوہر نماز کے بعد دعا کرتے ہیں اور میں نے کئی بار انہیں روتے ہوئے یہ کہتے سنا یا اللہ! میری بیٹی اپنی ماں پر نہ جائے یا اللہ وہ اپنی ماں کی طرح کبھی گھر سے بھاگ کر شادی نہ کرے وہ ماں کی طرح کبھی والدین کی عزت نہ گنوائے یہ الفاظ میری روح چیر کر رکھ دیتے ہیں
واپڈا کی بدمعاشی
حکومت کو لعنتیں اور بددعائیں سمیٹنے کا اتنا شوق کیوں ہے؟
۔
بھائی کے گھر بجلی کا بل بھرنے میں صرف 5 دن کی تاخیر ہوئی ہے، اور ابھی واپڈا والے اتنی سخت گرمی میں بجلی کاٹ کر چلے گئے ہیں۔ بچے گرمی میں بیٹھے ہیں۔
بل ابھی بھر دیا گیا ہے، اور پچھلے تمام ماہ کا بل ادا شدہ ہے۔ لائن مین کو کہا بھی کہ آج بھر دیں گے، درمیان میں چھٹیاں تھیں تو اس لیے تاخیر ہوئی ہے، اور لائن تو دو تین ماہ بل نہ بھرنے پر کاٹتے ہیں تو آگے سے اس کا کہنا تھا کہ @CMShehbaz ، @MaryamNSharif اور @akleghari کی حکومت نے نیا قانون بنایا ہے کہ بجلی کے بل میں صرف پانچ دن کی تاخیر ہو تو کنکشن کٹ جائے گا۔ یہ کیسا قانون ہے؟ نہیں ہے تو یہ غنڈہ گردی کیوں چل رہی ہے؟
۔
وزیراعظم صاحب، وزیراعلی صاحبہ اور اویس لغاری صاحب!
کیا واقعی اب کوئی ایسا قانون بنا ہے؟ یا رشوت خور واپڈا اہلکاروں کی بدمعاشی ہے، اور آپ اسے روکنے میں ناکام ہیں؟ اور اب ہر ماہ باقاعدگی سے بل بھرنے والوں کو بھی ایسے تنگ کیا جائے گا؟ آپ کے لیے تو بجلی، پیٹرول، گیس، گاڑی سب فری ہے، تو کیا عام آدمی کو یہ چھوٹی سی رعایت نہیں مل سکتی، وہ بھی آپ نے چھین لی ہے۔ واپڈا کے ان رشوت خور اہلکاروں کو تو بجلی مفت ملتی ہے، انھیں عام آدمی کی مشکل کا اندازہ ہی نہیں ہوگا۔
۔
وزیراعظم صاحب، وزیراعلی صاحبہ اور اویس لغاری صاحب!
حکومت اتنی بےحس کیوں ہے؟ حکومت کو لعنتیں اور بددعائیں سمیٹنے کا اتنا شوق کیوں ہے؟ بجلی، گیس، ہر چیز پر ٹیکس پر ٹیکس لگا کر آپ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، لوگوں کے لیے زندگی دشوار ہو گئی ہے، اور اوپر سے ایسی غنڈہ گردی ہے۔ ہر چیز زورزبردستی اور غنڈہ گردی سے کرکے آپ لوگوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھیننا چاہتے ہیں؟ اپنے جہازوں اور عیاشیوں کے خرچ آپ ایسے پورے کریں گے؟
۔
کچھ تو خدا کا خوف کریں اور اس غنڈہ گردی کو روکیں۔ یہ بھائی کے ساتھ ہوا ہے تو مطلب آج لاہور میں ہی ہزاروں مزید لوگوں / گھروں کے ساتھ بھی ہوا ہوگا۔ اس بے حسی کے خلاف آواز اٹھائیں۔
پوسٹ شیئر کریں تاکہ ارباب اقتدار تک پہنچ جائے۔
زیشان روکھڑی بتاتا ہے کہ ایک اچھے پروگرام میں ایک رات کا میں پچاس لاکھ کما لیتا ہوں
مہک ملک کہتی ہے میں صرف ایک ہفتہ اسٹیج ڈرامہ کروں تو تیس پینتیس لاکھ کما لیتی ہوں اور شادی کے فنکشن الگ سے
مشہور ٹک ٹاکر اسد (Sid Mr Rapper) بتاتا ہے کہ میں ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا ایپس سے ایک ماہ کا پچیس تیس لاکھ کما لیتا ہوں
سکول ٹیچر جس کی تعلیم ایم فل بائیو ٹیکنالوجی ہے وہ پرائیویٹ سکول میں ایک ماہ کا اٹھائیس ہزار کماتی ہے
