یہ 16 سال کی انڈین طالبہ برصغیر کے کروڑوں لوگوں سے زیادہ باشعور ہے ۔ اس کی باتیں سنیں ۔ یہ اچھی طرح آگاہ ہے کہ اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں ۔ یہ پولیس والوں کو بھی کہہ رہی ہے کہ آپ کے بچے نہیں پڑھتے کیا ۔ آپ فیس نہیں دیتے کیا ۔
ڈائیوو DAEWOO والو شرم کرو، تم گارگو سروس کے پیسے لیتے ہو، اس کے باوجود تم اس طرح کی حرکتیں کرتے ہو۔ جب تک یہ اپنے اقدام پر معافی نہ مانگیں لوگ بائیکاٹ کریں ان کا۔۔
اس درندہ کو اس وقت کہان ہونا چاہیے؟؟
مینٹل ہیلتھ پاکستان میں معنی نہیں رکھتی۔ برداشت سے عاری معاشرہ تباہی کی طرف جارہا ھے۔ افسوس کہ نوجوان نسل میں عدم برداشت ڈپریشن بے ادبی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ھے۔
یہ تو شُہدا کی توہین ہرگز نہیں؟
بلوچستان کے ضلع زیارت میں قتل کیے گئے پولیس اہلکار عطاء اللہ کی بہن کہہ رہی ہیں:
حکومت نے ایمبولنس نہیں دی۔ شادی کا جوڑا کسی کو دے کر 15 ہزار روپے حاصل کیے اور بھائی کی میت لانے والی گاڑی کا کرایہ ادا کیا۔
سوشل میڈیا پر ”شہدا کا مقدمہ“ لڑنے والے اِن بہنوں کے پاس دھرنے میں کب جا رہے ہیں؟
@TalhaSaeed69 علیم خان ہمارے ملک کا بدترین کردار ہے جسکو جنرل باجوہ جیسا نمک حرام سیاست میں لیکر آیا تاکہ وزیر اعلی بنوا سکے اور PTI میں گھسا دیا ناکامی پر اس نمک حرام نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور کرپٹ باجوہ نے اس سے جو مال لینا تھا وزیر اعلی بنوا کر وہ اسکا خواب پورا نا ہو سکا
@MohUmair87 عورت کی قطعا غلطی نہیں ۔ اس کاؤنٹر والے کا علاج گولی ہے ۔ ویسے بھی اب کوئی نا کوئی عورت کا رشتے دار ٹپکا ہی دے گا ۔ بہتر ہوگا یہ حرام کا پلا خود کشی کر لے ۔
@MaidahMuhammad@RoymukhtarRoy اوہ میاں اُمت کے اتحاد کے لئے کر لی تو کیا ہو گیا ، اس بیعت میں یہ بھی شرط تھی کے معاویہ اپنا جا نشین نہیں
بنائے گا ۔ لیکن یہ معاویہ نے اس عہد کو توڑ دیا ۔
ستلج صرف ایک فلم نہیں ہے۔۔اس فلم نے پوری دنیا میں موجود سکھوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔۔اور مودی اور ہندوستان کے خلاف ایک نئی کہر اٹھی ہے۔۔ کینیڈا سے برطانیہ۔اور امریکہ سے آسٹریلیا تک ہو جگہ سکھ مظاہرے کر رہے ہیں۔۔ظلم جتنا بھی ہو کہیں بھی ہو۔۔آخر کار مٹ جاتا ہے۔
حاصل پور شہر میں میاں اور بیوی نے مل کر پہلے دونوں بچوں کو زہردیا انکو مار کر خود بھی
زہرپی لیا ذرائع سےمعلوم ہوا ہے کہ کرائے کےمکان میں رہتےتھے میاں بیوی کام ناملنے کی وجہ سے پچھلے تین ماہ سے کرایا نہیں دے سکےتھے۔ مکان مالک نے گھرخالی کرنےکاکہ رکھا تھا۔ اوپرسے 17500بجلی کابل واپڈاوالوں نے بھیج دیابجلی میٹراوتارکرلےگئے اوربچوں نے دودھ لانے کی ضد کی میاں بیوی نے بچوں سمیت اپنےآپ کو ہمیشہ کیلئےختم کردیا۔ذرائع
ان کی موت کا ذمہ دار کون ؟؟
فیصلہ قوم کے ھاتھ
(لوگ مر رہے ہیں مگر کرپٹ نظام کے خلاف نہیں نکلتے)😭😭🚨🚨🚨💔💔
گلگت بلتستان والوں کی سادگی اور مہمان نوازی کا مبینہ طور پر ایک اور سیاح نے ناجائز فائدہ اٹھا لیا۔
دیکھیے، ہنزہ میں گلگت بلتستان والوں کے ساتھ مبینہ فراڈ کا ایک اور واقعہ۔۔
ہنزہ گلگت بلتستان میں واقع دبئی موبائل شاپ کے مالک معیز نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد علی ولد محمد ایاز نے ان کی دکان سے آئی فون 14 پرو خریدا اور آن لائن ادائیگی کا دعویٰ کرتے ہوئے ٹرانزیکشن کا اسکرین شاٹ دکھایا، تاہم کافی انتظار کے باوجود رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں موصول نہیں ہوئی۔
