🚨غریدا فاروقی چھوڑ رہی تھی مسلہ گھمبیر تھا
پھر اگیا ماہر ڈاکٹر ارشاد بھٹی صاحب پھر ایسا علاج کیا کہ مریضہ کو فوری شفا حاصل ہوئی
پی ٹی آئی کے کے کسی بھی ترجمان کو چیلنج ہے اگر اتنی معلومات حاصل ہے
جیو بھٹی صاحب✌️👍🔥
جسطرح ڈاکٹر اسرار جرنیلوں کی کرہشن کو بے نقاب کیا تھا اسکے بعد آج تک کوئی عالم دین نہیں کر سکا ۔ اسی لیے انھیں ٹی وی پر بین کر دیا گیا تھا مگر آج انکے بیانات بالکل درست ثابت ہوئے ۔
پہلی ویڈیو دیلھیں یہ واقعہ کسی کو یاد ہے دو سال پہلے کا ہے جب جہلم میں اس مولوی نے چھ سال بچی کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔۔
تو اسے موقع پر پکڑ کر جہلم کی عوام نے اس پر خوب ہاتھ صاف کیا تھا ۔۔ اس وقت پورے ملک کے لبرل اور عوام نے شور مچایا اسے سر عام پھانسی دو ۔۔۔
دوسری ویڈیو کچھ ماہ پہلے کی ہے جب اس لڑکے کو مسجد میں غلط کام کرتے ہوے پکڑا ۔۔۔
ہمارے ہاں ایسی ویڈیو ائیں تو ہم شور مچاتے ہیں سرعام پھانسی دو ۔ انہوں نے اللہ کے گھر کا تقدس پامال کیا ہے ۔
اج جب سعودیہ عرب میں اک خاتون اک مرد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کیونکہ وہ لوگ اللہ کے گھر میں نازیبا حرکتیں کررہے تھے۔
اب کچھ لوگ اسے بوس و کنار سمجھ کر شور مچا رہے ہیں کہ اک شوہر نے بیوی کو Kiss کی تو انہیں مار دیا گیا ۔۔
پہلی بات وہ میاں بیوی نہی تھے دوسری بات بوس کنار والی یہ بھی غلط ہے ۔ غیر اخلاقی حرکت کر رہے تھے شرمناک حرکت کی ہے ۔
اگر صرف بوس و کنار کی بات ہوتی تو پچھلے دنوں اک پاکستانی خاتون مرد حرم کے صحن میں کھڑے ہو کر رونانوی انداز میں اپنی ٹک ٹاک بنا رہے تھے انہیں کیوں نہی گرفتار کیا گیا ۔
بات سادہ سی ہے ہم لوگ بھی بین الاقوامی کمپین میں الہ کار بن رہے ہیں جو اس معاملے کو اچھال رہا ہے ۔۔
جو مقدمہ تین سال تک چلتا رہا سینکڑوں بار عدالت پیش ہوے کیا وہ معاملہ صرف بوس کنار کا تھا ۔۔ بہت بھولے ہیں اپ ۔ یہ کیس تو حد کے زمرے میں چلا ہی نہی مطلب کہ اسلامی قانون کے مطابق اسے سزا نہی دی گئی ۔
بلکہ اس کیس میں سعودی وزارت داخلہ نے بتایا کہ عدالت نے مسجد کی حرمت اور جرم کی سنگینی کو دیکھ کر تعزیر کے تحت سزائے موت سنائی۔ یعنی کہ جس طرح پوری دنیا میں ججز شواہد کی بنا پر فیصلہ کرتے ہیں ویسا ہی کیس چلا ہے ۔
بنگلہ دیش کی ایمبیسی اور ہیومن رائیٹ کی نظر تھی باقاعدہ وکلا فراہم کیے گئے اپیلیں کی گئی ثبوت دیکھے گئے اس کے بعد فیصلہ ہوا ۔
اب کیا غلط کیا ہے سعودی عرب نے اور کہاں لکھا ہے وہ میاں بیوی تھے۔۔
ہمارے لیے یہ نارمل بات بن گئی مسجد میں کوی غلط کرے تو ہم سب سے زیادہ سخت سزا کا یہی مطالبہ کرتا ہیں نیفے میں پستول چلادو ۔ بندہ پکڑا جاے تو دو ماہ بعد باہر ا جاتا ہے ۔
لاہور کے سب سے بڑے پرانے مدرسے کا مہتم مسجد کے اندر بچے سے زیادتی کرتا ہے ویڈیو اج بھی نیٹ پر موجود ہے ۔۔
پکڑا جاتا ہے اور ساڑھے چار ماہ بعد مولوی ابتسام الہی کی کوششوں سے رہا ہو کر دوبارہ اسی مسجد مدرسے کا مہتم بن جاتا ہے ۔۔
بچے کے والدین کو راضی کیا گیا وہ جی شیطان ا گیا تھا بس جانے دیں معاملے کو اور جب مدعی نے معاف کر دیا کیس ختم ہو گیا ۔۔ اس کے بعد سینکڑوں مولوی پھولوں کا ہار پہنا کر اسے واپس لے اتے ہیں ۔
سعودیہ عرب نے اپنے قانون کے مطابق سزا دی ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اللہ کا گھر عبادت کیلے ہے ۔ اگر وہاں شرمناک عمل ہوا تو اس کی سزا دی جا چکی ہے ۔
کیمرہ مین باقاعدہ قاری صاحب کی نیکیوں کو کاؤنٹ اور شُوٹ کر رہا ہے، بہرحال قاری صاحب کی نیت پر ہم شک نہیں کرتے۔۔ لیکن ان بچوں کو، ان کی عُمریں، کُھردری چارپائیاں، دو دو بچوں کا ایک ساتھ سونا، اُوڑھنے والی چادریں یا کمبل، بچوں کے سلیپرز، اتنی سی جگہ پر اتنی زیادہ چارپائیاں۔۔۔۔ یہ اور کئی اور باتوں پر ضرور غور کریں تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ یہ بچے بڑے ہو کر کیسے انسان ہوں گے اور جدید دُنیا کے ساتھ کیسے چلیں گے؟؟؟
وفاقی وزیرِ ترقی احسن اقبال کا ارشاد بھٹی کے ساتھ خصوصی اور دوٹوک انٹرویو، جس میں ہر اُس اہم سوال کا جواب دیا گیا جس کا عوام کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔
احسن اقبال صاحب کا یہ انٹرویو دیکھنے کے بعد آپ کے ذہن میں موجود کئی سوالات کے جوابات واضح ہو جائیں گے۔ مکمل انٹرویو ضرور دیکھیں۔
ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں احسن اقبال صاحب نے رولیکس گھڑی کے معاملے پر کھل کر بات کی اور ہر سوال کا جواب دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ گھڑی کی جتنی مارکیٹ ویلیو بنی، اس کے مطابق مکمل رقم جمع کروائی گئی۔
بات سیدھی ہے، سوالات کا جواب بھی دے دیا اور اپنا مؤقف بھی واضح کر دیا۔ اب اصل فیصلہ حقائق دیکھ کر ہونا چاہیے۔