@JimmyVirkk چول انسان جو ایک مخصوص اپارٹمنٹ کے اندر مہمان مار کر چلے گئے وہ بذریعہ روڈ نہیں مار سکتے تھے وہ بات لکھ جو ہوئی کہ پاکستان شاہین ایرانی وفد کو اپنی حفاظت میں ایران چھوڑ کر آئے تھے جو تجھ جیسا کمینہ کبھی نہیں لکھے گا
@MIshaqDar50 سر اسکے لیے اللہ کی ماننی بھی پڑھتی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ اگر آپ اللہ کی رحمت سے پرامید ہیں تو ساتھ میں اسکے ضابطوں کا خیال کرتے ہوئے ریاست پاکستان کو اسکے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے
میں ہزارہ، ترک النسل پس منظر سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے اجداد کے نسلی ورثے میں منگول اور ترک دونوں عناصر شامل تھے۔ تاریخی طور پر، وسطی ایشیا میں ترک ان اقوام میں شامل تھے جنہوں نے آٹھویں صدی میں اسلام قبول کیا اور شافعی مسلک اپنایا۔ مسلکی اعتبار سے میرے اجداد ابتدا میں آرتھوڈاکس سنی مسلمان تھے۔ سترہویں صدی کے اواخر میں خاص صفوی دور میں کچھ گروہ شیعہ مسلمان ہوئے، جن میں اثنا عشری اور اسماعیلی شیعہ شامل تھے۔ تاہم آج بھی ہزارہ قوم کا ایک بڑا حصہ، تقریباً پینتیس فیصد، سنی مسلمان ہے۔
میرا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جب ہمارے اجداد کے کچھ گروہوں نے اپنا مسلک تبدیل کیا، جو اس وقت مالکیوں اور شافعیوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات کے پس منظر میں ہوا، تو شاید انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ نئے مسلک میں داخل ہونے کے ساتھ اپنے الگ چیلنجز بھی ہوں گے۔ برصغیر پاک و ہند میں جس نوعیت کا مسلکی تناؤ دیکھا جاتا ہے، وہ ہماری کمیونٹی میں نائن الیون سے پہلے بھی تقریباً ناپید تھا۔ ہمارے ہاں کسی صحابی کو گالی دینا، ان کی توہین کرنا یا دشنام طرازی کرنا سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے پر آج بھی ہزارہ قوم، بشمول مذہبی علما، کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔
ہماری قوم میں شیعہ ہزارہ اور سنی ہزارہ کی شناخت سے زیادہ تبار، رشتہ داری اور بھائی چارے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر ایک شیعہ ہزارہ اور ایک سنی ہزارہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے ہوں تو کوئی ان کی الگ شناخت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ تعلق فرقے سے زیادہ بھائی بندی کا ہے۔
میں ورجینیا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہزارہ بچوں میں سے کچھ نماز شیعہ مسجد میں پڑھتے ہیں، قرأت سنی مسجد میں سیکھتے ہیں، اور ان کی فیملیز کو اس سے کسی قسم کا مسئلہ نہیں۔ یہی وہ سماجی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔
میرے مرحوم والد نے اپنی زندگی میں ایک مذہبی شعر لکھا تھا، جو کچھ یوں تھا:
اگر شفقتِ رسولِ خدا نمیبود،
صداقتِ ابوبکر رضیالله تعالی نمیبود،
شجاعتِ علی شیرِ خدا نمیبود،
سخاوتِ عثمان رضیالله تعالی نمیبود،
دولتِ خدیجتہ الکبری نمیبود،
سیاستِ عمر رضیالله تعالی نمیبود،
اسلام هیچ در این دنیا نمیبود۔
یعنی اگر رسولِ خدا ﷺ کی شفقت نہ ہوتی، حضرت ابوبکرؓ کی صداقت نہ ہوتی، حضرت علیؓ کی شجاعت نہ ہوتی، حضرت عثمانؓ کی سخاوت نہ ہوتی، حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کی دولت نہ ہوتی، اور حضرت عمرؓ کی سیاسی بصیرت نہ ہوتی، تو آج اسلام اس دنیا میں موجود نہ ہوتا۔
دولت حاصل کرنا یقیناً مشکل مرحلہ ہوتا ہے مگر عقلمندوں کے نزدیک دولت کمانے سے زیادہ مشکل مرحلہ دولت سنبھالنا ہے بالکل اسی طرح سیاسی طاقت مل جانے کے بعد اسے برتنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے!
