وفاقی دارالحکومت کے علاقے میں امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 15 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
#Islamabad#Blast
پیپلزپارٹی کے ایک عام عہدیدار نے صرف سوال کرنے پر
“عوام راج ترکش جھنڈا پارٹی”
کے سربراہ اقرارالحسن کی جدید گالیوں کے ساتھ “سرعام” بےعزتی کر دی
۔۔
اقرارالحسن عنقریب اس کا جواب عمران خان سے مانگیں گے کیونکہ باقی جماعتیں سوال کرنے پر جوتیاں مارتی ہیں 😆
✅ اگر آپ میری ٹیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور X سے کمانا چاہتے ہیں تو..
1۔ مجھے فالو کریں
2۔ اس پوسٹ کو Repost کریں
3۔ کمنٹس میں Add me لکھ دیں.
میں خود آپ کو میسج کروں گا
گارنٹی 100 ڈالر سے سب کے اوپر آئیں گے🔥🔥
آ جائیں فرینڈز فالورز بڑھائیں
جن کے فالورز نہیں بڑھ رہے صرف وہ لوگ کمنٹ میں اپنے اکاؤنٹ کا ہینڈل منشن کریں اور پوسٹ کو ریپوسٹ کر کے میرا اکاؤنٹ بھی فالو کر لیں.. 💯
🩵پی-ٹی-آئی کے وہ ایکٹیو کارکن جن کے اکاؤنٹس کی
رِیچ اور فالورز
انتہائی کم ہیں وہ تمام اس پوسٹ کو رِی-پوسٹ کریں
اور
💛کمنٹ سیکشن میں اپنےاکاؤنٹ کا ہینڈل مینشن کر دیں
💚اِن شَآءَاللّٰهِ آج رات 9 بجے پروموشن لسٹیں بنائی جائیں گی اُن تمام اِنصافینز کو پروموشن لسٹوں میں شامل کر کے لازمی پروموٹ کِیا جائے گا
🧡سب ایک دوسرے کو فالو اور فالوبیک کر کے سپورٹ کریں
💜رِی-پوسٹ کرنے والوں کو سب سے پہلے میں خود فالو کروں گی
💙آپ بھی تمام رِی-پوسٹ کرنے والے ایک دوسرے کو 20،20 کر کے ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے فالو کریں اور فالوبیک بھی لازمی دیں
💖اس طرح سے اکاؤنٹس 3 دن کی رسٹریکشنز سے محفوظ بھی رہیں گے اور فالورز میں اضافہ بھی ہو گا
💟اگر رِی-پوسٹ کرنے کے باوجود رات 9 بجے آپ کا اکاؤنٹ پروموشن لسٹ میں شامل نہیں کِیا گیا تو آپ ڈی-ایم کر کے بتا سکتے ہیں..............!!!
@Pti99@2Sehr@1H99k
سوال و جواب
سوال:-
خواتین کی الگ یونیورسٹیاں بنائی جائیں جس میں صرف خواتین ہی پڑھیں اور ٹیچرز بھی خواتین ہی ہوں یہ مہم چلاؤ سب مسلمان۔
جواب:-
پھر خواتین کے لئے الگ ھاسپٹل بھی بنانا۔۔
پھر خواتین کے لئے الگ گھر بھی بنانا۔۔
پھر خواتین کے لئے الگ سڑکیں بھی بنانا جہاں صرف خواتین ھی سفر کر سکیں۔۔
پھر ایسی مارکیٹ اور بازار بھی بنانا جہاں صرف خواتین ھی شاپنگ کر سکیں۔۔
مگر۔۔۔۔
کبھی بھی مردوں کو تہذھب، اخلاق، تمیز اور قانون اور عورت کی عزت کرنا مت سکھانا کیوں کہ ایسا کرنے کی تعلیم تمھیں کبھی دی ھی نہیں گئی ھے۔ کیونکہ عورت تو صرف تمھاری ماں بہن اور بیٹیاں ھیں۔ گھر سے باھر کی ھر عورت تو پبلک پراپرٹی۔۔ اور چھیڑنے آوازیں کسنے کے لئے ھوتی ھے۔
🙈🙊🙉
Emmanual Rafail
ہوسکتا ہے آپ نا اہل ہوں اس جاب کے لیے دوسری بات عبایا نہیں کچھ کمپنیز چہرہ ڈھکا ہوا نہیں مانتیں ۔ صحیح بھی ہے آپ مُنھ چھپا کر جرم بھی کر سکتی ہیں ۔ ویسے مجھے وہ آیت دکھا دیں جہاں مُنھ یا سر ڈھانپنے کا کہا ہو ۔اپنے اوپر اوڑھنیوں کو ڈال لینے کا مطلب منہ یا سر ڈھانپنا نہیں
Zombistan !!
Hospitality business thrives on tourism.
Who would want to visit a country where people get burnt over mere blasphemy allegations. Where TLP goons roam freely.
یہ بدنصیب انسان جنید حفیظ ہے، جو بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں لیکچرر تھا. انتہائی ذہین اور تعلیمی کوالیفیکیشن نہایت شاندار کارکردگی، تقریباً آٹھ سال قبل اس بدقسمت نے یونیورسٹی میں ایک سیمینار کروایا جس کے بعد چند طلباء نے اس پر گستاخی رسول کا الزام لگایا اور اسے گرفتار کر لیا گیا.
