اب شاید انقلاب ہی ہمارا آخری راستہ رہ گیا ہے، حالانکہ میں آج بھی بتدریج ارتقائی عمل (Evolution) کو ہی ترجیح دیتا ہوں۔
اپنی اگلی پوسٹ میں، میں اپنی رائے پیش کروں گا کہ ایک نیا اور مؤثر نظام کیسا ہو سکتا ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں گرما گرم بحثیں جاری ہیں۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ نظام درہم برہم ہو چکا ہے، اور فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نظام مؤثر نہیں ہے۔ لیکن ان دونوں حضرات سے سوال یہ ہے کہ پھر آپ لوگ اس نظام کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟
آپ کے "آر ٹی ایس" (RTS) اور "فارم 47" جیسے تجربات کی وجہ سے عوام اور پارلیمنٹ غیر مؤثر ہو کر رہ گئے ہیں۔
مجھے ہمیشہ امید رہی ہے کہ پاکستان بتدریج ترقی کر کے ایک خوشحال قوم اور مضبوط ملک بنے گا، لیکن عوام اور پارلیمنٹ کو بے اثر بنا دیا گیا ہے۔