جیسے نودولتیے آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اسی طرح نو واردانِ بساطِ سیاست بھی طوفان بدتمیزی برپا کر کے اپنی سیاسی موت کا سامان خود کر بیٹھتے ہیں۔
عمران خان حکومت میں جب مولانا فصل الرحمن صاحب نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو پیپلز پارٹی نے اعلانیہ ان سے فاصلہ پیدا کر لیا جبکہ مسلم لیگ نون نے پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف فیض حمید اور باجوہ نے انھیں گھیرنے کا منصوبہ بنا لیا تو مدبر سیاستدان نے کس خوبصورتی سے اپنی سیاسی ساکھ بھی بچائی اور اپنی سیاسی طاقت کا شیرازہ بھی بکھرنے نہیں دیا یہ اس حوالے سے کیس سٹڈی ہے۔انکے مقابلے میں الطاف حسین جیسا طاقتور سیاسی راہنما ایسے ہی نازک مرحلے پر مناسب حکمتِ عملی نہ اپنا سکنے کے باعث اپنا سیاسی نقصان کروا بیٹھا۔
آزاد کشمیر میں جو سیاسی خلاء پیدا ہوا تھا اس نے نئی سیاسی قیادت کیلئے جو موقع پیدا کیا تھا اسے عجلت پسند،عاقبت نااندیش اور امور جہانبانی سے بے بہرہ نوجوان اور ناتجربہ کار قیادت نے "کچی اکھیاں" جوش اور جنوں کی نظر کر دیا ہے !
خودمختار کشمیر کی خواہش وہ خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور موجودہ عالمی صورتحال میں قطعا نہیں ہو سکتا۔اس ہنگامے سے جتنا کچھ حاصل ہو سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ کچھ وقت تک کچھ لوگوں کو باور کرایا جا سکے کہ پاکستان اور ہندوستان ایک جیسی غاصب طاقتیں ہیں،عالمی سطح پر پاکستان کی جو تصویر بنی ہے اسے گہنایا جا سکے یا پھر یہ کہ پاکستان کی حکومت کو موقع نہ دیا جائے کہ وہ اپنے کسی منصوبے پر عمل پیرا ہو کر ملک کے استحکام کی طرف پیشقدمی کر سکے۔تھوڑے سے فرق کے ساتھ یہی اہداف مغربی سرحد پر برسرپیکار مذہبی اور بلوچستان کے قوم پرست دہشگردوں کے بھی ہیں۔یہی منتہائے مقصود ایک معروف سیاسی پارٹی کا بھی ہے اور بدقسمتی سے یہی خواہش پاکستان کے ازلی دشمنوں بھارت اور اسرائیل کی بھی ہے اور امریکہ کے پیچھے ہٹنے کے بعد برطانیہ کی بھی بعض لابیاں اسی پر کام کر رہی ہیں۔سیاسی ناپختگی اس طرح اپنے آپ کو صف دشمناں میں محصور کر لیتی ہے مگر قومیت کے بت اور خودمختاری کی دیوی کی لاشعوری طور پر پوجا کرنے والے جذباتی تجزیہ کار اسے اسٹیبلشمنٹ کی طرف داری سمجھ کر الفاظ کی گولہ باری شروع کر دیتے ہیں! ان سے عرض ہے:
تمہارے لیے تمہارا کام ہمارے لیے ہمارا کام!
