Za Che kala mar shama tore jame waghonda
Rasha pa salgo salgo akhiri deedan ba we..
Sar ta rasara kena khukul me ka markonr bande
Bia ba me onawene ta....👇💕
Tol ba we yaran yaran
Za bapake nayama
Kor ba we lahad zama halta Ba oda yama..
Za ba tre na lar shama
Da kale da watan ba we
Rasha pa salgo salgo akhiro dedan ba we.....☝️
This is what happens when a country is run by one man and one institution instead of law. Universities raided, students terrorized, constitution irrelevant. #PakistanUnderMilitaryFascism
قید کرنے سے پہلے؛ ہم عمران خان سے معافی منگوائیں گے ہم اس کو توڑ کر رکھ دیں گے
اب ؛ عمران خان بہن صرف یہ ضمانت دے کہ عمران خان کا پیغام باہر آکر نہیں بتائے گی
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
ہنگامی صورتحال 🚨
جیسے اسدالل�� خان والی خبر فوج کی مرضی سے باہر نکلی تھی اسی طرح صدیق جان بھی فوج کی مرضی سے خبر دے رہا ہے کہ عمران خان کا بلڈ پریشر اتنا بڑھ گیا کہ ہسپتال لانا پڑا ورنہ یہ وہی صدیق جان ہے جس نے چھبیس نومبر کے بعد اپنا یوٹیوب ہی بند کردیا تھا کہ سختی بہت ہے۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا خبر باہر آئی کارکنان نے ردعمل دیا اٹک و خوشحال گڑھ پل بند کردیا ۔ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے رہنما پختونخواہ ہاوس خودساختہ محصور ہوگئے۔ اب بلڈ پریشر کے سبب ہسپتال جانے کی خبر آئی ہے۔ نا تو کارکنان پل بند کریں گے نا سہیل آفریدی کے محصور ہونے کی نوبت آئے گی۔ اگلی خبر کا کنفرم نہیں اس سے اگلی کنفرم خدانخواستہ والی آئے گی۔ اب آپ پیٹرن دیکھیں۔
ردعمل ایسے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پانی ایسے ہی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ جیسے عمر ایوب کو استعمال کرکے فوج نے آٹھ فروری کو کسی بھی قسم کے احتجاج کا رستہ بند کیا۔ پھر ایک لانگ مارچ ملتوی کروا کر ٹیمپو توڑا ، پھر دوسرے کی دفعہ علی امین سے بارہ ضلعے پار کروائے۔ تیسری دفعہ تک کمزور سا لانگ مارچ تشدد اور قتل عام سے منتشر کردیا۔ پیٹرن دیکھیں۔ ایک جیسا پیٹرن۔
مزید مثال سنیں۔ عمران خان کو پہلی مرتبہ دو ہفتے کے لیے قید تنہائی میں ڈالا۔ پھر کچھ وقت کے بعد مہینے بھر کے لیے۔ پھر اسکے بعد چھ مہینے ہوگئے عمران خان کی متعلق کوئی بھی خبر باہر آئے ہوئے۔ آٹھ مہینے ہوگئے بہن سے ملاقات کیے ہوئے۔ یہی پیٹرن ہے۔ ہر جگہ ایک ہی پیٹرن۔
اب صدیق جان کی خبر درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ عمران خان کی اپنی بہنوں سے ملاقات کے بعد ہوگا۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت اور پختونخواہ حکومت میں رتی برابر بھی غیرت موجود ہے تو کچھ نا کچھ ردعمل دے دیں۔ عمران خان کی قید تنہائی ختم کروا لیں اسے ہسپتال منتقل کروا لیں ورنہ اگلی خبر کا تو علم نہیں اس سے اگلی نہایت خطرناک ہوگی۔
نوٹ ؛ یہ کوئی مخصوص ذہن سازی نہیں ہے یہ خطرے کی نشاندہی ہے۔
عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبریں موصول ہونے کے بعد بھی ایسے کون سے مستند زرائع ہیں کہ بغیر کسی ملاقات کے بھی آپ یقین کر بیٹھے ہیں؟ عمران خان کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ انہی کی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل عمران خان پر جان لیوا حملہ ہو چکا ہے کئی منصوبے بن چکے آنکھ ضائع ہوچکی۔ عمران خان نے واضح طور پر اپنے ڈاکٹرز تک رسائی کے لیے ہر فورم استعمال کرنے اور آواز اٹھانے کی بات کی تھی۔ خدارا سب مل کر ہر فورم کا استعمال کریں۔بشری بی بی کی بھی آنکھ کا وہی ایشو بنا اور اب دوسری انکھ بھی متاثر ہو رہی ہے کیا یہ سب اتفاق ہے؟