جنید کا تعلق راجن پور سے ہے اور ایف ایس سی میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ مل گیا، لیکن اسے انگلش لٹریچر سے دلچسپی تھی، لہٰذا اس نے میڈیکل کے فرسٹ پروفیشنل کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج چھوڑ کر بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں انگلش لٹریچر میں داخلہ لے لیا اور بی اے آنرز میں 38 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 3.99 GPA سکور کیا. جنید پاکستان بھر کے ان 5 طلباء میں شامل تھا، کہ جن کو شاندار کارکردگی کی بنیاد پر Prestigious فل برایئٹ سکالرشپ پر امریکہ میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیئے منتخب کیا گیا تھا.
جنید نے امریکہ کی جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی سے امریکی لٹریچر، فوٹوگرافی اور تھیٹر میں ماسٹرز ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی اور اپنا ایم فِل کرنے پاکستان واپس آ گیا، گویا اس نے لاعلمی میں بدقسمتی کی جانب سفر اختیار کر لیا. پاکستان پہنچ کر اسے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں لیکچر منتخب کر لیا گیا.
یونیورسٹی میں بحیثیت مجموعی کنزرویٹیو ماحول تھا، تاہم انگلش ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر کی بدولت ڈیپارٹمینٹ کا ماحول خاصا ریلیکسڈ اور پرسکون تھا. جنید عموماً خواتین کے حقوق کے Activists کو لیکچر کے لیئے بلا کر سیمینار کرواتا تھا، تاکہ ان کا طلباء کے ساتھ interaction بھی ہو سکے.
پھر وہ دن آن پہنچا جس دن بدقسمتی نے جنید حفیظ کے در پر دستک دی. جنید نے وائس چانسلر سے اجازت لے کر ایک سیمینار کروایا، جس میں معروف ویمن ایکٹیوسٹ قیصرہ شاہراز کو مدعو کیا. قیصرہ PTV کے لئے ایک ایوارڈ یافتہ سیریل بعنوان "دل ھی تو ہے" بھی لکھ چکی تھیں.
قیصرہ کے لیکچر کے اختتام پر چند طلباء نے قیصرہ اور جنید پر چند گستاخانہ کلمات کی ادایئگی کا الزام لگایا. ان الزامات پر جنید حفیظ کو فوری گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر اورقیصرہ شاہراز کی قسمت اچھی نکلی اور وہ فوری بیرون پاکستان منتقل ہو گئی. ابتدائی سماعت میں استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا، اس گواہ نے سیمینار کے حوالہ سے تو کچھ نہیں کہا، البتہ جنید کی بعض تحریروں میں گستاخانہ مواد کا الزام لگایا. ان تحریروں میں ردوبدل کیا گیا تھا، کیونکہ جنید نے چند کلمات کی خود سے منسوب ہونے کی سختی سے تردید کی ہے، دلچسپ بات یہ ہے، کہ جب گواہ سے کہا گیا کہ وہ تحریریں پڑھ کر سنائے اور گستاخانہ مواد کی نشاندہی کرے، تو گواہ نے اعتراف کیا، کہ تحریریں چونکہ انگریزی میں ہیں اور وہ انگریزی نہ تو پڑھ سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے.
بہرحال پولیس نے جنید کو لاھور سے گرفتار کیا اور ملتان لائے، پھر اسے ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا. اس کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا اور اس سے بغیر کسی عدالتی حکم کے زبردستی اس کا پاس ورڈ اگلوایا گیا. اس کے خلاف پہلے ذکر کردہ Doctored دستاویزات کی روشنی میں پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا گیا، یہ مارچ سن 2013 کا احوال ہے. انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور معروف وکلاء کی رائے میں جنید کے خلاف پیش کردہ مواد کی روشنی میں بلاسفیمی کا مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے. بہرحال اصل بدقسمتی کا آغاز جنید کی گرفتاری کے بعد ہوا.
جنید کو ساہیوال جیل میں گزشتہ قریب ساڑھے سات سال سے رکھا گیا ہے. اسے بستر وغیرہ کی کوئی سہولت نہیں اور سنگلاخ فرش پر سوتا ہے، گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں سخت سردی کا سامنا کرتا ہے. سب سے اذیت ناک بات یہ ہے، کہ اس کے کیس میں تاریخوں پر تاریخیں پڑتی جا رہی ہیں اور بحث کی نوبت ہی نہیں آتی ہے. اس کی فیملی اور والدہ بیٹے کی گرفتاری سے تاحال گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں، کسی شادی بیاہ یا تقریب میں نہیں جا سکتیں، جبکہ اس کے ضعیف والد ہر ہفتے 200 میل کا سفر کر کے بیٹے سے ملنے جاتے ہیں، جن سے جیل سٹاف نہایت بدتمیزی سے پیش آتا ہیں اور کبھی انہیں بیٹے سے ملنے دیا جاتا ہے اور کبھی بنا ملے واپس بھیج دیا جاتا ہے. بوڑھا آدمی کہتا ہے، اب میں تھکتا جا رہا ہوں، لیکن کیا کروں بیٹے کو بے یارو مددگار تو نہیں چھوڑ سکتا ہوں ___!!!
1/2
#JunaidHafeez #FreeJunaidHafeez
محسن علی گودارزی