@mahtab2010 اس طرح کی ٹویٹ کرنے والا اگر ڈاکٹر اسرار کے علمی و تحریکی کام پر تنقید کرے تو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے اس کی تنقید کتنی سطحی اور ناقص علم اور تعصبانہ رویہ پر مبنی ہے۔
@goneneutral بیرون ملک تو چلیں کوشش کر لیں لیکن بیرون ملک سے جو اندرون ملک حالات خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے خاص طور پر کشمیر میں ایکشن کمیٹی جو گند پھیلا رہی ہے اس کا بھی حکومت کچھ کرے
امریکی نائب صدر نے ساری دنیا کے میڈیا کے سامنے کہا
we love Pakistan
کتنی خوش قسمتی ہے کہ اقوام عالم پاکستان سے محبت کا اظہار کر رہی ہیں
لیکن کتنی بدقسمتی ہے کہ کشمیر میں ننگ ملت عوامی ایکشن کمیٹی جیسے نمک حرام اور بلوچستان میں بی ایل اے جیسے غیرملکی سرمائے سے چلنے والی دہشت گرد جماعتیں اس ملک سے نفرت کا سبق نوجوان نسل کو دے رہی ہیں
یاد رکھیں ۔ بیرونی سطح پر جو مقام عزت اور وقار پاکستان کو حاصل ہو چکا ہے وہ دشمنوں کو بہت کھلتا ہے یہ لازوال کامیابی انکو کبھی ہضم نہیں ہو گی ۔ وہ اپنی پراکسییز کے ذریعے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کریں گے
ہمیں دہشت گرد جماعتوں اور نو مئی جیسی سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے محتاط رہنا ہے
@mahtab2010 جب آپ اپنی ساری نظر منہج انقلاب نبوی پہ رکھیں گے اور ڈاکٹر صاحب کے باقی لٹریچر کو پس پشت ڈالیں گے تو راولاکوٹی فساد کی جسٹیفیکشن میں ایسی ہی تحریر سامنے آئے گی منہج انقلاب نبوی کو سمجھنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کا نظریہ انقلاب یا جدوجہد کے مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔
@khalidmabbasi تحریک کو لٹریچر سے زیادہ معاشرے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے تعمیر کی خواہش کے ساتھ چلایا جائے تو تخریب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جو شوقیہ تحریکی ہیں انہیں کھیلنے کے لیے رولے رپے اور مار دھاڑ میں مزہ آتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر گوگل کے سی ای او ٹم کک اور ایکس کے سی ای او ایکن مسک کے درمیان بیٹھی یہ خاتون کون ہیں؟ تفصیلات جان کر آپ حیران رہ جائیں گے
تحریر و تحقیق : مسعود چوہدری
آج کی دنیا میں طاقت کی کئی شکلیں ہیں۔ کسی کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، کسی کے پاس ڈالر کی طاقت، کسی کے پاس میڈیا کا شور، اور کسی کے پاس سیاسی اثرورسوخ لیکن ایک طاقت ایسی بھی ہے جو خاموشی سے قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ یہ طاقت صنعت، محنت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور اجتماعی قومی وژن کی ہے۔ آج اگر چین دنیا کے سامنے ایک معاشی دیو بن کر کھڑا ہے تو اس کے پیچھے صرف حکومت نہیں، بلکہ کروڑوں عام چینی شہریوں کی دہائیوں پر محیط محنت، نظم و ضبط اور قومی ترجیحات کی کہانی ہے۔
دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملتی ہو جہاں ایک ملک نے تقریباً 77 سے 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر متوسط طبقے کا حصہ بنا دیا ہو۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ کروڑوں گھروں میں جلنے والے نئے چراغوں، بھوک سے نکلنے والے بچوں، تعلیم حاصل کرنے والی نسلوں اور فیکٹریوں سے نکل کر عالمی بورڈ رومز تک پہنچنے والی کہانیوں کا سفر ہے۔غالباً 2008 میں راقم نے جس سائینو ماڈل پر تحاریر لکھیں آج اسکے عملی اثرات ہم سب کے سامنے ہیں لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئ بلکہ شروع ہوئ ہے۔
ژو قونفی انہی کہانیوں میں سے ایک ہیں۔
