آج 14 اگست کو سوئی سے نکلنے والی آزادی ریلی محض ایک ریلی نہیں، ایک بدلتی ہوئی تاریخ کا منظرنامہ تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام کا گھروں سے نکل کر یہ عہد دہرانا کہ ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہم سے ہے، اپنے اندر ایک پوری داستان سموئے ہوئے ہے۔
@PakSarfrazbugti@MirGhulamNabiK1
8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے. سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کے زخم آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں۔اس المناک سانحے میں ہم نے اپنے قابل اور باصلاحیت وکلاء سمیت قیمتی انسانی جانیں کھوئیں۔ شہداء کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں، ہم انہیں ہمیشہ عقیدت و احترام سے یاد کرتے رہیں گے۔ آج سانحہ 8 اگست کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
Who has demanded blood tribute from us again?
We had only just fallen asleep, having reddened the slaughter ground 💔🇵🇰
@PakSarfrazbugti@OfficialDGISPR@PakPMO
ہم سرکاری اداروں سے اپیل کرتے ہے کے میرا والد ��احب کو بازیاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرے
میں ایک پاکستانی شہری ھوں اور ہر ایک پاکستانی شہری کو تحافذ دینا تمام سرکاری اور حکومتی اداروں کا ذمیداری ہے
#sopleasejusticemyfather
Contact no: 03311168579
So please shere friends
گدو بگٹی ولد دلدار خان کو بازیاب کیا جائے۔اہلخانہ کی اپیل
اہلخانہ کا کہناہےکہ گدو بگٹی کو 5 دسمبر 2012 میں میلینیم مال کوئٹہ سےفورسز نے حراست میں لینے کےبعد جبری طور پر لاپتہ کیا اور گدو بگٹی کے حوالے سے معلومات بھی فراہم نہیں کیا جارہاہے جسکی وجہ سے خاندان شدید کرب میں مبتلا ہے
5 دسمبر 2012 کو مشن روڑ کوئٹہ سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے والےگدو خان عرف فقیر محمد ولد دلدار خان بگٹی کےبیٹے کا کہنا ہے کہ وہ والد کے بازیابی کے لیے تمام آئینی اقدامات اٹھائے ہیں لیکن انہیں انصاف نہیں مل رہا ہے حالانکہ ریاست کی یہ آئینی ذمیداری ہےکہ وہ شہریوں کو انصاف فراہم