مولانا فضل الرحمان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کی بات کرتے ہیں۔ ان کی داڑھی اور سر پر امامہ ہے۔ اسی لئے بلوچستان میں تاریخ ساز جلسے کے باوجود نیشنل میڈیا نے ان کو کوریج نہیں دی۔
ایک جرم یہ بھی ہے کہ مولانا نے ہمیشہ پاکستان فرسٹ کا نعرہ لگایا ہے۔
ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟
یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟مولانا فضل الرحمان نے پشین جلسے میں اہم سوالات اٹھا دئیے
(میں تو کل مصروف تھی نہ دیکھ سکی لیکن کیا یہ جلسہ مین سٹریم میڈیا نے دیکھایا ؟)
سی ڈی اے کو سب پتہ ہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر آگ کون لگاتا ہے اور پھر آگ سے کون کون فائدہ اٹھاتا ہے لیکن سی ڈی اے بتاتی نہیں کیونکہ یہ ایک نیشنل سیکرٹ ہے
پمپ کے قریب، نالی کی مکمل اور صحیح صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پانی دوبارہ جمع ہونا شروع ہوگیا ہے۔ عارضی طور پر پانی کا بہاؤ بحال ہوا تھا، مگر اب پھر وہی صورتحال بنتی جا رہی ہے۔
@dcswabi
کل تحصیل شبقدر اور ترنگزئ میں مولانا شیخ محمد ادریس شہیدؒ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں گے،
جے یو آئی ضلعی قائدین آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کریں گے.
@dcswabi جہانگیرہ مین روڈ اور نالی کے مسئلے پر ایکشن لینے، موقع کا دورہ کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے پر اسسٹنٹ کمشنر، ڈی ��ی آفس اور متعلقہ انتظامیہ کا شکریہ۔
امید ہے اب اس مسئلے کا مستقل اور عملی حل بھی جلد سامنے آئے گا۔ 🤝
سنا ہے کپٹن صفدر نے بھی قائد جمعیت پر گلگت میں تنقید کی ہے ، کراچی میں جب صفدر و مریم کے کمرے کے تالے توڑے اور صدر گرفتار ہوئے ۔۔۔
آج کی ٹاوں ٹاوں کرنے والے لیگی چھپ گئے تھے مولانا ہی تھے جس نے اس وقت کی طاقت جنرل فیض کے خلاف پریس کانفرنس کردی تھی ۔۔۔
ایوان میں سنسرشپ کی بدترین مثال
قائدجمعیت مولانا فضل الرحمان صاحب اپنی پارٹی رہنماؤں کی شہادت اور قربانیوں کا ذکر کررہے تھےکہ اچانک انکی آواز غائب ہوگئی،
مولانا صاحب کی تقریر کے دوران یوٹیوب پر کارروائی بھی لائیو دکھانا بند کردی گئی اور پارلیمان میں لگی سکرین پر جو تقریر چل رہی تھی اس کی آواز وقتا فوقتا بند کردی جاتی۔
#ریاست_یا_سوتیلی_ماں
غریدہ فاروقی کے ڈریس پر تنقید ک��نے والوں پر فوراً گرفتاریاں ہو جاتی ہیں، مگر شیخ ادریس جیسے بڑے عالم کے خلاف سوشل میڈیا ٹرولنگ اور نفرت پھیلانے والوں پر کوئی کارروائی نہیں۔
نہ ملزم پکڑے گئے، نہ اصل مجرم تک رسائی۔
میرے خلاف ہراسانی کردار کُشی digital violence اور cyber crime کی کیمپین، جو میرے لباس میری شخصیت کو لے کر 11 اپریل 2026 سے چلتی رہی، میں ملوث ایک اور مجرم، جمیل ولد محمد شفیع، ساکن گڈی ٹپہ خان در خان خیل، تحصیل ڈومیل، ڈسٹرکٹ بنوں، خیبرپختونخوا، کو NCCIA نے گرفتار کر لیا ہے۔
مزید م��رمان کی گرفتاریوں کیلئے بھی مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں اور باقی گرفتار شدگان کی تفصیل بھی مہیا کرتی رہوں گی تاکہ معاشرے میں آگاہی اور قانون کی عملداری کا خوف موجود رہے کہ کسی بھی خاتون کی عزت پر حملے کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے۔
مزید مجرمان یا تو مفرور ہیں، اپنے ایڈریس تبدیل کر رہے ہیں یا مسلسل اب معافیاں مانگ رہے ہیں۔
—————————————————
Well done @NCCIAOFFICIAL
ڈی جی NCCIA سید خرم علی شاہ 👏🏼 اور تمام ٹیم۔
فہیم بھائی ایک بہت بڑی لسٹ ہے،
ایک جماعت کو بھیڑوں کے سامنے پھینکا گیا ہے
ان کی شہادتوں پر میڈیا تک ٹکر تک نہیں چلتے
کمپین سے روکا جاتا ہے
بس تاریک راہوں کے وہ شہید ہوتے ہیں جو اکیلے ہی روتے ہیں
تحریکِ طالبان TTP فتنہ الخوارج کو واضح اور دو ٹوک پیغام
اپنے اختلاف دو منٹ کے لیے ایک طرف رکھے۔اور مولانا صاحب کی یہ بیان سن لیں ۔
کسی ایک انسان کو قتل کرنے کا گناہ کیا ہے۔ ؟
اس بیان کو آگے لازمی پھیلائیں
مولانا فضل الرحمن نے شیخ ادریس کی تعزیت پر فتنہ الخوارج کی بینڈ بجا دی ھے
مولانا فضل الرحمن نے کہا تم لوگ مرتد ھو خوارج ھو اسلام سے تمھارا کوئی تعلق نہیں تم لوگ روئے زمین پر فساد مچاتے ھو قتل و غارت کرتے ھو ایسے لوگ اُمت مسلمہ کے پیروکار نہیں ھو سکتے
خوارج کے راستے پر جو جائے گا وہ اللّٰہ کا دشمن ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے اسلام کا دشمن ھے
#BunyanUmMarsoos
تم مجاہد نہیں بھگوڑے ہو،تمہھاری حیثیت بھگوڑوں کی ہے شرم نہیں آتی
پاکستان کے لاکھوں علماء اسلام کو نہیں سمجھتے اور تم چند بھگوڑے اسلام کو سمجھتے ہو
پاکستان کے علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شرعا جائز نہیں ہے
مولانا فضل الرحمن نے خوارج کو مرتد، بھگوڑے، جاہل اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا
اگر کسی عمل سے پاکستان کا امیج بہتر ہوتا ہے تو اس عمل کی تعریف کرتے رہینگے
مولانا فضل الرحمن کا چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی فاتحہ خوانی کے موقع پر عقیدت مندوں سے مختصر خطاب