مسجد کا امام ایک ماہ کا پندرہ بیس ہزار کماتا ہے آپ بھی اپنے ارد گرد دیکھیں لوگ سود خور حرام کی کمائی کرنے والوں کو عزت سے نوازتے ھیں اور یہاں سے ایک بد نما معاشرہ جنم لیتا ھے جو سب کی تباھی کا باعث بنے گا
“سائفر جھوٹ تھا”
“کوئی امریکی سازش نہیں تھی”
خود عمران خان نے تسلیم کیا کہ میری حکومت جانے میں امریکہ کا کردار نہیں تھا۔۔۔ ویڈیو میں اس حصے کے ساتھ ساتھ عمران خان کے باقی جھوٹ بھی انجوائے کیجئے۔
افغانیوں کو پاکستان سے واپس بھیجنے کا سلسلہ صرف غریب افغانیوں کو نکالنے تک محدود ہے یا یہ جو میں نے تصویر لگائی ہے ایک ایسا افغانی ہے جو راولپنڈی میں بیٹھ کر پاکستان اور پاکستان کی فوج اور پولیس کے خلاف ٹکٹوک لائیو پر غلاظت بکتا ہے اور اسے کوئی ہاتھ لگانے والا نہیں
@RwpPolice
ڈھائی سال کی حکومت کے بعد عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ فوج نے نہ کبھی مجھے میری مرضی کے خلاف کچھ کرنے کو کہا اور نہ کچھ کرنے سے روکا۔ حکومت سے نکالے جانے پر کہا کہ سب کچھ جنرل باجوہ کر رہا تھا، میرے تو ہاتھ بندھے تھے۔
کیا عمران خان پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا بعد میں؟
دو دن پہلے بختاور بھٹو نےٹویٹ کیا میرے ابو کا پاکستان کے علاوہ نہ کہیں کوئی بینک اکاونٹ ہے نہ کوئی جائداد۔
اب دبئی پراپرٹی لیکس کی تفصیلات دیکھیں 11 ارب ڈالر میں سے 7 ارب ڈالر زرداری کے نام پر نکل آئے۔
یہ وہ پیسہ ہے جو کراچی پر لگنے کی بجائے دبئی گیا ہے۔
امید ہے آپ کی عید تو اچھی گززرہی ہوگی۔۔!!
ذرا ان کی فکر بھی کریں جنہوں نے برسوں سے عید کی خوشیاں نہیں دیکھیں
اس نوجوان کا نام اسامہ ہے اور والد کا نام میاں خان ہے۔
اسامہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ قبل بچپن میں گھر سے نکلا تھا بھٹک کیا۔ روتا ہوا کسی نے دیکھ کر اپنی حفاظت میں لیا اور ملتان کے ایک شیلٹر میں جمع کروادیا۔
اسامہ کا کہنا ہے کہ ملتان شیلٹر سے پانچ ماہ بعد مجھے کراچی کے شیلٹر منتقل کردیا۔یہاں کی بند چار دیواری میں جوان ہوا۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتا تھا،امی ابو کی بہت یاد آتی تھی۔
آج عید کے پہلے روز اسامہ نے رابطہ کرکے اپنا بتایا تو میں نے اسے اپنے پاس بلاکر اسٹوری پوچھی۔ پہلے کافی دیر تک وہ روتا رہا گال جیسے آنسو سے دھل گئے۔بہت مشکل سے بات شروع کی اور اپنے متعلق بتایا۔
والد کا نام میاں خان،والدہ کا نام یاسمین تھا۔ والدہ کی گود میں ایک نومولود بھائی تھا جسکا نام حسیب یاد ہے۔
اسکے علاوہ اسامہ کو اپنے شہر کا نام اور علاقے کا نام یاد نہیں ہے۔
ملتان جب منتقل کیا جارہا تھا تو لمبا سفر طے کیا تھا جسکا مطلب یہ ہے کہ ملتان سے باہر کسی علاقے میں رہائش تھی۔محلے میں گھر پکے بنے تھے۔گھر کے قریب کوئی کالج یا اسکول تھا۔
مادری زبان پنجابی ہے۔
پنجاب بھر کے تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ان شاءاللہ انکی فیملی بآسانی مل سکتی ہے۔
