اس بیان پر بہت زیادہ جذباتی ہونے سے پہلے ہمیں سیاق و سباق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ میں آپ کو وہ مولانا فضل الرحمٰن دکھاتا ہوں جن پر بہت کم بات ہوتی ہے۔ یہاں بھی جب ان کی سیاست کی بات ہوتی ہے تو وہ پر بات نہیں ہوتی۔ افغانستان کے ایک معروف صحافی ہے، سمیع یوسف زئی، کئی دفعہ سوشل میڈیا پر لکھ چکے ہیں کہ اگر افغانستان میں ایک بھی مولانا فضل الرحمٰن ہوتا تو افغانستان کے حالات مختلف ہوتے۔
آج ٹی ٹی پی کے پاس خیبر پختونخوا میں کوئی عوامی سپورٹ نہیں ہے۔ بلوچستان میں بھی کوئی عوامی پذیرائی نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علمائے اسلام ہے۔ ان علاقوں کی بڑی مذہبی قوت جمعیت علمائے اسلام ہے، جو وہاں ووٹ، پارلیمنٹ اور آئینی سیاست کا راستہ دیتی ہے، جو گولی کے متبادل کے طور پر اپنا نظریہ پیش کرتی ہے۔
اس جماعت کے سیکڑوں علما اور مفتیوں نے، بار بار دہشت گردی کے خلاف فتوے دیے ہیں۔ پیغامِ پاکستان میں بھی وہ شامل تھے۔ اس جماعت نے نیشنل ایکشن پلان کی سپورٹ کی ہے، اور ریاست اور فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے انہیں بار بار ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ خود مولانا پر دو بار قاتلانہ حملے ہوئے ہیں، دو بار خودکش حملے ہوئے ہیں۔ ان کے جید علما کو شہید کیا گیا ہے۔ مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، سابق ممبرانِ قومی اسمبلی تھے، اور ان کے سینکڑوں کارکنوں کو دہشت گردوں نے شہید کیا۔
کیوں کیا ہے؟ اس لیے کہ وہ ان کے راستے کی دیوار ہیں۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ وہ شہداء کی توہین کر رہے ہیں۔ بھئی، یہ شہداء کی جماعت ہے۔ اس جماعت کے سینکڑوں لوگوں نے فوج کے ساتھ قربانیاں دی ہیں۔ ان کا محاذ مختلف ہے۔ اپنے محاذ پر جو قربانیاں دینی چاہئیں، وہ اپنے حصے سے زیادہ دے رہے ہیں۔ وہ دہشت گردوں کے سامنے ایک نظریاتی دیوار ہیں۔
ظاہر ہے، شکوے بھی ہو سکتے ہیں۔ جب آپ اکٹھے ہوں، ایک محاذ ریاست کے پاس ہے، ایک محاذ علما کے پاس ہے۔ علما کا محاذ انہوں نے بہت زبردست طریقے سے سنبھالا ہے۔
آپ کی دونوں باتیں ٹھیک ہیں۔ مولانا اس وقت غیر متعلق محسوس کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم کے ساتھیوں نے انہیں ڈچ کر دیا ہے۔ مشکل وقت میں جن کے ساتھ وہ کھڑے ہوئے، آج وہ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ان کو لفٹ نہیں کرا رہی۔ پھر آپ دیکھیے کہ وہ کہاں پر ہیں۔ ان کی سیاست کے کنٹیکسٹ کو دیکھیے، جہاں ان کی بیس ہے، اس کو دیکھیے، وہاں کون ہے؟
ایک طرف ایک نسل پرست پاپولسٹ تنظیم ہے، جس پر پابندی لگائی گئی ہے، دوسری طرف دہشت گرد ہیں۔ اپنی بیس کو انہیں بار بار بتانا پڑتا ہے کہ ۔وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ غیر مشروط طور پر نہیں ہیں، وہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ان کے الفاظ میں ایک ناراضی ہوتی ہے، جوشِ خطابت ہوتی ہے۔ لیکن اس جوشِ خطابت کو بھی تو ہم نے کنٹیکسٹ میں رکھنا ہے نا؟
لیکن ہم یہ نہیں کر سکتے کہ ایک بیان کی بنیاد پر پورا سیاق و سباق بھول جائیں، ان کی اس جنگ میں اہمیت کو بھول جائیں۔ دیکھیں، ان کے ساتھ جو سنجیدہ مکالمہ ہے، وہ ان پر احسان نہیں ہے، وہ اس دہشت گردی کی جنگ کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات ایسی باتوں پر اوور ری ایکٹ کرنے کی بجائے آپ کو خاموش بھی ہونا پڑتا ہے، آپ کو انگیج بھی ہونا پڑتا ہے۔ اس وقت ان کے ساتھ انگیج کرنا چاہیے۔ اس جنگ میں وہ قوم کے حراول دستے میں شامل ہیں، وہ فوج کے ساتھ ہیں، وہ ریاست کے ساتھ ہیں، وہ ہمیشہ ساتھ رہے ہیں۔ اس لیے اس بیان کے غبارے کو ہم اتنا زیادہ نہ پھیلائیں کہ اپنے ساتھ لڑنے والوں، اس جنگ کی قیادت کرنے والوں کو بھی ہم مشکوک بنا دیں، غدار ڈکلیئر کر دیں۔
ضیغم خان کا تجزیہ
@zaighamkhan
#معافی_مائی_فٹ
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
#مولانا_کی_للکار
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
ٹی ایل پی کے لیے سبق
کسی بھی حساس مذہبی مسئلے پر لوگوں کو سڑکوں پر نکالنا درست نہیں نا ملک کے لیے درست نا دین کے لیے درست
یہاں سیاسی شعبدے باز اپنی سیاست کی دکان چمکانے کے لیے مسئلے کو اُٹھاتے ہیں خود انکو کچھ نہیں ھوتا دوسرے کے گھر برباد ھو جاتے ہیں
سنتا جا شرماتا جا۔
عمران خان کی پارٹی کے تمام سپورٹرز پاکستان اور پاک آرمی کے خلاف ہیں۔ انڈیا کو چاہیے انکو پاکستان کے خلاف استعمال کرے اور اسکے لئے سوشل میڈیا بہتر پلیٹ فارم ھے۔
اس وڈیو کو دیکھ کر شاید کسی یوتھیے کی غیرت جاگ جائے کہ انڈین انکو پاکستان کا دشمن مانتے ہیں۔۔
مزہ آتا یہ وڈیو دیکھ کر بار بار دیکھنے کو دل کرتا ہے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ کا چیلنج دینے پر ایک انڈین نے میجر @majorgauravarya کی کتے والی کر دی 😂
سوشل میڈیا پر خود کو لاہور کے نجی کالج طالبہ کی والدہ ظاہر کرکے طالبہ سے مبینہ زیادتی اور موت کی فیک نیوز پھیلانے والی خاتون گرفتار۔
آرگنائزڈ کرائم یونٹ ماڈل ٹاؤن کی ٹیم نے ٹک ٹاکر خاتون کو گرفتار کیا، خاتون نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش کی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے ایس پی آفتاب احمد پھلروان کی سربراہی میں 5 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، جبکہ ڈی آئی جی عمران کشور کی ہدایت پر ڈی ایس پی چوہدری فیصل شریف اور ان کی ٹیم نے خاتون کو گرفتار کیا۔
#PunjabPolice #Arrested #FakeNews