منیب بھائی! وکالت شروع کرلیں۔ صحافت کو مزید شرمندہ نہ کیجیئے۔
آپ صحافی ہیں نا آپ کی کوئی خبر سچ ثابت ہوتی ہے نا آپ کو صحافت کی الف ب کا پتا ہے نا آپ اردو لکھنا جانتے ہیں۔
آپ کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ اپنا رعب کھو بیٹھی ہے۔
شعبہ بدل لیں۔
You are certainly not doing journalism. You are acting as an unofficial spokesperson. Sometimes they spoon-feed you correct information, and sometimes incorrect. So you don’t need to mention what work you are doing.
بوٹ کے تسموں سے لٹک کر دھمکیاں دینے والا ٹاؤٹ اب شعر و شاعری تک آگیا۔۔۔۔ویسے ٹاؤٹوں نے کیا ذلت سمیٹی ہے۔۔سعادت حسن منٹو نے حسن ایوب جیسے لفافوں کے بارے میں ہی کہا تھا کہ ایک قلم فروش صحافی ایک جسم فروش طوائف سے زیادہ بد کردار ہوتا ہے
ویڈیو دیکھیں تین چار دن سے بار بار سیکرول کرتے سامنے آ رہی ہے ۔ کچھ عناصر ان خواتین کو انکی حویلی سے ہی نکال رہے ہیں ۔۔ وہ بھی اسلحہ اور طاقت کے زور پر
اک روئی سی دھی پنجاب دی، تو لکھ لکھ مارے وینڑ
😭😭😭
پنجاب رحیم یار خان میں پالتو کتوں کا سکول جانے والے باپ بیٹی پر حملہ، کتوں نے چھوٹی بچی کو کاٹ لیا۔ کتوں کے مالک نے بجائے معذرت کے الٹا بیٹی کے سامنے باپ پر تشدد کیا 💔
تھانہ واہ کینٹ کے علاقے میں @RwpPolice کی موجودگی میں با اثر افراد کا خواتین پر تشدد، خواتین چیکھتے چلاتی پولیس سے مدد مانگتی رہیں لیکن پولیس نظر انداز کرتی رہی، متاثرہ فیملی کے مطابق انہوں دو سال قبل ایک سرکاری افسر کو گھر کرائے پر دیا تھا، ایک سال ایگریمنٹ تھا وہ ختم ہوگیا اب ایک سال سے کرایہ دار کرایہ ادا کررہا تھا نہ گھر خالی کررہا تھا، جب گھر خالی کرنے کیلئے نوٹس دیا تو با اثر کرایہ دار دیگر افراد اور پولیس کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا، توڑ پھوڑ کی، گاڑی توڑی خواتین اور بزرگوں پر تشدد کیا، پولیس کے مطابق متاثرہ فریق کی درخواست وصول کرلی گئی ہے کاروائی جاری ہے، اب سوال یہ ہے پنجاب حکومت @OfficialDPRPP اور تھانہ کلچر میں تبدیلی کے بڑے دعوے کرتی ہے لیکن عام آدمی کا اسکو کیا فائدہ ہورہا ہے جب پولیس کی موجودگی میں قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہوں۔
🚨ظلم کی انتہا
راولپنڈی میں اوورسیز فیملی نے اپنا گھر ایک سرکاری افسر کا کرایہ پر دیا تھا جب خالی کرنے کو کہا تو سرکاری افسر نے پولیس کی موجودگی میں اوورسیز خواتین اور بزرگوں پر تشدد کیا
جب سینیٹر مشتاق یہاں سے غزہ جارہے تھے تو ان سے پوچھا کہ آپکا کس جماعت سے تعلق ہے تو انھوں نے کہا کہ جمیعت اور جماعت اسلامی سے تعلق ہے ، تو انھوں نے جماعت والوں سے پوچھا تو انھوں (جماعت والوں ) نے کہا کہ ہماری پالیسی نہیں ہے اسرائیل کے خلاف ۔۔ تو وہ ( سینیٹر مشتاق )کہتا ہے کہ غزہ