وہ خاتون جو امریکی ٹیکنالوجی دنیا کے دو بڑے ناموں، ٹم کُک اور ایلون مسک، کے درمیان بیٹھی دکھائی دیں، کبھی چین کے ہونان صوبہ کے ژینگ ژن کے ایک غریب گاؤں کی لڑکی تھیں۔ انہوں نے غربت کے سبب پندرہ برس کی عمر میں تعلیم چھوڑ دی۔ فیکٹریوں میں شفٹیں کیں، دھول، گرمی اور مشقت دیکھی۔ مگر چین کے بدلتے معاشی ماڈل نے ان جیسی لاکھوں خواتین کو صرف مزدور رہنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ انہیں آگے بڑھنے، کاروبار کرنے اور عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کا موقع دیا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں غریب آدمی کی پوری زندگی صرف زندہ رہنے کی جنگ میں گزر جاتی ہے۔ اس کے پاس خواب دیکھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ لیکن چین نے اپنے لوگوں کو صرف سبسڈی نہیں دی، بلکہ انہیں صنعتوں، انفراسٹرکچر، برآمدات، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ سے جوڑا۔ ایکو سسٹم فراہم کیا جس نے برابری کی بنیاد پر پوری قوم کو مواقع فراہم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹے اپارٹمنٹ میں شیشے پر پرنٹنگ کا کام کرنے والی لڑکی بعد میں”لینز ٹیکنالوجی “ جیسی ملٹی بلین ڈالر کمپنی کی مالکن بنیں، اور پھر وہ وقت آیا جب ایپل جیسی کمپنی بھی اسکی محتاج ہوگئ۔پاکستان نے پانڈا بانڈ کی مدد سے 8 ارب یوآن اکٹھا کیا جبکہ لینز ٹیکنالوجی کم از کم 75 ارب یوآن کا سالانہ کاروبار کرتی ہے۔
یہ تصویر صرف ایک عشائیے کی تصویر نہیں ہے۔ یہ دراصل عالمی طاقت کے توازن کی بدلتی ہوئی علامت بھی ہے۔
ایک طرف امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندے ہیں، جبکہ دوسری طرف چین کا وہ ماڈل کھڑاہے جس نے کروڑوں غریب لوگوں کو عالمی معیشت کا فعال حصہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ اگر سمت درست ہو تو خوشحالی و ترقی چند سالوں سے زیادہ کی مسافت پر نہیں کھڑی۔ مغرب نے طویل عرصے تک چین کو صرف”سستی لیبر “ کے طور پر دیکھا، لیکن آج وہی چین مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، چِپس، خلائی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں دنیا کو چیلنج کر رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین نے اپنی ترقی کو صرف چند شہروں تک محدود نہیں رکھا۔ ہزاروں دیہات، سینکڑوں غریب اضلاع اور کروڑوں دیہی باشندے اس تبدیلی کا حصہ بنے۔ یہ وہ پہلو ہے جسے اکثر ہمارے خطے میں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ ہم ترقی کو صرف بڑے شاپنگ مالز، سڑکوں یا ہاؤسنگ سوسائٹیز سے ناپتے ہیں، جبکہ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جو غریب آدمی کی زندگی بدل دے۔
چین کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں مسائل ختم ہوگئے ہیں۔ وہاں بھی معاشی دباؤ ہے، کم آمدنی والے طبقات موجود ہیں، اور سخت ریاستی کنٹرول پر تنقید بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ چین نے غربت کے خلاف جنگ کو قومی مشن بنایا، اور پھر پوری ریاستی مشینری کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
آج دنیا کے کئی ممالک”نیٹ ورکنگ “،”برانڈنگ “ اور”موٹیویشنل تقریروں “ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جبکہ چین نے خاموشی سے فیکٹریاں لگائیں، بندرگاہیں بنائیں، مزدوروں کو تربیت دی، انفراسٹرکچر کھڑا کیا اور اپنے لوگوں کو عالمی معیشت میں جگہ دلائی۔
ژو قونفی کی کہانی دراصل ایک فرد کی نہیں، ایک نظام کی کہانی ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ایک ریاست اپنے عوام کو مواقع دیتی ہے تو فیکٹری فلور پر کام کرنے والی لڑکیاں بھی ایک دن عالمی طاقتوں کے درمیان بیٹھتی ہیں، اور دنیا کے امیر ترین لوگ ان کی کمپنیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
قومیں نعروں سے نہیں، سمت سے بنتی ہیں
@TheSaadKaiser جب آپ کسی کی تعریف کرتے ہو تو انتہائی شرم آتی ہے یہ تعریف کم اور چاپلوسی زیادہ لگتی ہے اگر تعریف ہی کرنی ہے تو کسی بنیاد پر کرو چاٹو مہم بند کرو
@pmln_org پیٹرول مہنگا کر کہ عوام کو تکلیف دے کر مخالف امیدواروں کی بہترین کمپین کر دی ہے ن لیگ کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کو خوشحالی کے ساتھ ہی پارٹی کی بقا ہے
@RShahzaddk انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے عام عوام کا جینا مشکل ہو چکا ہے اور بے شرمی کا اس سے بڑا اور لیول کیا ہوگا ابھی بھی کچھ چاپلوس ایسے ہیں جو ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہیں اور سمجھ نہیں آتا قیمتیں بڑھانے والے کس طرح یہ کام کر لیتے ہیں اللہ انہیں ہدایت دے