@aliimranabbasi ایک ادنیٰ اہلکار کس حیثیت میں ویڈیو بناکر ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے خلاف بات کرسکتا ہے؟ کیا پنجاب پولیس @OfficialDPRPP اس اہلکار کے خلاف ایکشن لے گی؟ یا اس کو ہیرو بناکر پیش کرے گی۔
@bankay_mian62 کاش کہ @NCCIAOFFICIAL اپنی کارروائیاں ملک دشمن عناصر (دہشت گردوں) کے خلاف بھی تیز کردیں۔ اگر AI سے میمورنڈم سائن کیا ہے اور AI کو ہر موبائل فون کے کانٹینٹس تک رسائی کے ساتھ ساتھ NCCIA اورAI انٹیگریٹڈ ہیں تو یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف تیز کیوں نہیں کی جاتیں؟
@Numanbacha20 نعمان۔ تھانہ کلچر اور پولیس افسر شاہی کی تبدیلی کب تک متوقع ہے جو محکمہ پولیس کی اصل کمزوری اور پولیس و عوام کے مابین کھڑی دیوار ہے۔ جب تک یہ دیوار گر نہ جائے تب تک یہ فاصلے برقرار رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔ بےشک پولیس کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا بھی سامنا ہے مگر یہ ضروری ہے
@MeFaheem اس قسم کی کارروائی دیگر واقعات میں بھی یقینی بنائی جائے۔
آپ کے ساتھ میسینجر پر ایک کمپلینٹ شئیر کیا تھا مگر آپ نے اس کا کوئی ریسپانس نہیں دیا۔
جناب وزیر اعلیٰ صاحب سے درخواست ہے کہ وہ @raza_khan1987 کی کمپلینٹ پر اسی طرح ایکشن لے جوCM سے براہ راست کی گئی ہے۔
@SohailAfridiISF
معزز آفیسر!
دو دفعہ فیول ریلیف کے تحت ٹوکن لئے مگر ہر دفعہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر سسٹم میں مسئلہ آجاتا ہے۔ جملہ ٹوکن و PSOپمپ کی موبائل سکرین شاٹس منسلک ہیں۔ باوجود 9771 پر بھی شکایت درج کرچکا ہوں مگر مسئلہ حل نہیں ہوپارہا ہے۔
@ShazaFK@GovtofPakistan@PakPMO
Facing an issue with the PM Fuel Relief Scheme?
Register your complaint easily through the Pak App Fuel Complaint feature. Submit details, track your request, and access support digitally.
#PMFuelReliefScheme
@BabarSaleemSwat جناب اسپیکر صاحب!
اگر یہ قانون سازی جھوٹے اور چھوٹے نوعیت کے مقدمات میں ممبران اسمبلی کے تحفظ اور وقار کے لئے مختص ہوتی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر یہ بڑے اور سنگین جرائم میں مطلوب ممبران اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنا مقصود ہے، تو اس سے بری قانون سازی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔
موٹر سائیکل اور رکشوں کے لیے ٹوکن پر جو 5 لیٹر کی حد مقرر تھی، ایک وقت میں 5 لیٹر پٹرول ڈلوانا مشکل تھا۔ اب ٹوکن پر 5 لیٹر کی قدغن ختم کر دی گئی ہے۔ مہینے میں 4 ٹوکن ملیں گے، ہر ٹوکن پر 500 روپے کی رعایت ہوگی۔ یعنی آپ اگر 2 لیٹر پٹرول ڈلواتے ہیں، جس کی رقم 780 روپے بنتی ہے، تو آپ کو صرف 280 روپے دینے ہوں گے، شزا فاطمہ
@policediary15 Sir, Frontline heroes were/are those who fought in the battlefield in a befitted manner and foiled nefarious designs of the enemies; either got martyrdom or honoured name of ghazi. In the purported video, the high-ups are later making entry without helmet and fear of bullets.
Kindly implement subsidy on petroleum on all petrol pumps across the Bannu district to provide relief to the general public. It is for your kind information that no subsidy/relief has yet been provided by the petrol pump's owners in Bannu.
@CSKPOfficial@dc_bannu
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے غریب و متوسط طبقے کے لیے پیٹرولیم سبسڈی اسکیم میں مزید سہولت
اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو فیول سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ پورے ملک، بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان، میں وزیرِ اعظم فیول سبسڈی اسکیم کے تحت عوام تک ریلیف پہنچایا جا رہا ہے۔ پہلے REG لکھ کر، اسپیس دے کر، شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی نمبر پلیٹ، رجسٹریشن کے صوبے کے نام کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ 9771 پر مفت میسج کرنے سے اسکیم میں رجسٹریشن ہوگی۔
Under the special petrol relief scheme introduced by the Hon'ble @PakPMO@CMShehbaz for ordinary citizens, immediate and special measures/steps may kindly be taken in District Bannu before people sell their vehicles and come out onto the streets. Otherwise, the government 1/3
@PakPMO@CMShehbaz will later have to load petrol drums onto donkey carts and go around the streets and alleys making announcements: “Take cheap petrol and diesel!” — but by then it will be too late and no one will take it. Neither will any vehicles be left, 2/3
بالکل جناب۔ یہ بالکل درست ہے کہ اس میں بڑے بڑے مگر مچھ ملوث ہیں۔ کئی بار ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگوں کے مابین تصادم ہوچکے ہیں بلکہ FIR بھی درج رجسٹر ہوئے ہیں۔ جب تک بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا تب تک ان واقعات کی روک تھام مشکل ہے۔ @CSKPOfficial@SohailAfridiISF
کوہاٹ میں غیرقانونی پلیسر گولڈ کی کان کنی کے خلاف پولیس کی کاروائی۔۔۔درابو کچھ کے علاقے میں لگائی گئی مشینری قبضے میں لیکر خیمے جلادیئے گئے۔۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس کان کنی میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے بھتیجے مجاہد آفریدی اور صادق آفریدی سمیت سابق ایم پی اے امجد آفریدی،نعمت خٹک ،سیٹھ گوہر اور وزیراعلی کے بھائی نوید ملوث ہیں۔۔
اس حوالے سے وزیراعظم نے خیبر پختونخوا حکومت کو خط لکھا ہے۔۔
پلیسر گولڈ کی کان کنی کیلئے کوئی باقاعدہ قانوناور SOPs نہ ہونے کی وجہ سے قتل و عارت کے واقعات سامنے آتے ہیں لہذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسکو قانونی شکل دیا جائے۔