معیز کے مطابق خریدار نے بتایا تھا کہ وہ سرینا ہوٹل ہنزہ میں مقیم ہے، لیکن جب وہ ہوٹل پہنچے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص وہاں سے جا چکا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں بھی مبینہ طور پر ادائیگی کا اسکرین شاٹ دکھایا گیا تھا۔
مزید برآں، معیز کے مطابق اسی دوران ایک اور شخص بھی وہاں پہنچا جس نے دعویٰ کیا کہ اسی فرد نے اس کے ساتھ بھی 75 ہزار روپے کی مبینہ جعلی ٹرانزیکشن کا اسکرین شاٹ دکھا کر دھوکہ کیا۔
دکان کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ محنت مزدوری سے روزگار کماتے ہیں اور اس واقعے سے انہیں مالی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق واقعے کے حوالے سے ہنزہ تھانے میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے۔
انہوں نے آئی جی پولیس گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ ملزم کو تحقیقات مکمل ہونے تک گلگت بلتستان سے باہر جانے سے روکا جائے تاکہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متاثرین کے نقصان کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
نوٹ: مذکورہ تمام الزامات ایف آئی آر اور مدعی کے بیان پر مبنی ہیں۔ حتمی حقائق کا تعین پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا
@farii_022 اس کی گیس لیکیج کی وجہ سے کم ہو گئی ہے ۔ انسٹالیشن کا پرابلم ہو سکتا ہے ۔ اگر انڈر گراؤنڈ پائپنگ ہے تو اُ س کا فالٹ ہے ۔ جب گیس کم ہو تو برف بننے لگ جاتی ہے ۔ جو پگھل کر پانی بن کر وال پر گرتا ہے ۔
گلگت بلتستان والوں کی سادگی اور مہمان نوازی کا مبینہ طور پر ایک اور سیاح نے ناجائز فائدہ اٹھا لیا۔
دیکھیے، ہنزہ میں گلگت بلتستان والوں کے ساتھ مبینہ فراڈ کا ایک اور واقعہ۔۔
ہنزہ گلگت بلتستان میں واقع دبئی موبائل شاپ کے مالک معیز نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد علی ولد محمد ایاز نے ان کی دکان سے آئی فون 14 پرو خریدا اور آن لائن ادائیگی کا دعویٰ کرتے ہوئے ٹرانزیکشن کا اسکرین شاٹ دکھایا، تاہم کافی انتظار کے باوجود رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں موصول نہیں ہوئی۔
معیز کے مطابق خریدار نے بتایا تھا کہ وہ سرینا ہوٹل ہنزہ میں مقیم ہے، لیکن جب وہ ہوٹل پہنچے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص وہاں سے جا چکا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں بھی مبینہ طور پر ادائیگی کا اسکرین شاٹ دکھایا گیا تھا۔
مزید برآں، معیز کے مطابق اسی دوران ایک اور شخص بھی وہاں پہنچا جس نے دعویٰ کیا کہ اسی فرد نے اس کے ساتھ بھی 75 ہزار روپے کی مبینہ جعلی ٹرانزیکشن کا اسکرین شاٹ دکھا کر دھوکہ کیا۔
دکان کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ محنت مزدوری سے روزگار کماتے ہیں اور اس واقعے سے انہیں مالی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق واقعے کے حوالے سے ہنزہ تھانے میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے۔
انہوں نے آئی جی پولیس گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ ملزم کو تحقیقات مکمل ہونے تک گلگت بلتستان سے باہر جانے سے روکا جائے تاکہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متاثرین کے نقصان کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔
