ایک قلم فروش صحافی ایک جسم فروش طوائف سے زیادہ بدکردار ہوتا ہے، کیونکہ طوائف صرف اپنا جسم بیچتی ہے جبکہ ضمیر فروش صحافی اپنا ضمیر، قلم اور سچائی بیچ کر پورے معاشرے اور ریاست کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سعادت حسن منٹو
#غلاظت_نہیں_صحافت_کرو
آسمہ شیرازی کی منافقت کو 21 توپوں کی سلامی!
نواز شریف کی دفعہ ہو تو فرماتی ہیں کہ رہائی سو فیصد میرٹ پر، طبی بنیادوں پر اور جینوئنلی ہوئی ہے۔ لیکن عمران خان کی باری آئے، جس کی ایک آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہو چکی ہے، تو اچانک یہی طبی بنیادیں اور انسانی ہمدردی غائب ہو جاتی ہے۔
پھر وہی پرانا راگ: پاکستان میں رہائیاں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ہوتی ہیں، اسی پیٹرن کے تحت ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
یعنی نواز شریف کے لیے بیماری = جینوئن طبی مسئلہ،
عمران خان کے لیے بیماری = اسٹیبلشمنٹ کا پیٹرن!
یہ صحافت نہیں، کھلی منافقت ہے۔
@GFarooqi لعنت ہو اپ پر
مدینہ منورہ سے لعنت بھیج رہا ہوں
اپ کی ایسی گندی سوچ پر
ابھی بھی اپ کو سکون نہیں ہوا
اللہ کی قسم اپ کو بھی جواب دینا پڑے گا میاں صاحب کے ساتھ ساتھ