جب سینیٹر مشتاق یہاں سے غزہ جارہے تھے تو ان سے پوچھا کہ آپکا کس جماعت سے تعلق ہے تو انھوں نے کہا کہ جمیعت اور جماعت اسلامی سے تعلق ہے ، تو انھوں نے جماعت والوں سے پوچھا تو انھوں (جماعت والوں ) نے کہا کہ ہماری پالیسی نہیں ہے اسرائیل کے خلاف ۔۔ تو وہ ( سینیٹر مشتاق )کہتا ہے کہ غزہ جانے میں میری سب سے بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی بنی ہے ۔ چوہدری غلام عباس
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
ٹوبہ ٹیک سنگھ،کمالیہ میں ایس ایچ او کے ریڑھی بان خاتون کو جوتا مارنے کی ویڈیو وائرل ہونے کا معاملہ
آئی جی پنجاب عبدالکریم کا نوٹس، ایس ایچ او تھانہ صدر کمالیہ عمران غفور گرفتار، مقدمہ درج
یہ سب باتیں اچھی ہیں مگر تھوڑی ہمت کر کے ایک ملاقات کروا دیں تو مذاکرات بھی با معنی ہونگے باقی ہر پارٹی میں چند لوگ ایسی اچھی اچھی باتیں کرنے والے رکھے جاتے ہیں۔
نواز شریف جیل میں ہوں اور ایک سال سے زائد عرصے تک انکی ملاقات اہل خانہ، وکلا یا سیاسی قائدین سے نہ کرائی جائے تو سعد رفیق نواز شریف سے ملاقات یا مشاورت بغیر کس منہ سے کس سے کیا مزاکرات کرینگے؟
رند کے رند رہے
ہاتھ سے جنت نہ گئی
پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کا اندازہ اس وڈیو سے لگا لیں بس بڑھکیں ہی رہ گئی ہیں جتنی مرضی مار لو
سانگلہ ہل: ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ۔
با اثر افراد کا سیکیورٹی گارڈ پر انسانیت سوز تش۔دد سی سی ٹی وی ویڈیو وائرل
ایک دن فیملی کورٹ میں جا کر بیٹھو۔ پھر شادی کی حقیقت تمہیں سمجھ آئے گی۔
بس ایک دن۔
پچھلی قطار میں جا کر بیٹھو اور دیکھو کہ جب رشتے میں دراڑ آتی ہے اور کاغذی کارروائی شروع ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔
تمہیں وہاں ایک بھی عورت محبت واپس مانگتی ہوئی نظر نہیں آئے گی نہ بچوں کا سوچتی ہوئی نظر آئے گی۔
تم ایک بھی عورت کو یہ کہتے نہیں سنو گے مجھے میرا شوہر واپس چاہیے، مجھے میرا خاندان واپس چاہیے ہم اپنا رشتہ ٹھیک کر لیں گے۔
وہاں خرچوں کی بات ہو رہی ہوگی۔
ایک ایک خرچہ گنا جا رہا ہوگا۔
بچوں کا ماہانہ خرچہ
نان نفقہ
فیس اور سکول کے اخراجات
’میڈیکل اور دوسرے اخراجات
ماہانہ کتنی رقم
پچھلے بقایاجات
سب کچھ مرد ادا کرے پھر بھی اس سے الگ رہنا ہے۔
اور پھر اسی عدالت کے دوسرے کونے میں بیٹھے ان مردوں کو دیکھو۔
ٹوٹے ہوئے۔ خاموش۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ آنکھیں خالی۔ پھر بھی محبت میں۔ پھر بھی یہ سمجھنے کی کوشش میں کہ جس عورت کے گرد اس نے اپنی پوری زندگی کھڑی کی، جس کے لیے وہ اپنی آخری سانس تک دینے کو تیار تھا وہ آج ایک وکیل کے ساتھ بیٹھی اس کی زندگی کا حساب ایسے لگا رہی ہے جیسے کوئی کاروباری لین دین ہو۔
یہ منظر تمہیں ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