نوٹ: مذکورہ تمام الزامات ایف آئی آر اور مدعی کے بیان پر مبنی ہیں۔ حتمی حقائق کا تعین پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا
جج چُھٹی پر ہے
یہ اسلام آباد کی ضلع کچہری میں ایک سول جج کی عدالت کے باہر کا منظر ہے جہاں ایک شہری مقدمات کی فہرست میں اپنے کیس کا نمبر دیکھ رہا ہے۔
اس فہرست میں 131 مقدمات ہیں جو آج ایک سول جج نے سُننے ہیں۔ اِن مقدمات میں جو ملزم ضمانت ہر ہیں اُن کی عدالت میں حاضری لازم ہے۔ اُن کے وکلا بھی حاضر ہیں۔
کچھ مقدمات میں شواہد پیش کیے جانے ہیں، بعض میں گواہ حاضر ہیں۔ دوسری طرف کے وکلا بھی آئے ہوئے ہیں۔ اس طرح ایک عدالت کے اندر اور باہر لگ بھگ 200 لوگ موجود ہیں۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جج چھٹی پر ہیں۔
سرکار، اُس کے محکموں، اور اُن کے پراسیکیوٹر/وکلا کو فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ بھی حاضر نہیں۔
جج نے چھٹی نظام سے ہی لینا ہوتی ہے تو نظام چلانے والوں کو پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔
فرق تو اُس عام شہری کو پڑتا ہے جو اپنے تمام کام چھوڑ کر بطور مدعی، ملزم، یا گواہ عدالت آتا ہے۔
پاک سرزمین کا نظام
میرے چند سوالات ہیں پنجاب کی ماں مریم نواز صاحبہ عظمیٰ بخاری صاحبہ مریم اورنگزیب صاحبہ سے چار مرسڈیز ایس گلاس گارڈ
گاڑیوں کا آرڈر دیا جاتا ہے جون 2025 میں اب یہ گاڑیاں تیار ہو چکی ہیں ان چار گاڑیوں میں سے ایک گاڑی کراچی پورٹ پر پہنچ چکی ہے دوسری گاڑی اگلے 10 سے 15 دن میں پہنچ جائے گی اگلی دو گاڑیاں بھی اس کے بعد آئیں گی یہ آرڈ شاہ نواز کمپنی کو دیا گیا ہے
میرا سوال گورنمنٹ سے ہے کیا یہ گاڑیاں پنجاب گورنمنٹ نے آرڈر کی تھی؟
سید ذیشان
پاکستان کے ڈرائیور کا روڈ سینس
یہ صاحب مجھ سے آگے جا رہے تھے، سامنے سے بھی گاڑیاں آ رہی تھیں۔ اچانک سڑک کے درمیان گاڑی روک دی۔
میں نے ایک منٹ انتظار کیا کہ شاید پیچھے بیٹھی سواری کو اُتار کر چل پڑیں گے، مگر وہ خود ڈرائیونگ سیٹ سے اُتر کر فٹ پاتھ پر کھڑے ہو گئے۔
دوسری طرف بھی اسی طرح کوئی گاڑی پارک کر گیا تھا تو آمنے سامنے والے سب پھنس گئے۔
میں نے ہارن دیا اور ساتھ ہی کہا کہ مہربانی کریں، تھوڑا آگے جا کر پارک کر دیں۔
جواب میں کہنے لگے کہ آپ گاڑی تھوڑی پیچھے کر کے نکال دیں۔
میں گاڑی سے اُترا، اس کی تصویر بنائی۔ ساتھ ہی مخاطب کر کے کہا: اے جاہل آدمی، آپ کو لائسنس کس نے دیا ہے؟
اس کے بعد واپس آ کر ہارن پر ہاتھ رکھ رکھا۔ کہنے لگے کہ بجاتے رہیں میں نے گاڑی نہیں ہٹانی۔
سامنے سے آنے والی گاڑیوں کے ڈرائیور بھی اُترے، اُنہوں نے کہا کہ جناب! مہربانی کریں، آپ نے گاڑی سڑک کے درمیان کھڑی کر رکھی ہے۔
اُس کے بعد گاڑی میں بیٹھے اور دس میٹر آگے جا کر پارک کر دی۔
یہ سیکٹر جی ایٹ مرکز کے درمیان سے گزرنے والی سنگل سڑک پر دن پونے ایک بجے کا واقعہ ہے۔
فارن افیئر آفس لاہور میں اپنی والدہ کا سرٹیفکیٹ لینے آنے والے ڈاکٹر کیساتھ لاہور پولیس کے اہلکاروں کا ہتک آمیز سلوک۔
کیا پاکستان میں غنڈہ راج ہے؟
کیا پاکستان میں جنگل کا قانون ہے؟
پہلے 1985/1988 میں باپ نے پولیس میں غنڈے بھرتی کئے تھے اور بیٹی بھی اُسی راستے پر چل رہی ہے
پنجاب پولیس کا نیا کارنامہ!!
ایک PhD پروفیسر ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑا ہؤا ہے, ڈاکٹر کہہ رہا ہے میں ایک PhD پروفیشنل ڈاکٹر ہوں مجھے چھوڑ دے, آگے سے پولیس والا ویڈیو بنانے والے کو تن دیتا ہے!!
یاد رہے پنجاب پولیس کرپٹ ترین پولیس ہے