یہ عظیم نیکی ہاتھ سے جانے مت دیں۔اسامہ کی عید کروادیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 Mar 2026
#waliullahmaroof
لیہ : وزیراعلیٰ مریم نواز کی ریڈ لائن کو تھانیدار نے ایک ٹانگ پر کھڑا کردیا ۔۔۔۔
جاؤ جا کر بتا دو مریم نواز کو اس نے جو کرنا ہے کر لے ۔۔۔۔۔۔
یہ سچی کہانی لیہ کی تحصیل چوبارہ کی ماں بیٹیوں کی ہے جنہوں نے وراثتی جائیداد سے 110 زمین کا کیس عدالت اور وزیراعلیٰ پنجاب کے کمپلینٹ سیل کی مدد سے جیت لیا تو ماں بیٹیوں کی یہ جیت مخالف رشتہ داروں کو ہضم نہ ہوئی ،
ان خواتین کے مخالف رشتہ داروں نے مقامی پولیس کو پیسے کھلائے اور ایک رات پولیس چار دیواری پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئی ، جوان لڑکیوں کے کپڑے پھاڑ دیے گئے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور انہیں دھندہ کرنے کا الزام لگا کر پولیس والے تھانیدار کے کوارٹر میں لے گئے ،
اس نام نہاد ریڈ میں لیڈی پولیس کا کہیں کوئی وجود نہ تھا ، تھانے کی بجائے تھانیدار کے کوارٹر میں ان ماں اور دو بیٹیوں کے ساتھ غنڈہ گردی کی انتہا کردی گئی ان سے شرمناک سوال و جواب کیے گئے ، ماں بیٹیوں کو تھانیدار نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کا حکم دیا ، اس حکم پر بزرگ خاتون اور ایک بیٹی عمل نہ کرسکیں جبکہ ایک لڑکی کافی دیر ایک ٹانگ پر کھڑی رہی اور پولیس والے قہقہے لگاتے رہے اور صبح ہونے پر ماں بیٹیوں کو بغیر کسی کاغذی کارروائی گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ۔۔۔۔
دو روز قبل ماں بیٹیاں لاہور پہنچیں اور ڈی آئی جی کی کھلی کچہری میں اپنا معاملہ سامنے رکھا ہے ، دیکھتے ہیں ان ماں بیٹیوں کے ظالم رشتہ داروں اور فرعون صفت تھانیدار و اہلکاروں کے خلاف کیا ایکشن ہوتا ہے ۔۔۔
شئیر کریں اور ان مظلوموں کی آواز بنیں
یہ واقعہ صرف ایک شخص کی تذلیل نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا منظر ہے۔ جب معصوم بیٹیاں اپنے باپ کے لیے رو رہی ہوں، چیخ رہی ہوں اور رحم کی اپیل کر رہی ہوں مگر اختیار رکھنے والوں کے دل نہ پگھلیں تو یہ صرف قانون کی سختی نہیں بلکہ انسانیت کی موت کی علامت بن جاتا ہے۔
ریاستی وردی کا مقصد عوام کی حفاظت اور خدمت ہوتا ہے، نہ کہ ان کی عزت نفس کو مجروح کرنا۔ قانون کا اطلاق ضرور ہونا چاہیے، مگر قانون کے ساتھ اخلاق، برداشت اور انسانیت بھی ہونی چاہیے۔ اگر ایک مجبور باپ کو اس کی بیٹیوں کے سامنے گھنٹوں ذلیل کیا جائے تو یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ اکثر طاقت کا استعمال کمزور لوگوں پر ہی آزمایا جاتا ہے۔ جو امیر اور بااثر ہوں، ان کے سامنے یہی لوگ نرم لہجہ اختیار کر لیتے ہیں، مگر ایک غریب مزدور یا دیہاتی کو دیکھ کر قانون کی ساری سختیاں یاد آ جاتی ہیں۔ یہی رویہ عوام کے دلوں میں نفرت اور بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ اختیار اور طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتے۔ آج جو طاقتور ہے کل وہ بھی ایک عام انسان کی طرح حالات کے رحم و کرم پر ہو سکتا ہے۔ مظلوم کی آہ اور بددعا کبھی ضائع نہیں جاتی۔ جب ایک مجبور انسان دل سے فریاد کرتا ہے تو اس کی آواز زمین سے آسمان تک پہنچتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلکاروں کو صرف قانون نافذ کرنے کی تربیت نہ دی جائے بلکہ انہیں انسانیت، اخلاق اور عوام کے ساتھ احترام سے پیش آنے کا درس بھی دیا جائے۔ اگر عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد قائم کرنا ہے تو سب سے پہلے انسان کو انسان سمجھنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں انصاف، رحم اور انسانیت کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
13 سال قبل یہ بچی پتوکی قصور سے لاوارث حالت میں ملی اس وقت اس کی عمر صرف 6 سال تھی اپنا نام مقدس اور والد کا نام ارشد بتاتی تھی
اس کو کچھ بھی یاد نہیں ہے تب اس بچی کو محفوظ ہاتھوں میں منتقل کردیا گیا
لیکن اب جیسے جیسے بچی بڑی ہورہی ہے اس کو اپنے تمام رشتے یاد آتے ہیں
ان کی یاد میں روتی ہے پہلے معاملات یہ تھے کہ لوگ بچے گم ہونے کی ایف آئی آر کٹواتے نہیں تھے
نہ ہی اتنا سوشل میڈیا ایکٹیو نہیں تھا بچے زیادہ تر اپنے والد اور والدہ کی شکل پہ جاتے ہیں
اب ہم مکمل نا امید ہوچکے ہیں کیونکہ کئی بار ڈھونڈا ہے لیکن والدین بچی کے مل نہیں رہے
اب آپ کوشش کرکے دیکھ لیں جتنا ہوسکتا ہے شیئر کردیں شاید اس کے والدین کا پتہ چل سکے
چاہے بچوں کو جتنا بھی پیار کیوں نہ مل جائے والدین کی کمی ضرور ہوتی ہے ۔
#MissingChild #PublicSafety #safecity #viral #Patoki #punjab
12 دن قبل یہ جو ننھا پھول نظر آرہا ہے لاہور کے علاقے باغانپورہ سے ملی اس وقت پریشان تھی بچی کو اپنے گھر کا پتہ نہیں معلوم تھا
پہلے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ادھر اُدھر پتہ کیا کہ بچی کا کوئی مل جائے آخر کار تھک ہار کر انہوں نے تھانہ باغبانپورہ پہنچا دیا ۔
یہ اپنا نام زینب منیر بتاتی ہے وہ دن جمعرات کا تھا یعنی تاریخ 26 فروری 2026 تھی
والد کا نام محمد منیر ہے اس وقت سیف ہاتھوں میں ہے اگر کوئی اس بچی کع جانتا ہو تو بتائے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی والدہ کے دل کو سکون مل جائے
یقیناً وہ بھی اس کو ڈھونڈ رہے ہونگے ساتھ دیں زیادہ دن نہیں گزرے مل جائیں گے
دوسرا جو بچی مچھر کالونی کراچی کا ایڈریس بتارہی ہے وہاں پہ کئی لوگوں نے رابطہ کیا ہے وہ اعلانات کروا رہے ہیں اور گھر گھر جاکر تصاویر اس بچی کی دیکھا رہے ہیں ان شاء اللہ جلد خوشخبری مل جائے گی ۔
مسئلہ یہ ہے کہ پرانے کیسز کی کمپین نہیں چلائی جاتی کیونکہ دس دس سال گزر جاتے ہیں بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو ان کے لواحقین ملنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اگر آپ سب ساتھ دیں تو اللہ پاک آسانی کرتا
🌹🌹🌹🌹😌
#lahore #MissingChild #Missingperson #SocialJustice #CMpunjabofficial