چند ہفتے قبل آپ کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے لیے حالات ایسے بنائے جائیں گے کہ آپ نہ امن کے لیے آواز اٹھا سکیں گے نہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلا پائیں گے، اس لیے جلدی کیجئے۔ اگست کے آغاز سے متعدد واقعات ان خدشات کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ پارٹی سے گزارش ہے کہ اتحادیوں سے بات کرکے ستمبر کی بجائےاسی مہینے قومی جرگہ بلائے؛ ہمارے پاس وقت کم ہے ہر گزرتا دن مزید جنازوں کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ بھی گزارش ہے کہ امن تحریک کے ساتھیوں، نام نہاد دہشت گردی میں شہید اور زخمیوں،کشمیر کے مظلوموں، بلوچستان کی خواتین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی جرگے میں بلائیں۔ قومی جرگے کو لسانی بنیادوں پر محدود کرنے کے بجائے اس کو پاکستانی قوم کے ہر مظلوم محروم اور پسے ہوئے طبقے کا جرگہ بنا کر اتحاد کا پیغام دیں تاکہ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہو��
پولیس سے آج پھر گزارش ہے کہ گزشتہ کئی واقعات کی تفصیل قوم کے سامنے رکھیں ورنہ یونہی آپ کے بھی جنازے اٹھتے رہیں گے۔قوم کو اگاہ کرو کہ کیسے انکو لایا گیا،کیسے آپ کو اکیلے چھوڑا گیا، کیوں آپ کے جوان ایسی بے بسی میں شہید ہوئے پورا واقعہ سامنے رکھ دو اس میں آپ کی بھی بہتری ہے اور قوم بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی یہ گارنٹی میں اپ کو دیتا ہوں، آپ اس ڈرٹی گیم کو ایکسپوز کریں۔ پولیس والے شہید ہوئے تو سی ٹی ڈی کو فوج نے یہاں تک کہا کہ آپ فوج سے اپیل کریں کہ پولیس ناکام ہوگئی ہے اور پختونخواہ حکومت آرٹیکل ۲۴۵ کے تحت فوج سے مدد مانگ لے۔ کمال نہیں ہوگیا؟
انشاءاللہ امن پاسون میں اب تیزی آئے گی اور یہ سلسلہ صرف سوات تک محدود نہیں رہے گا ۔دہشت گردی کی نئی لہر کی یہ کوششیں ۲۰۲۲ سے بار بار ہوئیں لیکن ہماری قوم نے اسے خود ناکام بنایا تھا اور حالیہ کوشش کو بھی انشاءاللہ عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔
آخری اور اہم ترین گزارش اس کو عوام تک پہنچانے میں میری مدد کریں میں بار بار اپنے حالیہ پیغامات میں یہ دہرا رہا ہوں لیکن شاید پاکستان کے باقی علاقوں کو اس تباہی کی سمجھ نہیں۔ فوج عوام کو لشکر بنانے کے لیے دباو دے رہی ہے۔ پچھلی مرتبہ آپریشن کے وقت فوج نے اپنی نگرانی میں امن کمیٹیز بنائیں، بہت سارے علاقوں میں امن کمیٹی کے اہم ترین لوگوں نے فوجی چھتری تلے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظلم کیا۔ بہت سارے بے گناہ فوج کی تحویل میں دئیے گئے جن میں متعدد کی اموات ہوگئیں، کسی کا گھر توڑا گیا کسی کو قتل کروایا گیا۔ فوج چلی گئی اور ان لوگوں کی ذاتی دشمنیاں بن گئیں گزشتہ کچھ عرصے سے خصوصاً حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے وہی امن کمیٹی کے لوگ ہیں۔اب سوچیں کہ امن کمیٹیز کے اتنے عرصے بعد بھی دشمنیاں چلی آرہی ہیں تو فوج جب پوری قوم کو بندوق اٹھانے کا کہہ کر لشکر بنانے کا حکم دے رہی ہے تو اس کا کیا اثر ہوگا؟ پھر لشکر بنا کر وہ لڑے بھی کس سے لانے والوں سے یا آنے والوں سے؟ پھر ریاست کی پالیسی تبدیل ہوگی تو ہر شہری جو لشکر کا حصہ بن چکا ہوگا، یہ دشمنی ذاتی نہیں قوموں اور نسلوں تک جائے گی۔ اس لیے میری قوم سے درخواست ہے کہ خدارہ ان کی گیم کو ایکسپوز کریں۔ اس سے پہلے کہ معاملات مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں اور ہماری اگلی ایک دہائ بھی انہی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے گزرے۔