کیونکہ اسی کمرے میں تم شادی کے بارے میں وہ سب سے تلخ حقیقت سیکھتے ہو جو جوانی میں کوئی تمہیں نہیں بتاتا۔
مرد محبت کرتے ہیں۔
عورتیں حساب لگاتی ہیں۔
محبت میں ڈوبا مرد سب کچھ کھو دے گا اور پھر بھی اسی کی فکر کرے گا۔
نفرت میں بیٹھی عورت سب کچھ لے لے گی اور پھر بھی خود کو مظلوم بنائے گی۔
ایک مرد وہاں بیٹھ کر اپنا گھر، اپنی جمع پونجی، اپنے بچے، اپنا سکون سب کھو دے گا، اور اس کے دماغ میں پھر بھی یہی چل رہا ہوگا کہ میں تو اس سے محبت کرتا تھا، ہم یہاں تک کیسے پہنچ گئے؟‘
ایک عورت وہاں بیٹھ کر گھر لے گی، جمع پونجی لے گی، بچے لے گی، اس کا مستقبل لے گی، اور اس کے ذہن میں یہی ہوگا کہ میں اس سے زیادہ کی حقدار ہوں۔
شادی زندگی کا وہ فیصلہ ہے جو زندگی کے ہر چیز سے زیادہ سوچ سمجھ اور دیکھ بھال کی متقاضی ہے۔ یہ آپ کی تعلیم، کریئر اور صحت سے بھی زیادہ اہم ہے۔
تم صرف ایک پارٹنر کا انتخاب نہیں کر رہے۔ تم یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ کس کو تمہاری توانائی، تمہارے مقصد، تمہاری محنت، تمہارے پسینے اور آنسوؤں تک رسائی ملے گی۔ تم یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ کس کے ہاتھ میں یہ طاقت ہوگی کہ دس سال میں بنائی ہوئی تمہاری ہر چیز کو دس منٹ میں ایک ایسے جج کے سامنے ختم کروا دے جو تمہیں نہیں جانتا، تمہاری محبت کی کہانی سے اسے کوئی سروکار نہیں اسے صرف کاغذات سے مطلب ہے۔
غلط رشتہ صرف تمہارا دل نہیں توڑتا۔
یہ تم سے تمہارا سکون چھین لے گا یہاں تک کہ رات کو نیند نہیں آئے گی۔
یہ تمہارا وقت لے لے گا یہاں تک کہ دوبارہ زندگی بنانے میں سال گزر جائیں گے۔
یہ تمہاری مالی حالت تباہ کر دے گا یہاں تک کہ تمہیں دوبارہ صفر سے شروع کرنا پڑے گا۔
یہ تمہارا مستقبل لے لے گا یہاں تک کہ جس آدمی کے روپ میں تمہیں آگے چل کر بننا تھا وہ بن ہی نہیں پائے گا۔
ایک غلط عورت یہ سب کر سکتی ہے۔
ایک غلط فیصلہ سب کچھ مٹا سکتا ہے۔
اس لیے انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرو۔ اپنی آنکھوں سے نہیں۔ ہوس میں نہیں۔ تنہائی میں نہیں۔
سمجھداری سے انتخاب کرو۔ مستقبل کو سامنے رکھ کر انتخاب کرو۔ ایسے انتخاب کرو جیسے تمہارا سکون، تمہارا وقت، تمہارا پیسہ اور تمہاری آنے والی نسلوں کی میراث داؤ پر لگی ہو۔
فیملی کورٹ ایک دن میں تمہیں وہ سکھا دے گا جو دس سال کا رشتہ بھی نہیں سکھا سکتا۔
مرد محبت میں پڑتے ہیں اور آخر تک محبت میں رہتے ہیں۔
عورتیں اپنی انٹرسٹ سے محبت کرتی ہیں اور تم یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔
علی قیصرانی
حامد بھائی میں نے آپکے منہ سے سُنا ہے کہ TV پر عمران خان کا نام لینے پر پابندی کا کوئی آفیشل لیٹر یا احکامات موجود نہیں ہیں نا پیمرا کے نا عدالت کے ، پھر بھی نام نہیں لیا جا سکتا ! اب وہ والا مسلہ مالکان کا ہے یا سہیل آفریدی پر ہے ڈالو گے وہ معاملہ بھی ؟ 😉